• 19 اپریل, 2021

یہ اُن لوگوں کی غلطی ہے اور سراسر بدقسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔ مَیں وہ درخت ہوں جس کو مالکِ حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ (حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پھر آپ فرماتے ہیں: ’’ہمیشہ یہ امر واقع ہوتا ہے کہ جو خدا کے خاص حبیب اور وفادار بندے ہیں اُن کا صدق خدا کے ساتھ اُس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ دنیا دار اندھے اُس کو دیکھ نہیں سکتے۔ اس لئے ہر ایک سجادہ نشینوں اور مولویوں میں سے اُن کے مقابلہ کے لئے اُٹھتا ہے اور وہ مقابلہ اس سے نہیں بلکہ خدا سے ہوتا ہے۔ بھلا یہ کیونکر ہو سکے کہ جس شخص کو خدا نے ایک عظیم الشان غرض کے لئے پیدا کیا ہے اور جس کے ذریعے سے خدا چاہتا ہے کہ ایک بڑی تبدیلی دنیا میں ظاہر کرے، ایسے شخص کو چند جاہل اور بزدل اور خام اور ناتمام اور بے وفا زاہدوں کی خاطر سے ہلاک کر دے‘‘۔ فرمایا کہ ’’اگر دو کشتیوں کا باہم ٹکراؤ ہو جائے‘‘ (دریا میں دو کشتیوں کا ٹکراؤ ہو جائے تو) ’’جن میں سے ایک ایسی ہے کہ اس میں بادشاہِ وقت جو عادل اور کریم الطبع اور فیاض اور سعید النفس ہے، مع اپنے خاص ارکان کے سوار ہے۔ اور دوسری کشتی ایسی ہے جس میں چند چوہڑے یا چمار یا ساہنسی بدمعاش بدوضع بیٹھے ہیں۔ اور ایسا موقع آ پڑا ہے کہ ایک کشتی کا بچاؤ اس میں ہے کہ دوسری کشتی مع اس کے سواروں کے تباہ کی جائے تو اب بتلاؤ کہ اُس وقت کونسی کارروائی بہتر ہو گی؟ کیا اُس بادشاہ عادل کی کشتی تباہ کی جائے گی یا اُن بدمعاشوں کی کشتی کہ جو حقیر و ذلیل ہیں تباہ کر دی جائے گی۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ بادشاہ کی کشتی بڑے زور اور حمایت سے بچائی جائے گی اور اُن چوہڑوں چماروں کی کشتی تباہ کر دی جائے گی اور وہ بالکل لاپرواہی سے ہلاک کر دئیے جائیں گے اور اُن کے ہلاک ہونے میں خوشی ہو گی کیونکہ دنیا کو بادشاہِ عادل کے وجود کی بہت ضرورت ہے اور اُس کا مرنا ایک عالَم کا مرنا ہے۔ اگر چند چوہڑے اور چمار مر گئے تو اُن کی موت سے کوئی خلل دنیا کے انتظام میں نہیں آ سکتا۔ پس خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ جب اُس کے مُرسَلوں کے مقابل پر ایک اور فریق کھڑا ہو جاتا ہے تو گو وہ اپنے خیال میں کیسے ہی اپنے تئیں نیک قرار دیں اُنہیں کو خدا تعالیٰ تباہ کرتا ہے اور اُنہیں کی ہلاکت کا وقت آ جاتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ جس غرض کے لئے اپنے کسی مرسل کو مبعوث فرماتا ہے اُس کو ضائع کرے کیونکہ اگر ایسا کرے تو پھر وہ خود اپنی غرض کا دشمن ہو گا۔ اور پھر زمین پر اُس کی کون عبادت کرے گا؟ دنیا کثرت کو دیکھتی ہے اور خیال کرتی ہے کہ یہ فریق بہت بڑا ہے، سو یہ اچھا ہے‘‘۔ (یعنی بڑا ہونے کی وجہ سے یہی ٹھیک ہیں) ’’اور نادان خیال کرتا ہے کہ یہ لوگ ہزاروں لاکھوں مساجد میں جمع ہوتے ہیں، کیا یہ بُرے ہیں؟ مگر خدا کثرت کو نہیں دیکھتا وہ دلوں کو دیکھتا ہے۔ خدا کے خاص بندوں میں محبتِ الٰہی اور صدق اور وفا کا ایک ایسا خاص نور ہوتا ہے کہ اگر مَیں بیان کر سکتا تو بیان کرتا لیکن مَیں کیا بیان کروں؟ جب سے دنیا ہوئی اس راز کو کوئی نبی یا رسول بیان نہیں کر سکا۔ خدا کے باوفا بندوں کی اس طور سے آستانہ الٰہی پر روح گرتی ہے کہ کوئی لفظ ہمارے پاس نہیں کہ اس کیفیت کو دکھلا سکے‘‘۔

(تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن۔ جلد20 صفحہ72-71)

