• 20 جون, 2021

قرآنی علوم تقویٰ سے آتے ہیں (قسط اول)

قرآنی علوم تقویٰ سے آتے ہیں
قسط اول

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہےجو ایک طاہر و مطہر وجود حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاف و شفاف دل پر نازل ہوا تھا۔ یہ اعلیٰ درجہ کے حقائق و معارف کے علوم اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ گویا قرآن کریم ایک سمندر ہے اور اس کے علوم و فنون اس کی تہہ میں موجود ہیرے اور موتی ہیں جن کی جستجو اور حصول کے لئے جس فن اور سلیقہ کی ضرورت ہے، اس کا نام تقویٰ ہے۔ الغرض قرآنی علوم کے انکشاف کے لئے تقویٰ ایک بنیادی سیڑھی اور شرطِ اول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے:

الرَّحْمٰنُ o عَلَّمَ الْقُرْاٰنَo

(الرحمٰن:2تا3)

یعنی قرآن کریم کا سکھانا اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت کا تقاضا ہے۔ چنانچہ قرآ ن کریم کو سکھانے والے رحمان خدانے فرمایا ہے:

وَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ o

(البقرۃ:283)

یعنی تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اس کے نتیجہ میں وہی اللہ تمہیں علم ومعرفت عطا فرمائے گا۔پس قرآنی علوم کے جاننے کے لئے جہدِ مسلسل اوردعا کے ساتھ ساتھ تقویٰ نہایت ضروری ہے۔

تقویٰ تمام دینی علوم کی کنجی

قرآنی علوم کے انکشاف اوردینی علوم کے حصول کے لئے تقویٰ از بس ضروری ہےکیونکہ تقویٰ دینی وقرآنی علوم کی کُنجی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے اور کسی انسان کے دل کو تقویٰ کی آماجگاہ نہ پائےوہ اس کے لئے قرآنی علوم کا قفل نہیں کھولتا۔ اسی مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’جہاں قرآنِ شریف میں تقویٰ کا ذکر ہے وہاں بتایا ہے کہ ہر ایک علم(اس سے اُخروی علم مراد ہے زمینی اور دنیوی علم مراد نہیں) کی جڑ تقویٰ ہی ہے ۔۔۔۔ قرآن شریف نے شروع میں ہی فرمایا ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ (البقرۃ:3) پس قرآن شریف کے سمجھنے اور اس کے موافق ہدایت پانے کے لیے تقویٰ ضروری اصل ہے۔ ایسا ہی دوسری جگہ فرمایا لَا یَمَسُّٓہٗ اِلّا الْمُطَھَّرُوْنَ (الواقعہ:80) دوسرے علوم میں یہ شرط نہیں ۔۔۔۔ علمِ دین میں خشک منطقی اور فلسفی ترقی نہیں کر سکتا اور اس پر وہ حقائق اور معارف نہیں کُھل سکتےجس کا دل خراب ہے اور تقویٰ سے حصّہ نہیں رکھتا اور پھر کہتا ہے کہ علومِ دین اور حقائق اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں، وہ جُھوٹ بولتا ہے۔ ہرگز ہرگز اُسے دین کے حقائق اور معارف سے حصّہ نہیں ملتا بلکہ دین کے لطائف اور نکات کے لیے متقی ہونا شرط ہے۔

۔۔۔جو روح القدس سے بولتے ہیں وہ بجز تقویٰ کے نہیں بولتےیہ خوب یاد رکھو کہ تقویٰ تمام دینی علوم کی کُنجی ہے۔ انسان تقویٰ کے سوا ان کو نہیں سیکھ سکتا۔‘‘

(ملفوظات ایڈیشن1988ء جلدپنجم ص121تا122)

