• 1 اکتوبر, 2020

ہستی باری تعالیٰ

تبرکات

(حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ)

(قسط نمبر 1)

مبلّغین اور مدرسہ احمدیہ کے طلباء کے سامنے 14 جنوری (1915ء) کو مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں، میں نے ہستی باری تعالیٰ کے متعلق اپنی سمجھ کے مطابق ایک لیکچر دیا تھا۔ جس میں اوّل تو وہ ذرائع بتائے جن سے ہم کوئی بات ثابت کر سکتے ہیں۔ پھر ان اعتراضوں کا جواب دیا تھا جو عام طور پر دہریوں کی طرف سے ہستی باری تعالیٰ پر کئے جاتے ہیں۔ پھر بعد میں خداتعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں چودہ دلائل پیش کئے تھے۔

لیکچر تو دیا گیا اور سننے والوں نے سنا۔ جَزَاھُمُ اللّٰہُ لیکن باہر کے احباب سے تبادلہ خیالات کرنے کے لئے مختصر طور پر اس لیکچر کے نوٹ الفضل کے ذریعہ شائع کرتا ہوں۔ لیکچر کے پہلے حصہ میں میں نے یہ بیان کیا کہ دہریوں کی طرف سے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اگر خدا ہے تو ہمیں دکھا دو اور یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جو ہر ایک دہریہ سے سنا جاتا ہے۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ دہریوں کا یہ مطالبہ بالکل ناواجب ہے کیونکہ ہر چیز کے ثبوت کے لئے صرف دیکھنا ہی معیار نہیں بلکہ بہت سی چیزیں اگر دیکھ کر معلوم ہوتی ہیں تو بہت سی ایسی بھی ہیں جو دیکھنے سے ثابت نہیں ہوتیں۔ بلکہ چکھنے سے جیسے کڑوی، میٹھی، کسیلی، پھیکی، نمکین ایسی تمام چیزیں دیکھنے میں یکساں ہیں اور آ نکھ ان میں کوئی تمیز نہیں کر سکتی۔ لیکن ان چیزوں میں امتیاز صرف چکھنے سے ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص ایک دہریہ کے سامنے دعویٰ کرے کہ کڑوا بادام دنیا میں کوئی نہیں ہوتا کیونکہ اگر کوئی ہے تو مجھے اس کی کڑواہٹ دکھاؤ۔ اس کے جواب میں وہ دہریہ ایسے شخص کو کہے گا۔ بادام کا کڑوا اور میٹھا ہونا آنکھ سے نہیں معلوم ہوتا بلکہ یہ تو قوت ذائقہ سے معلوم ہوتا ہے۔ بس یہی جواب ہم اس دہریہ کو دیں گے جو کہتا ہے کہ میں خدا کو تب مانوں گا جب وہ ان آنکھوں سے نظر آ جاوے۔ ہم اسے کہیں گے کہ یہ بات ضروری نہیں کہ ہر چیز صرف آنکھ ہی کے دیکھنے سے ثابت ہوتی ہے۔ بلکہ کوئی چیز دیکھنے سے، کوئی چکھنے سے، کوئی سونگھنے سے اسی طرح خوش آواز اور بدآواز کانوں سے معلوم ہوتی ہے۔ گرمی، سردی، سختی، نرمی چھونے سے غرض کسی چیز کے ماننے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ ہمیں نظر ہی آ جاوے۔ جیسے کسی چیز کا کڑوا ہونا آنکھ سے معلوم نہیں ہوتا۔ ہاں اس کے لئے قوت ذائقہ کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کسی چیز کا گرم سرد ہونا بھی آنکھ سے معلوم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے قوت لامسہ کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ خدا باوجود اس کے کہ وہ آنکھ سے نظر نہیں آتا۔ پھر موجود ہو۔ جیسا کہ خوشبو اور بدبو اور گرمی اور سردی یہ سب چیزیں دنیا میں موجود ہیں اور پھر ان آنکھوں سے نظر نہیں آتیں۔ اس لئے دہریوں کا یہ مطالبہ کہ خدا دکھاؤ ایک بیہودہ مطالبہ ہے۔ کیونکہ مختلف چیزوں کے ثبوت کے لئے مختلف ذریعے ہیں۔ کسی چیز کے ثبوت کے لئے آنکھ کی ضرورت ہے اور کسی چیز کے معلوم کرنے کے لئے سونگھنے کی ضرورت ہے اور کوئی چیز چھونے سے ثابت ہوتی ہے۔

