• 21 مئی, 2022

صبح مسرّت

حضرت مصلح موعودؓ کے سفر یورپ سے واپسی کے موقع پر

آج ہر ذرہ سرِ طُور نظر آتا ہے
جس طرف دیکھو وہی نور نظر آتا ہے

ہم نے ہر فضل کے پردے میں اسی کو پایا
وہی جلوہ ہمیں مستور نظر آتا ہے

کس کے محبوب کی آمد ہے کہ ہر خورد و کلاں
نشہء عشق میں مخمور نظر آتا ہے

شکر کرنے کی بھی طاقت نہیں پاتا جس دم
کیا ہی نادم دلِ مجبور نظر آتا ہے

للہ الحمد شنیدیم کہ آں می آید
سوئے گلشن چہ عجب سرو رواں می آید

آج ہر ایک ہے مشتاق لقائے شہ دیں
گھر میں بیٹھا کوئی رہ جائے یہ ممکن ہی نہیں

ایک پر ایک گرا پڑتا ہے اللہ رے شوق
خوف ہے اوروں سے پیچھے نہ میں رہ جاؤں کہیں

سر اٹھانے کی نہ بستر سے جو ہمت پائے
کیا کرے آہ! وہ مجبور وہ زار و غمگیں٭

رکھ تسلی دلِ بیمار! ابھی آتے ہیں
دردِ مزمن کی دوا باعث راح و تسکیں

مرہمِ زخمِ دل مادرِ مہجور و حزیں
زینتِ پہلوئے ما جانِ جہاں می آید

گلشنِ حضرت احمد میں چلی باد بہار
ابر رحمت سے برسنے لگے پیہم انوار

بچے ہنستے ہیں خوشی سے تو بڑے ہیں دلشاد
جذبۂ شوق کے ظاہر ہیں جبیں پر آثار

تازگی آ گئی چہروں پہ کھلے جاتے ہیں
دل کی حالت کا زباں کر نہیں سکتی اظہار

مژدۂ وصل لئے صبحِ مسرت آئی
فضلِ مولا سے ہوئی دور اداسی یک بار

نور می بارد و شاداں در و سقف و دیوار
اے خوشا وقت! مکیں سوئے مکاں می آید

٭ مراد امۃ الحی بیگم مرحومہ جو علیل تھیں۔ ’’مبارکہ‘‘

(الفضل25؍ نومبر 1924ء)

پچھلا پڑھیں

عید مبارک

اگلا پڑھیں

بیکار اور نکمی چیزوں کا خرچ