• 1 اکتوبر, 2020

تعارف سورۃ النور (چوبیسویں سورۃ)

(مدنی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 65 آیات ہیں)
ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003ء

وقت نزول اور سیاق و سباق

جمہور علماء کی رائے کے مطابق یہ سورۃ مدنی ہے اور ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کی طرف منسوب ہونے والا قابلِ افسوس (جھوٹا) واقعہ جس کی حقیقت کا بیان اس صورت میں ہوا ہے، 5 ہجری کا ہے۔ جب آپ ﷺ غزوۂ بنو مصطلق سے واپسی پر تشریف لا رہے تھے اور ماہِ رمضان تھا۔ اس سورۃ کا اپنی سابقہ سورۃ سے تعلق یوں ہے کہ اُس میں بتایا گیاتھا کہ اسلام میں ایسے مرد پیدا ہوں گے جو اپنے تقویٰ اور خداداد اخلاق کے باعث خدا کی خوشنودی حاصل کریں گے۔ اس سورۃ میں ایسے ذرائع اور طریقے بتائے گئے ہیں جو خدا کی رضا اور افضال کو جذب کرنے کا سبب بنتے ہیں اور اس قانون سے متعارف کرواتی ہے کہ نیکی کے راستوں پر چلنا اور قومی اخلاق کا اپنانا اور جاری رکھنا اور خاندان اور معاشرے میں نظم و ضبط کا قائم رکھنا، اس مقصد کے حصول کے لئے لازمی جزو ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورۃ میں قومی اخلاق کو اپنانے اور جاری رکھنے کی طرف خاص توجہ دی گئی ہے اور دونوں جنسوں (مرد و عورت) کے باہمی تعلقات کو اجاگر کرنے اور ان کی اصلاح پر بھرپور زور دیا گیا ہے۔

گزشتہ سورۃ میں بتایا گیاتھا کہ فلاح پانے والے مومنوں کی ایک اہم ترین صفت پاکدامنی ہے۔ اس سورۃ میں اس گزشتہ مضمون کی تفصیل اور وضاحت کی گئی ہے۔ اس سورۃ میں بتایا گیا ہے کہ کامیابی کے حصول اور اس کو برقرار رکھنے کے لئے عقل، نظریات اور لوگوں کے اخلاق کا پاک ہونا لازمی ہے۔ اسی طرح ہر فرد واحد کی اپنے معاشرے کے ساتھ کامل ہم آہنگی اور قابلِ تعریف افہام و تفہیم ہونی چاہیئے اور یہ کہ قومی نظم و ضبط اور تنظیم پر خاص زور دینا چاہیئے اور قومی ضرورتوں کو انفرادی ضرورتوں پر ترجیح دینی چاہیئے۔

مضامین کا خلاصہ

یہ سورۃ چند خاص اور اہم موضوعات پر روشنی ڈالتی ہےاور ایسے مسائل پر خاص طور پر زور دیا گیاہے جو معاشرے کے معاشرتی اور اخلاقی ڈھانچےکی بنیادی اکائی ہیں اور جو اگر کسی معاشرے میں راہ پا جائیں تو کئی اخلاقی اقدار کو ان کی بھینٹ چڑھنا پڑتا ہے۔ جیساکہ جنسی بے حیائی کسی بھی معاشرے کے نظم و ضبط اور تنظیم میں بگاڑ پیدا کر دیتی ہے اور اس سے جڑی برائیاں معاشرے کے اخلاق پر بری طرح سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس سورۃ میں جنسی بے حیائی کے معاملات میں تجسس کرنے سے منع کیا گیاہے اور مومنوں کو یہ بتایا گیاہےکہ چندایسے لوگوں کے کہنے پرجو خود اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوں ہرگز گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔ تاہم اخلاقی گراوٹ کے ایسے معاملات پورے معاشرے کو ہوشیار اور چوکس کردیں گےاور بالآخر اچھے نتائج کے لئےسازگار ثابت ہوں گے۔ اس مضمون کو مزید یوں بڑھایا گیاہے کہ بہتان باندھنے والوں کی سخت سرزنش کی جائے۔ کیونکہ محض شک کی بنیاد پر یا اخلاقی گراوٹ والے گواہ کی گواہی کو مد نظر رکھتے ہوئے، لا پرواہی سے بہتان باندھنے کی اجازت دیدی جائے اور ایک دوسرے کی پاکدامنی پر سوال اٹھانے دیا جائے تو ایسے معاشرے میں بے حیائی تیزی سے پھیلتی ہے اور نوجوان نسل ان خیالات کے ساتھ پروان چڑھتی ہے کہ بے حیائی میں آزادانہ طور پر پڑنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

