• 1 دسمبر, 2020

جماعت کا ماٹو یا مطمح نظر کیا ہونا چاہئے؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بھی علماء کی ایک بحث مضامین کی صورت میں چلی جو الفضل میں شائع ہوتے رہے یا بعض بزرگوں نے اس بارے میں اپنا اپنا نقطہ پیش کیا کہ جماعت کا ماٹو یا مطمح نظر کیا ہونا چاہئے؟ اس پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت کو جو ماٹو دیا یا جس طرف توجہ دلائی وہ ایسا ہے جس سے دین بھی مضبوط ہوتا ہے، ایمان بھی مضبوط ہوتا ہے، حقوق اللہ کی ادائیگی بھی ہوتی ہے اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی ہوتی ہے۔ دو بزرگوں میں سے ایک نے کہا کہ ہماری جماعت کا مطمح نظر فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ (البقرۃ: 149) ہونا چاہئے۔ دوسرے نے کہا کہ ہمارا ماٹو یا مطمح نظر ’’میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا‘‘ ہونا چاہئے۔ حضرت مصلح موعودنے فرمایا کہ کوئی نہ کوئی مطمح نظر ضرور ہونا چاہئے۔ دنیا میں جتنی تنظیمیں ہیں اور انجمنیں ہیں جب قائم ہوتی ہیں تو اپنا اپنا کوئی نہ کوئی مطمح نظر رکھتی ہیں اور اگر سنجیدہ اور امانت کا حق ادا کرنے والی ہیں تو اس کے حصول کے لئے سنجیدگی سے کوشش بھی کرتی ہیں تا کہ اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز کر سکیں۔ دنیا میں اخلاقی ترقی کو بھی مطمح نظر بنانے کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ تعلیمی ترقی کو بھی مطمح نظر بنانے کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ اگر کسی جگہ عوام کے یا کسی کے حقوق غصب ہو رہے ہیں تو سیاسی تنظیمیں آزادی کو اپنا ماٹو بنا لیتی ہیں، اس کے لئے کوشش کرتی ہیں اور نعرے لگاتی ہیں۔ اگر کسی جگہ کوئی اور صورت ہے تو اس کو اپنا مطمح نظر بنایا جاتا ہے۔ بہرحال مطمح نظر کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اس بات کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور اپنی جماعت کے سامنے بھی ہر وقت اسے موجود رکھنا ہے، دنیا میں بھی قائم کرنا ہے اور اپنے سامنے بھی موجود رکھنا ہے۔ اس دنیا میں ہزاروں قسم کی نیکیاں ہیں اگر کسی ایک نیکی کو چن لیا جائے تو بظاہر ایک اچھی بات ہے، مطمح نظر ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ باقی قسم کی نیکیوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ بلکہ ضرورت اور سہولت کو سامنے رکھتے ہوئے ان نیکیوں میں سے کسی ایک نیکی کو مطمح نظر بنایا جاتا ہے۔

بہر حال کوئی بھی اچھا ماٹو کوئی اپنے لئے مقرر کرے وہ اس کے لئے نیکی ہے۔ آپ نے یہ وضاحت فرمائی کہ بعض ماٹو ایسے ہوتے ہیں جن کا آپس میں اشتراک ہوتا ہے مثلاً یہ کہ ’’خدا کی اطاعت کرو‘‘ اور یہ ماٹو کہ ’’نیکیوں میں ترقی کرو‘‘ یہ آپس میں لازم و ملزوم ہیں کیونکہ خدا کی اطاعت کے بغیر نیکیوں کا حصول ناممکن ہے اور اسی طرح جو نیک نہیں وہ خدا کا مطیع نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح یہ ماٹو کہ ’’میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا‘‘ اور یہ کہ ’’میں نیکیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کروں گا‘‘، دونوں آپس میں مشابہ ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے اندر آجاتے ہیں۔ پس ساری نیکیاں ہی اچھی ہیں اور ہمیں انہیں اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

(ماخوذاز خطبات محمود جلد17 صفحہ560تا562 خطبہ جمعہ فرمودہ 28اگست 1936ء)

لیکن جب ماٹو کے بارے میں سوال اٹھے تو پھر اسی طرف توجہ رکھ کر اسی طرف اپنی توجہ محدود کر کے بعض لوگ اپنی نیکیوں کو بالکل ہی محدود کر دیتے ہیں یا اسی کو سب کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ جیسے ہمارے نوجوانوں میں یا بعض اور لوگوں میں بھی (لوگ) اپنی دینی حالت کو تو بھول گئے ہیں لیکن صرف دنیا دکھاوے کے لئے ’’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘‘ کا نعرہ بہت زیادہ لگانے لگ گئے ہیں۔ ٹھیک ہے اگر اسلام کی تعلیم کا پرچار اگر کرنا ہے، نیک نیت ہے تو یہ نعرہ بہت اچھا ہے لیکن ہمارا صرف یہی مقصد نہیں جیسا کہ میں نے کہا بلکہ ہمارے مقصد بہت وسیع ہیں۔ اسی طرح ہمدردیٔ خلق اگر کرنی ہے تو صرف ہمدردیٔ خلق ہی کچھ چیز نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ کی یاد دلوں سے غائب ہو رہی ہے تو پھر اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت مصلح موعودنے لکھا ہے کہ میں نے جب یہ مضمون پڑھے تو مجھے ایک یہودی کا قصہ یاد آ گیا کہ جب اس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے باتیں کرتے ہوئے دورانِ گفتگو کہا کہ ہمیں آپ لوگوں سے یعنی مسلمانوں سے بہت زیادہ حسد ہوتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ حسد کی کیا وجہ ہے؟ یہ کس لئے ہوتی ہے؟ تو یہودی کہنے لگا کہ اس بات کا حسد ہے کہ اسلام میں ایک خاص خوبی ہے کہ دنیا کی کوئی بات ایسی نہیں جو اسلام کے احکامات میں موجود نہ ہو۔ قرآن کریم میں موجودنہ ہو۔ ذاتی نوعیت سے لے کر بین الاقوامی نوعیت تک تمام احکام اور مسائل اور ان کا حل اس میں موجود ہے۔ یہ چیز ایسی ہے جو ہم میں حسد پیدا کرتی ہے۔

(خطبہ جمعہ 9؍ مئی 2014ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 نومبر 2020