• 18 جولائی, 2024

بنیادی مسائل کے جوابات (نمبر46)

بنیادی مسائل کے جوابات
نمبر46

سوال: اردن سے ایک دوست نے سورۃ الرحمٰن کی آیت لَمۡ یَطۡمِثۡہُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَہُمۡ وَلَا جَآنٌّ کے حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا ہے کہ یہاں جنّ سے کیا مراد ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 18؍اکتوبر 2021ء میں اس کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: قرآن کریم اور احادیث نبویہﷺ میں جنّ کا لفظ کثرت کے ساتھ اور مختلف معنوں میں بیان ہوا ہے اور ہر جگہ سیاق و سباق کے اعتبار سے اس لفظ کے معانی ہو ں گے۔ جنّ کے بنیادی معنی مخفی رہنے والی چیز کے ہیں۔جو خواہ اپنی بناوٹ کی وجہ سے مخفی ہو یا اپنی عادات کے طور پر مخفی ہو اور یہ لفظ مختلف صیغوں اور مشتقات میں منتقل ہو کر بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور ان سب معنوں میں مخفی اور پس پردہ رہنے کا مفہوم مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔

چنانچہ جنّ والے مادہ سے بننے والے مختلف الفاظ مثلاً جَنَّ سایہ کرنے اور اندھیرے کا پردہ ڈالنے، جنین ماں کے پیٹ میں مخفی بچہ، جنون وہ مرض جو عقل کو ڈھانک دے، جنان سینہ کے اندر چھپا دل، جَنَّۃ باغ جس کے درختوں کے گھنے سائے زمین کو ڈھانپ دیں، مَجَنَّۃ ڈھال جس کے پیچھے لڑنے والا اپنے آپ کو چھپالے، جانٌّ سانپ جو زمین میں چھپ کر رہتا ہو، جَنن قبر جو مردے کو اپنے اندر چھپا لے اور جُنَّۃ اوڑھنی جو سر اور بدن کو ڈھانپ لے کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

پھر جنّ کا لفظ با پردہ عورتوں کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ نیز ایسے بڑے بڑے رؤسا اور اکابر لوگوں کیلئے بھی بولا جاتا ہے جو عوام الناس سے اختلاط نہیں رکھتے۔ نیز ایسی قوموں کے لوگوں کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جو جغرافیائی اعتبار سے دور دراز کے علاقوں میں رہتے اور دنیا کے دوسرے حصوں سے کٹے ہوئے ہیں۔

اسی طرح تاریکی میں رہنے والے جانوروں اور بہت باریک کیڑوں مکوڑوں اور جراثیم کیلئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اسی لئے حضورﷺ نے رات کو اپنے کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھنے کا ارشاد فرمایا (صحیح مسلم کتاب الاشربۃ بَاب الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ) اور ہڈیوں سے استنجا سے منع فرمایا اور اسے جنوں یعنی چونٹیوں، دیمک اور دیگر جراثیم کی خوراک قرار دیا۔

(صحیح بخاری کتاب المناقب باب ذکر الجن)

علاوہ ازیں جنّ کا لفظ مخفی ارواح خبیثہ یعنی شیطان اور مخفی ارواح طیبہ یعنی ملائکہ کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا مِنَّا الصّٰلِحُوۡنَ وَمِنَّا دُوۡنَ ذٰلِکَ (الجن: 12)

پس جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ ہر جگہ سیاق و سباق کے اعتبار سے اس لفظ کے معانی ہو ں گے۔ آپ کے سوال میں بیان سورۃ الرحمٰن کی آیت لَمۡ یَطۡمِثۡہُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَہُمۡ وَلَا جَآنٌّ ﴿۷۵﴾ میں جنّ جو کہ انس کے مقابل پر استعمال ہوا ہے۔ اس سے خواص، بڑے رتبہ اور مقام والے، امیر لوگ اور بڑے بڑے رؤسا اور اکابر مراد ہیں اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کیلئے ایسی جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن میں ان نیک بندوں کیلئے ایسی ایسی نعماء ہوں گی جو خالصتاً صرف ان جنتیوں کیلئے ہوں گی اور ان سے پہلے یہ نعمتیں ہر قسم کے عوام و خواص کی دسترس سے پاک ہوں گی۔