اسرارِ قرآنی کی واقفیت کے لئے تقویٰ شرط ہے

قرآن کریم علوم ومعار ف کا ایک مخفی اور لازوال خزانہ ہےجس کے رموز واسرارتہہ بہ تہہ لپٹے ہوئے ہیں جن پر تصرفِ کامل خدا تعالیٰ کا ہے۔اور خدا تعالیٰ نے ان تک رسائی، واقفیت اور حصول کے لئے تقویٰ کی شرط لگائی ہے۔ یعنی جب تک کوئی شخص تقویٰ شعار نہیں ہو گا اَسرارِ قرآنی اس پر نہیں کھولے جائیں گے۔ علومِ قرآنی کے انکشاف کے لئے تقویٰ کی اہمیت وضرورت کا ذکر کرتے ہوئے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں:
’’حقیقت میں روح کی تسلی اور سیری کا سامان اور وہ بات جس سے روح کی حقیقی احتیاج پوری ہوتی ہے، قرآن کریم ہی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْن اور دوسری جگہ کہا: لَا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ۔ (الواقعہ:8)۔ اس سے مراد وہی متقین ہیں جو ھُدًی لِلْمُتَّقِیْنَ میں بیان ہوئے ہیں۔ اس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ قرآنی علوم کے انکشاف کے لئے تقویٰ شرط ہے۔ علومِ ظاہری اور علوم قرآنی کے حصول کے درمیان ایک عظیم الشان فرق ہے۔ دنیوی اور رسمی علوم کے حاصل کرنے کے واسطے تقویٰ شرط نہیں ہے ۔۔۔۔ مگر علوم آسمانی اور اسرارِ قرآنی کی واقفیت کے لئے تقویٰ پہلی شرط ہے۔ اس میں توبۃ النصوح کی ضرورت ہے۔ جب تک انسان پوری فروتنی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کو نہ اٹھا لے اور اس کے جلال و جبروت سے لرزاں ہو کر نیاز مندی کے ساتھ رجو ع نہ کرے، قرآنی علوم کا دروازہ نہیں کھل سکتا ۔۔۔ قرآن شریف اللہ کی کتاب ہے اور اس کے علوم اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ پس اس کے لئے تقویٰ بطور نردبان کے ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد اول ص 283-282)

تقویٰ کی اس شرط کے نہایت اہم مضمون کو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
’’اس کے ساتھ تقویٰ کی شرط ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہ باتیں درس وتدریس سے نہیں آتیں۔ یہ علوم جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں درس وتدریس سے آہی نہیں سکتے بلکہ تقویٰ اور محض تقویٰ سے ملتے ہیں۔ وَاتّقُوْا اللّٰہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ (البقرۃ: 283)‘‘

(خطبات ِنور ص191)

متقی کا معلم خدا ہوتا ہے

قرآنی علوم کے جاننے اور نئے نئے انکشافات کے لئے بہت دعا کرنی چاہئے اور متقی بننا چاہئے۔ کیونکہ جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ خود اس کا استاد بن کر اسے قرآن سکھاتا اور پڑھاتا ہے۔ تمام دینی علوم خاص طور پر قرآنی معارف کے ادراک کے لئے تقویٰ کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ قرآن خدا کا کلام ہے اور اس کے مطالب و معارف اسی کی جناب سے کھولے اور عطا کئے جاتے ہیں۔ جن کے لئے اللہ کی اطاعت اور اس سے مطابقت ضروری ہے۔ چنانچہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ اس مضمون کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک انسان ایک پاک تبدیلی نہیں کرتا اور نفس کا تزکیہ نہیں کرتا قرآن شریف کے معارف اور خوبیوں پر اطلاع نہیں ملتی۔۔۔جس جس قدر انسان تبدیلی کرتا جاتا ہے اسی قدر وہ ابدال کے زمرہ میں داخل ہوتا جاتا ہے۔ حقائقِ قرآنی نہیں کھلتے جب تک ابدال کے زمرہ میں داخل نہ ہو۔ لوگوں نے ابدال کے معنٰی سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔ اور اپنے طور پر کچھ کا کچھ سمجھ لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ابدال وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اندر پاک تبدیلی کرتے ہیں۔ اور اس تبدیلی کی وجہ سے ان کے قلب گناہ کی تاریکی اور زنگ سے صاف ہو جاتے ہیں۔ شیطان کی حکومت کا استیصال ہو کر اللہ تعالیٰ کا عرش ان کے دل پر ہوتا ہے۔پھر وہ روح القدس سے قوت پاتے اور خدا تعالیٰ سے فیض پاتے ہیں۔ تم لوگوں کو میں بشارت دیتا ہوں کہ تم میں سے جو اپنے اندر تبدیلی کرے گا وہ ابدال ہے۔انسان اگر خدا کی طرف قدم اٹھائے تو اللہ تعالیٰ کا فضل دوڑ کر اس کی دستگیری کرتا ہے۔یہ سچی بات ہے اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ چالاکی سے علوم القرآن نہیں آتے۔ دماغی قوت اور ذہنی ترقی قرآنی علوم کو جذب کرنے کا اکیلا باعث نہیں ہو سکتا۔ اصل ذریعہ تقویٰ ہی ہے۔متقی کا معلم خدا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبیوں پر اُمیّت غالب ہوتی ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لئے امّی بھیجا کہ باوجودیکہ آپ نے نہ کسی مکتب میں تعلیم پائی اور نہ کسی کو استاد بنایا۔ پھرآپ نے وہ معارف اور حقائق بیان کئے جو دنیوی علوم کے ماہروں کو دنگ اور حیران کر دیا۔ قرآن جیسی پاک، کامل کتاب آپ کے لبوں پر جاری ہوئی جس کی فصاحت و بلاغت نے سارے عرب کو خاموش کرا دیا۔ وہ کیا بات تھی جس کے سبب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علوم میں سب سے بڑھ گئے، وہ تقویٰ ہی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مطھّرزندگی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ قرآن شریف جیسی کتاب وہ لائے جس کے علوم نے دنیا کو حیران کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امّی ہونا ایک نمونہ اور دلیل ہے اس امر کی کہ قرآنی علوم یا آسمانی علوم کے لئے تقویٰ مطلوب ہے نہ دنیوی چالاکیاں۔‘‘

