• 20 جون, 2021

حضرت حکیم احمد دین صاحب رضی اللہ عنہ

تعارف صحابہ کرام ؓ
حضرت حکیم احمد دین صاحب رضی اللہ عنہ ۔ شاہدرہ

حضرت حکیم احمدالدین صاحب رضی اللہ عنہ ولد میاں سراج دین صاحب شاہدرہ کے رہنے والے تھے۔ آپ ایک کامیاب حکیم تھے اور موجد طب جدید کے نام سے جانے جاتے تھے۔ 1895ء میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوگئے، آپ نہایت مخلص اور دین کی خدمت کرنے والے تھے۔ آپ شاہدرہ جماعت کے روح رواں تھے، اس جماعت کے امیر بھی رہے۔ آپ کی بیان کردہ روایات رجسٹر روایات صحابہ نمبر 1 میں درج ہیں، آپ بیان کرتے ہیں:
’’1900ء کے لگ بھگ کا ذکر ہے کہ حضرت اقدسؑ اور مولوی محمد حسین بٹالوی کا باہمی مقدمہ تھا اور دھاریوال میں ڈپٹی آیا ہوا تھا، وہیں تاریخ مقدمہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لے گئے تھے، آپؑ کے ہمراہ یہ عاجز بھی تھا، دوسرے سیٹھ اسماعیل آدم صاحب تھے (یہ سہو ہے حضرت سیٹھ اسماعیل آدم صاحب نہیں بلکہ حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسیؓ تھے، یہ تصحیح الفضل 30 اپریل 1942ء صفحہ 6 پر بھی درج ہے۔ ناقل) اور سات یا آٹھ اور بھی احمدی تھے جن کے نام میں نہیں جانتا۔ حضرت اقدسؑ پالکی میں سوار تھے اور سیٹھ صاحب پرانے یکہ پر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خاص سیٹھ صاحب کے لئے منگوایا تھا، باقی ہم سب پیادہ پا ساتھ چلتے تھے۔ سیٹھ صاحب نے عذر کیا کہ میں ساری عمر ایک ہی دفعہ یکہ پر سوار ہوا تھا اور اُس روز یکہ سے گر پڑا تھا لہٰذا میں یکہ پر سواری نہیں کر سکتا۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا میں یکہ پر سوار ہوتا ہوں اور آپ پالکی میں سوار ہو جائیں لیکن سیٹھ صاحب نے کہا یہ ترک ادب ہے اور میں یہ جرأت بالکل نہیں کر سکتا۔ آخر سیٹھ صاحب یکہ پر سوار ہوگئے لیکن آگے راستہ میں جاکر یکہ سے گر پڑے، حضرت اقدسؑ کو پتا لگا تو آپ پالکی سے اُتر کر دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے اور ضربات کے متعلق دریافت فرمایا اور بڑے اصرار سے فرمایا کہ سیٹھ صاحب آپ ضرور پالکی میں بیٹھ جائیں مگر سیٹھ صاحب نے بھی سخت انکار کیا اور پیدل چلنے پر آمادہ ہو گئے لیکن حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ اگر آپ پالکی میں بالکل نہیں بیٹھنا چاہتے تو پھر اسی یکہ پر سوار ہوجائیں، آپؓ بھاری بھرکم ہیں آپ سے چلا نہیں جائے گا۔ آخر سیٹھ صاحب پھر یکہ پر بیٹھ گئے اور حضرت اقدسؑ نے ہم میں سے چار آدمیوں کو یکہ کے ارد گرد متعین فرما دیا کہ سیٹھ صاحب کی حفاظت کا خیال رکھو کہ یہ یکہ سے گرنے نہ پائیں چنانچہ ہم چاروں ان کے ہم رکاب رہے۔ راستہ میں ایک گاؤں آیا جس کی مالکہ ایک سکھ عورت تھی اس گاؤں کا نام مجھے یاد نہیں رہا، (اس گاؤں کا نام غالباً کھنڈا ہے ۔ مرتب) گاؤں کے ساتھ ایک کنواں تھا اور کنویں کے ساتھ ایک مکان تھا جو مسافروں کے لیے مخصوص تھا، حضور کے حکم سے ہم وہاں ٹھہر گئے تاکہ نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھ لیں چنانچہ حضور کی اقتداء میں ہم نے دوگانہ نمازیں ادا کیں کیونکہ ہمارے ساتھ کوئی مولوی صاحب نہ تھے تمام مولوی صاحبان مع حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ ایک اور گاؤں میں پہلے پہنچے ہوئے تھے جہاں احمدی جماعت بھی تھی اور وہاں شب باشی کا انتظام تھا اور وہ گاؤں اس سکھوں کے گاؤں سے قریبًا میل دو میل کے فاصلہ پر تھا۔ حضرت اقدسؑ کا ارادہ تھا کہ نماز ادا کرکے پھر اس گاؤں میں پہنچ جائیں گے مگر اس گاؤں کی مالکہ نے جب حضورؑ کی آمد کا حال سنا تو اُس نے اپنا ایک کاردار مختار حضور کی خدمت میں بھیجا جو مسلمان تھا اس نے آکر سب کو کھانڈ کا شربت پلایا ….. اور صبح دھاریوال پہنچ گئے ……