سوال: کینیڈا سے ایک دوست نے حیوانات کے مرنے کے بعد ان کی ارواح کے باقی رہنے کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ارشاد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں بھجوا کر لکھا ہے کہ آپ نے وقف نو کی ایک کلاس میں فرمایا تھا کہ جانوروں کے مرنے کے بعد ان کی روح باقی نہیں رہتی اور ان کی زندگی دنیا میں ہی ختم ہو جاتی ہے اور دریافت کیا ہے کہ ان دونوں باتوں میں مطابقت کیسے ہو سکتی ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 19 اکتوبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل رہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: آپ نے اپنے خط میں جس مکالمہ کے حوالہ سے سوال کیا ہے، یہ مکالمہ1908ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور انگلستان کے پروفیسر ریگ صاحب کے مابین لاہور میں دو نشستوں میں سوال و جواب کی صورت میں ہوا تھا۔ جس میں پروفیسر صاحب نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کی ذات،انبیاء کرام کی بعثت، کائنات، نیکی اور بدی کی تحریکات، شیطان، دنیوی اور اخروی زندگی، انسانوں کا ارواح سے تعلق، ادنیٰ کا اعلیٰ کیلئے قربان ہونا، حیوانات اور ان کی ارواح اور مسئلہ ارتقاء وغیرہ مختلف موضوعات پر ایک تسلسل میں سوالا ت پیش کئے اور حضور علیہ السلام نے ان سوالات کے نہایت بصیرت افروز جوابات عطاء فرماتے ہوئے جہاں ان موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی وہاں حضور علیہ السلام نے انسانوں اور حیوانات کے عقل و شعور، تکالیف،احساسات اور ان کےاس دنیا کے اعمال وافعال نیز اخروی زندگی میں ملنے والے اجر کےباہمی فرق کو بھی واضح فرمایا۔ چنانچہ ایک سوال کے جواب میں حضور علیہ السلام نے فرمایا:
’’یہ عالم ایک مختصر عالم ہے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ نے ایک وسیع عالم رکھا ہے جس میں اس نے ارادہ اور وعدہ کیا ہے کہ سچی اور ابدی خوشحالی دی جاوے گی۔ ہر دکھ جو اس جہان میں ہے اس کا تدارک اور تلافی دوسرے عالم میں کر دی جاوے گی۔ جو کمی اس جہان میں پائی جاتی ہے وہ آئندہ عالم میں پوری کر دی جاوے گی۔ باقی رہا دکھ، درد،تکلیف،رنج و محن، یہ تو ادنیٰ و اعلیٰ کویکساں برداشت کرنا پڑتا ہے اور یہ اس نظام عالم کے قیام کے واسطے لازمی اور ضروری تھے۔ اگر وسیع نظر سے دیکھا جاوے تو کوئی بھی دکھ سے خالی نہیں۔ ہر مخلوق کو علیٰ قدر مراتب اس میں سے حصہ لینا ہی پڑتا ہے۔ البتہ کسی کو کسی رنگ میں ہے اور کسی کو کسی رنگ میں۔۔۔

دوسری بات جو قابل غور ہے یہ ہے کہ چونکہ تکالیف انسانی۔ تکالیف حیوانی سے بڑھی ہوئی ہیں۔ (اسی واسطے انسانی اجربھی حیوانی اجر سے بڑھا ہوا ہوگا)۔ تکالیف انسانی دو قسم کی ہیں۔ ایک تکالیف شرعیہ دوسری تکالیف قضا و قدر۔ تکالیف قضا و قدر میں انسان و حیوان مشترک اور قریباً برابر ہیں۔۔۔

باقی تکالیف شرعیہ میں انسان کے ساتھ حیوانات کا کوائی اشتراک نہیں ہے۔ احکام شرعیہ بھی ایک قسم کی چھری ہے جو انسانی گردن پر چلتی ہے۔ مگر حیوان اس سے بری الذمہ ہیں۔ امور شرعیہ بھی ایک موت ہیں جو انسان کو اپنے اوپر وارد کرنی پڑتی ہے۔پس اس طرح سے ان باتوں کو یکجائی طور سے دیکھنے سے صاف معلوم ہوگا کہ تکالیف انسانی تکالیف حیوانی سے بہت بڑھی ہوئی ہیں۔

تیسری بات جو قابل یاد ہے یہ ہے کہ انسانی حواس میں بہت تیزی ہے۔ انسان میں قوت احساس زیادہ پائی جاتی ہے۔ حیوانات یا نباتات اس کے مقابل میں بہت کم احساس رکھتے ہیں۔۔۔ پس حیوانات ان تکالیف کا بہت کم احساس کرتے ہیں اور ممکن ہے کہ بعض اوقات بالکل ہی نہ کرتے ہوں۔

