• 5 دسمبر, 2022

مسلمان وہی ہے جو دعا اور صدقات کا قائل ہو

ایک داعی الی اللہ کے لئے یہ ضروری ہے اور صرف یہ داعی الی اللہ کو یاد رکھنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ ہر احمدی چاہے وہ فعال ہو کر تبلیغ کرتا ہے یا نہیں اگر دنیا کے علم میں ہے کہ فلاں شخص احمدی ہے، اگر ماحول اور معاشرہ جانتا ہے کہ فلاں شخص احمدی ہے تو وہ احمدی یاد رکھے کہ اس کے ساتھ احمدی کا لفظ لگتا ہے، اگر وہ تبلیغ نہیں بھی کر رہا تو تب بھی اس کا احمدی ہونا اسے خاموش داعی الی اللہ بنا دیتا ہے۔ بعض دفعہ غیر احمدیوں اور غیر مسلموں کے مجھے خط آ جاتے ہیں کہ آپ کی جماعت کی نیکی کی تو بڑی شہرت سنی ہے اور آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سب مسلمانوں سے اچھے ہیں، لیکن فلاں احمدی نے مجھے اس طرح دھوکہ دیا ہے، میرا حق اُس سے دلوایا جائے۔ تو ایک احمدی کا ایک عمل، ایک فعل، پوری جماعت کی بدنامی کا باعث بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ جو انسانی فطرت کی پاتال تک سے واقف ہے جس طرح وہ اپنی مخلوق کو جانتا ہے کوئی اور نہیں جان سکتا ہے، اسی نے پیدا کیا ہے۔ اس نے یہ فرمایا کہ دعوت الی اللہ کرنے والے سے کون بہتر ہو سکتا ہے؟ تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ دعوتِ الی اللہ کرنے والے کی کوشش ہوتی ہے اور ہونی چاہئے کہ وہ اعمالِ صالحہ بجا لائے اور یہ اعلان کرے کہ مَیں کامل فرمانبردار بنتا ہوں یا بننے کی کوشش کروں گا۔ مجھ پرمسلمان ہونے کا احمدی ہونے کا صرف Labelنہیں لگا ہوا۔ بلکہ مَیں خدا تعالیٰ کے احکامات کو کامل فرمانبرداری سے ادا کرنے کی کوشش کرنے والا ہوں اور ایک مسلمان فرمانبردار تبھی بنتا ہے جب حقوق اللہ کی طرف بھی توجہ رہے اور حقوق العباد کی طرف بھی توجہ ر ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمان کے فرمانبردار ہونے کا عبادت کے ساتھ بہت تعلق ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ مسلمان وہی ہے جو دعا اور صدقات کا قائل ہو۔

(ملفوظات جلد اول صفحہ195)

(خطبہ جمعہ فرمودہ 9 اپریل 2010ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 30؍ستمبر 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 اکتوبر 2022