• 21 مئی, 2022

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط 43)

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں
قسط 43

انڈیا پوسٹ نے اپنی اشاعت21 مئی 2010ء صفحہ 22 پر ہماری مذکورہ بالا خبر کو تفصیل کے ساتھ شائع کیا ہے جس میں ریڈیو پروگرام کے بارے میں ہے۔

دی پریس انٹرپرائز نے اپنی اشاعت 22 مئی 2010ء صفحہ E5 پر ایک بڑی تصویر کے ساتھ ہماری یہ خبر شائع کی ہے کہ ’’انٹرفیتھ گروپ چینو کی مسجد کا وزٹ کرتا ہے‘‘۔ انٹرفیتھ گروپ کے وزٹ کی اس خبر کی تفصیل پہلے آچکی ہے۔ تصویر میں مکرم جلال الدین احمد صاحب صدر جماعت لاس اینجلس ویسٹ اور خاکسار ہیڈ ٹیبل پر بیٹھے ہیں۔ تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ امام شمشاد اسلام و احمدیت کے بارے میں مہمان خواتین گروپ کو بتا رہے ہیں اور ان کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔

الاخبار نے اپنی اشاعت 22 مئی 2010ء صفحہ 9 پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کے ساتھ اس عنوان سے لکھا ہے:

’’الامام مرزا غلام احمد کی قرآن مجید سے محبت‘‘

اس مضمون میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مختلف کتب سے عربی میں آپ کی قرآن کریم کی محبت، قرآن کریم کی عظمت، فصاحت و بلاغت کے بارے 4 اقتباسات درج کئے گئے ہیں۔ نیز ایک عربی نظم کے چند اشعار بھی درج ہیں جن میں قرآن کریم کی عظمت کا بیان ہے۔

ویسٹ سائڈ سٹوری نیوز پیپر نے اپنی اشاعت 27 مئی 2010ء صفحہ 2 پر ہماری ¼ صفحہ کا اشتہار شائع کیا ہے۔ اس اشتہار میں درج ذیل باتیں لکھی گئی تھیں۔

اسلام کے بنیادی عقائد کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔

کلمہ توحید کا ترجمہ۔ خدا ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔

خدا کے تمام نبیوں اور کتابوں کا احترام کریں۔

انسان فطرتی طور پر نیک پیدا ہوا ہے

مسلمان صرف خدا کے آگے جھکتے اور سجدہ کرتے ہیں۔

اسلام میں رنگ نسل کا کوئی امتیاز نہیں ہے

محبت سب کے لئے اور نفرت کسی سے نہیں۔

اور اشتہار کے نیچے مسجد بیت الحمید کی تصویر، ایڈریس فون نمبرزدرج ہیں۔

نیویارک عوام نے اپنی اشاعت 21 تا 27 مئی 2010ء پر خاکسار کا مضمون بعنوان ’’صیام رمضان۔ اسلام کا ایک اہم رکن‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں خاکسار نے تفصیل کے ساتھ روزوں کے بارے میں، روزوں کی فلاسفی، غرض و غایت، روزہ اور تقویٰ کے بارے میں، احادیث میں روزہ کی فضیلت، نیز سحری کھانے کا طریق و آداب بیان کئے گئے ہیں۔

ویسٹ سائڈ سٹوری نیوز پیپر نے اپنی اشاعت 27مئی 2010ء صفحہ4 پر ایک رنگین تصویر کے ساتھ یہ خبر شائع کی ہے کہ ’’ساؤتھ کیلی فورنیا کی انٹرفیتھ گروپ کمیٹی نے مسجد بیت الحمید کا وزٹ کیا‘‘۔ تصویر میں مہمان خواتین مسجد بیت الحمید میں تقریب کے بعد کھانا لے رہی ہیں۔ خبر میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے ایڈریس اور ویب سائٹ بھی لکھی ہوئی ہے۔

انڈیا ویسٹ نے اپنی اشاعت 28مئی 2010ء میں ایک تصویر کے ساتھ ہماری خبر شائع کی ہے۔ یہ خبر سٹاف رائٹر کے حوالہ سے ہے کہ ’’چینو کی مسجد میں انٹرفیتھ میٹنگ‘‘ اس خبر کی تفصیل پہلے دیگر اخبارات کے حوالہ سے آچکی ہے۔ تصویر میں مہمان خواتین دکھائی گئی ہیں اور خاکسار تقریر کر رہا ہے۔ بعض مہمان خواتین تصویر میں کرسیوں کی بجائے مسجد کے کارپٹ پر بیٹھی ہیں۔

