• 27 فروری, 2021

حضرت چوہدری عبدالحکیم صاحب، حضرت حامد حسین خان صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
حضرت چوہدری عبدالحکیم صاحب ولد چوہدری شرف الدین صاحب گاکھڑ چیماں تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ لکھتے ہیں کہ ’’جس شام کو میں نے بیعت کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تشریف لے جانے کے بعد میں حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہوا جو مسجد مبارک کے چھت کے پاس ہی کوٹھڑی میں رہتے تھے‘‘۔ پہلی روایت بھی ان کی ہے۔ ’’انہوں نے ایک چھوٹی سی چارپائی چھت پر بچھائی ہوئی تھی۔ مَیں اُن کی خدمت میں دیر تک بیٹھا رہا اور بہت سے مسئلے پوچھتا رہا۔ مگر سوائے ایک بات کے اور کوئی مجھے یاد نہیں رہی اور وہ یہ کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے فرمایا کہ مخالف لوگ کہتے ہیں کہ نورالدین دنیا کمانے کے لئے قادیان آیا ہے۔ مگر مجھے تو وہ چارپائی ملی ہے‘‘ (چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے) ’’جس پر میرا آدھا جسم نیچے ہوتا ہے۔ میں تو صرف خدا کے لئے یہاں آیا ہوں اور میں نے وہ حضرت اقدس کی بیعت میں پا لیا۔ جس خدا کے لئے میں یہاں آیا ہوں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر کے میں نے پا لیا‘‘۔

(رجسٹر روایات صحابہ نمر 3 صفحہ 125 روایت حضرت چوہدری عبدالحکیم صاحبؓ۔ غیر مطبوعہ)

یہی اعزاز تھا جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شعر میں حضرت خلیفۂ اوّل کی تعریف اس طرح کی ہے کہ

چہ خوش بودے اگر ہر یک زِ امت نورِ دیں بودے
ہمیں بودے اگر ہر دل پُر از نورِ یقیں بودے

(درثمین فارسی صفحہ 117 مطبوعہ ربوہ)

کہ کیا ہی خوشی کی بات ہو اگر ہر ایک دل میں نور الدین کی طرح کا جذبہ ہو۔ اور یہ اسی وقت ہو تا ہے جب ہر دل میں ایک یقین بھرا ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کے بارے میں حق الیقین پر قائم ہوں تو تبھی وہ رُتبہ ملتا ہے جو حضرت مولانا نورالدین صاحب کو ملا۔

