• 27 فروری, 2021

آج تینوں قل پڑھنے کی اشد ضرورت ہے

وکی پیڈیا نے Epidemics and Pandemic وائرسز (Viruses) کی جو فہرست دی ہے وہ 250 کے قریب ہیں۔ جن میں تین Before Christ بھی شامل ہیں۔ جن میں کروڑ ہا لقمہ اجل بنے۔ ان میں ایک انفلوئنزا وائرس تھا جو انیسویں صدی کے آغاز پر حملہ آور ہوا تھا۔ جس سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ بھی متاثر ہوئے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے معالج خاص حضرت حشمت اللہ پٹیالویؓ اس حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں:
’’چونکہ انفلوئنزا کیوجہ سے حضور (حضرت خلیفۃ المسیح ثانیؓ) کو اعصابی کمزوری لاحق ہوگئی تھی اس لئے صحت کی نگرانی زیادہ کرنی پڑی اور حضور کو بھی فکر رہتا تھا کہ تندرستی اور توانائی جلد واپس آجائے تاکہ فرائض منصبی کو کماحقہٗ ادا فرماسکیں۔ اس لئے میرے اس لمبے قیام کے پہلے تین ماہ حضور اس جگہ تشریف لے آئے جہاں میں رہتا تھا اور اپنی ڈاک کا کام وہیں بیٹھ کر کرتے تھے اور دفتری کام اور ملاقاتیں بھی وہیں فرماتے۔‘‘

(ایاز محمود طبع 2006ء صفحہ 109)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس Virus کے حوالہ سے دو خطبات ارشاد فرمائے۔ مورخہ21 مارچ 1919ء کو ایک خطبہ میں حضور نے سورۃ الفلق کی تلاوت فرماکر تینوں قل پڑھ کر اپنے جسموں پر پھونکنے کی تلقین فرمائی تا وبائی مرض انفلوئنزا سے ہر احمدی محفوظ رہے۔ بالخصوص یورپ میں اس وبائی مرض کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’میں نے جو آج یہ سورۃ پڑھی ہے۔ اس کی خاص غرض ہے اور وہ یہ کہ جیسا کہ مختلف اخبارات سے معلوم ہورہا ہے پچھلے دنوں میں جو مرض پھیلا تھا۔ وہ آجکل پھر بعض مقامات پرپھوٹ رہا ہے اور یورپ میں تو اس دفعہ قیامت کا نمونہ بنا ہوا ہے لکھا کہ ہسپتال اس قدر مریضوں سے پُر ہیں کہ بہت سے مریض ہسپتالوں کے سامنے پڑے پڑے مرجاتے ہیں اور ان کے لئے علاج کرنے کا موقعہ اور ہسپتال میں داخل کرنے کے لئے جگہ نہیں مل سکتی۔ ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے اور شفاخانوں میں کہہ دیا جاتا ہے کہ گنجائش نہیں ہے۔ وہاں ایسا سخت حملہ ہے کہ پہلے تو بعض مریض بچ بھی جاتے تھے۔ مگر اب شاید ہی کوئی بچتا ہے۔ ہندوستان کے بعض حصوں میں بھی یہ مرض شروع ہے۔ پنجاب میں بھی ہے۔ مگر تاحال زور اور وبائی صورت نہیں ہے۔‘‘

(خطبات محمود جلد6 صفحہ 182-183)

حضورؓ خطبہ کے آغاز میں دیگر مذاہب اور مسلمانوں میں رائج بعض جنتر منتر اور تواہمات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اسلام نے بھی ایک جادو اور تعویذ بتایا ہے، لیکن اس میں اور عام لوگوں کے سمجھے ہوئے جادو میں بڑا فرق ہے۔ لوگ جو تعویذ بتاتے ہیں وہ بے معنی اور بے اثر ہوتے ہیں۔مگر اسلام نے آفات سے بچانے کے لئے جو گُر بتایا ہے اس میں طاقت ہے کہ اگر انسان اس پر عمل کرے اور اس کی تکرار کرے تو بہت سے فتنوں سے بچ جاتا ہے۔ لوگوں کے جادو محض لکیریں اور ہندسے اور اشارات ہوتے ہیں مگر میں آج اسلام کا ایک ایسا کلمہ بتاتا ہوں جس پر عمل کرنے سے انسان بلاؤں سے بچ جاتا ہے۔‘‘