انڈیا پوسٹ نے اپنی اشاعت 28 مئی 2010ء صفحہ 44 پر بڑی تفصیل کے ساتھ دو تصاویر کے ساتھ ہماری مندرجہ بالا خبر شائع کی ہے جو مسجد بیت الحمید میں 130 مہمان خواتین کے وزٹ کی ہے۔ ایک تصویر میں مہمان خواتین کرسیوں پر بیٹھی ہیں دوسری میں خاکسار تقریر کر رہا ہے۔

نوٹ: سال 2010ء میں ایک نہایت تکلیف دہ سانحہ جماعت احمدیہ کے خلاف ہوا اور وہ یہ کہ لاہور کی 2 احمدی مساجد پر حملے ہوئے جس کے نتیجہ میں 90 سے زائد احمدی شہید ہوئے اور سوا سو سے زائد زخمی ہوئے یہ بڑا ہی دلخراش سانحہ تھا۔ یہاں امریکہ کے متعدد اخبارات نے اس کی کوّرِج کی اور ہمارے انٹرویوز شائع ہوئے۔ اب ان اخبارات سے ان خبروں کا خلاصہ لکھتا ہوں جو امریکہ میں شائع ہوئے ہیں۔

ڈیلی بلٹن نے اپنی اشاعت 29 مئی 2010ء کو ورلڈ نیوز صفحہ پر یہ خبر دی

About 80 Killed in Mosque’s Attack

مسجد پر حملہ۔ قریباً 80 لوگ مارے گئے۔

لاہور پاکستان۔ واقعہ پر موجود عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسلامی دہشت گردوں نے پاکستان کی اقلیتی فرقہ کی دو مساجد پر بم کے ساتھ حملہ کیا جس میں 80 لوگ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ یہ جماعت احمدیہ کے خلاف ہونے والے حملوں میں بدترین حملہ تھا۔ حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ 3 دہشت گردوں نے خود کش بموں سے حملہ کیا تھا۔ دو حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب احمدی اپنی مساجد میں جمعہ کی نماز کے لئے اکٹھے تھے۔

بی بی سی اردو کی خبر وقت اشاعت 29 مئی 2010 شہ سرخی یہ ہے:

لاہور حملے۔ اقوام متحدہ کی شدید مذمت

جمعہ کو لاہور میں احمدیوں کی عبادت گاہوں پر دہشت گردانہ حملوں کے خلاف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون سمیت انسانی حقوق کے ماہرین نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ان حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے عزیز و اقارب کی ایک بڑی تعداد امریکہ میں بستی ہے اور ان میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

نیویارک سے ہمارے نامہ نگار حسن مجتبیٰ کا کہنا ہے کہ جمعہ کی دوپہر نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر سے سیکرٹری جنرل بانکی مون کے حوالہ سے جاری ہونے والے بیان میں لاہور میں احمدی اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے…… انہوں نے لاہور واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت اور زخمی ہونے والوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے ماہرین کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کافی عرصے سے پاکستان میں مذہبی اقلیت احمدی فرقے کے لوگ تشدد، امتیازی سلوک اور خطرات سے دو چار رہتے آئے ہیں۔ ……… انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا کہ پاکستان کی حکومت بار بار خدشات کے باوجود مذہبی اقلیت کے احمدی فرقے کے لوگوں اور عبادت گاہوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے مزید واقعات ہونے کے اس وقت تک امکانات موجود رہیں گے جب تک کہ عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک، تشدد کے لئے اشتعال دلائے جانے کے لئے مذہبی منافرت کے پرچار کے مسائل سے نمٹا نہیں جاتا……

ادھر جماعت احمدیہ کے امریکہ، کیلی فورنیا میں اہم ذمہ دار امام شمشاد ناصر نے احمدیہ جماعت کے موجودہ روحانی پیشوا یا خلیفہ مرزا مسرور احمد کے حوالہ سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں اگر ریاستی منظوری سے شروع ہونے والی انتہا پسندی کو شروع ہی میں روکا جاتا تو احمدی جماعت پر ایسے دہشت گردانہ حملے نہ ہوتے۔

