• 23 ستمبر, 2021

پولینڈکا تاریخی سفر (قسط اول)

پولینڈکا تاریخی سفر
سفر نامہ (25 اپریل تا 30 اپریل 2010ء)
(قسط اول)

25اپریل 2010ء

اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج زندگی میں پہلی بار پولینڈ جانے کے لئے لندن سے روانہ ہوا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے سفر جاری ہے اور سفر کے دوران برسلز سے کولون بذریعہ ٹرین سفر کرتے ہوئے اس ڈائری کا آغاز کر رہا ہوں۔

اس سفر کی تقریب اس طرح پیدا ہوئی کہ قریباً ڈیڑھ دو ماہ قبل جماعت پولینڈ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں درخواست کی کہ وہ ایک تبلیغی لیکچر کے لئے خاکسار کو مدعو کرنا چاہتے ہیں۔حضور انور نے اس کی اجازت مرحمت فر ما ئی۔ الحمد للہ کہ اس طرح پولینڈ کا پہلا سفر ایک تبلیغی غر ض سے حضور انور کی اجازت سے طے پایا۔

انہی دنوں میں ناروے جماعت کی طرف سے حضور انور کی خدمت میں درخواست آئی کہ وہ تبلیغی نوعیت کے ایک اجلاس عام میں سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر تقریر کے لئے مجھے مدعو کرنا چاہتے ہیں۔ حضور انور نے اس کی بھی اجازت مرحمت فرمائی۔ ناروے کا اجلاس 20 اپریل کو طے پایا اس کے لئے میں نے 19 نومبر کو جانےاور 22 نومبر کو واپسی کے لئے جہاز کی سیٹ بک کرا لی اور تیاری شروع کر دی۔ پولینڈ کے لئے 26 اپریل کو روانگی، 27 اور 29 کو دو جگہوں پر تقاریر اور 30 اپریل کو واپسی کے لئے سیٹیں کرا لی تا کہ 30 اپریل جمعہ کو صبح کے وقت لندن واپسی ہو جائے اور جمعہ کا جو خطبہ حضور اس روز دیں اس کا ترجمہ کرنے کی سعادت مل جائے۔ اس کے علاوہ میں نے جماعت پولینڈ کی خواہش پر 10 اپریل تک اپنی تقریر Dose Islam pose a threat to Poland کے موضوع پر تیار کر کے انہیں پولش ترجمہ کے لئے بھجوا دی۔ اس کے بعد ناروے کے جلسہ کے لئے سیرت النبی ﷺ کی تقریر کی تیاری شروع کر دی۔

یہ سب انتظامات اور تیاریاں جاری تھیں کہ اچانک ایک اہم واقعہ رونما ہوا۔ 17 اپریل کو آئس لینڈ کے ایک پہاڑ سے آتش فشانی شروع ہوئی جس سے دھوئیں اور ریت وغیرہ کے بادل دنیا میں پھیلنے لگے اور خاص طور پر یورپ کے شمالی ممالک میں بشمول برطانیہ اس قدر متاثر ہوئے کہ فوری طور پر سب پروازیں بند کر دی گئیں کیونکہ ان بادلوں اور Ash کی وجہ سے جہازوں کا اُڑنا خطرناک ہو سکتا تھا۔یہ واقعہ اچانک ہوا اور یورپ کے علاوہ باقی دنیا بھی اس سے متاثر ہوئی۔

پروازوں کے تعطل سے ناروے جانے کا پروگرام خطرے میں پڑ گیا۔ متبادل ذریعہ سفر کے طور پر ٹرین۔ فیری وغیرہ کا پتہ کیا لیکن اچانک لوگوں اور مسافروں کے بے پناہ رش کی وجہ سے ایک سیٹ بھی نہ مل سکی۔ سمندر کو کراس کر کے یورپ میں داخلہ کی کوئی صورت میسر نہ آئی تو اس مجبوری کی وجہ سے ناروے کا پروگرام ختم کرنا پڑا۔ جو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو وہی ہوتا ہے۔ ناروے جماعت کو بھی بہت مایوسی ہوئی اور مجھے بھی احساس کہ خدمت دین کا ایک اچھا موقعہ ہاتھ سے نکل گیا۔ بہر حال عرفت ربی بفسخ العزائم والی بات سچی ثابت ہوئی۔