(خطبات محمود جلد6 صفحہ 179-180)

حضورؓ نے اس کے بعد بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم اور الفلق کی مختصر تشریح بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’یہ دُعا ہے جو اسلام نے ہر ایک مومن کو سکھائی ہے۔ اگر اس کا ورد کیا جائے۔ تو انسان بہت سی بلاؤں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نہیں سوتے تھے۔ جب تک کہ ان دُعاؤں کو پڑھ نہ لیتے تھے۔ رسول کریم ﷺ کا قاعدہ تھا کہ آپ جس وقت بستر پر تشریف لے جاتے تھے تو سورۃ اخلاص اور سورۃ فلق اور سورۃ الناس کو پڑھ کر دونوں ہاتھوں پر پھونکتے اور جسم پر جہاں جہاں تک ہاتھ جاسکتا تھا ہاتھ پھیرلیتے اور ایسا ہی تین دفعہ کرتے۔ اور اس کے ساتھ اور بھی بعض دعائیں ملاتے تھے اور آیت الکرسی بھی پڑھتے تھے۔ (بخاری کتاب التفسیر باب فصل المعوذات) یہ اس شخص کا دستور العمل تھا جس کے لئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا وَ اللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّا سِ (المائدہ:68) اور جس کے لئے خدا کی حفاظت ہر طرف سے قائم تھی اس سے خیال کرسکتے ہو کہ اور لوگوں کے لئے ایسا کرنا کس قدر ضروری ہے۔ جو لوگ یہ دعا نہیں پڑھتے اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت ہے مگر وہ لوگ اس سے واقف نہیں۔ اگر جانتے تو ضرور پڑھتے، لیکن میں آپ لوگوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ قرآن کریم نے ہمیں مصائب و آفات سے بچنے کا یہ گر بتا دیا ہے اور اس سورۃ میں تمام جسمانی آفتوں کا ذکر ہے اور ان سے محفوظ رہنے کا طریق بتایا گیا ہے۔ روحانی آفات اور ان سے بچنے کا ذکر اگلی سورۃ میں ہے۔

پس تمام ابتلاؤں سے بچنے کا گر اس سورۃ میں ہے، لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ نہ تو انسان کو بالکل ہی اسباب کو ترک کردینا چاہئے اور نہ بالکل اسباب پر ہی گرپڑنا چاہئے۔ کیونکہ اسباب سے ہرگز ترقی نہیں ہوسکتی۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ پر توکل نہ ہو۔ اور اس کا فضل شامل حال نہ ہو۔ یہ کلمات اسباب ترقی اور حفاظت سے منع نہیں کرتے۔ اصل بیج خیالات ہوتے ہیں۔ اگر بیج کھوکھلا ہو تو کبھی عمدہ کھاد اور اچھی زمین اس کو فائدہ نہیں دے سکتی۔ پس اسباب مہیا کرو لیکن باوجود اس کے کامیابی اُس وقت ہوگی جب اللہ تعالیٰ پر توکل ہوگا اور خدا کے فضل کے جذب کرنے کے لئے دُعاؤں کی بھی ضرورت ہے۔‘‘

(خطبات محمود جلد6 صفحہ 182)

پھر فرمایا:
’’پچھلی دفعہ ابھی مرض یہاں آیا نہیں تھا کہ میں نے ایک خطبہ میں ہوشیار کیا تھا۔ مگر افسوس کہ اس سے فائدہ نہ اُٹھایا گیا۔ دیکھو خدا تعالیٰ سب کا رب ہے کیونکہ رَبِّ الْفَلَقِ ہے اس نے ہر ایک چیز پیدا کی ہوئی ہے۔ اس لیے جب تک اسی سے ہر ایک چیز کے شر سے بچنے کی التجا نہ کی جائے اور وہی انکے شر کو نہ روک دے اور کوئی صورت محفوظ رہنے کی نہیں ہے۔ ’’جے تُوں اُسدا ہورہیں تاں سب جگ تیرا ہو۔‘‘ یعنی اگر تو خدا کا ہوجائے تو تمام دنیا تیری ہی خادم ہوجائیگی۔ پس اگر انسان خدا کے لیے ہوجائے اور خدا اس کا ہوجائے تو پھر تمام مخلوق اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ دنیا میں بادشاہ سے جس کا تعلق ہو اور حکمران جس پر مہربان ہو لوگ اس کی خوشامدیں کرتے اور اسے نقصان پہنچانے سے ڈرتے ہیں۔ پھر کیا اگر خدا ہمارا ہوجائے تو کوئی آفت ہمارا کچھ بگاڑسکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔

