• 5 دسمبر, 2022

امام جماعت کا خطاب ایک مکمل پیغام تھا۔ ایک مہمان کا اعتراف

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اس کے بعد آسٹریلیا کا دورہ شروع ہوا۔ وہاں سڈنی (Sydney) میں چند دن رہ کر میلبورن (Melbourne) میں گیا۔ میلبورن وہاں سڈنی سے کوئی آٹھ نو سو میل دور ہے۔ وہاں بھی Princess Reception Centre میں ایک reception تھی۔ اس میں تقریباً 220 کے قریب مختلف شعبہ ہائے زندگی کے مہمان شامل ہوئے۔ جن میں ممبر آف پارلیمنٹ بھی تھے، فوج کے اعلیٰ افسران، بلکہ اُن کے فوج کے جو آرمی چیف ہیں اُن کے نمائندے بھی شامل ہوئے تھے، میجر جنرل کے rank کے آدمی تھے اور مختلف ممالک کے کونسلرز تھے۔ فیڈرل پولیس کے افسران تھے، پھر دوسرے مقامی کونسلر تھے، پروفیسر تھے، اسی طرح مختلف لوگ تھے۔

ایک سٹیٹ ممبر پارلیمنٹ وکٹوریہ Ms Inga Peulich نے کہا کہ آپ کا یہ پیغام ایسا پیغام ہے جس کی تمام آسٹریلین تائید کرتے ہیں جو کہ مختلف قوموں اور تمدنوں کے باہم اختلاط سے ایک قوم بنے ہیں اور بطور آسٹریلین ہم اس طرح کے اعلیٰ پیغام کو اپنانا چاہتے ہیں اور اسی طرح آپ جیسے لوگوں سے مکمل تعاون کرتے ہیں جو ایسے پیغام کو پہنچا رہے ہیں۔ یہاں بھی اسلام کا پیغام امن اور سلامتی کے بارے میں تھا۔

پھر ایک اَور ممبر آف پارلیمنٹ کہتی ہیں آج جو پیغام آپ نے دیا ہے وہ مذہب سے بالا ہے۔ وہ انسانیت کا پیغام ہے۔ ہمیں سب کو یہی پیغام اپنانا ہے۔ امن، انصاف، رواداری اور خدمتِ انسانیت ایسی خوبیاں ہیں جو امام جماعت احمدیہ نے آج بیان کی ہیں۔ ہم نے انہی خوبیوں کو لے کر چلنا ہے۔ پھر کہتی ہیں کہ میں اس بات کو جانتی ہوں کہ احمدی عورتیں اس پیغام کو نہ صرف آگے پہنچا رہی ہیں بلکہ عملی طور پر اس پر عمل بھی کر رہی ہیں۔ کہتی ہیں کہ میں تو یہی جانتی ہوں کہ احمدی بچے بااخلاق، تعلیم یافتہ اور انتہائی مؤدّب ہوتے ہیں۔ بس ہم سب کو یہی خوبیاں اپنانی چاہئیں۔ تو یہ ایک تأثر ہے جو احمدیوں کا دنیا میں اکثر جگہوں پر ہے۔ جرمنی میں بھی یا کہیں بھی جاؤں تو مجھ سے جب باتیں ہوں تو اس حوالے سے وہ ذکر کرتے ہیں۔ پس اس تأثر کو ہر عورت کو، ہر بچے کو آگے بڑھانا چاہئے اور اپنی سوچ ہمیشہ اونچی رکھنی چاہئے۔ کسی قسم کے complex میں آنے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ ہماری باتیں سننے کے لئے تیار ہیں اور نہ صرف تیار ہیں بلکہ اُس کو پسند کرتے ہیں اور اپنانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح یہاں Church of Jesus Christ کے Murray Lobley صاحب تھے۔ کہتے ہیں کہ جس انداز سے امام جماعت احمدیہ نے امن کی بات کو انتہائی عام فہم الفاظ میں بیان کیا ہے ہر آسٹریلین اس کو باآسانی سمجھ سکتا ہے۔ آج اس ہال میں موجود ہر شخص کے دل کی یہی آواز تھی کہ امن کے قیام کے لئے محبت ہی واحد راستہ ہے اور بہت ہی اچھا ہوا کہ آج ہم یہ پیغام اپنے ساتھ اپنی اپنی communities میں لے کر جائیں گے۔

پھر ایک مہمان نے کہا کہ مَیں اور میری بیوی گزشتہ اٹھارہ سال سے سچ کی تلاش میں ہیں اور آج رات جو ہم نے سنا وہ سچ کے سوا کچھ نہ تھا۔ امام جماعت کا خطاب ایک مکمل پیغام تھا۔ اب صرف ایک ہی بات ہے کہ ہم سب کو اس پر عمل کرنا چاہئے اور اس پیغام کو اپنے دلوں میں سجا لینا چاہئے۔ خلیفۃ المسیح نے صرف یہ نہیں بتایا کہ امن کیسے قائم ہو سکتا ہے بلکہ یہ بھی بتایا کہ اگر امن قائم نہ ہوا تو کیا ہو سکتا ہے۔

اسی طرح وہاں کا آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کا ایک مشہور چینل اے بی سی ہے۔ سرکاری چینل ہے۔ اُس کے ایک جرنلسٹ نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا کہ امام جماعت کا خطاب انتہائی نَپا تلا اور متوازن اور منصفانہ تھا اور حقیقت پر مبنی تھا۔ اور اس خطاب نے ہمارے ذہنوں کو کھول دیا ہے۔

پھر ایک مہمان خاتون Adrienne Green نے کہا کہ مَیں بہت فخر محسوس کر رہی ہوں کہ آج میں نے ایک شاندار تقریب میں شمولیت کی اور میں بہت متأثر ہوں جو انہوں نے دنیا میں امن کے قیام کے بارے میں بات کی ہے۔ میں آج برملا یہ بات کہتی ہوں کہ مجھے آپ کے اقدار سے بہت محبت ہے اور میں خواہش کرتی ہوں کہ میرے ملک آسٹریلیا کے لوگ ان اقدار کو زیادہ مضبوطی کے ساتھ اپنائیں اور میں چاہتی ہوں کہ آپ ضرور اپنا پیغام لوگوں تک پہنچائیں۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ اور یہ باتیں کہتے ہوئے موصوفہ کے آنسو نکل رہے تھے۔

(خطبہ جمعہ 15؍نومبر 2013ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 30؍ستمبر 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 اکتوبر 2022