کیلی فورنیا میں احمدی جماعت کے امریکہ میں علاقائی مشنری امام شمشاداے ناصر کی طرف سے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ لاہور میں 2 مقامات پر احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی اصل اور قطعی تفصیلات آنا باقی ہیں لیکن یہ حملے برسوں سے پاکستان میں احمدیوں پر اور ان کی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں کا تسلسل ہیں اگرچہ یہ حملے زیادہ ظالمانہ اور وحشیانہ ہیں……

امام شمشاد ناصر کے مطابق احمدی دنیا کے 195 ممالک میں بسنے والے امن پسند لوگ ہیں اور پھر بھی پاکستان جیسے ملک میں مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں زبردست بہیمانہ تشدد کا مسلسل شکار ہیں۔

امام شمشاد ناصر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ احمدی کمیونٹی سے تعلق رکنے والے چودہ سے پندرہ ہزار افراد صرف امریکہ میں آباد ہیں۔ جمعہ کی دوپہر نیوجرسی سے نصر احمد نے بتایا کہ امریکہ میں رہنے والے احمدی کمیونٹی کے کئی افراد کے عزیز و اقارب لاہور حملوں کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ لاہور حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی غائبانہ آخری رسومات میں شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ خود ان کے خاندان کا تعلق بھی گڑھی شاہو کی عبادت گاہ سے رہا تھا اور ان کا نکاح بھی وہیں ہوا تھا۔

لاہور کے دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لئے نیویارک، نیوجرسی، اور کیلی فورنیا میں آخری رسومات کے غائبانہ اجتماعات منعقد ہوئے جن میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے علاوہ احمدیہ جماعت و دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد امریکی اور پاکستانی تارکین وطن ایک خاصی تعداد میں شریک ہوئے۔

بی بی سی اردو نے اپنی اس اشاعت میں ایک تصویر بھی دی ہے جس میں ایک نوجوان ایک بوڑھے شخص کی مدد کر رہا ہے اور ان کے پیچھے پولیس بھی دکھائی دے رہی ہے۔

لاس اینجلس ٹائمز نے اپنی اشاعت 29 مئی 2010ء صفحہ A-3 پر قریباً پورے صفحہ پر 2 بڑی تصاویر کے ساتھ لاہور میں احمدیہ مساجد پر دہشت گردی کے حملے کی خبر دی ہے۔

ایک تصویر میں چند سپاہی، ایک احمدی عبادت گزار جو اس حملہ میں زخمی ہوا ہے کو اس کی مختلف جہت سے پکڑے ہوئے لئے جارہے ہیں۔ اخبار نے اس کے نیچے لکھا کہ گڑھی شاہو کی مسجد احمدیہ حملہ کے موقع پر جہاں 3 گھنٹہ تک دہشت گردوں نے اودھم مچائے رکھا اور تباہی مچائی۔ دوسری تصویر پاکستانی کمانڈوز کی دکھائی ہے کہ وہ ایک دوسری احمدیہ مسجد پر پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں۔

خبر کی تفصیل میں یہ لکھا ہے کہ اقلیتی گروہ احمدیہ فرقہ کی لاہور میں مساجد پر حملہ، دہشت گردوں نے بموں اور گرنیڈز سے اس وقت حملہ کیا جب مسجد عبادت گزاروں سے بھری ہوئی تھیں اس وقت کی اطلاعات کے مطابق 76 آدمی موقع پر ہلاک ہو گئے۔ احمدیہ گروپ کو اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے۔

ان کی تعداد قریباً ملک میں 4 ملین ہے۔ لیکن یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ کہتے ہیں انیسویں صدی میں مرزا غلام احمد نے اس فرقہ کی بنیاد رکھی جو کہ نبی تھے جبکہ دوسرے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ نبی محمد (ﷺ) آخری نبی ہیں۔

احمدی امتیازی سلوک کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور قانونی طور پر وہ اپنے اپ کو مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ ان کی احمدی مساجد کو پہلے ہی سے دھمکیاں مل رہی تھیں جس کا حکومت اور پولیس کو اطلاع دی گئی تھی لیکن پولیس اور حکومت نے اس سلسلہ میں کچھ کام نہیں کیا۔

