• 23 اکتوبر, 2020

وہ سب کے لیے ہے دعاؤں کا لشکر

محبت کی باتیں وفاؤں کا لشکر
وہ سب کے لیے ہے دعاؤں کا لشکر
دل و جاں لٹانے کو حاضر ہیں ہر دم
بڑا خوب ہے ہمنواؤں کا لشکر
میں اس پار اتروں گا ہی خیریت سے
ڈبوئے گا کیا ناخداؤں کا لشکر
فضاؤں میں بکھرا ہے وہ خاک بن کر
جو رکھتا تھا اپنے خداؤں کا لشکر
تری الفتوں کی ردا اوڑھ لیں گے
جو آۓ کبھی ابتلاؤں کا لشکر
چلی ہیں ترقی کی ایسی ہوائیں
کہ بدلا ہے ساری فضاؤں کا لشکر
سنی تھی جو زاہد صدا قادیاں سے
بنی ہے وہ لاکھوں صداؤں کا لشکر

(سید طاہر احمد زاہد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 اکتوبر 2020