دوسرا ذریعہ

یہ تو حواس خمسہ ہوئے۔ اب اس کے آگے چلو۔ دیکھو بعض ایسی چیزیں ہیں جو حواس خمسہ میں سے کسی ایک حواس سے بھی معلوم نہیں ہوتیں بلکہ ان کے معلوم کرنے کا کوئی اور ذریعہ ہے۔ مثلاً محبت، غضب، عقل، فہم قوت وغیرہ یہ سب چیزیں حواس خمسہ کے ذریعہ پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔ مثال کے طور پر عقل کو لو۔ نہ تو یہ آنکھ سے نظر آتی ہے نہ سونگھنے سے اس کا پتہ چلتا ہے اور نہ یہ کوئی آواز ہے جو کانوں سے سنائی دے اور نہ کوئی ایسا جسم ہےجسے چھو کر معلوم کیا جاوے اور نہ اسے زبان ہی سے چکھ سکتے ہیں۔ بلکہ اسے ہم اس کے نتائج اور اثرات سے معلوم کرتے ہیں۔ مثلاً ہم زید کو دیکھتے ہیں کہ وہ ایک کام بڑی عمدگی سے کرتا ہے اور اُدھر بکر بھی وہ کام کرتا ہے لیکن بہت بُری طرح۔ تو ہم کو زید کے کام اور بکر کے کام پر موازنہ کرنے سے یہ پتہ لگا کہ زید کے دماغ میں کوئی ایسی قوت ہے جس کے ذریعہ زید نے اپنے کام کو عمدگی سے ادا کیا اور بکر کے دماغ میں وہ قوت نہیں جس کے نہ ہونے کی وجہ سے اس سے وہ کام اچھی طرح نہ ہو سکا۔ پھر ہم نے کہا کہ دوسروں کو سمجھانے کے لئے اس قوت کا کوئی نام تجویز کرو اور اس طرح ہم نے اس قوت کا نام عقل رکھا۔ اب دیکھو کہ یہ معلوم کرنا کہ فلاں شخص عقلمند ہے اور فلاں شخص بیوقوف نہ تو آنکھ سے معلوم ہوتا ہے نہ چکھنے سے اور نہ حواس خمسہ میں سے کسی حواس سے بلکہ اس کے معلوم کرنے کا یہی ذریعہ ہے کہ ہم عقل کے اثرات اور اس کے نتائج سے معلوم کریں گے۔ جب ہم دیکھیں گے۔ ایک شخص مشکل سے مشکل کام کر سکتا ہے اور پیچیدہ سے پیچیدہ امور کو سلجھا سکتا ہے تو ہم کہہ دیں گے کہ اس میں عقل ہے۔ کیونکہ مشکل سے مشکل کام کرنا اور پیچیدہ امور کو سلجھانا یہ عقل کا نتیجہ ہے۔ پس جب ہم نے نتیجہ کا مشاہدہ کیا تو ہمیں اصل چیز کا بھی پتہ لگ گیا۔ اسی طرح ہم ایک دہریہ کو کہتے ہیں کہ اگر خداتعالیٰ کی ہستی حواس خمسہ سے معلوم نہیں ہوتی تو کوئی حرج نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ ہر چیز حواس خمسہ سے ہی معلوم ہو۔ بلکہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو حواس خمسہ سے تو معلوم نہیں ہوتیں بلکہ اپنے اثرات اور نتائج سے۔ اور انہیں تم بھی مانتے ہو۔ مثلاً عقل کا وجود اسی طرح اگر خداتعالیٰ کی ہستی کا ثبوت اس کے افعال کے نتائج اور اثرات سے ہم پیش کریں تو بجا ہے اور پھر کسی دہریہ کو اس کے ماننے میں پس وپیش نہ کرنا چاہئے۔ اور نہ وہ پھر یہ ضد کر سکتا ہے کہ چونکہ خدا کی ہستی مجھے حواس خمسہ سے معلوم نہیں ہوتی اس لئے میں اس کی ہستی تسلیم نہیں کرتا کیونکہ خود دہریئے ایسی چیزوں کا وجود تسلیم کرتے ہیں جنہیں وہ حواس خمسہ کے ذریعہ معلوم نہیں کرتے بلکہ کسی اور ذریعہ سے اس کا ثبوت بہم پہنچاتے ہیں۔ جیسے عقل و فہم دیکھو عقل کے وجود کو دہرئیے بھی مانتے ہیں۔ اسی لئے کسی کو عقلمند اور کسی کو بیوقوف کہتے ہیں۔ حالانکہ حواس خمسہ کے ذریعہ انہیں عقل کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اسی طرح انسان کے جسم میں جو روح ہے وہ ایک ایسی چیز ہے جس کے وجود کا وہ بھی اقرار کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ ایک ایسی چیز ہے جو سونگھنے، چھونے، دیکھنے میں نہیں آتی۔ اور نہ حواس خمسہ میں سے کسی حواس ہی سے اسے ہم محسوس کر سکتے ہیں۔ ہاں اس کے نتائج اور اثرات کو دیکھ کر ہم اس کے وجود کے قائل ہوتے ہیں۔ مثلاً جب ہم ایک زندہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ چلتا ہے پھرتا ہے ہنستاہے روتا ہے سنتا ہے بولتا ہے۔ ادھر ایک مُردہ پڑا ہے۔ وہ نہ چلتا پھرتا ہے نہ ہنستا ہے نہ روتا ہے اور نہ سن سکتا ہے اور نہ بول سکتا ہے۔ اس فرق کو دیکھ کر ہم نے معلوم کیا کہ اس زندہ میں ایک ایسی چیز ہے جو بولنے سننے، ہنسنے رونے، چلنے پھرنے کا موجب ہے اور اس مُردہ میں وہ چیز نہیں۔ تب ہی وہ نہ روتا ہے نہ ہنستا ہے اور نہ زندوں کے سے اور ہی کام کر سکتا ہے۔ پھر ہم نے لوگوں کو سمجھانے کے لئے اس کا نام روح تجویز کیا۔ دیکھو روح ایک ایسی چیز ہے جس کو دہریئے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ حواس خمسہ سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ اپنے نتائج اور اثرات سے۔ اس لئے ہم ایک دہریہ کو کہیں گے کہ تمہارا خدا کو دیکھنے کا مطالبہ ایک غلط مطالبہ ہے کیونکہ کسی چیز کے ثبوت کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ دیکھی جاوے یا حواس خمسہ کے ذریعہ محسوس کی جاوے۔ بلکہ کبھی ایک چیز کا ثبوت اس کے فعل کے نتائج اور اثرات سے بھی ہوتا ہے جیسا کہ روح کا وجود نہ دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے اور نہ حواس خمسہ کے ذریعہ بلکہ اپنے اثرات اور نتائج کی وجہ سے۔ اسی طرح اگر ہم ہستی باری تعالیٰ کے افعال اور صفات کے اثرات سے اس کا وجود ثابت کریں تو تمہیں مان لینے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ تم خود بہت سی ایسی چیزیں مانتے ہو جنہیں تم نے دیکھنے یا حواس خمسہ کے ذ ریعہ تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ صرف ان کے اثرات اور نتائج سے جیسے زمانہ، روح، قوت، عقل، فہم، محبت، غضب وغیرہ وغیرہ۔

