• 6 مئی, 2021

رمضان کی برکات

تبرکات حضرت مرزا بشیراحمد صاحب ایم ۔اے رضی اللہ عنہ

گزشتہ پچیس تیس سالوں میں یہ عاجز قریباً ہر سال رمضان کے مہینہ میں دوستوں کی یاددہانی کے لئے عموماً اور اپنی بیداری کےلئے خصوصاً بعض نصائح لکھتا رہا ہے۔ مگر اس سال جلسہ سالانہ کے بعد سے طبیعت کچھ ایسی خراب چلی آرہی ہے کہ کسی لمبے مضمون کو لکھنے کی ہمت نہیں پیدا ہوتی۔ اس لئے محض ثواب کی نیت سے ذیل کے چند کلمات لکھ رہا ہوں۔ امید ہے جو دوست ان کلمات کو غور سے پڑھیں گے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے وہ انشاء اللہ رمضان کی برکات سے محروم نہیں رہیں گے۔

(1) یاد رکھنا چاہئے کہ رمضان ایک بڑاہی مبارک مہینہ ہے جو انسان کے دل میں ایک طرف محبتِ الہٰی کی تپش اور دوسری طرف مخلوقِ خدا کی ہمدردی اور شفقت پیدا کرنے کی خاص الخاص صلاحیت رکھتا ہے۔

(2) اس مبارک مہینہ میں تمام وہ صفات اور تاثیرات بصورتِ اتم ہیں جو ہمارے دین اور مذہب میں عبادت کی جان ہیں۔ یعنی نماز اور روزہ اور دعا اور ذکرِ الہٰی اور تلاوتِ کلامِ پاک او رصدقہ وخیرات۔ اور اس مہینہ کے آخر میں ایک مخصوص عشرہ اِنْقِطَاعٌ مِنَ الدُّنْیَا اور اِنْقِطَاعٌ اِلَی اللّٰہِ کا مقرر کر کے اور پھر اس عشرہ میں ایک مخصوص رات کو دعاؤں اور ذکرِالہٰی کے لئے کلیتہً وقف کر کے رمضان کی عبادتوں میں گویا ایک گونہ معراج کی سی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔

(3) پس دوستوں کو چاہئے کہ رمضان کی ان ساری برکات سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں اور حتی الوسع شرعی عذر (یعنی بیماری اور سفر) کے بغیر روزہ ہرگز ترک نہ کریں۔ اور شرعی عذر کی صورت میں اپنی حیثیت کے مطابق مسنون طریق پر فدیہ دیں۔

(4) اس مہینہ میں مقررہ پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ نمازِ تہجد کا بھی خاص التزام کیا جائے اور جن دوستوں کو توفیق ملے وہ نمازِ ضحی بھی پڑھنے کی کوشش کریں۔ جو دن کے لمبے ناغہ میں ذکرِ الٰہی کا موقع پانے اورخوابیدہ روح کو بیدار کرنے کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ اور جس کاوقت نو ساڑھے نو بجے صبح کے قریب سمجھنا چاہئے۔ تراویح کی نماز جو عشاء کے بعد پڑھی جاتی ہے وہ تہجد کی نماز کا ہی ایک ادنیٰ قسم کا بدل ہے مگر کمزور اور بیمار لوگوں کے لئے بھی غنیمت ہے۔ اور جن دوستوں کو دونوں کی توفیق مل سکے وہ دونوں سے فائدہ اٹھائیں۔

(5) اس مہینہ میں قرآن مجید کی تلاوت کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔ اور بہتر یہ ہے کہ قرآن مجید کے دو دور مکمل کئے جائیں ورنہ کم از کم ایک تو ضرور ہواور ہر رحمت کی آیت پر خدائی رحمت طلب کی جائے اور ہر عذاب کی آیت پراستغفار کیا جائے۔