ناروے کا پروگرام بدلا تو میں نے 21 اور 22 اپریل کو اس خیال سے کہ پولینڈ میں بھی جہازوں کی صورت حال متاثر نہ ہو جائے یہ طے کیا کہ یہ سارا سفر بذریعہ ٹرین کیا جائے چنانچہ یورو سٹار کی ٹکٹ خریدی اور بعدازاں بیلجیم کے امیر صاحب کے ذریعہ برسلز سے کولون اور کولون سے برلین تک کی ٹرین کی ٹکٹ خرید لی اور برلین سے وارسا تک کی ٹکٹ کا انتظام کر لیا۔

اب ہوا یہ کہ 22 اپریل کو جہازوں کی پروازیں شروع ہو گئیں۔ کیونکہ ابتداء میں ابھی پرواز یں پوری نہ تھیں اور غیر یقینی صورت بھی تھی اس لئے میں نے یہی فیصلہ کیا کہ اگرچہ 26 کو پرواز پر سیٹ بک ہے لیکن متبادل ذریعہ سفر کو ہی اختیار کیا جائے چنانچہ اس کے مطابق میں نے 25 اپریل کو بذریعہ ٹرین سفر کا آغاز کیا۔ یہ میرے لئے یورپ میں اس قدر لمبا سفر بذریعہ ٹرین کرنے کا پہلا موقعہ ہے۔

25 اپریل کی صبح کو نماز فجر، تلاوت، ناشتہ اوردفتر میں جا کر چند ضروری خطوط لکھنےکے بعد گھر سے روانگی ہوئی۔ قانتہ نے سارا سامان بڑے قرینہ سے تیار کر دیا تھا۔ مجید بھٹی صاحب کار میں مجھے یورو سٹار ٹرین کے اسٹیشن St. Pancras لے آئے۔ وہاں خالد بھنوں صاحب استقبال کے لئے موجود تھے۔ وہ اس اسٹیشن پر کام کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے بہت سہولت رہی۔ انہوں نے بزنس لاونچ میں ایک اور ہلکا ناشتہ بھی کروایا۔ اس کے بعد 8:57 پر ٹرین روانہ ہوئی۔ سفر بہت خوشگوار رہا۔ سمندر کے اندر TUNNEL سے گزرنے میں 20 منٹ لگے۔ ٹھیک وقت پر 12:03 پرٹرین برسلز پہنچ گئی۔

اسٹیشن پر سید حامد محمود شاہ صاحب امیر،مکرم احسان سکندر صاحب مبلغ انچارج اور مکرم منور احمد صاحب صدر انصار اللہ بیلجیئم تشریف لائےہوئے تھے۔ بڑے تپاک سے ملے۔ ایک ہوٹل میں کھانے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ جماعتی اور علمی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ 2:28 پر THALYS ٹرین پر روانگی ہوئی۔ سفر عمدہ رہا۔ آج دوران سفر ایک چیز پہلی بار دیکھنے کا موقعہ ملا اور وہ تھی ڈبل ڈیکر ٹرین! پونے 2 گھنٹے میں کولون اسٹیشن پہنچ گیا۔ وہاں پانچ نوجوان استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے۔ دو مکرم الیاس منیر صاحب کے بچے اور تین اور۔ ان سب کو الیاس منیر صاحب نے آنے کا کہا تھا (خود وہ شوریٰ کی وجہ سے فرانکفورٹ میں تھے) مکرم الیاس منیر صاحب کی بیگم نے بڑے اہتمام سے میرے لئے بعد دوپہر کی چائے کا مکمل سامان اپنے بچوں کے ہاتھ بھجوایا۔ گرم گرم چائے تھرماس میں، پکوڑے اور کیک وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس اہتمام کی بہت جزاء دے۔ بہت لطف آیا اور ان کے لئےدعا کا بھی موقع ملا۔ کچھ دیر اسٹیشن پر آنے والے سب نوجوانوں سے بات چیت ہوئی۔ اس کے بعد کولون سے برلین تک جانے والی جرمنی کی مشہور ٹرین ICE میں سوار ہوا۔