تیسر اذریعہ

پھر اس کے بعدکسی شئے کے ثبوت کے لئے ایک تیسرا ذریعہ ہے اور وہ سماع یا دوسرے لفظوں میں صادقوں کی شہادت ہے۔ کیونکہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں اور بہت سے ایسے واقعات ہیں جو ہمیں نہ حواس خمسہ کے ذریعہ معلوم ہوتے ہیں اور نہ اپنے اثرات اور نتائج سے بلکہ صرف لوگوں کی شہادت سے۔ دیکھو اورنگ زیب کو نہ تو ہم نے دیکھا نہ ہمارے حواس خمسہ نے اُسے محسوس کیا اور نہ وہ اپنے اثرات سے ثابت ہوتا ہے بلکہ صرف سماعی شہادت ہے جو نسلاً در نسلاً دیتے آئے اور اس کے وجود کا اقرار اس کے زمانہ سے لے کر اب تک ہر قوم کے ایسے راستباز کرتے چلے آئے ہیں جن کے متعلق ہمارا وہم بھی یہ گمان نہیں کرتا کہ وہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔ اور کسی بات کے معلوم کرنے کا یہ ایک ایسا زبردست ذریعہ ہے کہ اس کو ایک دہریہ بھی تسلیم کرتا ہے۔ کیا کوئی ایسا دہریہ ہے جو اورنگ زیب یا اکبر کے وجود کا منکر ہو۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ سب کے سب مقر ہیں۔ یہ کیوں؟ صرف اسی لئے کہ راستبازوں کی شہادت پر مجبوراً انسان کو سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے ورنہ علم تاریخ سب کا سب باطل ہو جاوے گا۔ اچھا پُرانے واقعات کو جانے دو۔ اب جو بڑی عظیم الشان جنگ ہو رہی ہے اور فرانس ایک بڑے معرکہ کا مقام بن رہا ہے لاکھوں کروڑوں ہندوستانی اس مقام سے ہزاروں میل دور ہیں اور انہوں نے جنگ کا نظارہ نہیں دیکھا۔ توپیں چلتی ہوئی نہیں دیکھیں، نہ بندوقیں دنتی ہوئی ان کو سنائی دیں۔ لیکن تب بھی سب کو اس جنگ کے وجود کا یقین ہے۔ ان کے علاوہ جس قدر دہریئے ہیں وہ بھی یقین کرتے ہیں کہ فرانس میں جنگ ہو رہی ہے۔ حالانکہ ان کے اصولوں کے مطابق انہیں منکر ہونا چاہئے کیونکہ انہوں نے جنگ کا نظارہ اپنی آ نکھوں سے نہیں دیکھا۔ مگر کوئی ایک دہریہ بھی اس جنگ کے وجود کا منکر نہیں اور اسی لئے کہ سچ بولنے والوں نے شہادت دی کہ واقعہ میں فرانس میں ایک جنگ ہو رہی ہے۔ اسی طرح ہم دہریوں کو کہتے ہیں کہ اگر ہر قوم کے صادق اور راستبازوں کی شہادت خدا کے وجود کے متعلق ہم پیش کریں تو تمہیں اس ہستی کے اقرار کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کیونکہ جس طرح تم تھوڑے سے راستبازوں کی شہادت پر بڑے بڑے واقعات کا اقرار کرتے ہو اسی طرح اگر دنیا کی ہر قوم کے بڑے بڑے صادق اور راستباز جنہوں نے راستبازی کی خاطر اپنا وطن جان و مال عزت کی بھی پرواہ نہ کی۔ خدا کے وجود کی شہادت دیں کہ وہ ہے اور اس نے اپنا وجود ہم پر ظاہر کیا ہم سے باتیں کیں، ہمیں بشارتیں دیں جو پوری ہوئیں۔ ہمارے دشمنوں کے متعلق تباہی و بربادی کی پیش از وقت خبر دی جو عین وقت پرپوری ہوئی۔ تو کیا وجہ ہے کہ ایسی زبردست شہادت کا دہرئیے انکار کرتے ہیں حالانکہ اگر ایک دہریہ جج ہو اور اس کی عدالت میں قتل کا مقدمہ درپیش ہو اور دو صادق راستباز حلفی شہادت دیں کہ ہمارے سامنے زید نے بکر کو قتل کیا ہے تو یقینا وہ دہریہ جج زید کو پھانسی کی سزا دے گا۔ حالانکہ دہریوں کے اصول کے مطابق خود اس جج نے تو قتل کا وقوعہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ لیکن پھر بھی اُسے ضرور پھانسی کی سزا دے گا۔ یہ کیوں؟ صرف اسی لئے کہ دنیا کا تمام کاروبار صادقوں اور راستبازوں کی شہادت پر چل رہا ہے۔ غرض مذکورہ بالا تین ایسے اصول ہیں جن سے ہم کسی چیز کے وجود کو ثابت کر سکتے ہیں۔

اول۔ حواس خمسہ

دوم۔ اشیاء کے خواص اور افعال کے نتائج اور اثرات

سوم۔ سماع یعنی راستبازوں اور صادقوں کی شہادت

اب میں اپنے مضمون کے پہلے حصہ کو ختم کرتا ہوں اور بتوفیق ایزدی انشاء اللہ اگلے نمبر میں دہریوں کے اعتراضوں کا جواب دوں گا اور اس کے بعد ہستی باری کے چودہ دلائل۔

وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہ

(الفضل قادیان 28جنوری 1915ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 ستمبر 2020