• 30 نومبر, 2020

تھوڑے مال میں بھی خداتعالیٰ اتنی برکت رکھ دے گا

حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ نے اپنے اندر جو تبدیلیاں پیدا کیں اور قربانی کے اعلیٰ نمونے قائم کئے اُن تبدیلیوں کو ہم نے اس زمانے میں جاری رکھنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ہماری بچت اسی میں ہے کہ ہم اس کی راہ میں اپنا بہترین مال پیش کریں، اس کی رضا حاصل کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَنْفِقُوْا خَیْرًالِّأَنْفُسِکُمْ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرو۔ یہ تمہاری جانوں کے لئے بہتر ہو گا۔ یعنی تمہارے اپنے لئے بھی یہ بہتر ہے کیونکہ تم جومال خرچ کرو گے اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہارے سے راضی ہو گا، تمہیں مزید نیکیوں کی توفیق ملے گی۔ بلکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بعد تم اپنے یا اپنے گھر پر یا اپنی اولاد پر جو خرچ کرو گے اس میں بھی برکت پڑے گی۔ تمہارے تھوڑے مال میں بھی خداتعالیٰ اتنی برکت رکھ دے گا جو تم پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اظہار کر رہی ہو گی۔ تمہارے بچوں میں اور ان کی تربیت میں بھی اللہ تعالیٰ برکت ڈالے گا۔ غرض کہ یہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں تم سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ جیسا کہ فرمایا وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (الحشر:10) اور جو لوگ اپنے دل کے بخل سے بچائے جاتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ پس اگرفلاح پانی ہے، کامیابی حاصل کرنی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے، اگر اپنے مالوں اور اولادوں میں برکت ڈالنی ہے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے میں کبھی کنجوسی اور بخل سے کام نہ لو۔ آج اس بخل سے بچنے کی احمدی کو سب سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کے بعد مالی قربانی کا زیادہ فہم اور ادراک حاصل ہوا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ مالی قربانی کرنے والوں کو کس طرح کامیاب فرماتا ہے؟ فرمایا کہ اِنْ تُقْرِضُوْااللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ (التّغابن:18)۔ اگر اللہ کو قرضہ حسنہ دو گے تو وہ اُس کو تمہارے لئے بڑھا دے گا اور تمہارے لئے بخشش کے سامان پیدا کرے گا اور اللہ بہت قدردان اور ہر بات کو سمجھنے والا ہے۔

پس یہ مالی قربانی قرضۂ حسنہ ہے۔ اللہ کو بظاہر مال کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہمیں سمجھایا گیا ہے کہ اللہ کس طرح قدر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جو قربانی ہے کیونکہ یہ تم نے میری خاطر کی ہے۔ اس لئے مَیں اسے تمہیں واپس لوٹاؤں گا۔ اور اللہ تعالیٰ سب قدر کرنے والوں سے زیادہ قدر کرنے والا ہے۔ اس لئے اس کو کئی گنا بڑھا کر لوٹاتا ہے۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ کرکے لوٹاتا ہے۔ تو یہ قرضہ حسنہ کیا ہے؟ یہ تو ایک تجارت ہے اور تجارت بھی ایسی جس میں سوائے فائدے کے کچھ ہے ہی نہیں۔ اس لئے کسی بھی قربانی کرنے والے کو کبھی یہ خیال نہ آئے کہ مَیں نے خدا پر کوئی احسان کیا ہے۔ اور صرف مالی لحاظ سے یا دنیاوی لحاظ سے ایسے قربانی کرنے والوں کے حالات اللہ تعالیٰ ٹھیک نہیں کرتا بلکہ فرمایا کہ تمہارے جودنیاوی فائدے ہونے ہیں وہ تو ہونے ہیں، مَیں گناہ بھی بخش دوں گا۔ انسان گناہوں کا پتلا ہے ایک دن میں کئی کئی گناہ سرزد ہو جاتے ہیں، کئی کئی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ ایک تو ان قربانیوں کی وجہ سے ان گناہوں سے بچے رہو گے، نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہوتی رہے گی۔ دوسرے جو غلطیاں اور کوتاہیاں سرزد ہو گئی ہیں، اللہ کی راہ میں قربانی کرکے ان کی بخشش کے سامان بھی پیدا کر رہے ہو گے۔ پس اس طرف توجہ کرو اور اللہ کے فضلوں کے وارث ٹھہرو۔

(خطبۂ جمعہ فرمودہ 23 ستمبر 2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 نومبر 2020