ٹرین کا یہ سفر کافی لمبا تھا۔ قریباًساڑے 5 گھنٹے۔ ٹرین آرام دہ اور تیز رفتار تھی۔ٹرین میں بعض اوقات رفتار بھی لکھی ہوئی سکرین پر دکھائی جاتی تھی۔ یہ ٹرین کافی عرصہ 250 کلومیٹر کی رفتار سے بھی چلتی رہی۔ لمبے سفر کی وجہ سے تھکان تو ہوئی لیکن باہر کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہونے اور حمد باری تعالیٰ کرنے اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا اچھا موقع ملا۔ نمازیں بھی پڑھیں۔ حقیقۃ الوحی کا کچھ حصہ بھی۔ اپنی تقریر کا کچھ حصہ بھی پڑھا اور کچھ ڈائری بھی لکھی۔

رات کے 9 بج کر 10 منٹ پر ٹرین برلین کے سنٹرل اسٹیشن پر پہنچ گئی۔ عزیزم نوید احمد۔ ہادی احمد اور ان کے ایک دوست آئے ہوئے تھے۔ ان کی کارمیں سیدھا مسجد خدیجہ پہنچا۔ احباب جو نماز کے لئے آئے ہوئے تھے انہوں نے استقبال کیا۔ میں نے نماز مغرب اور پھر بعد میں نماز عشاءمسجد خدیجہ میں پڑھائی۔ کھانا تیار تھا۔ وہ کھایا۔ اس کے بعد حاضر احباب سے نصف گھنٹہ بات چیت ہوئی۔ پھر مشن کے ایک کمرہ میں آرام کیا۔ بہت آرام دہ اور پُرسکون کمرہ تھا۔

26 اپریل 2010ء

رات تھوڑی دیر ہی آرام کیا۔ جلدی صبح ہو گئی۔ نفل ادا کئے۔ پھر مسجد خدیجہ میں نماز فجر پڑھائی۔ نماز کے بعد کمرے میں آکر تلاوت اور پھر آرام کیا۔ اس وقت اچھا آرام ہو گیا۔ گہری نیند آئی۔ دس بجے اُٹھ کر ناشتہ کیا۔ نہایا۔ سوا گیارہ بجے عزیزم نوید اور ہادی احمد آگئے۔ ان کے ساتھ اسٹیشن آیا راستہ میں ایک جگہ پولیس والوں نے نوید کی کار روکی۔ کاغذات وغیرہ چیک کر کے جانے کی اجازت دے دی۔ الحمدللہ کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔

برلین کا اسٹیشن بہت بڑا ہے۔ نیا بنا ہے۔ خوبصورت ہے وہاں سے 12:28 پر وارسا ایکسپریس ٹرین میں روانگی ہوئی۔ یہ ٹرین بھی بہت آرام دہ اور تیز رفتار ہے۔ اس میں بیٹھے یہ ڈائری لکھ رہا ہوں۔ ساتھ لایا ہوا کھانا کھایا۔ سینڈوچ اور پھل۔ ٹرین سے کافی لے کر پی۔ یہ پولینڈ کی کافی اچھی مزیدار تھی ایک کپ 1.5 یورومیں ملا۔ الحمد للہ سفر بڑی عمدگی سے جاری ہے۔ اس ٹرین پر سفر کرتے ہوئے۔ پتہ بھی نہیں چلا اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلی بار پولینڈ میں داخل ہوا۔ دعا کی کہ رَبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّ اجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا۔ آمین۔ پولینڈ میں داخلہ سے قبل جرمنی کے علاقہ میں آخری بڑا اسٹیشن آیا تو نام پڑھ کر حیرت ہوئی۔ نام تھا Frankfurt۔ یہ ایک ہی نام کا دوسرا شہر ہے جو ایک دوسرے دریا کے کنارہ پر ہے اس لئے فرانکفورٹ کے ساتھ یہ لفظ بھی لکھا جاتا ہے۔