پھر مومنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ قومی اخلاق کے محافظ بنے رہیں اور مسلمانوں کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ اپنی حفاظت کے لئے چوکس اور چاک و چوبند رہیں۔ اگرچوکس رہنے میں نرمی دکھائی جائے تو قومی اخلاقیات میں گراوٹ واقع ہونے لگتی ہے۔ لیکن اگر جنسی بے حیائی کو بغیر کسی روک ٹوک کے پھیلنے دیا جائے تو وہ اخلاقی گراوٹ اور معاشرے کو تحلیل کرنے کا سبب بن جاتی ہے اس لئے ان کی نگرانی ضروری ہے۔ تاہم ایسے لوگ جو بے حیائی کے کاموں کے حوالہ سے مشکوک ہوں ان کو تجسس کرکے تلاش کرنا اور پوری طاقت سے دبانا درست نہیں ہے کیونکہ ہر معاشرے میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوتے ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیئے۔ مگر بیک وقت یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ لوگ جو اپنی ایذارساں حرکتوں کو جاری رکھیں گے تاکہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کریں اور گندی زبان کا استعمال کریں اور بہتان لگائیں تو انہیں اس دنیا میں اور آخری دنیا میں بھی سزا ملے گی۔ خدا ان کا ظلم اور گناہ خود ظاہر کردے گا اور انہیں ذلیل کرے گا اور رسوا کردے گا۔ اس سورۃ میں مزید بتایا گیاہے کہ ہر انسان کے لا پرواہی سے کئے گئے اعمال اس کو مشکوک بنا دیتے ہیں اور ان سب کاموں میں سے سب زیادہ لاپرواہی آزادانہ جنسی تعلقات کو دونوں جنسوں (مردو عورت)کے مابین راہ دینا ہے۔

ایسے واقعات کو روکنے کےلئے جو شک اور بہتان کی وجہ بنتے ہیں اس سورۃ میں مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہوا کریں۔ مزید مسلمان مرد و زن کو یہ حکم دیا گیاہےکہ اگر ان کا ایک دوسرے سےآمنا سامنا ہو تو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور برائی کی تمام راہوں سے بچتے رہیں۔ تاکید مزید کے طور پر مسلمان عورتوں کو مزید حکم دیا گیاہے کہ اپنی زینت کا اظہار(نہ تو قدرتی اور نہ ہی بناوٹی) نہ کریں۔ ایسے مردوں سے جومحرم نہ ہوں پردہ کریں (آیت:32) سوائے جسم کے ان حصوں کے جن کا چھپانا ممکن نہیں ہے جیسے قد کاٹھ وغیرہ۔ اس مقصد کے لئے مسلمان عورتوں کو اپنے سروں کو ڈھانکنا چاہیئے اس طور پر کہ ان کی چھاتیاں ڈھکی ہوئی ہوں۔

قومی اخلاقیات میں بہتری اور ان کو جاری رکھنے کے لئے بیوگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر شادی شدہ نہ رہیں۔ مزید براں یہ بتایا گیاہے کہ قیدیوں کو آزاد کرنے کے لئے فوری طور پر مؤثر اقدامات اٹھانے چاہیئیں اور اگر کوئی قیدی اپنی آزادی خرید نہ سکتا ہو تو اس کے لئے یہ معاوضہ آسان اقساط میں ادا کرنے کے لئے اجازت دینی چاہیئے۔ اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے اس سورۃ میں مسلمانوں کو ابھارا گیاہےکہ اپنے خاندان (کے اخلاق) کو درست کریں اور قومی معاملات کو بھی اور دونوں جنسوں کے آزاد میل ملاپ سے بچیں۔ ایک خاص ہدایت اس حوالہ سے یہ دی گئی ہے کہ جنگی قیدی جو گھریلو ملازم کے طور پر خدمت کر رہے ہوں اور چھوٹے بچے اپنے مالکوں کی رہائش گاہوں میں فجر سے پہلے، دوپہر کو اور رات کے بعد داخل نہ ہوں۔ دیگر اوقات میں گھر کے جملہ افراد آزادانہ طور پر گھر میں گھوم سکتے ہیں۔ مگر جب بچے بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں تو وہ پردہ کے احکامات پر عمل کریں۔ معمر خواتین جو کوئی جنسی حاجت نہ رکھتی ہوں یاشادی کی عمر گزر چکی ہو، اگر وہ پسند کریں تو پردہ میں نرمی پر عمل کر سکتی ہیں تاہم انہیں بھی اپنی زینت کسی غیر مرد کو دکھانے کی اجازت نہ ہے۔ خاندانی نطم و ضبط کے بعد زیادہ اہم موضوع یعنی معاشرتی نظم و ضبط کو لیا گیا ہے اور اس سورۃ میں قومی ترقی کے اہم قوانین بھی بیان کئے گئے ہیں جو ترقی کی ضمانت ہیں۔ پھر اس سورۃ میں مسلمانوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ خدا کی مرضی کے مطابق اپنی زندگی گزاریں گے تو وہ دنیا کے قائد بن جائیں گے اس دنیا میں بھی اور اخروی دنیا میں بھی اور ان کا دین پوری دنیا میں قائم ہو جائے گا۔ مگر جب ان کا دین قائم ہو جائے اور وہ کامیاب ہوجائیں تو وہ خدا کے عبادت گزار بنے رہیں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں اور اپنے نبی ﷺ کے حکم مانتے رہیں۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 ستمبر 2020