• 6 اگست, 2021

تسخیر کائنات اور سائنسی نکات

تسخیر کائنات اور سائنسی نکات
بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث

کہکشائیں (Galaxies)

اس عالمین کی یا اس کے اندر جو Galaxies (کہکشاں) ہیں ان کی پیدائش کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا لمبا زمانہ مقرر کر دیا ہے بعض سائنس دانوں کا یہ خیال ہے کہ ستاروں کے مختلف خاندان جو بے شمار ستاروں پر مشتمل ہوتے ہیں جن کو انگریزی میں Galaxy (کہکشاں) کہتے ہیں ان کا آپس میں ایساتعلق ہے ایک مربوط تعلق پایا جاتا ہے کہ ان ستاروں کا سارے کا سارا جمگھٹا اکٹھا ایک جہت کی طرف بھی حرکت کر رہا ہے اورساتھ والی دائیں بائیں یا اوپرنیچے جو دوسری Galaxies (کہکشاں) ہیں وہ بھی ایک خاص جہت کی طرف حرکت کر رہی ہیں اور ان کا درمیانی فاصلہ آہستہ آہستہ بڑھتا جاتا ہے پس جس وقت دو Galaxies (کہکشاں) کے درمیان …… جب اتنا فاصلہ ہو جاتا ہے کہ ستاروں کا ایک اور خاندان وہاں سما سکے تواللہ تعالیٰ کے امر اور حکم سے و ہاں ایک اور Galaxy کہکشاں پیدا ہو جاتی ہے‘‘

(انوار القران جلددوم صفحہ 298)

تسخیر کائنات

’’اسلام نے پہلی بات ہمیں یہ بتائی ہے کہ اس یونیورس Universe اس عالمین کی ہر چیز بلا استثناء انسان کی خدمت کے لئے اور اسے فائدہ پہنچانے کے لئے پیدا کی گئی ہے آج سے چودہ سو سال پہلے جب کہ چاند سے فائدہ حاصل کرنے کا تخیل بھی انسان کے ذہن میں نہیں آیا تھا قرآن کریم نے یہ اعلان کیا

الم ترو ان اللّٰہ سخرلکم ما فی السموات وما فی الارض

اور ایک اور دوسری جگہ فرمایا وسخرلکم ما فی السموات وما فی الارض جمیعا منہ

کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے اس کائنات کی ہر چیز تمہارے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہے اور اسے تمہاری خدمت پر لکا دیا گیا ہے.‘‘

(انوار القرآن جلد سوم صفحہ26)

’’اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ تمام قوتیں اور استعدادیں عطا فرمائی ہیں وہ سب عالمین کو پوری طرح تسخیر کر سکتا ہے‘‘

(انوار القرآن جلد سوم صفحہ 634)

انسان کا چاند پر پہلا قدم

’’سال رواں (1969ء ناقل) 21 جولائی کو زمین سے باہر نکل کر انسان کا پہلا قدم چاند پر پڑا اس میں شک نہیں کہ تسخیر عالم کی عظیم جدوجہد میں انسان کا یہ بہت تاریخی کارنامہ ہے‘‘

(انوار القرآن جلد دوم صفحہ 109)

’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں علمی ترقی بہت زیادہ ہونا تھی انسان نے چاند پر قدم رکھنا تھا اور قریب ترین فاصلوں سے ستاروں اور سیاروں کی تصاویر اتارنا تھیں انسان نے علمی ترقی کے میدان میں یہ کارنامے سر انجام دے کر یہ سمجھ لیا کہ اس نے سب کچھ معلوم کر لیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے جو کارنامے بھی سر انجام دیئے ان کی حیثیت روٹی سے جھڑنے والے چند بھورؤں سے زیادہ نہ تھی ۔ان لوگوں کے غرور کو توڑنے کے واسطے احمدیوں کے واسطے علم کے میدانوں میں ترقی کرنا ضروری ہے‘‘

(دورہ مغرب 1400ھ صفحہ 294، 295)

