• 30 نومبر, 2020

جماعتی اتحاد کی قدرو قیمت کو پہچانو

تبرکات : حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ
جماعتی اتحاد کی قدرو قیمت کو پہچانو

بِسْمِ اللّٰہِ کی جہری یا خفی قرأۃ ایسے مسائل میں جماعت احمدیہ کا حکیمانہ مسلک

غالباً ڈیڑھ یا دو ماہ کا عرصہ ہوا ہو گا کہ مجھ سے محترم مولوی جلال الدین صاحب شمس نے (جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی عدم موجودگی میں مسجد مبارک ربوہ میں امام الصلوٰۃ ہوا کرتے ہیں) کہا کہ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ جہری قرآۃ والی نمازوں میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتے ہوئے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمَ کو بھی جہری رنگ میں پڑھنا چاہئے۔ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں کیا طریق تھا؟ میں نے کہا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی مرحوم جو اپنی وفات (یعنی 1905ء) تک قادیان کی مسجد مبارک میں امام الصلوٰۃ ہو ا کرتے تھے وہ تو ہر جہری قرأۃ والی نماز (یعنی فجر اور مغرب اور عشاء) میں لازماً بِسْمِ اللّٰہِ بھی جہری پڑھا کرتے تھے۔ مگر ان کی وفات کے بعد جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ امام الصلوٰۃ بنے (دراصل حضرت مسیح موعودؑ نے شروع میں حضرت خلیفہ اول کو ہی امام الصلوٰۃ مقرر فرمایا تھا مگر انہوں نے خود حضرت مسیح موعودؑ سے عرض کر کے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو امام مقرر کروا دیا تھا) تو آپ ہمیشہ بِسْمِ اللّٰہِ کو خفی رنگ میں پڑھتے تھے اور جہری قرأۃ صرف اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے شروع فرماتے تھے۔ اور یہ طریق ابتداء سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بھی رہا ہے۔ آپ بھی جہری قرأۃ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِ سے شروع فرماتے ہیں۔ شمس صاحب نے کہا اگر میں بِسْمِ اللّٰہِ جہری طور پر پڑھوں تو کیا اس میں کوئی حرج تو نہیں؟ میں نے کہا فتویٰ دینا تو میرا کام نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہ دونوں طریق اپنے اپنے وقتوں میں رائج رہے ہیں۔ اس لئے اگر آپ بِسْمِ اللّٰہِ جہری پڑھنا چاہیں تو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟

اس کے بعد میں نے اس معاملہ پر مزید جستجو شروع کی تو مجھے محترم حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے بتایا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھانی شروع کی اور جہری قرأۃ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے شروع فرمائی تو ا س پر بعض سیالکوٹی احباب میں چہ میگوئی ہوئی کہ بِسْمِ اللّٰہِ کی جہری قرأۃ کیوں ترک کی گئی ہے؟ جب یہ بات حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ تک پہنچی (یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی کی بات ہے) تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں فرمایا کہ مجھے چونکہ بِسْمِ اللّٰہِ کے جہری پڑھے جانے کے متعلق کوئی پختہ حدیث نہیں ملی اس لئے میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے ہی جہری قرأۃ شروع کرتا ہوں۔ اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کے زمانہ میں بھی یہی طریق رائج نظر آتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

اس کے بعد میں نے محترم حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی سے دریافت کیا کہ ان کو اس بارے میں کیا یا د ہے ؟ مولوی صاحب ممدوح نے مجھے ایک نوٹ لکھ کر بھجوایا جس میں لکھا کہ جب میں پہلی دفعہ قادیان گیا تھا تو ایک دفعہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا تھا کہ میں جہری قرأۃ والی نماز میں بِسْمِ اللّٰہِ خفی رنگ میں پڑھتا ہوں مگر مولوی عبدالکریم صاحب جہری طور پر پڑھتے ہیں؟ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام یہ فرما کر خاموش ہو گئے کہ ’’ایسے اختلافات صحابہ کرام میں بھی پائے جاتے تھے‘‘

