• 8 جولائی, 2020

رمضان کا اصل مقصد تقویٰ ہے

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتےہیں۔
’’روزہ کیا ہے؟ یہ ایک مہینہ خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے آپ کو ان جائز باتوں سے بھی روکنا ہے جن کی عام حالات میں اجازت ہے۔ پس جب اس مہینہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جائز باتوں سے رُکنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک انسان ناجائز باتوں اور برائیوں کو کرے۔ اگر کوئی اس روح کو سامنے رکھتے ہوئے روزے نہیں رکھتا کہ میں نے یہ دن اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوئے گزارنے ہیں اور ہر اس بات سے بچنا ہے جس سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ہر اس بات کو کرنا ہے جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اگر یہ روح مدنظر نہیں، ہر وقت ہمارے سامنے نہیں اور اس کے مطابق عمل کی کوشش نہیں تو یہ روزے بے فائدہ ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کو تمہیں صرف بھوکا رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

(بخاری کتاب الصوم باب من لم یدع قول الزور … الخ حدیث 1903)

روزے کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ تم تقویٰ میں ترقی کرو۔ ایک مہینہ تربیت کا مہیا کیا گیا ہے، اس میں اپنے تقویٰ کے معیار بڑھاؤ۔ یہ تقویٰ تمہارے نیکیوں کے معیار بھی بلند کرے گا۔ یہ تمہیں مستقل نیکیوں پر قائم بھی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا قرب بھی دلائے گا اور اسی طرح گزشتہ گناہ بھی معاف ہوں گے۔‘‘

(خطبہ جمعہ مؤرخہ 10جون 2016ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ 04 ۔مئی2020 ء