• 23 اکتوبر, 2020

ہر احمدی احمدیت کا نمائندہ ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پھر آٹھویں شرط میں آپ فرماتے ہیں کہ اور دین اور دین کی عزت اور ہمدردیٴ اسلام کو اپنی جان، مال اور عزت اور اولاد اور ہر ایک عزیز سے زیادہ عزیز سمجھ لیں۔

(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 160 مطبوعہ ربوہ)

پس یہ ایک بہت اہم شرط ہے۔ ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ احمدی ہونے کے ناطے احمدیت کا نمائندہ ہے۔ اور اسلام کی حقیقی تصویر بننے کی اس نے کوشش کرنی ہے۔ غیر احمدی مسلمانوں کی نظریں بھی ہم پر ہیں اور غیر مسلموں کی نظریں بھی ہم پر ہیں۔ ہم یہ دعویٰ کر کے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں کہ ہم اسلام کی حقیقی تصویر ہیں۔ جب ہم اسلام کی حقیقی تصویر ہیں تو اسلام کی عزت کو قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی ہمارے سپرد ہے۔ ہم نے ایک نمونہ بننا ہے۔ اور جب ہمارے نمونے ہوں گے تو تبھی ہم تبلیغ کے میدان میں بھی ترقی کر سکتے ہیں۔ دین کی عزت اور اسلام کی ہمدردی ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس عزت کو دنیا میں قائم کریں۔ آج جب کہ ہر طرف اسلام کے خلاف محاذ کھڑے کئے گئے ہیں آپ اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اسلام مخالف لوگوں نے یہاں اس ملک میں بھی اسلام کو بدنام کرنے کا ایک طریق اختیار کیا ہے کہ مسلمانوں کی مسجدوں کے مینارے نہ بننے دئیے جائیں۔ اگر یہ مینارے ختم ہو گئے تو مسلمانوں کے جرائم اور ان کی دنیا میں فساد پیدا کرنے کی جو ساری activities ہیں وہ بقول ان کے ختم ہو جائیں گی۔ بے شک یہ میناروں کا فیصلہ تو ہو چکا ہے۔ لیکن اس ایشو کو ہر وقت زندہ رکھیں۔ وقتاً فوقتاً اخباروں میں لکھیں، سیمینار کریں یا اور مختلف طریقوں سے اس طرف لوگوں کی توجہ کراتے رہیں۔ جس طرح توجہ سے انہوں نے ریفرینڈم کروا کر یہ قانون پاس کروایا ہے اسی طرح ریفرینڈم سے قانون ختم بھی ہو سکتا ہے۔ بے شک میناروں کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ تو بہت بعد میں بننے شروع ہوئے ہیں لیکن یہاں اسلام کی عزت کا سوال ہے کہ اسلام کو میناروں کے نام پر بدنام کیا جا رہا ہے۔ اس لئے مسلسل کوشش ہوتی رہنی چاہئے۔ جماعت احمدیہ کی مثال دنیا کے سامنے پیش کریں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے 195ممالک میں جماعت قائم ہے۔ کسی ایک جگہ بھی مثال دو، یہاں سوئٹزرلینڈ میں ہی مثال دو کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے کبھی کوئی قانون شکنی کی گئی ہو یا کسی بھی فساد میں جماعت نے حصہ لیا ہو، یا حکومت کے خلاف کسی بغاوت میں شامل ہوئے ہوں۔ بلکہ قوانین کی مکمل پابندی کی جاتی ہے۔ ہم ہیں جو اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے والے ہیں۔ ذاتی رابطوں سے اپنے تعلقات کو بھی وسیع کریں۔ اپنے گھروں میں بیٹھ کر اپنے ماحول میں نہ بیٹھے رہیں۔ جن کو زبان آتی ہے، جن کے ارد گرد ماحول میں شرفاء ہیں وہ اس ماحول میں رابطے کریں۔ تبلیغی میدان کو وسیع کریں۔ جن کوصحیح طرح زبان نہیں آتی وہ کوئی لٹریچر لے کر تقسیم کرنا شروع کر دیں۔ بہر حال پوری جماعت کے ہر فرد کو اس بات میں اپنے آپ کو ڈالنا ہو گا۔ تبھی آپ کی تھوڑی تعداد بھی جو ہے وہ موٴثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ کیونکہ اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنا اور تبلیغ کی مہم میں اسلام کی اور دین کی عزت اور عظمت قائم کرنا ضروری ہے۔ جب تک ہم ایک مسلسل جدوجہد کے ساتھ اپنی تعداد میں اضافے کی کوشش نہیں کرتے ہم دین کی عزت قائم کرنے اور اسلام کی ہمدردی کا حق ادا نہیں کر سکتے یا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے نہیں کہلا سکتے۔

اسی طرح آج کل یورپ میں اسلام کو بدنام کرنے کا ایک ایشو پردہ کا بھی اٹھا ہوا ہے۔ ہماری بچیاں جو ہیں اور عورتیں جو ہیں ان کا کام ہے کہ اس بارے میں ایک مہم کی صورت میں اخباروں میں مضامین اور خطوط لکھیں۔ انگلستان میں یا جرمنی وغیرہ میں بچیوں نے اس بارے میں بڑا اچھا کام کیا ہے کہ پردہ عورت کی عزت کے لئے ہے اور یہ تصور ہے جو مذہب دیتا ہے، ہر مذہب نے دیا ہے کہ عورت کی عزت قائم کی جائے۔ بعضوں نے تو پھر بعد میں اس کی صورت بگاڑ لی۔ عیسائیت میں تو ماضی میں زیادہ دور کا عرصہ بھی نہیں ہوا جب عورت کے حقوق نہیں ملتے تھے اور اس کو پابند کیا جاتا تھا، بعض پابندیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ تو بہر حال یہ عورت کی عزت کے لئے ہے۔ عورت کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنی عزت چاہتی ہے اور ہر شخص چاہتا ہے لیکن عورت کا ایک اپنا وقار ہے جس وقار کو وہ قائم رکھنا چاہتی ہے اور رکھنا چاہئے۔ اور اسلام عورت کی عزت اور احترام اور حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ پس یہ کوئی جبر نہیں ہے کہ عورت کو پردہ پہنایا جاتا ہے یا حجاب کا کہا جاتا ہے۔ بلکہ عورت کو اس کی انفرادیت قائم کرنے اور مقام دلوانے کے لئے یہ سب کوشش ہے۔

(الفضل انٹرنیشنل جلد17شمارہ20 مورخہ14مئی تا20مئی2010صفحہ5تا8)

(خطبہ جمعہ 23؍ اپریل 2010ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 اکتوبر 2020