حضرت مولوی راجیکی صاحب فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب کی اقتداء میں نمازیں پڑھ کر اپنے وطن واپس گیا اور مجھے ایک دن وہاں امام بننے کا اتفاق ہوا تو میں نے بھی قادیان کی اتباع میں جہری قرأۃ والی نماز میں بِسْمِ اللّٰہِ کو جہری طور پر پڑھا۔ اس پر بعض لوگوں نے تکرار کی کہ یہ کیا بدعت شروع کی گئی ہے؟ میں نے ان معترضین سے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کے نزدیک ائمہ اربعہ یعنی حضرت امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ اور امام مالک ؒ کا طریق درست تھا یا نہیں؟ سب نے کہا بے شک درست تھا۔ میں نے کہا تو پھر ان اماموں میں بِسْمِ اللّٰہِ کو اونچی آواز میں پڑھنے والے بھی ہیں اور آہستہ پڑھنے والے بھی تو پھر اعتراض کیسا؟

خیر یہ تو ایک محض روایتی بات تھی کہ جماعت احمدیہ میں بِسْمِ اللّٰہِ کی جہری یا خفی قرأۃ کے متعلق دونوں قسم کے طریق پائے جاتے ہیں۔ لیکن اصل امر جس کی طرف میں اس جگہ احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ جواب ہے کہ ’’ایسے اختلافات صحابہ کرام میں بھی پائے جاتے تھے‘‘

حضرت مسیح موعودؑ اس نہایت مختصر اور بالکل سادہ سے جواب میں جماعت احمدیہ کا وہ وسیع اور حکیمانہ مسلک مضمر ہے جس پر حضرت مسیح موعود ؑ اس قسم کے جزئی مسائل میں جماعت کو قائم فرمانا چاہتے تھے۔ غیر احمدیت سے آئے ہوئے احمدی احباب اور خصوصاً عمر رسیدہ اصحاب جانتے ہیں کہ اس قسم کے عام فقہی مسائل میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں کتنا اختلاف پایا جاتا ہے اور بعض اوقات یہ اختلاف ایسی شدت اختیار کر جاتا رہا ہے کہ مسجدوں میں تُوتُو مَیں مَیں سے گزر کر ہاتھا پائی تک نوبت پہنچتی رہی ہے۔ اور نماز پڑھتے ہوئے لوگوں کو اس قسم کے فروعی اختلافوں کی بناء پر مسجدوں سے باہر نکال دیا جاتا رہا ہے۔ اور اس خیال سے کہ کسی کے آمین بالجہر کہنے یا رفع یدین کرنے سے نعوذباللہ مسجد ناپاک ہو گئی ہے اس کو پانی سے مَل مَل کر دھویا جاتا رہا ہے۔ اس قسم کے نظارے آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے اتنے عام تھے کہ مسلمانوں کی مسجدیں دوسروں کی ہنسی کا نشانہ بن کر رہ گئی تھیں۔ بلکہ اب بھی کبھی کبھی ایسے جزئی اختلافات کی ناگوار صدائے بازگشت اٹھتی رہتی ہے۔ اور اچھے اچھے متدیّن نظر آنے والے لوگ ان ناگوا ر اختلافات کو ہوا دینے لگ جاتے ہیں۔

لیکن احمدیت ان حالات میں بھی خدائی رحمت کا کیسا زبردست پیغام لے کر آتی ہے کہ اس قسم کے جزئی اختلافات کو یکسر مٹا کر عبادت گاہوں کو برکت و رحمت کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ میں نے اپنے آنکھوں سے دیکھا اور بار بار دیکھا ہے اور اپنے کانوں سے سنا اور بار بار سنا ہے کہ ہماری مسجدوں میں (اور قادیان اور ربوہ دونوں میں) ایک شخص آمین بالجہر کہہ رہا ہے تو اس کے پاس کا نمازی بظاہر خاموش کھڑ اہے اور دل میں آہستہ سے آمین کہنے پر اکتفا کرتا ہے۔ بلکہ میں نے اپنی مسجدوں میں بعض نظارے رفع یدین کے بھی دیکھے ہیں حالانکہ اکثر احمدی رفع یدین نہیں کرتے اور بِسْمِ اللّٰہِ کی جہری اور خفی قرأۃ کا ذکر تو اسی نوٹ میں اوپر گزر چکا ہے کہ کس طرح خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی میں ایک صاحب جب امام الصلوٰۃ بنتے تھے تو بِسْمِ اللّٰہِ بالجہر پڑھتے تھے تو دوسرے صاحب اپنی جہری قرأۃ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے شروع کر تے تھے۔ لیکن حضرت مسیح موعودؑ خاموشی کے ساتھ دونوں کا مسلک ملاحظہ فرماتے تھے اور کسی کو ٹوکتے نہیں تھے۔ بلکہ جب حضور کے سامنے یہ اختلاف پیش کیا گیا تو اس کے سوا کچھ نہیں فرمایا کہ ’’ایسے اختلاف صحابہ کرام میں بھی پائے جاتے تھے‘‘