اس لمبے سفر میں بھی ٹرین کے دائیں بائیں باہر کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتا رہا۔تقریر کا بقیہ حصہ پورا پڑھ لیا۔ اللہ تعالیٰ میرے ان کلمات میں بہت بہت برکت رکھ دے۔ اس کے ہی فضل سے تقریر تو اچھی لکھی گئی ہے خدا کرے بیان بھی بہت عمدہ رنگ میں ہو جائے اور اس کا نیک اثر دلوں پر ہو۔ پولینڈ میں قیام کے دوران غالباً تین تقاریر ہوں گی۔ خدا تعالیٰ کرے کہ تینوں ہی بہت بہت کامیاب ہوں۔

آج صبح برلین میں باتوں میں یہ ذکر آیا کہ حضور انور نے مسجد خدیجہ کے افتتاح کے موقعہ پر فرمایا تھا کہ اس مسجد کی تعمیر سے اب اللہ تعالیٰ نے روس کے علاقوں اور مشرقی یورپ کے ممالک مین تبلیغ کے راستے کھول دئے ہیں گویا برلین کو اس بابرکت تبلیغ اسلام کا راستہ بیان فرمایا۔ مجھے اس سے خیال آیا کہ عجیب تصرف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ناچیز خادم اسلام کو بھی پولینڈ میں برلین کے ذریعہ ہی داخلہ کی توفیق دی ہے۔ عام طور پر پولینڈ میں لوگ ہوائی جہاز سے جاتے ہیں اور میرا ارادہ بھی اسی طرح تھاکیونکہ یہ ذریعہ سفر کم وقت لینے والا اور آرام دہ ہے۔ میں نے اس ہوائی سفر کی بکنگ بھی کر لی تھی لیکن ان حالات کی وجہ سے جو پہلے ذکر کر چکا ہوں یہ ارادہ تبدیل کرنا پڑا اور ٹرین کے ذریعہ سفر کا فیصلہ کیا۔ اْس وقت تک مندرجہ بالابات کا کوئی خیال دل میں نہ تھا اب آج صبح یہ خیال آیا کہ میں بھی تصرف الٰہی سے برلین کے ذریعہ پولینڈ میں داخل ہورہا ہوں تو دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر گیا۔ اللہ تعالیٰ اس سفرکو بہت برکتوں والا بنا دے۔ آمین۔

گاڑی میں سفر تیزی سے جاری ہے۔ میں یہ ڈائری بھی لکھ رہا ہوں ٹرین ذراہلتی ہے تو لکھائی خراب ہو جاتی ہے لیکن جذبات کی رو اپنی پوری تیزی سے جاری ہے۔ ایک نئے ملک میں پہلی بار آنا۔ ایک سخت کیتھولک ملک میں ان شاء اللہ اسلام کے بارہ میں تقاریر کا موقعہ ملنا اور ویسے بھی میں سوچتا ہوں کہ میں ایک نہایت ہی کمزور، جاہل اور گنہگار انسان ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل۔محض اس کے کرم سے اس کرم خاکی کو اللہ تعالیٰ اپنی کتنی نعمتوں سے نواز رہا ہے۔ کیسے شکر کروں کہ شکر کا حق کچھ تو ادا ہو سکے۔ ساری زندگی بھی شکر کرتا رہوں۔ اپنے نفس کا ذرہ ذرہ اسی راہ میں قربان کردوں تو تب بھی یہ حق ادا نہیں ہو سکتا۔ خدایا میرے ان نا چیز جذبات کو قبول فرمالے کہ تو بہت قبول کرنے والا ہے۔ آمین۔