حضرت حامد حسین خان صاحبؓ جو محمد حسین خان صاحب مراد آباد کے بیٹے تھے۔ کہتے ہیں کہ مَیں 1902ء میں علی گڑھ سے آ کر میرٹھ میں ملازم ہوا تھا۔ میری ملازمت کے کچھ عرصے بعد مکرمی خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب بسبیلِ تبادلہ بعہدہ انسپکٹر آبکاری میرٹھ میں تشریف لے آئے۔ آپ چونکہ احمدی تھے اور حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کر چکے تھے، لہٰذا آپ کے گھر پر دینی ذکر و اذکار ہونے لگے۔ اور شیخ عبد الرشید صاحب زمیندار ساکن محلہ رنگ ساز صدر بازار میرٹھ کیمپ پر مولوی عبدالرحیم صاحب وغیرہ خان صاحب موصوف کے گھر پر آنے جانے لگے۔ خان صاحب موصوف سے چونکہ مجھے بوجہ علی گڑھ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے محبت تھی۔ اس لئے میری نشست و برخاست بھی خان صاحب کے گھر پر ہونے لگی۔ مَیں نے کتابیں دیکھنے کا شوق ظاہر کیا تو حضرت اقدس مسیح موعود کی چھوٹی چھوٹی تصانیف خان صاحب نے مجھے دیں جن میں غالباً برکات الدعا پہلے پڑھی اور اس طرح اور کتابیں تھیں۔ کہتے ہیں وہ مَیں نے دیکھنی شروع کیں۔ مولوی محمد احسن صاحب امروہی خان صاحب کے ہاں تشریف لائے اور میرٹھ میں مناظرے کے طور پر گئے۔ اُس وقت صرف ایک ہی مسئلہ زیرِ بحث تھا۔ اور وہ وفاتِ مسیح کا مسئلہ تھا۔ مناظرہ وغیرہ تو میرٹھ کے شریر اور فسادی لوگوں کے باعث نہ ہوا۔ لیکن مولوی محمد احسن صاحب مرحوم کی تقریر ضرورمَیں نے وفاتِ مسیح کے متعلق سنی۔ کہتے ہیں کہ میرٹھ کی پبلک سے جو جھگڑا مناظرے کے متعلق ہوا اُس کے علیحدہ ایک رسالے میں واقعات آ گئے ہیں۔ بہر حال اس کے بعد کہتے ہیں کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملنے کا شوق پیدا ہوا۔ میں نے خان صاحب موصوف سے عرض کیا کہ اگر حضرت اقدس کہیں میرٹھ کے قریب قریب تشریف لائیں تو مجھے ضرور اطلاع دیں۔ میں ایسے عظیم الشان شخص کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اگر نہ دیکھوں تو بڑی بدنصیبی ہو گی۔ وہ کہتے ہیں اُس وقت مجھے بیعت کاخیال تو نہیں تھا۔ اس کے بعد 1904ء میں ایک بہت بڑا زلزلہ آیا جس کے متعلق یہ کہا گیا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق آیاہے۔ اس کے بعدایک دن خانصاحب موصوف نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی تشریف لارہے ہیں۔ آپ بھی زیارت کے لئے چلیں۔ کہتے ہیں میں نے آمادگی ظاہر کر دی اور پھر ہم دہلی چلے گئے۔ دہلی میں حضرت اقدسؑ کا قیام الف خان والی حویلی میں جو محلہ چنلی قبر میں واقع ہے وہاں تھا۔ میں اور خانصاحب موصوف بذریعہ ریل دہلی پہنچے۔ غالباً بارہ، ایک بجے کا وقت تھا۔ حضرت اقدس مسیح موعودؑ مکان کے اوپر کے حصہ میں تشریف رکھتے تھے اور نیچے دوسرے دوست ٹھہرے ہوئے تھے۔ مکان میں داخل ہوتے ہوئے میری نظر مولوی محمد احسن صاحب پرپڑی۔ چونکہ ان سے تعارف میرٹھ کے قیام کے وقت سے ہو چکاتھاتومیں ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ تھوڑی دیر میں غالباً خان صاحب نے جواس برآمدہ میں بیٹھے تھے جس کے اوپر کے حصہ میں حضرت اقدسؑ کا قیام تھامجھ کو اپنے پاس بلالیا۔ میں ایک چارپائی پر پائینتی کی طرف بیٹھ گیا اور باتیں کر نے لگا۔ جہاں میں بیٹھاتھا ان کے قریب ہی زینہ تھا، سیڑھیاں تھیں گھر کے اوپر والے حصے میں جانے کی، تو کہتے ہیں کہ حضرت اقدسؑ اوپر سے تشریف لے آئے۔ سیڑھیوں کی طرف میری پشت تھی۔ اور مَیں نے آتے ہوئے دیکھا نہیں۔ حضور علیہ السلام نیچے تشریف لائے اور آہستگی سے آ کر میرے برابر پلنگ کی پائینتی پر بیٹھ گئے۔ میرے ساتھ ہی بڑی بے تکلفی سے بیٹھ گئے۔ کہتے ہیں مَیں تو پہچانتا نہیں تھا۔ جب حضور بیٹھ گئے تواس وقت پہچاننے والااور کوئی تھا نہیں۔ تو کسی نے مجھے بتلایا کہ حضرت صاحب تشریف لے آئے۔ اس وقت میں گھبراکر وہاں سے اٹھنا چاہتاتھا کہ حضرت صاحب نے ارشاد فرمایا کہ یہیں بیٹھے رہیں۔ یہ یادنہیں کہ حضورؑ نے مجھ کو بازو سے پکڑ کر بٹھا دیا یا صرف زبان سے ارشاد فرمایا۔ حضرت صاحب کے تشریف لانے کے بعد تمام دوستوں کو جو مکان کے مختلف حصوں میں قیام پذیر تھے اطلاع ہو گئی اور مکان میں ایک ہلچل مچ گئی۔ اس قدر یاد ہے کہ غالباً خانصاحب نے حضورؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ میرٹھ سے آئے ہیں۔ اور اتنے میں اور باتیں ہونے لگیں۔ پھر آگے کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں وہاں ادا کی گئیں اور اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جو دوست بیعت کرنا چاہتے ہوں وہ آگے آجائیں۔ اس پر کسی اور دوست نے بھی اونچی آواز میں اعلان کیا۔ چنانچہ بہت سے دوست آگے ہوئے اور میں سب سے پیچھے رہ گیا۔ حضورؑ نے بیعت شروع کرنے سے قبل ارشاد فرمایا کہ جو دوست مجھ تک نہیں پہنچ سکتے وہ بیعت کرنے والوں کی کمر پر ہاتھ رکھ کر جو مَیں کہوں وہ الفاظ دہراتے جائیں۔ کہتے ہیں کہ مَیں اس وقت بھی خاموش الگ سب سے پیچھے بیٹھا رہا کیونکہ ارادہ نہیں تھا بیعت کرنے کا، اور ہاتھ بیعت کرنے والوں کی کمر پر نہیں رکھا۔ جب حضرت صاحب نے بیعت شرو ع کی تو میرا ہاتھ بغیر میرے ارادے کے آگے بڑھا اور جو صاحب میرے آگے بیٹھے ہوئے تھے، مَیں نے ہاتھ اُن کی کمر پر رکھ دیا اور اُس کے ساتھ بیعت کے الفاظ دہرانے لگا۔ اور پھر دوبارہ لکھتے ہیں کہ مجھے اچھی طرح یادہے کہ میراہاتھ میرے ارادے سے آگے نہیں بڑھا بلکہ خود بخود آگے بڑھ گیا۔ جب حضرت اقدسؑ نے رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ کی دعاکا ارشاد فرمایا۔ سب نے اس کو دہرایا۔ میں نے بھی دہرایا۔ لیکن جب حضرت صاحب نے اس کے معنے اردو میں فرمانے شروع کئے اور بیعت کنندوں کو دہرانے کا ارشاد فرمایاتومیں نے جس وقت وہ الفاظ دہرائے تو اپنے گناہوں کو یادکرکے سخت رقّت طاری ہو گئی۔ اوریہاں تک کہ اس قدرزور سے میں چیخ کر رونے لگا کہ سب لوگ حیران ہو گئے۔ اور میں روتے روتے بیہوش ہو گیا۔ مجھ کو خبر ہی نہیں رہی کہ کیا ہو رہاہے۔ جب دیر ہو گئی تو حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ پانی لاؤ۔ وہ لایا گیا اور حضورؑ نے اس پر کچھ پڑھ کر میرے اوپر چھڑکا۔ یہ مجھ کو خانصاحب سے معلوم ہوا۔ انہوں نے بعد میں بتایا۔ ہاں اس قدر یاد ہے کہ حالتِ بیہوشی میں مَیں نے دیکھا کہ مختلف رنگوں کے نور کے ستون آسمان سے زمین تک ہیں۔ اس کے بعد مجھ کو کسی دوست نے زمین سے اٹھایا۔ میں بیٹھ گیامگر میرے آنسو نہ تھمتے تھے۔ اس قدر حالت متغیر ہوگئی کہ میرٹھ آکر بھی باربار روتا تھا۔ پھر خانصاحب موصوف نے میرے نام ’’بدر‘‘ و ’’ریویو‘‘ جاری کرادیا۔ اور بد رمیں حضرت اقدسؑ کی وحی مقدس شائع ہوتی تھی۔ اس سے بہت محبت ہوگئی۔ اور ہر وقت یہ جی چاہتا تھا کہ تازہ وحی سب سے پہلے مجھ کو معلوم ہو جائے۔ پھر جلسہ پر دارالامان جانے لگا اور برابر جاتارہا۔ حضرت اقدسؑ کو دعاؤں کے لئے خط لکھتا رہا۔ اور ایک خط کا جواب حضرت اقدسؑ نے اپنے دستِ مبارک سے دیا تھا۔ وہ میرے پاس اب تک موجود تھا۔ لیکن بعد میں کہیں گم گیا۔

(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 63 تا 67۔ روایت حضرت حامد حسین خان صاحبؓ۔ غیرمطبوعہ، خطبہ جمعہ 17؍ دسمبر 2010ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 فروری 2021