سائنسی انکشافات

’’… یہ اتنا بڑا کارخانہ ہے جسے خدا تعالیٰ نے باطل تو نہیں بنایا انسانی زندگی کا کوئی مقصد ہونا جاہیئے … چنانچہ انسان کو مخاطب کر کے یہ اعلان کر دیا کہ ہر دو جہان کی ہر چیز بلا استثناء اس کی خدمت پر لگا دی گئی ہے کتنا بڑا مقام ہے جو انسان کو دیا گیا ہے وہ اپنی ماں کے پیٹ سے تو یہ چیزیں لے کر نہیں آتا یہ خدا تعالیٰ کی عطا ہے یہ اس کی رحمت ہے حتی کہ اس نے ان ستاروں کو بھی جن کی روشنی ابھی ہم تک نہیں پہنچی انسان کی خدمت پر لگا رکھا ہے ۔سائنس سے تعلق رکھنے والے لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ ایسے ستارے بھی ہیں جن کی روشنی ابھی ہم تک نہیں پہنچی اور ایسے ستارے بھی ہیں جن کی روشنی پچھلے پندرہ بیس سال میں ہماری دنیا تک پہلی بار پہنچی ہے ان سب کو خدا نے ہماری خدمت پر لکایا ہوا ہے چنانچہ صحیح جہت کی طرف سائنس کی ہر ترقی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مخلوق خدا انسان کی ایک نئی شکل میں خدمت کر رہی ہے ہر سائنسی انکشاف Scientific Discovery سے پتہ چلتا ہے کہ کتنا عظیم اعلان تھا ….

سخر لکم ما فی السموات وما فی الارض جمیعا منہ

(الجاثیہ :14)

لیکن پھر بھی ان سائنس دانوں میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے اور اس دنیا کے متاع اور اس کی زینت کو کافی سمجھتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اس دنیوی متاع اور اس کی زینت کے نتیجہ میں اخروی متاع کے سامان پیدا کرنے کے لئے اور اخروی زندگی کے حسن کے حصول کے لئے کوشش کرتے ضل سعیھم فی الحیواۃ الدنیا (الکھف :105)

دنیوی عیش و آرام میں پڑ جاتے ہیں جو کہ وقتی ہے اور اس میں حقیقی لذت بھی نہیں مگر پھر بھی ایسے لوگ اپنا سب کچھ دنیوی لذتوں کی خاطر برباد کر دیتے ہیں اور خدا سے دوری کی راہیں ان کو خدا کے غضب کی جہنم کی طرف لے جاتی ہیں‘‘

(انوار القرآن جلد دوم صفحہ 618)

علم اتفاقات
(Science of Chances)

’’کچھ عرصہ ہوا مجھے ایک کتاب پڑھنے کا موقع ملا جو ایک سائنس دان نے لکھی ہے اور جس میں اس نے خدا تعالیٰ کے وجود پر بہت کچھ لکھا ہے۔

وہ لکھتا ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی ہستی کے منکر ہیں وہ ہر چیز کو اتفاقی کہتے ہیں اور ہر چیز کے بارے میں اتفاقی، اتفاقی کی رٹ لگاتے چلے جاتے ہیں مگر ان سارے اتفاقات کا جمع ہو جانا اتفاقی نہیں ہو سکتا ایک سائنس یعنی ایک خاص علم ایجاد ہوا ہے جسے Science of Chances (علم اتفاقات) کہتے ہیں چنانچہ اس سائنس دان نے بھی اس خاص علم یا اس علم کے خاص اصول کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ حقائق اشیاء کی رو سے ہستی باری تعالیٰ کا انکار نہیں ہو سکتا‘‘

(انوار القرآن جلد دوم صفحہ 494)

سائنس دانوں کی محجوبانہ دعائیں

’’یہ سائنس کی ساری ترقیات خدا تعالٰی کے ان فضلوں کے نتیجہ میں ملیں جو اللہ تعالیٰ نے دنیوی سعی کو مقبول کر کے اپنی رحمت ان پر نازل کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے کہ سائنسدان ایک ایسا وقت دیکھتے ہیں اپنی زندگی میں کہ جو کوشش کر رہے ہیں علمی میدان میں اندھیرا آجاتا ہے سامنے اور ان کو کچھ پتا نہیں لگتا کہ ہم آگے کس طرح بڑھیں تو ان کی یہ تڑپ جو ہے کہ آگے بڑھیں کیونکہ سخر لکم ما فی السموات وما فی الارض جمیعا منہ (الجاثیہ:14) میں ’کُمْ‘ سارے انسانوں کے لئے کہا گیا ہے تو اندھیرے میں وہ ہاتھ پاؤں مار رہے ہوتے ہیں خدا تعالیٰ اس تڑپ کو دعا قرار دے کے اور ان کی تڑپ کے نتیجہ میں اس محجوب کی جو دعا ہے کہ خدا تعالٰی کو جانتا بھی نہیں لیکن دعا کی کیفیت اس کے اندر پیدا ہوتی ہے اسے قبول کرتا اور اس کے لئے روشنی پیدا کر دیتا ہے‘‘