ایک شخص شاہدرہ میں اہل حدیث تھے باوجود امام مسجد اور نابینا ہونے کے جمعہ کی نماز میری اقتداء میں پڑھا کر تے اور ہر روز ہماری مجالس میں بیٹھتے اوران کو تبلیغ بھی ہوتی رہتی۔ اگرچہ انہوں نے ظاہری طورپر بیعت نہیں کی ہوئی تھی ہاں بعد میں انہوں نے پوشیدہ طور پر تحریری بیعت کر لی تھی مگر یہ ذکرابتداء کا ہے انہوں نےایک دفعہ مجھے مجبور کیا کہ میں حضرت اقدسؑ کو ان کی طرف سے ایک خط لکھوں (چونکہ وہ سخت درجہ کے مہوّس یعنی کیمیا گری کے معتقد اور عامل تھے کہ باوجود نابینا ہونے کے دوسرے ہم خیال پیدا کر کے ان سے ساڑ پھونک کا کام کرواتے اور جو کچھ چیز تیار ہوتی وہ لوگوں کو دکھاتے پھرتے کہ یہاں تک تو ہم کامیاب ہو گئے ہیں اب تھوڑی سی کسر باقی ہے) جس کا مضمون یہ تھا کہ ہمیں و ثوق سے یقین ہے کہ علم کیمیا گری خدا کی ایک نعمت ہے اور خدا کے اولیاء کے سوا یہ علم خدا کی طرف سے کسی اورپر نہیں کھولا جاتا اور اولیاء اﷲ سب کے سب یہ علم جانتے ہیں۔ اور آپ چونکہ امام مہدی اور مسیح موعودؑ ہیں اس لئے آپ کو تو اس کا علم ہو گا۔ اس لئے براہِ نوازش ہم کو کیمیا کا نسخہ بتا دیا جائے۔ چنانچہ حافظ صاحب کئی دن تک مجھ سے باصرار اس قسم کاخط لکھنے پر قائم دائم رہے تو آخر میں نے عرض کیا کہ اگرآپ چاہیں تو میں اس مضمون کا خط لکھ دیتا ہوں کہ یا حضرت! مجھے کیمیا گری کا شوق ہے جس پر مین مدّت سے نقصان اٹھا رہا ہوں۔ اگر کیمیا کا علم صحیح ہے تو آپ دعا کریں کہ میں اس شوق میں کامیاب ہو جاؤں اور اگر یہ شوق پورا ہونے والا نہیں تو دعا فرمائیں کہ یہ خیال میرے دل سے محو ہو جائے تاکہ میں نقصان سے بچ جاؤں۔ حافظ صاحب نے مان لیا کہ اچھا اس طرح لکھ دو ۔چنانچہ میں نے خط لکھ دیا۔ اس کا جواب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے قلم سے آیا کہ حضرت صاحب فرماتے ہیں کیمیا گری جھوٹ ہے۔ حافظ صاحب سےکہہ دیں کہ استغفار، لاحول اور درود کثرت سے پڑھیں۔ اس سےیہ خیال کیمیاگری کا دل سے نکل جائے گا۔ اس کے بعد میں ہمیشہ حافظ صاحب کو یاد کراتا رہا کہ آ پ یہ عمل کریں مگر باوجود احمدی ہوجانے کے بھی وہ اخیر عمر تک اس شوق میں مبتلارہے۔اور میرے کہنے پر کہا کرتے کہ میں یہ عمل اس لئے نہیں کرتا کہ کہیں میرے دل سے یہ خیال نہ نکل جائے اور شوق رہنے کی حالت میں شاید کہیں سے کوئی نسخہ مل ہی جائے۔‘‘

(رجسٹر روایات صحابہ نمبر1 صفحہ 36-38۔ الفضل 19 اپریل 1942ء صفحہ3)

آپ احمدیت کے سچے عاشق تھے، تبلیغ میں بھرپور حصہ لیتے، ایک جگہ رپورٹ میں لکھا ہے: ’’حکیم احمد الدین صاحب ساکن شاہدرہ نے ایک تبلیغی دورہ کیا اور بستی وریام میں خاص طور سے تبلیغ احمدیت کی، جزاہ اللہ۔‘‘ (الفضل 13؍جنوری 1917ء صفحہ2) تبلیغ میں قلمی خدمات بھی سر انجام دیتے، مثلًا امرتسر کے رسالہ بلاغ میں آپ کا ایک مضمون ختم نبوت پر شائع ہوا۔

(الفضل 28ستمبر 1926ء صفحہ6)