ٹرین بڑی تیز رفتاری سے جاری ہے۔ باہر کے دلفریب نظارےبڑی تیزی سے نظروں کے سامنے آتے اور نظروں سے غائب ہوتے جارہے ہیں۔ کیا یہ ہماری دنیا کا ایک نقشہ نہیں۔ ساری دنیا ہی فانی ہے اور بس ایک خدا تعالیٰ کا نام ہی باقی رہنے والا ہے۔

اچھا اب وارسا (جو پولینڈ کا دارالحکومت ہے) قریباً ایک گھنٹہ میں آنے والا ہے۔ اب میں نے نماز ظہر و عصر ادا کرنی ہے۔ اچھا ہے انہی جذبات شکر کو لے کر اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونے کو جاتا ہوں۔ باقی پھر۔

تھوڑی دیر میں وارسا کا اسٹیشن آنے والا ہے۔ وہاں اترتے ہوئےپہلی بار پولینڈ کی سر زمین پر قدم پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ مبارک کرے۔

اب تک کا جو سفر ہوا ہے اس میں یہ عجیب بات سامنے آئی ہے کہ اس سفر میں بیلجئم، جرمنی اور اب تک پولینڈ کے سفر میں کسی جگہ کوئی پہاڑ نظر نہیں آیا۔ (ممکن ہے دور کہیں ہوں لیکن نمایاں طور پرنظر نہیں آیا۔) تا حد نظر ہموار اور کھلا علاقہ تھا۔ کئی دریاؤں کو عبور کیا۔ دونوں طرف ہریالی۔ جنگلات اور سبزہ اور چھوٹی بڑی آبادیاں نظر آتی رہیں۔ ساری گاڑیوں میں مسافروں کا رش رہا۔ ممکن ہےآئس لینڈ کے واقعہ کا اثر ہو یا ویسے ہی سفر کرنے والوں کی کثرت ہوتی ہو۔

ترقی کا معیار اب تک کے مشاہدہ کے اعتبار سے جرمنی کے مقابلہ میں پولینڈکم نظر آتا ہے۔ سبزہ بھی جرمنی سے کم ہے لیکن کھیتی باڑی خوب کثرت سے ہے۔ یہ کیتھولک ملک ہے۔ اس میں ا یک عجیب نظارہ یہ دیکھا کہ ایک اسٹیشن کے قریب بجلی کے کھنبوں کو غور سے دیکھا تو ان کے اوپر کا حصہ + کر اس (صلیب) کی طرز پر بنا ہوا تھا۔ ایک جگہ پر ایسا بہت نمایاں نظر آیا۔ باقی کا علم نہیں۔

وقت مقررہ سے چند منٹ لیٹ گاڑی خیریت سے وارسا کے سینٹرل اسٹیشن پہنچ گئی۔ معلوم ہوا کہ برسلز اور برلین کی طرح وارسا کے بھی متعدد اسٹیشن ہیں۔ میرےوالی ٹرین دو اسٹیشنوں کو چھوڑ کر وارسا سنٹرل اسٹیشن پر رکی جہاں میں نے اترنا تھا۔ گاڑی کے آخری ڈبہ میں میں سفر کر رہا تھا جس کا نمبر 267 تھا حیرت ہوئی کہ یہ نمبر بوگی کا کس حساب سے تھاکیونکہ گاڑی لمبی تو ضرور تھی لیکن اتنی لمبی بھی نہ تھی۔

وارسا سنٹرل اسٹیشن پر اترا تو پلیٹ فارم پر مکرم محمد منیر احمد منور صاحب امیر آسڑیا و پولینڈ اور مکرم زبیر خلیل صاحب اور ان کے ہمراہ ایک اور دوست استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ کار میں مشن ہاؤس آیا جو وارسا شہر کے مغربی حصہ میں واقعہ ہے۔ یہ ایک مکان ہے جس کی دو منزلیں ہیں پیچھے باغ کی جگہ ہے۔ عمارت پرانی ہے۔ یہی یہاں کا مشن ہاؤس اور مسجد ہے جو غالباً 1990ء میں خریدا گیا تھا۔ایک بڑا کمرہ جس کے دو حصے ہیں مسجد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک حصہ مردوں اور دوسراعورتوں کے لئے۔ یہاں فی الحال مختصر سی جماعت ہے۔ کچھ دیر باتیں ہوئیں پھر سب نے مل کر کھانا کھایا جسے ایک احمدی پاکستانی ڈاکٹر کی رشین بیوی نے بنایا تھا۔اس کے بعد مغرب عشاء کی نمازیں میں نے پڑھائیں۔ اب یہ لکھنے کے بعد سونے کی تیاری کروں گا۔