(انوار القرآن جلد سوم صفحہ88)

پہلے آسمان کے آگے احمدی سائنس دان ریسرچ کریں

’’ہماری جو عملی سائنس ہے جہاں ٹیسٹ ہوتے ہیں یا ہماری دور بینیں دیکھتی ہیں ان کا تعلق تو پہلے آسمان سے (ہے)

……. خدا نے …. کہا … تم تھوڑا سا علم پہلے آسمان کا حاصل کر کے میرے خلاف کھڑے ہو جاتے، ابا اور استکبار کرتے ہو، اعلان کر دیتے ہو کہ ہم زمین سے خدا کا نام اور آسمانوں سے اس کے وجود کو مٹا دیں گے تم تو اس کی انتہاء بھی نہیں جانتے اور یہ تو پہلا آسمان ہے جو دوسرا، تیسرا، چوتھا، پانچواں، چھٹا اور ساتواں آسمان ہے اس کے جو روحانی پہلو ہیں ان کے متعلق قرآن کریم میں، احادیث میں کچھ ذکر آتا ہے جو اس کے مادی پہلو ہیں _ اثرات _ کیا اثر ان کے ہو رہے ہیں وہ ابھی محض تھیوری ہے

خدا کرے ہمیں پانچ دس ایسے سائنس دان بھی مل جائیں جو ڈاکٹر سلام صاحب کی طرح اپنے ڈیسک پر بیٹھ کر دوسرے تیسرے آسمان کے متعلق تھیوریز بنایا کریں فارمولے جو آج سے پچاس سال بعد یا سو سال بعد یا ڈیڑھ سو سال کے بعد انسان کی عملی تحقیق جب وہاں پہنچے تو حیران ہو کہ ڈیڑھ سو سال پہلے ایک احمدی کے دماغ کو خدا تعالیٰ نے وہاں تک پہنچا دیا تھا اور آج ہم وہاں پہنچتے رہے ہیں‘‘

(انوار القرآن جلد سوم صفحہ 115، 116)

احمدی سائنس دانوں کا فرض

1976ء میں احمدی طلباء کو امریکہ کے دورہ کے دوران مخاطب کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا:
’’احمدی سائنس دانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ سائنسی علوم میں دسترس حاصل کر کے دنیا پر ثابت کریں کہ سائنس اور اسلام میں کوئی تضاد نہیں اسلام خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سائنس اس کا فعل اور دونوں میں تضاد ہو ہی نہیں سکتا۔

ہمارے طلباء کو جو دنیوی علوم میں دسترس حاصل کر رہے ہیں اپنے مقام کو سمجھناچاہیئے اور خدایابی کے میدان میں رہنمائی کا فرض ادا کرنا چاہیئے‘‘

( الفضل 27 اگست 1976ء)

علمی ترقی کے لئے دعا

’’احمدیوں کے واسطے علم کے میدانوں میں ترقی کے میدانوں میں ترقی کرنا ضروری ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک دعا سکھائی گئی جو یہ ہے

رَبِّ اَرِنِیْ حَقَآئِقَ الْاَشْیَآءِ

یعنی اے میرے رب مجھے اشیاء کے حقائق دکھا

اس میں دراصل یہ بتانا مقصود تھا کہ علمی ترقی کے لئے دعا کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کرنا ضروری ہے‘‘

(دورہ مغرب 1400ھ صفحہ294، 295)

’’پھر یہ دعا بھی خاص طور پر کریں کہ اللہ تعالیٰ. ہمارے بچوں کے ذہنوں میں جلاء پیدا کرے اور انہیں توفیق عطا کرے کہ وہ دین اور دنیا کے علوم زیادہ سے زیادہ حاصل کرتے رہیں اور سب احمدیوں کو توفیق بخشے کہ کسی بھی علمی میدان میں جب بھی ان کے مقابلہ پر کوئی آئے وہ اس پر بھاری رہیں‘‘

(خطابات ناصر جلد اول صفحہ84)

(انجینئر محمود مجیب اصغر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 جولائی 2021