اللہ اللہ! یہ خدائی رحمت اور اسلامی رواداری کی کتنی شاندار مثال ہے جو احمدیت نے پیش کی ہے کہ حدیث نبوی اِخْتَلَافُ اُمَّتِی رَحْمَۃٌ کا ایک بہت دلکش منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ بےشک جماعت احمدیہ نے بھی دوسرے مسلمانوں سے اختلاف کیا ہے مگر یہ اختلاف اصولی نوعیت کا ہے اور اہم مسائل سے تعلق رکھتا ہے۔ مثلاً جہاں آج کل کے اکثر مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی و الہام کا دروازہ بند قرار دیتے ہیں وہاں احمدیت نہ صرف اس دروازہ کو کھولتی ہے بلکہ اسے اسلام کی زندگی کا بیّن ثبوت مانتی ہے۔

اسی طرح جہاں غیر احمدی مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آج تک آسمان پر زندہ مانتے ہیں وہاں جماعت احمدیہ نہ صرف مسیح ناصریؑ کو فوت شدہ قرار دیتی ہے بلکہ اس عقیدہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نعوذباللہ موجب ہتک سمجھتی ہے کہ امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے حضرت عیسیٰ ؑ کو جو اسرائیلی سلسلہ کے نبی تھے آسمان سے نازل کیا جائے۔ حالانکہ سرورِ کائنات (فداہ نفسی) زمین کی گہرائیوں میں مدفون ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا خوب فرماتے ہیں کہ:

مسلمانوں پہ تب ادبار آیا
کہ جب تعلیمِ قرآں کو بھلایا
رسولِ حق کو مٹی میں سلایا
مسیحا کو فلک پہ ہے بٹھایا
یہ توہیں کر کے پھل ایسا ہی پایا
اہانت نے انہیں کیا کیا دکھایا

اسی طرح جہاں احمدیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے دل اور کامل یقین کے ساتھ خاتم النبیین یقین کرتی ہے وہاں وہ اس بات پر بھی ایمان لاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ظلّی اور تابع اور غیر تشریعی نبوت کا دروازہ کھلا ہے تاکہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کا کمال ثابت ہو اور دوسری طرف اسلام کی خدمت اور اشاعت کے لئے روحانی مصلحوں کی آمد کے سلسلہ میں بھی کوئی روک نہ پیدا ہونے پائے۔ اس کے مقابل پر اس زمانہ کے دوسرے مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت اور رسالت کے سلسلہ کو من کل الوجوہ مسدود قرار دے کر اس عظیم الشان نہر کے آگے بند لگانا چاہتے ہیں جسے خدائے عرش نے الکوثر کے نام سے یاد کیا ہے۔ پس کُجا اس قسم کے اہم اور اصولی اختلافات جن پر اس زمانہ میں گویا اسلام کی زندگی اور موت کا دارومدار ہے اور کجا مسجدوں میں رفع یدین اور آمین بالجہر کے ناگوار جھگڑے !!چہ نسبت خاک را باعالمِ پاک۔