پس مخالفین کی ہزاروں کوششوں نے آپ کی ترقی میں ذرا سا بھی فرق نہیں ڈالا۔ اس لئے کہ ان کے ہر مکر اللہ تعالیٰ اُن پر اُلٹا دیتا تھا اور آج تک یہ نظارے ہم دیکھ رہے ہیں۔ اور جب تک ہم اپنے ایمانوں میں مضبوط رہیں گے، ہم جماعتی ترقی کے نظارے دیکھتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق بھی عطا فرمائے۔

پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’یہ اُن لوگوں کی غلطی ہے اور سراسر بدقسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔ مَیں وہ درخت ہوں جس کو مالکِ حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ جو شخص مجھے کاٹنا چاہتا ہے اس کا نتیجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ قارون اور یہودا اسکریوطی اور ابوجہل کے نصیب سے کچھ حصہ لینا چاہتا ہے…‘‘۔

فرمایا کہ ’’… اے لوگو! تم یقینا سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو آخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔ اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دُعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں تب بھی خدا ہر گز تمہاری دُعا نہیں سُنے گا اور نہیں رُکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کرلے۔ اور اگر انسانوں میں سے ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو تو خدا کے فرشتے میرے ساتھ ہوں گے۔ اور اگر تم گواہی کو چھپاؤ توقریب ہے کہ پتھر میرے لئے گواہی دیں۔ پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو۔ کاذبوں کے اَور مُنہ ہوتے ہیں اَور صادقوں کے اور۔ خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔ مَیں اس زندگی پر لعنت بھیجتا ہوں جو جھوٹ اور افترا کے ساتھ ہو۔ اور نیز اس حالت پر بھی کہ مخلوق سے ڈر کر خالق کے امر سے کنارہ کشی کی جائے‘‘۔

(اربعین نمبر3 روحانی خزائن جلد17 صفحہ400-399)

فرمایا: ’’اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اُس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلاوے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر اُن کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا۔ اور ہر ایک کو جو اُس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نا مراد رکھے گا۔ اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔ اگر اب مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں تو اس ٹھٹھے سے کیا نقصان۔ کیونکہ کوئی نبی نہیں جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا؟ پس ضرور تھا کہ مسیح موعود سے بھی ٹھٹھا کیا جاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚؑ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ (یٰس: 31) پس خدا کی طرف سے یہ نشانی ہے کہ ہر ایک نبی سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے مگر ایسا آدمی جو تمام لوگوں کے رو برو آسمان سے اترے اور فرشتے بھی اُس کے ساتھ ہوں، اُس سے کون ٹھٹھا کرے گا؟ پس اس دلیل سے بھی عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا آسمان سے اترنا محض جھوٹا خیال ہے۔ یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اترے گا۔ ہمارے سب مخالف جو اَب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی اُن میں سے عیسیٰ بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔ اور پھر اُن کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور اُن میں سے بھی کوئی آدمی عیسیٰؑ بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اور پھر اولاد کی اولاد مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔ تب خدا اُن کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آ گئی مگر مریم کا بیٹا عیسیٰؑ اب تک آسمان سے نہ اترا۔ تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہو گی کہ عیسیٰؑ کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہو گا اور ایک ہی پیشوا۔ مَیں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں، سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد20 صفحہ67-66)

پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کی سچائی تو ہم دیکھ رہے ہیں۔ آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائیدات کا سلوک تو ہم دیکھ رہے ہیں۔ آج اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق ایشیا کے ممالک میں بھی اور جزائر میں بھی، یورپ میں بھی اور امریکہ میں بھی اور افریقہ کے سرسبز علاقوں میں بھی اور ریگستانوں کی دور دراز آبادیوں میں بھی احمدیت کو پھیلا دیا ہے، اور بڑی شان سے نہ صرف پھیلا دیا ہے بلکہ بڑی شان سے پنپ رہی ہے، بڑھ رہی ہے اور پھیل رہی ہے۔ ہر احمدی کی ہر قربانی ہمارے لئے نئی منزلوں کے حصول کا ہی ذریعہ بنتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اِن فضلوں کا حصہ بننے کے لئے، اپنے ایمانوں کی مضبوطی کے لئے پہلے سے بڑھ کر ہمیں دعائیں کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں اور کروٹ لے رہے ہیں یہ ان شاء اللہ تعالیٰ احمدیت کے حق میں عظیم نظارے دکھانے والے بننے والے ہیں۔ اور اس کے لئے بڑی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اپنی حالتوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ پس ان دنوں میں خاص طور پر، خاص طور پر دعاؤں پر، دعاؤں پر بہت زور دیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری پردہ پوشی بھی فرمائے اور ہمارا کوئی عمل ایسا نہ ہو جو ہمیں اس ترقی کو دیکھنے سے محروم رکھے۔

(خطبہ جمعہ 4؍مارچ 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 اپریل 2021