• 27 فروری, 2021

حضرت مولوی محمد امیر صاحب رضی اللہ عنہ ڈبروگڑھ

تعارف صحابہ ؓ
حضرت مولوی محمد امیر صاحب رضی اللہ عنہ ڈبروگڑھ (آسام۔ انڈیا)

حضرت مولوی محمد امیر خان صاحب رضی اللہ عنہ اصل میں پشاور شہر کے قدیم علاقے تہکال بالا کے رہنے والے اربابوں میں سے تھے لیکن 1870ء کی دہائی میں بسلسلہ روزگار انڈیا کے دور دراز صوبے آسام کے شہر ڈبروگڑھ (Dibrugarh) میں آباد ہوگئے۔ آسام میں ہی حضرت مولوی غلام امام صاحب عزیز الواعظین رضی اللہ عنہ آف شاہجہانپور یکے از تین صد تیرہ (بیعت: 7؍جون 1892ء۔ وفات: 12؍اکتوبر 1931ء) جیسے جلیل القدر اور نیک سیرت بزرگ سے ملاقات ہوئی جن سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے تبلیغی اشتہار جو اردو اور انگریزی میں1887ء میں شائع ہوا تھا، کا علم ہوا۔ (بحوالہ الفضل 20؍اکتوبر 1944ء۔ الفضل 13؍اکتوبر 1950ء) آپؓ نےحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی قبول احمدیت کا شرف پایا اور ایمان و ایقان میں بہت ترقی کی۔ حضرت اقدس علیہ السلام کی ذات بابرکت پر آپ کے یقین اور ایمان کا اندازہ آپ کے درج ذیل خط سے ہوتا ہے، آپ لکھتے ہیں:
’’میرا لڑکا محمد عطاء الرحمٰن آں حضرت اقدسؑ سے کامل محبت اور اخلاص رکھتے ہیں۔ اس دفعہ اُس نے جب کلکتہ میں بی اے کا امتحان دے کر مکان آیا تو بندہ نے مرشدنا و ہادینا جناب امام الزمان کی خدمت اقدس میں ان کے امتحان کی کامیابی کے بارہ میں دعا کے واسطے درخواست کیا تھا۔ اغلب کہ ضرور بالضرور آں حضرت اقدس نے دعا کی ہوگی کیونکہ اسی وقت ان کی کامیابی ایک عجیب و غریب بشارت پر ظہور پذیر ہوئی۔ ہم نے اندازاً دس تاریخ اپریل گذشتہ کو حضرت کی خدمت میں خط روانہ کیا تھا جو غالباً چودہ خواہ پندہ تاریخ کو وہاں پہنچا ہوگا اور ضرور اسی تاریخ کو غالباً دعا ہوئی ہوگی کیونکہ پندرہ کی شب کو میرے لڑکے محمد عطاء الرحمٰن کو خواب میں بشارت دی گئی اور ساتھ ان کو یوم السبت بتلا دیا گیا۔ بعد از بیداری خواب ہمارا لڑکا یوم السبت کا منتظر رہا اور سنیچر کے روز کا تذکرہ کرتا رہا چنانچہ بفضل خداوند پروردگار اور بہ طفیل آں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام دو چار ہی روز کے اندر عین یوم السبت یعنی سنیچر ہی کے روز میرے لڑکے کی کامیابی کے تین عدد ٹیلیگراف میرے لڑکے کے نام سے کلکتہ اور گوہٹی وغیرہ جگہ سے موصول ہوئے۔ واقعی امر یہ ہے کہ مجھ کو اس کے اس امتحان سے اس قدر خوشی حاصل نہیں ہوئی جس قدر خوشی کہ آں حضرت اقدس کی اجابت دعا اور عجیب و غریب بشارت بہ تعین روز سنیچر (یوم السبت) کے ہم لوگوں کو حاصل ہوئی۔

باین مژدہ گر جان فشانم رواست‘‘

(بدر 8؍اگست 1907ء صفحہ 5 کالم 2،3)