اب جائے غور ہے کہ دنیا میں ان تکالیف کا بوجھ کس پر زیادہ ہے آیا انسان پر یا حیوان پر؟ صاف ظاہر ہے کہ انسان ہی کو ان مشکلات دنیوی میں بہ نسبت حیوانات کے زیادہ حصہ لینا پڑتا ہے۔‘‘

اسی تسلسل میں پروفیسر صاحب کے اگلے سوال کہ حیوانات کو بھی آئندہ عالم میں کوئی بدلہ دیا جاوے گا؟ کے جواب میں حضور علیہ السلام نے فرمایا:
’’ہاں ہم مانتے ہیں کہ علیٰ قدر مراتب سب کو ان کی تکالیف دنیوی کا بدلہ دیا جاوے گا اور ان کے دکھوں اور تکالیف کی تلافی کی جاوے گی۔‘‘

نیز پروفیسر صاحب کے سوال کہ تو پھر اس کا یہ لازمی نتیجہ ہوگا کہ وہ حیوانات جن کو ہم مارتے ہیں ان کومردہ نہیں بلکہ زندہ یقین کریں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا:
’’ہاں یہ ضروری بات ہے وہ فنا نہیں ہوئے ان کی روح باقی ہے وہ حقیقتاً نہیں مرے بلکہ وہ بھی زندہ ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد10 صفحہ429-432 ایڈیشن 1984ء)

اس مکالمہ میں حضور علیہ السلام نے احکام شرعیہ کے حوالہ سے انسانوں اور جانوروں کے مکلف ہونے اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سلوک کا جو باہمی امتیاز بیان فرمایا ہے، وقف نو کی کلاس میں میں نے بھی کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے جانوروں کی زندگی کے اسی دنیا میں خاتمہ کا کہا تھا۔ جس سے میری مراد یہ تھی کہ جانور چونکہ احکام شرعیہ کے پابند نہیں ہیں، اس لئے اگلے جہان میں ان کے ساتھ انسانوں والی جزاء سزاء کا معاملہ نہیں ہو گا۔ البتہ جس طرح احادیث میں بھی آتا ہے کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ دلوایا جائے گا۔ (صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ والاداب) قیامت کے دن ان کے درمیان صرف آپس کے بدلہ کے لین دین کا معاملہ ہوگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اوپر مذکور ارشاد کے آخری الفاظ بھی جانوروں کی روح کی اسی قسم کی بقا کو بیان فرما رہے ہیں۔

جبکہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اور جس کو احکام شرعیہ کا مکلف بنایا گیا ہے اس کی جزاء سزا کا فیصلہ ان احکام شرعیہ کی روشنی میں ہو گا اور اس کیلئے اس کے اعمال کے مطابق جنت و دوزخ کا بھی فیصلہ کیا جائے گا۔

شرعی لحاظ سے مکلف ہونے اور اپنے اعمال کے لحاظ سے جزاء سزا پانے کی بابت انسانوں اور حیوانات کی ارواح کے فرق کے بارہ میں حضور علیہ السلام کے ملفوظات میں بیان مذکورہ بالا ارشاد کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بعض تصانیف میں بھی انسانوں اور حیوانوں کی ارواح کے فرق کو بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کہ ہم نے فلاں قوم کر مارا اور پھر زندہ کر دیا، ایک نبی کو سو برس مارا اور پھر زندہ کر دیا۔ حضرت ابراہیم کی معرفت جانور زندہ کئے گئے وغیرہ استعارات کی حقیقت بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:
یہ ہر گز سچ نہیں ہے کہ ان تمام مقامات میں جہاں مردہ زندہ ہونا لکھا ہے واقعی اور حقیقی موت کے بعد زندہ ہونا لکھا گیا ہے بلکہ لغت کی رو سے موت کے معنے نیند اور ہر قسم کی بےہوشی بھی ہے۔ پس کیوں آیات کو خواہ نخواہ کسی تعارض میں ڈالا جائے اور اگر فرض کے طور پر چار جانور مرنے کے بعد زندہ ہو گئے ہوں تو وہ اعادہ روح میں داخل نہیں ہوگا۔ کیونکہ بجز انسان کے اور کسی حیوان اور کیڑے مکوڑے کی روح کو بقاء نہیں ہے۔ اگر زندہ ہو جائے تو وہ ایک نئی مخلوق ہو گی چنانچہ بعض رسائل عجائب المخلوقات میں لکھا ہے کہ اگر بہت سے بچھو کوٹ کر ایک ترکیب خاص سے کسی برتن میں بند کئے جائیں تو اس خمیر سے جس قدر جانور پیدا ہوں گے وہ سب بچھو ہی ہوں گے۔ تو اب کیا کوئی دانا خیال کر سکتا ہے کہ وہی بچھو دوبارہ زندہ ہو کر آ گئے جو مر گئے تھے بلکہ مذہب صحیح جو قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے یہی ہے کہ مخلوقات ارضی میں سے بجز جن اور انس کے اور کسی چیز کو ابدی روح نہیں دیا گیا۔