پاکستان کے جیو ٹی وی نے بتایا ہے کہ پاکستانی طالبان نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس کے بعد اخبار نے سپاہ صحابہ اور طالبان کے بارے میں تفصیل لکھی ہے۔ عاصمہ جہانگیر جو ہیومین رائٹس کی سرکردہ ہیں نے کہا کہ مذہبی منافرت کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے اور یہ مذہبی منافرت پاکستان کی سالمیت کے لئے بھی خطرہ ہے۔

چینو چیمپئن نے اپنی اشاعت 29 مئی تا4 جون 2010 ء صفحہ B-5 پر ہماری ایک مختصر سی خبر شائع کی ہے۔ جس کی شہ سرخی یہ ہے: ’’آدمیوں کا کیمپ مسجد احمدیہ میں ہو رہا ہے‘‘

اس سے مراد خدام الاحمدیہ کا 3 روزہ اجتماع ہے جو مسجد بیت الحمید میں ہونے والا تھا۔

اس کیمپ میں شرکت کرنےو الے نوجوان (15سے 40 سال کی عمر تک) علمی و ورزشی مقابلہ جات میں بھی حصہ لیں گے۔ ایک سیشن سوال و جواب کا بھی ہو گا جو امام شمشاد ناصر کریں گے۔ اس کے علاوہ تقاریر بھی ہوں گی۔ مہمانوں کو بھی خوش آمدید کہا جائے گا۔

لاس اینجلس ٹائمز اپنی اشاعت 30 مئی 2010ء صفحہ A-14 پر ایک رنگین تصویر کے ساتھ ہماری خبر شائع کرنا ہے۔ جو لاہور میں احمدیہ مساجد پر حملے کے تسلسل میں ہے۔

تصویر میں بچے دکھائی دے رہے ہیں جن میں امان خان سات سال عمر اور دیگر بچے صدر اوباما امریکہ کو لاہور حملے کے بارے میں خطوط لکھ رہے ہیں۔

اخبار نے خبر دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے احمدیہ فرقہ کی مساجد پر جو بہیمانہ حملہ کیا اس کے نتیجے میں 93 لوگ ہلاک ہوئے جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی۔ اخبار نے لکھا کہ پاکستانی ٹی وی چینلز بھی یہ بتا رہے ہیں کہ اس حملے کا تعلق طالبان کے ساتھ ہے۔

ایک 17 سالہ دہشت گرد جسے اس حملہ میں گرفتار کیا ہے نے پولیس کو بتایا کہ اس کا تعلق پاکستانی طالبان سے ہے۔ باقی خبریں اور سیاسی تفصیلات ہیں کہ وزیرستان میں کہاں اور کس جگہ ان کی ٹریننگ ہوتی ہے۔ اور پاکستان کا کیا موقف ہے اور امریکہ کا کیا موقف ہے وغیرہ۔

خبر کے آخر میں لکھا ہے کہ احمدی لیڈروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی حفاظت کا بہتر بندوبست اور انتظام کیا جائے۔ وسیم سید نے جو کہ امریکن ہیں اور جماعت کے ترجمان ہیں نے کہا ہے کہ جماعت احمدیہ کی 121 سال کی تاریخ میں یہ اس پر نہایت سفاکانہ اور بہیمانہ حملہ ہوا ہے۔

دی سن نے اپنی اشاعت 29 مئی 2010ء صفحہ اول پر ایک رنگین تصویر کے ساتھ ہماری خبر شائع کی ہے اور اس خبر کا کچھ حصہ ایک اور تصویر کے ساتھ صفحہ 7 پر دیا ہے۔ پہلی تصویر میں خاکسار ریڈیو سٹیشن پر اسلام کے بارے میں پروگرام کر رہا ہے۔ دوسری تصویر میں خاکسار پروگرام کر رہا ہے اور ہوسٹ سوالات پوچھ رہا ہے۔

خبر کا عنوان ہے:

Preaching Peace

’’امن کی تعلیم کی تشہیر‘‘

اخبار لکھتا ہے کہ ’’عالم‘‘ ہفتہ وار ریڈیو پروگرام کرتا ہے۔ یہ خبر Josh Dulaney سٹاف رائٹر نے دی ہے۔