آپ قادیان سے نہایت ہی دور دراز علاقے میں رہائش پذیر تھے لیکن قلبی لحاظ سے اپنے آپ کو حضرت اقدس علیہ السلام کے قریب رکھتے اور اس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب و ملفوظات کا مطالعہ اور نظموں کا پڑھنا آپ کا معمول تھا۔ حضور علیہ السلام کی سیرت اور معمولات زندگی کا مطالعہ بشوق کرتے۔ اس کے لیے اخبار الحکم و بدر بہترین ذریعہ تھا۔ 1934ء میں جب اخبار الحکم ایک عرصہ بندش کے بعد دوبارہ شروع ہوا تو آپ بہت خوش ہوئے اور ایڈیٹر اخبار الحکم کو لکھا:
’’برادر معظم و مکرم سلامت ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ
میں نے فوراً آپ کو خط لکھ کر الحکم کو بند نہ کرنے کے واسطے درخواست کی تھی لیکن آپ نے بڑی مہربانی سے الحکم کو بند نہیں کیا بلکہ برابر جاری رکھا۔ آپ کی مہربانیوں کا میں نہایت ہی ممنون و شکر گذار ہوں۔واقعی الحکم ایک کیمیائی اور مقناطیسی اثر رکھتا ہے۔ آپ مہربانی کر کے مسیح موعود علیہ السلام کے تذکروں اور روایات کو برابر جاری رکھیے گا۔ اگر نیا مضمون نہ بھی ملے تب بھی آپ کو تاکیداً عرض کرتا ہوں کہ مسیح موعود علیہ السلام کے تذکرات اور روایات دوبارہ اور سہ بارہ الحکم میں آپ کو دُہرانا چاہیے اس سے ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ الراقم آپ کا خاکسار محمد امیر احمدی آسام‘‘

(الحکم 21؍جنوری 1935ء صفحہ 2)

آپ نے مؤرخہ 3؍ستمبر 1950ء کو 96 سال کی عمر میں وفات پائی۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اےؓ نے اخبار الفضل میں اعلان کراتے ہوئے لکھا:
’’ڈبروگڑھ آسام سے پروفیسر عطاء الرحمٰن صاحب ایم اے ریٹائرڈ اسسٹنٹ ڈائرکٹر محکمہ تعلیم بذریعہ تار اطلاع دیتے ہیں کہ ان کے والد محترم مولوی محمد امیر صاحب وفات پاگئے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مولوی صاحب موصوف پرانے اور مخلص احمدی تھے اور موصی بھی تھے …. مولوی محمد امیر صاحب حقیقۃً ایک بہت نیک اور بااخلاق بزرگ تھے۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے۔‘‘

(الفضل 8؍ستمبر 1950ء صفحہ6)

آپ کے بیٹے محترم پروفیسر عطاء الرحمٰن صاحب نے آپ کے متعلق لکھا:
’’…. بڑے جوشیلے، مخلص اور بہادر احمدی تھے۔ ….. اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میں مدت سے مسیح موعودؑ اور مہدی معہود ؑکی آمد کا منتظر تھا کیونکہ مجھے تفہیم ہوئی تھی کہ یہ زمانہ امام الزمان کے نزول کا مقتضی تھا۔ میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور میری زندگی میں ہوا اور ان کو قبول کرنے کی توفیق ملی۔ الحمد للہ۔

میرے والد بزرگوار کی آواز اس دیار میں احمدیت کی تبلیغ میں سب سے پہلے اٹھی۔ مخالفت کا پیدا ہونا ضروری تھا اور زمانہ دراز تک ان کو دنیوی مشکلات اور صعوبتوں کو برداشت کرنا پڑا مگر وہ ہر ابتلاء پر خواہ کتنا ہی بڑا ہو، ثابت قدم رہے اور ہر فتنہ کے موقعہ پر جو دشمنان احمدیت پیدا کرتے تھے، پہاڑ کی طرح مضبوط رہے۔ ان کے وعظ و تبلیغ کے نتیجہ میں قریباً دو سو اشخاص نے احمدیت کو قبول کیا۔