(ازالۂ اوہام، روحانی خزائن جلد3 صفحہ220-221)

آریہ مذہب کے عقائد کے بالمقابل اسلامی تعلیمات کے لحاظ سے انسانی روح کے بقاء کی حقیقت بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:
یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ مسلمان بھی انسانی ارواح کو ابدی قرار دیتے ہیں کیونکہ قرآن شریف یہ نہیں سکھلاتا کہ انسانی ارواح اپنی ذات کے تقاضا سے ابدی ہیں بلکہ وہ یہ سکھلاتا ہے کہ یہ ابدیت انسانی روح کیلئے محض عطیہ الہٰی ہے ورنہ انسانی روح بھی دوسرے حیوانات کی روحوں کی طرح قابل فنا ہے۔

(نسیم دعوت، روحانی خرئن جلد19 صفحہ382 حاشیہ)

پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اور وقف نو کلاس میں میری طرف سے کہی گئی بات میں میرے خیال میں کوئی تضاد نہیں۔ اگر پہلے بات واضح نہیں تھی تو اب واضح ہو کہ جانوروں کا معاملہ صرف ایک دوسرے سے بدلہ لینے تک محدود ہے اور ان پر شرعی احکامات کا نفاذ نہیں ہو گا اور نہ ہی ان کا جزاء سزا کے ساتھ کوئی تعلق ہو گا۔ جبکہ انسان کا معاملہ شرعی احکامات کے تابع دیکھا جائے گا اور انسان کے اعمال اور اس کے شرعی احکامات پر عمل پیرا ہونے کے مطابق ہی اس کی جزاء سزا کا فیصلہ ہو گا۔

سوال: جرمنی سے ایک دوست نے قرآن کریم کی آیات وَہُوَ الَّذِیۡ مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ ہٰذَا عَذۡبٌ فُرَاتٌ وَّہٰذَا مِلۡحٌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَیۡنَہُمَا بَرۡزَخًا وَّحِجۡرًا مَّحۡجُوۡرًا (الفرقان 54-55) میں بیان نمکین اور میٹھے پانی کے دو سمندروں، نیز انسانی تخلیق کے پانی سے ہونے سے مراد انسانی جسم کے Intracellular اور Extracellular سسٹم کوقرار دے کر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے اس بارہ میں رہنمائی چاہی۔ نیز سوال کرنے والے نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ Cells بھی میٹھے اور نمکین پانی پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان کے درمیان ایک روک حائل ہوتی ہے۔ نیز ہر انسانی جسم اسی قسم کے Cells پر مشتمل ہوتا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 19؍اکتوبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: آپ کایہ نقطہ ذوقی حدتک تو ٹھیک ہے اور ان آیات کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے جو آپ نے بیان کیا ہے۔ لیکن ان آیات سے صرف یہی پہلو مراد لینا قرآن کریم کے وسیع مضمون کو محدود کرنے والی بات ہو گی۔ کیونکہ قرآن کریم کی ان آیات کے کئی پہلو ہیں جنہیں پرانے مفسرین بھی اپنے اپنے وقتوں میں بیان کرتے آئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء نے بھی ان آیات کے کئی نئے پہلو بیان فرمائے ہیں، جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی کتب اور تفاسیر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر سمندر کا پانی جو شدید کڑوا ہوتا ہے اسی سے بادل بن کر جب بارش برستی ہے تو وہ پانی بہت میٹھا ہوتا ہے اور ان دونوں قسم کے پانیوں کے درمیان ایک ایسی روک حائل ہوتی ہے جو انہیں کبھی ملنے نہیں دیتی۔ اسی طرح ظاہری طور پر ان سے سمندروں اور دریاؤں کے پانی بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ سمندروں کاپانی نمکین ہوتا ہے اور دریاؤں کا پانی میٹھا ہوتا ہے۔ پھر روحانی تعلیم جو میٹھے پانی سے مشابہ ہوتی ہے اور کفر کی تعلیم جو نمکین پانی سے مشابہت رکھتی ہے، اس سے مراد ہو سکتی ہے۔ یعنی جو تعلیمات براہ راست خدا کی طرف سے آتی ہیں وہ میٹھی ہوتی ہیں اور جو تعلیمیں دیر سے دنیا میں موجود ہیں اور براہ راست الہام سے محروم ہیں وہ کڑوی ہوتی ہیں۔