پس اگر اور لوگ بلاؤں اور آفتوں سے ہلاک ہوتےہیں۔ تو انہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ ان کو ان بلاؤں سے بچنے کا علم نہیں ہے۔ لیکن تم پر اگر مصیبت آتی ہے۔ تم اگر آفتوں میں پڑتے ہو تو یہ بات قابل تعجب ہے۔ کیونکہ تمہیں ان سے بچنے کا طریق بتایا گیا ہے۔ کچھ مصائب اور ابتلاء تو ترقی کے لئے ہوتے ہیں۔ جن سے گزرنا تمہارے لیے ضروری ہے۔ مگر الہٰی سلسلوں کے لئے وبائیں نہیں ہوتیں۔ جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ طاعون احمدیوں میں وباء کے طور پر نہیں آئیگی۔ مختلف شکلوں میں فرداً فرداً تکلیفیں آتی ہیں۔ مگر ایسی مصیبت جو تباہ کن ہو خدا کی پیاری جماعت کو نہیں آیا کرتی چونکہ تم خدا کی راہ میں قدم مار رہے ہو اور اس کے دین کی اعانت کررہے ہو۔ اس لیے تم یہ مت خیال کرو کہ تم بے بس اور بے کس ہو۔ اگر تمہارے ساتھ خدا ہے تو کوئی چیز تمہیں گزند نہیں پہنچا سکتی۔ مگر اپنی حالت کو درست کرو۔ تمہیں سامانوں سے منع نہیں کیا جاتا۔ بلکہ اس سے روکا جاتا ہے کہ بالکل سامانوں پر ہی نہ گر پڑو۔

جب مصائب عام ہوں تو ان کے دُور ہونے کے لیے دُعائیں بھی عام ہی ہوتی ہیں۔ ہاں ایسے وقت میں ہوشیار سب کو کردیا جاتا ہے۔ اور ہلاکتوں سے وہی بچائے جاتے ہیں جو ہوشیار ہوجاتے ہیں۔ پس اس وقت ہر ایک کو تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھو کہ کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔بہت لوگ مایوسی کے سبب سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ مگر تم وہ ہو جنہوں نے خدا کے فضل کے دامن کو پکڑا ہے۔ اس لئے تمہارے لئے کوئی مایوسی نہیں ہے۔ اگر تم پر خدانخواستہ کوئی مشکل آئے تو مت یقین کرو کہ وہ تمہیں تباہ کریگی کیونکہ تمہارا اس خدا سے تعلق ہے جو واقعی تمام ہلاکتوں سے بچا سکتا ہے۔ مایوسی تو ایسی بُری چیز ہے کہ انسان کو کافر بنا دیتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ (یوسف:88) اللہ کی رحمت سے نااُمید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔ پس مایوسی ایسی چیز ہے کہ ایمان گھٹتے گھٹتے کفر کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے تم کسی وقت میں اپنے آپ کو مایوس نہ ہونے دو اور خدا پر توکل رکھو۔ پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا یقین اور اس کے فنا کا خوف ہو اور پھر دعاؤں پر زور دو جب یہ بات انسان میں پیدا ہوجائے تو پھر کوئی ہلاکت اس پر اثر نہیں کرسکتی۔ یہ دعائیں ہیں جن کو استعمال کرو۔ ان کے ساتھ وہ دُعائیں بھی ہیں۔ جو حضرت صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں۔‘‘

(خطبات محمود جلد6 صفحہ 183-184)

آج کرونا Pandemic میں بھی اس عمل کو دہرانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر احمدی کو اس مہلک وبا سے محفوظ کرکے اپنی حفاظت اور امان میں رکھے۔ آمین

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 فروری 2021