• 30 نومبر, 2020

اَے شاہ مکی و مدنی ، سید الورٰی

اَے شاہ مکی و مدنی ، سید الورٰی
تجھ سا مجھے عزیز نہیں کوئی دوسرا
تیرا غلامِ در ہوں ، ترا ہی اسیر عشق
تو میرا بھی حبیب ہے ، محبوب کبریا
تیرے جلو میں ہی مرا اٹھتا ہے ہر قدم
چلتا ہوں خاکِ پا کو تری چومتا ہوا
تو میرے دل کا نور ہے ، اے جانِ آرزو
روشن تجھی سے آنکھ ہے ، اے نیر ِہدی
ہیں جان و جسم ، سو تری گلیوں پہ ہیں نثار
اولاد ہے ، سو وہ ترے قدموں پہ ہے فدا
تو وہ کہ میرے دل سے جگر تک اتر گیا
میں وہ کہ میرا کوئی نہیں ہے ترے سوا
اے میرے والے مصطفی ، اے سید الوریٰ
اے کاش ہمیں سمجھتے نہ ظالم جدا جدا
رب ِجلیل کی ترا دل جلوہ گاہ ہے
سینہ ترا جمالِ الٰہی کا مستقر
قبلہ بھی تو ہے ، قبلہ نما بھی ترا وجود
شانِ خدا ہے تیری اداؤں میں جلوہ گر
نور و بشر کا فرق مٹاتی ہے تیری ذات
’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘
تیرے حضور تہ ہے مرا زانوئے ادب
میں جانتا نہیں ہوں کوئی پیشوا دگر
تیرے وجود کی ہوں میں وہ شاخِ باثمر
جس پر ہر آن رکھتا ہے ربّ الورٰی نظر
ہر لحظہ میرے درپئے آزار ہیں وہ لوگ
جو تجھ سے میرے قرب کی رکھتے نہیں خبر
مجھ سے عناد و بغض و عداوت ہے اُن کا دیں
اُن سے مجھے کلام نہیں لیکن اِس قدر
اے وہ کہ مجھ سے رکھتا ہے پرخاش کا خیال
’’اے آں کہ سوئے من بدویدی بصد تبر
از باغباں بترس کہ من شاخ مثمرم
بعد از خدا بعشق محمد مخمرم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم‘‘
آزاد تیرا فیض زمانے کی قید سے
برسے ہے شرق و غرب پہ یکساں ترا کرم
تو مشرقی نہ مغربی اے نور ِشش جہات
تیرا وطن عرب ہے ، نہ تیرا وطن عجم
تو نے مجھے خرید لیا اِک نگہ کے ساتھ
اب تو ہی تو ہے تیرے سوا میں ہوں کالعدم
ہر لحظہ بڑھ رہا ہے مرا تجھ سے پیار دیکھ
سانسوں میں بس رہا ہے ترا عشق دم بدم
میری ہر ایک راہ تری سمت ہے رواں
تیرے سوا کسی طرف اٹھتا نہیں قدم
اے کاش مجھ میں قوتِ پرواز ہو تو میں
اڑتا ہوا بڑھوں ، تری جانب سوئے حرم
تیرا ہی فیض ہے کوئی میری عطا نہیں
’’ایں چشمہ رواں کہ بخلق خدا دہم
یک قطرہ ز بحر کمال محمد است
جان و دلم فدائے جمال محمد است
خاکم نثار کوچہ آل محمد است‘‘

(کلام طاہر ایڈیشن 2004صفحہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 نومبر 2020