اسی طرح انسان اور ہر زندہ چیز کے پانی سے پیدا ہونے کی بھی کئی تشریحات حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے احمدیت نے بیان فرمائی ہیں۔ جن میں سے یہ بھی ہے کہ ہر چیز پانی سے ہی زندہ ہے۔ چنانچہ آسمان سے بارش برستی ہے تو زمین میں فصلیں اگتی ہیں جو زندگی کا سبب بنتی ہیں۔ اسی طرح روحانی زندگی کیلئے بھی ضروری ہے کہ آسمان سے روحانی پانی اترتا رہے۔ اسی طرح میٹھے اور نمکین پانی کے جو ذخائر ہیں یعنی سمندر اور دریا، ان میں بھی اللہ تعالیٰ نے مختلف اقسام کی مچھلیوں اور آبی مخلوقات کی صورت میں انسانوں اور دیگر جانوروں کیلئے خوراک کی صورت میں زندگی کے سامان پیدا کئے ہیں۔

پس ان آیات قرانیہ میں بیان وسیع مضامین کو صرف ایک پہلو تک محدود رکھنا درست نہیں۔ ہاں ان سے ایسے مختلف معانی نکالنا جو قرآن کریم اور آنحضورﷺ کی تعلیمات نیزحضورﷺ کے غلام صادق اور اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفاسیر و تشریحات کے مطابق ہوں، جائز ہے۔

سوال: جرمنی سے ایک دوست نے ناظم صاحب قضاء جرمنی کو لکھے جانے والے اپنے خط کی نقل حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں بھی بھجوائی، جس میں انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد عدت میں بیوی سے تعلقات زوجیت قائم کر لینے اورپھر ان تعلقات کے بارہ میں قضاء سے غلط بیانی کرنے پر قضاء کے فیصلۂ طلاق کی حیثیت دریافت کی ہے۔ نیز دریافت کیا ہے کہ قضاء کے اس فیصلہ ٔ طلاق سے ان کی طلاق ہو گئی ہے یا انہیں دوبارہ یہ سارا عمل کرنا پڑے گا؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 29؍اکتوبر 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: آپ کی بیان کردہ صورت کے مطابق آپ کی وہ طلاق جس کی عدت کے دوران آپ میاں بیوی میں تعلقات زوجیت قائم ہو گئے تھے، مؤثر نہیں ہوئی اور اس کے متعلق قضاء کی طرف سے آپ میاں بیوی کے درمیان کیا جانے والا فیصلۂ طلاق درست نہیں ہے۔ کیونکہ آپ نے قضاء سے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔ البتہ اسلام میں خاوند کو ملنے والے طلاق کے تین مواقع میں سے ایک موقعہ آپ نے استعمال کر لیا ہے۔نیز اس طلاق کی عدت کے دوران آپ میاں بیوی کے درمیان چونکہ تعلقات زوجیت قائم ہو گئے تھے،اس لئے یہ آپ کا اس طلاق سے رجوع شمار ہو گا۔

اب اگر آپ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتے ہیں تو طلاق دینے کی صورت میں یہ آپ کی طرف سے دوسری طلاق شمار ہو گی اور عدت تین حیض ہو گی اور اگر حیض نہ آتے ہوں تو تین ماہ ہو گی اور اگر آپ کی بیوی حاملہ ہے تو عدت وضع حمل ہو گی۔

اس عدت کے گزرنے کے بعد بشرطیکہ آپ عدت میں رجوع نہیں کرتے تو پھر آپ میاں بیوی کے درمیان طلاق مؤثر ہو گی۔

اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اور آپ دونوں میاں بیوی کواسلام کے تمام احکامات پر سچائی اور خوف خدا کو پیش نظر رکھتے ہوئے عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

(مرتبہ: ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

پچھلا پڑھیں

بيعت وہ ہے جس ميں کامل اطاعت کي جائے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 فروری 2023