حضرت حکیم احمد دین صاحب رضی اللہ عنہ نے 22؍دسمبر 1938ء کو وفات پائی۔ آپ کی تدفین امانۃً قادیان سے باہر ہوئی لیکن 1956ء میں آپ کو بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کیا گیا، آپ کا وصیت نمبر 984 ہے۔ آپ نے دو شادیاں کیں، آپ کی بیویوں کے نام حضرت سکینہ بیگم صاحبہؓ اور محترمہ زینب خاتون صاحبہ تھے۔

حضرت سکینہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا اندازًا 1877ء میں پیدا ہوئیں۔ 1895ء میں اپنے خاوند کے بیعت کرنے کے ساتھ ہی آپ نے بھی بیعت کر لی۔حضرت حکیم احمد الدین صاحبؓ نے محترمہ زینب خاتون صاحبہ کے ساتھ دوسری شادی کی لیکن دونوں بیویوں میں کبھی کوئی چپقلش یا حسد نہیں پیدا ہوا بلکہ حضرت حکیم صاحبؓ کی وفات کے بعد جب دونوں بیوہ ہو گئیں تو بھی تا دم آخر اکٹھی رہیں۔ آپ نہایت مخلص اور سلسلہ احمدیہ کے ساتھ حد درجہ محبت رکھنے والی تھیں۔ آپ نے جب نظام وصیت میں شمولیت اختیار کی تو عمدہ مثال قائم کرتے ہوئے 3/1 حصہ فورًا ہی اپنی زندگی میں نقد ادا کردیا، سیکرٹری صاحب بہشتی مقبرہ قادیان نے ’’قابل تقلید مالی قربانی‘‘ کے تحت لکھا: ’’محترمہ سکینہ بیگم صاحبہ بیوہ حکیم احمد الدین صاحب شاہدرہ نے اپنی کل جائداد منقولہ و غیر منقولہ مبلغ 2258روپے میں فروخت کرکے اس رقم کا 3/1 حصہ وصیت 752/- نقد ادا کر دیا ہے، اب ان کے ذمہ حصہ جائداد میں سے کوئی بقایا نہیں۔ اللہ تعالیٰ موصیہ کو اور نیکیوں میں بھی سبقت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور خاتمہ بالخیر کرے۔‘‘ (الفضل 21؍اپریل 1944ء صفحہ3) تقسیم ملک کے بعد آپ ہجرت کر کے ربوہ مقیم ہوگئیں جہاں نومبر 1968ء میں وفات پائی، آپ کی سوکن محترمہ زینب خاتون صاحبہ نے خبر وفات دیتے ہوئے لکھا: ’’محترمہ سکینہ بیگم صاحبہ (عرف بڈھی) زوجہ حکیم احمد الدین صاحب مرحوم موجد طب جدید شاہدرہ مورخہ 8؍نومبر 1968ء کو بمقام ربوہ بعمر 91 سال اپنے مولیٰ حقیقی کو جا ملیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ حضور نے بروز جمعہ بعد نماز عصر نماز جنازہ پڑھائی، صحابہ خاص کے قطعہ میں دفن کی گئیں۔ مرحومہ نے 1895ء میں بیعت کی تھی۔ مرحومہ میرے خاوند حکیم احمد دین صاحب مرحوم کی پہلی بیوی تھیں اور آخری وقت تک میرے ہی پاس رہیں …‘‘

(الفضل 8؍دسمبر 1968ء صفحہ6)

حضرت حکیم احمدالدین صاحب رضی اللہ عنہ کی دوسری بیوی محترمہ زینب خاتون صاحبہ نے 1924ء میں بیعت کی، آپ نے پہلے نور ہسپتال قادیان میں اور پھر فضل عمر ہسپتال قادیان میں بطور نرس خدمت کی۔ نہایت مخلص، نیک اور با ہمت خاتون تھیں، آپ کے خاوند نے 1938ء میں وفات پائی تھی لیکن امانتًا بہشتی مقبرہ سے باہر دفن کیے گئے بالآخر محترمہ زینب خاتون صاحبہ نے تمام حصہ وصیت جائداد کا ادا کرنے کے لیے قرضہ لیا اور 1956ء میں کل روپیہ داخل خزانہ صدر انجمن احمدیہ کر کے تبدیلی تدفین کی اجازت لے لی اور نومبر 1956ء کو حضرت حکیم صاحب کو بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ صحابہ میں دفن کیا گیا۔ (الفضل 5دسمبر 1956ء صفحہ6) آپ 7/1حصہ کی موصیہ تھیں،مورخہ 26؍دسمبر 1973ء کو تقریبًا 70سال کی عمر میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئیں۔

(نوٹ: اسی نام سے شاہدرہ کے ایک اور صحابی حضرت میاں احمد دین صاحب نیاری ولد مکرم غلام مصطفی صاحب بھی تھے جنھوں نے 4؍اگست 1947ء کو بعمر 66سال قادیان میں وفات پائی۔ ان کے بیٹے حضرت میاں اللہ دین صاحب درویش قادیان تھے 28؍دسمبر 1982ء کو وفات پائی اور قادیان میں دفن ہوئے۔)

(غلام مصباح بلوچ۔کینڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 جون 2021