• 29 ستمبر, 2020

ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج

حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
میں نے جب جماعتوں کو کہا کہ دشمنانِ اسلام قرآن کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کر رہے ہیں تو قرآن کی نمائش لگائی جائے، قرآنِ کریم کی خوبصورت تعلیم کو واضح کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف جگہوں پر نمائشیں لگیں اور لگ بھی رہی ہیں اور اس کے بعد دنیا سے، ہر جگہ سے یہی رپورٹس آ رہی ہیں کہ جو غیر لوگ آنے والے ہیں وہ دیکھ کے کہتے ہیں کہ جو قرآنی تعلیم اور جو اسلام تم پیش کر رہے ہو یہ تو اتنا خوبصورت اسلام ہے کہ ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ ہم اس کی مخالفت کس طرح کر رہے تھے۔ ہمارے سامنے تو اسلام کا یہ خوبصورت پہلو کبھی آیا ہی نہیں۔ یہ ہماری لاعلمی تھی۔ اکثروں کا بڑا معذرت خواہانہ لہجہ ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم اور دوسرا اسلامی لٹریچر لے کر جاتے ہیں۔ ان نمائشوں میں آنے والے پڑھے لکھے، سلجھے ہوئے، تعلیم یافتہ مسلمان بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں، دوسرے مذاہب والے بھی ہیں اور سب بلا استثناء اس کام کو سراہ رہے ہیں کہ یہ عظیم کام ہے جو تم لوگ کر رہے ہو۔ لیکن بدقسمتی سے ایک مُلّاں ہے اور ان کا بھی ایک طبقہ ہے جو بعض ملکوں میں اس نمائش کی مخالفت کرتا ہے۔ اسلام کی تعلیم پھیلانے کی مخالفت کرتا ہے۔

مَیں نے شاید پہلے بھی یہاں بتایا تھا کہ ہندوستان میں، دہلی میں ایک بہت بڑے ہال میں جو حکومت سے کرائے پر لیا گیا تھا، ہم نے قرآنِ کریم کی نمائش لگائی تو اُس پر وہاں کے مُلّاں نے اپنے ساتھ چند شر پسندوں کو ملا کر اتنا شور مچایا کہ وہ نمائش جو تین دنوں کے لئے لگنی تھی دو دن میں سمیٹنی پڑی۔ لیکن ان دو دنوں میں بھی اس نے اپنا بھرپور اثر قائم کیا۔ وہاں کے ایک بڑے پڑھے لکھے صاحب ہیں جن کا ایک مقام بھی ہے وہ نمائش کے بعد وہ قادیان آئے اور پھر بتایا کہ میں پہلی مرتبہ قادیان آیا ہوں اور اس طرف سفر کر کے آیا ہوں اور چاہتا تھا کہ قرآنِ کریم اور اسلام کی اتنی عظیم خدمت کرنے والے جہاں رہتے ہیں وہ جگہ بھی دیکھوں اور پھر قادیان کی مختلف جگہیں دیکھیں اور متاثر ہوئے۔

(خطبۂ جمعہ 9دسمبر 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 03 اگست 2020ء