اس وقت جبکہ اسلام پر دہشت گردی کا لیبل لگا ہوا ہے۔ تو دوسری طرف امام شمشاد احمد ناصر اپنی انتھک کوششوں سے اس جدوجہد میں مصروف ہے کہ اسلام کو امن اور محبت والا مذہب بتایا جائے۔ جماعت احمدیہ کی مسجد بیت الحمید چینو کے یہ امام ہر منگل کو چینو سے اس شاپنگ سینٹر میں صبح کو آتے ہیں تاکہ بروقت ریڈیو پروگرام کیا جا سکے جس کا عنوان یہ ہوتا ہے:

Understanding Islam with Imam Shamshad

یہ پروگرام ہر منگل کو قریباً نصف گھنٹہ پر ہوتا ہے اور KCAA-AMS 1050 فریکونسی پر سنا جاسکتا ہے۔ ریڈیو سٹیشن یہاں سین برناڈ نیوکونٹی کے مال شاپنگ سنٹر میں واقع ہے۔

امام شمشاد ناصر نے انٹرویو میں بتایا کہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش اور جگہ نہیں ہے اور نہ ہی معصوم لوگوں کے قتل کا کوئی جواز ہے۔ ہم ان چیزوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ جمعہ کے دن یہ آواز سنی جانی چاہئے اس فرقہ کی 2 مساجد پر لاہور میں دہشت گردی کا حملہ ہوا جس میں 70 آدمی مارے گئے اور بہت سارے زخمی ہوئے۔ تحریک طالبان پنجاب گروپ نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ حملہ احمدیہ مساجد پر اس وقت ہوا جب وہ جمعہ کی عبادت کے لئے جمع تھے۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے خودکش بم اور گرنیڈ سے دونوں مساجد پر بیک وقت حملہ کیا۔

امام شمشاد نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کا کام ہے کہ اس حملے کی مذمت کریں اور پبلک کو اسلام کی صحیح تعلیمات سے آگاہ کریں۔

اس حملے میں دہشت گردوں نے بڑوں کو، بوڑھوں کو اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا۔

احمدیہ جماعت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ انیسویں صدی عیسوی میں مرزا غلام احمد نے انڈیا سے اس جماعت کی بنیاد رکھی اور یہ کہ وہ موعود مسیح ہیں۔

شمشاد ناصر نے مزید بتایا کہ ہماری کمیونٹی (جماعت احمدیہ) اس وقت دنیا کے قریباً 200 ممالک میں پائی جاتی ہے اور اسلام کے پیغام کو پھیلانے میں مصروف ہے جبکہ خصوصاً پاکستان میں بنگلہ دیشن، انڈونیشیا اور مصر وغیرہ ممالک میں اس کو زدو کوب کیا جاتا اور اس پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔

شمشاد ناصر جو کہ 60 سالہ ہیں اور پاکستانی نژاد ہیں کہتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے دراصل حکومت پاکستان ہے جو کہ ان دہشت گردوں کو مدد دے رہی ہے کیونکہ اس وجہ سے وہ ملک میں پھیل رہے ہیں۔

حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ امتیازی سلوک کے قوانین کو ختم کرے جس کی وجہ سے ملک میں یہ حالت ہے تاکہ سب لوگ آزادنہ اپنی عبادت کر سکیں۔

مسلمانوں کے لئے بھی اس سے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

شمشاد ناصر نے مزید بتایا کہ امریکن لوگ بھی اسلام کے بارے میں وہی یقین رکھتے ہیں جو انہیں میڈیا بتاتا ہے۔

خاکسار کے تعارف میں اخبار نے لکھا امام شمشاد اس سے قبل ٹیکساس، میری لینڈ، مشی گن، اوہایو میں 1987ء سے خدمات بجا لارہے ہیں۔ امریکہ آنے سے پہلے شمشاد ناصر پاکستان، گھانا اور سیرالیون میں بھی اسلام کی خدمات بجا لائے ہیں۔

شمشاد ناصر نے کہا کہ ہم پبلک کی اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کر رہے ہیں جیسے ’’جہاد‘‘ کے بارے میں غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ جہاد کے یہ معنی بالکل نہیں ہے کہ معصوموں کو قتل کرو۔ جہاد کے معانی ہے اچھے کام کے لئے پوری جدوجہد کرنا اور اچھا کام یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنی اصلاح کرے۔ وہ خود امن پسند شخص بننے کی کوشش کرے پھر یہ امن کے پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جہاد سے مراد اپنی اصلاح اور تربیت ہے۔ اس کا مطلب یہ کبھی نہیں ہوا کہ دوسرے پر بلاوجہ حملہ کیا جائے۔