آپ موصی تھے۔ جائیداد کے 8/1 حصہ کی قیمت اپنی حیات میں ہی ادا کر دی۔ آپ ایک عالم متبحر تھے۔ قرآن کریم سے ان کو عشق تھا اور خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ان کو فہم قرآن کا ایک خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔ مشکل سے مشکل مقامات کو دعاؤں کے ذریعہ حل کر لیتے تھے اور سلسلہ کے بعض بزرگوں کی تفاسیر سے توارد ہو جاتا تھا۔ سلسلہ عالیہ کی کوئی کتاب ایسی نہیں جو انہوں نے مطالعہ نہ کی ہو۔ دو سال سے بینائی بالکل کمزور ہوگئی تھی اور مطالعہ ناممکن ہوگیا تھا پھر بھی اخبارات سلسلہ اور تازہ تالیفات و تصنیفات میری ہمشیرگان حسن افروز بیگم و مہر النساء بیگم (جنہوں نے ان کی خدمت آخری دم تک کی تھی) سے پڑھوا کر سنا کرتے تھے۔ بصارت کی کمزوری کے زمانے میں بھی درثمین میں سے حضور علیہ السلام کے اشعار حفظ کرتے رہے اور جب بہت کمزور ہوگئے پھر بھی تکیہ کےنیچے درثمین رکھ چھوڑتے تھے اور آنکھوں پر زور ڈال کر اشعار یاد کرنا ان کا شغل تھا۔ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میری کمزوری کے لیے درثمین ٹانک ہے۔ میری بیماری کے لیے درثمین دوا اور میری روحانی غذا ہے۔ آخری دنوں میں بار بار وقت پوچھا کرتے تا کوئی نماز فوت نہ ہوجائے یہاں تک کہ آخری رات تہجد اشارے سے پڑھی ….. ‘‘

(الفضل 13؍اکتوبر 1950ء صفحہ4)

آپ کی اہلیہ محترمہ اشرف النساء بیگم صاحبہ نے 1937ء میں وفات پائی۔ آپ نے اعلان وفات دیتے ہوئے لکھا:
’’میری اہلیہ مسماۃ اشرف النساء 24؍اپریل کو بعمر 65 برس فوت ہوگئی۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مرحومہ نہایت مخلصہ تھیں۔ احباب دعائے مغفرت کریں۔ خاکسار محمد امیر ڈبرو گڑھ آسام‘‘

(الفضل 2؍مئی 1937ء صفحہ2 کالم 2)

اولاد میں دو بیٹیوں مکرمہ حسن افروز بیگم صاحبہ اور مکرمہ مہر النساء بیگم صاحبہ اور ایک بیٹے محترم عطاء الرحمٰن صاحب کا علم ہوتا ہے۔ آپ کی ایک بیٹی محترمہ مہر النساء بیگم صاحبہ آسام کی شہر تنسوکیہ (Tinsukia) میں رہائش پذیر تھیں۔ (الفضل 7؍اکتوبر 1967ء صفحہ 4) بیٹے محترم عطاء الرحمٰن صاحب نہایت لائق اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت تھے۔ دنیاوی عزت و وجاہت کے ساتھ دینی لحاظ سے بھی نہایت مخلص اور فدائی وجود تھے۔ تقریر و تحریر دونوں میں ملکہ حاصل تھا۔ اخبار بدر 12؍دسمبر 1912ء صفحہ4 اور 5 پر میرزاپور سٹریٹ کلکتہ میں واقع محمد لائق جوبلی انسٹی ٹیوشن میں آپ کے کامیاب لیکچر بعنوان ’’سچی کامیابی‘‘ درج ہے۔ ایک احمدی دوست محمد زمان ہزاروی صاحب اپنے قیام شیلانگ صوبہ آسام (اب یہ شہر صوبہ میگھالیہ میں ہے) کے مشاہدہ میں لکھتے ہیں:
’’خان بہادر مولوی عطاء الرحمٰن خان صاحب ایم اے کا وجود احمدیت کے لیے آسام میں نہایت ہی مبارک ہے۔میں نے دو سال کے قیام کے دوران میں ان کو احمدیت کے رنگ میں رنگین پاکر بےحد خوشی اور مسرت محسوس کی۔ نماز عید الفطر ہم نے ان کے بنگلہ واقعہ محلہ لبان شیلانگ میں پڑھی۔ آپ کو خدا تعالیٰ کے فضل سے جس قدر دنیاوی رتبہ حاصل ہے اُسی قدر آپ خدمت اسلام اور تبلیغ احمدیت میں پیش پیش ہیں۔ آپ کا زیادہ تر وقت ترجمہ قرآن کریم میں صرف ہو رہا ہے اور احباب کو یہ سن کر خوشی ہوگی کہ آپ آسامی زبان میں ترجمہ قرآن کریم کر رہے ہیں …. آپ نے اپنی تبلیغی لائبریری جو مجھے دکھائی وہ بذات خود سلسلہ کی نایاب اور قیمتی کتب کا ایک اچھا خاصہ مجموعہ ہے …. آپ نہ صرف انگریزی کے ہی ماہر ہیں بلکہ اردو، فارسی، بنگالی، آسامی اور عربی میں بھی آپ کو پوری پوری مہارت حاصل ہے اور زبان پشتو جو آپ کو آبائی ورثہ میں ملی اس میں بھی آپ بخوبی گفتگو کر سکتے ہیں۔ آپ آسام جیسے دور افتادہ ملک میں احمدیت کو ترقی دینے کے نہایت خواہشمند ہیں …. اس وقت آپ ڈائرکٹر آف محکمہ تعلیم آسام کے ممتاز رتبہ سے ریٹائر ہوکر آسام گورنمنٹ کے پرائیویٹ سیکرٹری ہیں۔‘‘