27 اپریل 2010ء

صبح سویرے اٹھ کر نفل ادا کرنے کی توفیق ملی۔ اس کے بعد مسجد میں نماز فجر پڑھائی۔ اس کے بعد تلاوت قرآن کریم کی اور پھر دوبارہ آرام کے لئے لیٹ گیا۔ اچھا وقت آرام کا مل گیا۔ کل کے سفر کی تھکان بھی تھی۔ اٹھا تو دیکھا کہ باہر بارش ہو رہی ہے۔ ہوا بھی سرد ہے۔ کل تو موسم اچھا اور قدرے گرم تھادیکھیں آج کیساموسم ہوتا ہے۔ آج پہلا تبلیغی پروگرام وارسا کے بعد دوسرے نمبر کے شہر KARAKOW میں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو بہت کامیاب کرے۔ ابھی نہا دھو کرتیاری کروں گا۔ اور پھر ناشتہ کے بعد اس جگہ کے لئے کار میں روانگی ہوگی۔ چار پانچ گھنٹے کا سفر ہے۔ اجلاس سے قبل نگران پروفیسر یونیورسٹی سے ملاقات ہے اس کے بعد پونے پانچ بجے اجلاس کا وقت مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر قدم پر مدد اور نصرت فرمائے۔ آمین۔

کل صبح برلین سے آگے روانہ ہونے سے قبل قانتہ کو لندن فون کر دیا تھا۔ اسی طرح رات وارسا مشن ہاؤس میں آنے کے بعد بھی فون پر تفصیلی بات ہو گئی تھی۔ الحمدللہ کے لندن میں سب خیریت ہے۔ حضور انور چار یورپین ملکوں کے دورہ کے بعد پرسوں یعنی 25 اپریل کی شام پونے نو بجے کے قریب (بذریعہ کار سفر کرتے ہوئے) خیریت سے واپس لندن پہنچ گئے ہیں۔ کَانَ اللّٰہُ مَعَهٗ وَاَیَّدَہٗ فِیْ کُلِّ مَکَانٍ۔

صبح دس بجے کے قریب ہم دعا کے بعد دو گاڑیوں میں روانہ ہوئے۔ میرے والی کار مکرم منیر احمد منور صاحب چلا رہے تھے۔ ساتھ ڈاکٹر اعجاز احمد صاحب اور ان کی اہلیہ تھیں۔ سفر بہت اچھا گزرا۔ قریباً 300 کلومیٹر کا سفر تھا۔ ابتداء میں Dual Carriageway ہونے کی وجہ سے کچھ تیز سفر ہوا بعد ازاں چھوٹی سڑک کی وجہ سے اور جگہ جگہ Road Works کی وجہ سے سفر میں کافی وقت لگا۔ پھر ارادہ تھا کہ راستہ میں کہیں رک کر دوپہر کاکھانا کھا لیں لیکن مطلب کی جگہ نظر نہ آئی اور ہم KARAKOW شہرہی پہنچ گئے۔ اور فیصلہ کیا کہ جس جگہ اجلاس ہے اس جگہ کے قریب پہنچ کر بڑے سٹی سینٹر میں ایک McDonald میں کھانا کھا لیں۔ چنانچہ اسی طرح کیا گیا۔ ہم نے تین سواتین بجے دوپہر کا کھانا کھایا۔

(باقی آئندہ ان شاءاللہ)

(مولاناعطاءالمجیب راشد۔لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 ستمبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