بالآخر میں اپنے عزیز بھائیوں اور دوستوں کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ گزر گیا اور حضور کے صحابہ میں سے بھی اکثر خدا کے حضور پہنچ گئے۔ اب تعداد کے لحاظ سے کثرت اور تربیت کے لحاظ سے من حیث الجماعت کمزوری کا زمانہ آرہا ہے۔ بے شک خدا کے فضل سے احمدیت کے آسمان پر نئے نئے چاند اور نئے نئے ستارے قیامت تک چمکتے رہیں گے اور انفرادی لحاظ سے ان میں سے بعض پہلوؤں سے بھی آگے نکل سکتے ہیں اور ان شاء اللہ نکلیں گے مگر وہ کہکشاں کا سا منظر جب کہ ستاروں کی کثرت سے گویا آسمان ڈھک جاتا ہے۔ اس کی امید اب کسی آئندہ مامور مصلح سے پہلے کم نظر آتی ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔ پس دوست اس نصیحت کو یاد رکھیں اور کبھی نہ بھولیں کہ جماعت کا اتحاد بڑی قدرومنزلت کی چیز ہے۔ اسے چھوٹی چھوٹی سی باتوں میں الجھ کر کبھی ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ کئی باتیں تو ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں اسلام از خود لوگوں کے ذاتی حالات اور ذاتی مذاق کا خیال رکھتے ہوئے مختلف اور متغائر طریقے اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ پس ان میں تو اختلاف کا سوال پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ اور کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں جائز اختلاف کی گنجائش تو بے شک ہوتی ہے مگر یہ باتیں ایسی اہم نہیں ہوتیں کہ ان کی وجہ سے جماعت کے اتحاد کو خطرہ میں ڈالا جائے۔ بلکہ ایک کم اہم صداقت کو قربان کر کے بھی اتحاد جیسی اہم ترین چیز کو قائم رکھنا پڑتا ہے۔ یہی ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے اور اسی قربانی کی روح پر صحابہ کرام کا عمل تھا۔

پس اب جبکہ رمضان کے مبارک مہینہ کا آخری حصہ گزر رہا ہے مَیں دوستوں کی خدمت میں بڑی محبت اور بڑے ادب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئندہ کے لئے خدا کے حضور پختہ عہد کریں کہ وہ ہمیشہ جماعت کے اتحاد کو قائم رکھیں گے اور کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں اختلاف نہیں کریں گے۔ اور اگر خدانخواستہ کسی معاملہ میں اختلاف پیدا ہوگا تو اسے فوراً بھائیوں کی طرح آپس میں بیٹھ کر یا اپنے مقامی امیر یا کسی دوسرے غیر جانب دار عقل مند ہمدرد ثالث کے ذریعہ فیصلہ کرا کر یا مرکز کی طرف رجوع کر کے (کیونکہ جماعتی اتحاد کا مرکزی نقطہ جماعت کا صدر مقام اور خلیفہ وقت کا وجود ہی ہیں) اپنے اختلاف کو فوراً دور کرلیں گے اور اسے کسی صورت بڑھنے نہیں دیں گے۔ دیکھو قرآن مجید کس محبت اور کس دردمند رنگ میں فرماتا ہے کہ :

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ص وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْکُنْتُمْ اَعْدَآءًً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖۤ اِخْوَانًا (آل عمران:401)
وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ، وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْھَبَ رِیْحُکُمْ (الانفال:74)

یعنی اے مومنو! خدا کی رسی (یعنی اپنے امام کے دامن اور جماعت کے اتحاد) کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور آپس میں تفرقہ نہ پید اہو نے دو اور خدا کی اس نعمت کو یا د کرو کہ تم کس طرح ایمان لانے سے پہلے آپس میں دشمن تھے مگر خدا نے تمہارے دلوں میں محبت پیدا کر دی اور تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے ۔۔۔۔۔۔ پس اپنے نفس کی خواہشوں کے پیچھے لگنے کی بجائے خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کو اپنا مسلک بناؤ اور ہرگز آپس میں جھگڑا نہ کرو۔ ورنہ یاد رکھو کہ تمہارا قدم پھسل جائے گا اور تمہارے اتحاد کی روح ضائع ہو جائے گی اور تمہارا رعب مٹ جائے گا۔

کیا جماعت کے مخلصین خدا کی اس آواز پر لبیک کہیں گے؟

وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

(محررہ 30مارچ 1959ء)

(روزنامہ الفضل ربوہ 5اپریل 1959ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 نومبر 2020