(الفضل 20؍اکتوبر 1944ء صفحہ4)

آپ نے 27؍اگست 1967ء کو آسام میں ہی وفات پائی۔ محترم ملک صلاح الدین صاحب ایم اے نے ذکر خیر کرتے ہوئے لکھا:
’’مرحوم حضرت مولوی محمد امیر صاحبؓ مرحوم کے فرزند ارجمند تھے اور آپ نے گوناگوں خدمات سلسلہ کا موقعہ پایا تھا …. آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیوی لحاظ سے عروج پر پہنچے اور صوبائی وزیر داخلہ کے ممتاز عہدہ پر بھی فائز رہے ہیں۔ ریویو آف ریلیجنز (انگریزی) میں آپ کے مطبوعہ رشحاتِ قلم سے آپ کے اعلیٰ علمی معیار کا علم ہوتا ہے۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ 1936ء کے جلسہ سالانہ پر مسجد اقصیٰ میں ایک تقریر کا آپ کی صدارت میں انتظام ہوا تھا اور آپ کے تعارف کے طور پر جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ نے یہ بیان کیا تھا کہ جن ایام میں مَیں ابھی نوجوان ہی تھا اور گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا تھا تو پروفیسر صاحب محترم کے علم و فضل کی شہرت اس وقت بھی موجود تھی …. آپ نے اپنے اہل وطن کی خدمت و ہدایت کے لیے بغیر کسی خارجی تحریک کے از خود آسامی زبان میں قرآن مجید مع تفسیری حواشی تیار کیا جو بائیسویں پارہ تک مطبوعہ صورت میں مرکز میں موصول ہوچکا ہےاور ان کی ہمشیرہ محترمہ مہر النساء صاحبہ نے جو ایک مخلص خاتون ہیں ، تحریر کیا ہے کہ یہ ترجمہ مع حواشی ستائیس پاروں تک حضرت مرحوم نے مکمل کر لیا تھا اور اٹھائیس سے تیس پارے تک انہوں نے ترجمہ کر لیا تھا صرف تفسیر اور پروف اس حصہ کے باقی ہیں …. اپنے ابنائے وطن کو اسلام کے منور اورتابندہ ودرخشندہ چہرہ سے روشناس کرانے کے لیے احیائے دین و اعلائے کلمۃاللہ کا یہ خصوصی شاہکار مکمل کرنے کا شدید جذبہ آپ کے قلب صافی میں موجزن ہونا اور انما الاعتبارُ بالخواتیم کے مطابق زندگی کا اختتام ایسی نیک خدمت میں ہونا آپ کے قابل صد رشک حسن خاتمہ پر دال ہے ….‘‘

(الفضل 7؍اکتوبر 1967ء صفحہ4)

(از غلام مصباح بلوچ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 فروری 2021