(6) اس مہینہ میں دعاؤں اور ذکرِالہٰی پر بھی بہت زور ہونا چاہئے۔ اور دعا کے وقت دل میں یہ کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے کہ ہم گویا خدا کے سامنے بیٹھے ہیں۔ یعنی خدا ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہم خدا کو دیکھ رہے ہیں۔ دعاؤں میں اسلام اور احمدیت کی ترقی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت اور درازی عمر اور سلسلہ کے مبلّغوں اور کارکنوں اور قادیان کے درویشوں اور ان کے مقاصد کی کامیابی کو مقدم کیا جائے۔ عمومی دعاؤں میں رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرہ:202) بڑی عجیب وغریب دعا ہے اور نفس کی تطہیر کے لئے لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (الانبیاء:88) غیر معمولی تاثیررکھتی ہے۔ اور استعانت باللہ کے لئے یَاحَییُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ (صحیح ترمذی کتاب الدعوات عن رسول اللّٰہ) کامیاب ترین دعاؤں میں سے ہے اور سورۃ فاتحہ تو دعاؤں کی سرتاج ہے۔

(7) برکات کے حصول کیلئے کثرت کے ساتھ درود پڑھنا اول درجہ کی تاثیر رکھتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں کہ ایک رات میں نے اس کثرت سے درود پڑھا کہ میرا دل وسینہ معطر ہو گیا۔ اس رات میں نے خواب میں دیکھا کہ فرشتے نور کی مشکیں بھر بھر کر میرے مکان کے اندر لئے آرہے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ نور اس درود کا ثمرہ ہے جو تو نے محمدﷺ پربھیجا ہے۔

(8) روزہ کے دوران میں خصوصیت سے ہر قسم کی لغوحرکت اور بے ہودہ کلام اور جھوٹ اور دھوکا اور بددیانتی اور ظلم وستم اور ایذا رسانی اور استہزاء اور گالی گلوچ سے اس طرح اجتناب کیا جائے کہ گویا انسان ان باتوں کو جانتا ہی نہیں۔ تاکہ رمضان کا یہ روحانی سبق دوسرے ایام کے لئے بھی ایک شمع ہدایت بن جائے۔

(9) رمضان کی ایک خاص عبادت جو حقوق العباد سے تعلق رکھتی ہے صدقہ و خیرات ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ رمضان میں اس طرح صدقہ و خیرات کرتے تھے گویا کہ آپ کا ہاتھ ایک تیز آندھی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔ اور رمضان کے آخر میں صدقتہ الفطر تو بہرحال ہر غریب و امیر خوردوکلاں اور مردوزن پر فرض ہے۔

(10) رمضان کا آخری عشرہ اپنی برکات اور قبولیت دعا کے لئے خصوصی تاثیر رکھتا ہے۔ اس لئے اس عشرہ میں نوافل اور ذکرِ الٰہی اور دعا اور تلاوتِ قرآن مجید اور درود پر بہت زور دینا چاہئے۔ اور جن دوستوں کو توفیق ملے اور ان کے ضروری فرائض منصبی میں حرج نہ لازم آتا ہو وہ آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھ کر بھی اس کی مخصوص روحانی برکات سے فائدہ اٹھائیں۔ ورنہ کم از کم اس عشرہ کی راتوں اور خصوصاً طاق راتوں میں خصوصیت کے ساتھ نوافل اور ذکرِ الہٰی اور دعاؤں پر زور دیں تاکہ اگر خدا چاہے تووہ مبارک رات میسر آجائے جو عمر بھر کی راتوں سے زیادہ بابرکت شمار کی گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس رمضان کی برکات سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی توفیق دے تاکہ جب رمضان گزر جائے تو خدا کے فرشتے ہمیں ایک بدلی ہوئی مخلوق پائیں اور ہمارے لئے دین و دنیا میں غیرمعمولی ترقی کے رستے کھل جائیں۔ آمِیْنَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ

(محررہ 5مارچ 1960ء)

(روزنامہ الفضل ربوہ 9 مارچ 1960ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 مئی 2021