(تفسیر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود جلد اول ص405-406)

نیز آپؑ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ذکر کرتے ہیں کہ ان کے تقویٰ کے باعث کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو علمِ قرآن اور پُر حکمت باتوں سے نوازا۔ اُمی ہونے کے باوجود اپنے دور کے دیگر علماء ودانشوروں سے کہیں بڑھ کر تھے۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں:
’’جسمانی علوم پر نازاں ہونا حماقت ہے۔ چاہئے کہ تمہاری طاقت روح کی طاقت ہو۔ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے سائنس یا فلسفہ یا منطق پڑھایا اور ان سے مدد دی بلکہ یہ کہ اَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِنْہُ (المجادلہ:23) یعنی اپنی روح سے مدد دی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم امّی تھے، ان کا نبی (سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم) بھی امّی۔ مگر جو پُر حکمت باتیں انہوں نے بیان کیں وہ بڑے بڑے علماء کو نہیں سوجھیں۔ کیونکہ ان کو خدا تعالیٰ کی خاص تائید تھی۔ تقویٰ و طہارت و پاکیزگی سے اندرونی طور سے مدد ملتی ہے۔ یہ جسمانی علوم کے ہتھیارکمزور ہیں۔ ممکن بلکہ اغلب ہے کہ مخالف کے پاس ان سے بھی زیادہ تیز ہتھیار ہوں۔ پس ہتھیار وہ چاہئے جس کا مقابلہ دشمن نہ کرسکے۔ وہ ہتھیار سچی تبدیلی اور دل کا تقدس و تطھُّر ہے۔ جسے نزول الماء ہو، دوسروں کے نزول الماء کو کیا تندرست کرے گا۔ صاحبِ باطن کی بات اس وقت بظاہر رد بھی کر دی جائے تو بھی وہ خالی نہیں جاتی بلکہ انسانی زندگی پر ایک خفیہ اثر رکھتی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلدپنجم ص 628)

تقویٰ کی شرط رکھنے کی وجہ

قرآنی علوم کے انکشاف کے لئے تقویٰ کی شرط رکھنے کی وجہ اس مثال اور طریقِ کار سے سمجھ آسکتی ہے جیسے ہر شخص خواہ وہ مقام ومرتبہ کی بنا پر چھوٹا ہو یا بڑا اپنے قیمتی سامان اور خزانہ کو سنبھال کر رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس سے صرف اس کی اولاد یا قریبی پیاروں کو ہی اطلاع ہو اور صرف وہی اس سے استفادہ کر یں۔اس لئے وہ اپنے خزانہ کو سنبھال سنبھال کراور چھپا چھپا کر رکھتا ہے کہ کہیں اس کا خزانہ کسی غیر کے ہاتھ نہ لگ جائے جو اس کا اہل نہ ہو۔اسی طرح قرآن کریم کے اسرار ورموز خدا تعالیٰ کے قیمتی جواہرات ہیں اور اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ و ہ جواہرات کسی نااہل کے ہاتھ لگیں۔ اس لئے اس نے اہلیت کے لئے تقویٰ کی شرط لگا دی ہےتاکہ اللہ تعالیٰ کے پیارے ہی اس سے فائدہ اُٹھائیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنی فیوض کو محدود رکھا ہے۔ نہیں، بلکہ ان کے پانے کے لئے تقویٰ کی اہمیت وضرورت کو بڑھا دیا ہے۔

(جاری ہے)

(م ۔۱ ۔ دُرّانی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 جون 2021