ریڈیو سٹیشن پر امام شمشاد کے ساتھ پروگرام کرنے والے میزبان Mr. Paul Lane نے بتایا کہ اس پروگرام سے ہمیں ریڈیو سٹیشن پر مختلف قسم کی کالز آتی ہیں، بعض اوقات لوگ غصے بھری کالیں بھی کرتے ہیں۔ بعض دفعہ لوگ ان باتوں سے متفق نہیں ہوتے، لیکن ہمارا ریڈیو سٹیشن ہر ایک کے لئے کھلا ہے وہ آکر اپنی بات بتائیں۔ انہوں نے اس بات کی حوصلہ افزائی کی کہ لوگ پروگرام سن کر امام شمشاد کو کال کریں اور اپنے سوالات کا جواب لیں۔ امام شمشاد کے بارے میں Mr. Paul Lane نے کہا کہ وہ ’’Really down to earth‘‘ بہت عاجز انسان ہے۔

مسجد بیت الحمید احمدیہ والوں نے 200 بسوں پر بھی امن کا پیغام مشتہر کیا ہے۔ امام شمشاد نے مزید کہا کہ ہمارا پیغام تو محبت ہے۔ امن ہے، پیار ہے اور ایک دوسرے کا احترام ہے۔ ہم جو کچھ بھی اس وقت اس علاقہ کے لئے کر سکتے ہیں کر رہے ہیں تاکہ انہیں اس بات کا یقین آجائے کہ اسلام واقعۃً امن اور پیار کا مذہب ہے۔

بسوں پر اپنے امن کے پیغام کی شروعات لندن میں ہوئی تھیں یہاں پر جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا مرزا مسرور احمد نے پیروکاروں کو اسلام کا پیغام پہنچانے اور پھیلانے کی ہدایت دی تھی۔

امام شمشاد نےکہا کہ اگر صرف لوگ امن پھیلا سکتے تو اب تک ایسا ہو چکا ہوتا کیونکہ ہر شخص امن کی بات کر رہا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ امن صرف اور صرف خدا کے فرستادہ پر ایمان لانے سے پھیلایا جائے گا اور اس کمیونٹی میں شامل ہونے سے جو خدائی جماعت ہے، خبر کے آخر میں مسجد بیت الحمید کا ایڈریس اور فون نمبر درج ہے۔

ماہانہ آئینہ جون 2010ء کی اشاعت میں اس میگیزن نےا یک اداریہ ’’پیغام محبت‘‘ پر لکھا۔ اداریہ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ یہ رسالہ میگزین سب کا ہے اور یہ اس کا پہلا پرچہ ہے۔ اس میں سب لوگوں کے لئے ایک ایسا پیغام ہے جو اپنی شناخت اردو زبان اور اردو ادب سے کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ آئینہ کسی فرد واحد کا خواب نہیں یہ پہلا رسالہ ہے جو امریکہ اور کینیڈا کے کونے کونے میں دس ہزار کی تعداد میں پہنچایا گیا ہے۔

اداریہ میں مزید لکھا کہ: ہم برائیاں اور کمزوریاں دکھانے کی بجائے خوبیوں پر نظر رکھتے ہیں اور اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ بات ہمارے لئے ایک بہتر بڑا اعزاز ہو گی۔ بقول شمشاد بھائی یہ توپیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔

الانتشار العربی نے اپنی اشاعت 2 جون 2010ء صفحہ 25 پر حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ کا خلاصہ حضور انور کی تصویر کے ساتھ عربی زبان (سیکشن) میں شائع کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے کہ

’’کس طرح اللہ کا شکر گزار بندہ بنا جائے۔‘‘

اس خطبہ کا خلاصہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔

اردو لنک نے اپنی اشاعت 4 جون 2010ء صفحہ 2 پر ہماری خبر اس طرح دی ہے۔

’’لاہور حملے حکومت پاکستان کی غیرذمہ داری کانتیجہ ہے۔‘‘ امام شمشاد ناصر

ہمیں ہر کسی کے ساتھ ہمدردی ہے۔ یہ واقعات شیعوں، سنیوں، اہل حدیث، عیسائیوں، سکھوں سب کے ساتھ پاکستان میں ہو رہے ہیں۔

چینو۔ (لنک نیوز) مسجد بیت الحمید میں جماعت احمدیہ کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے امام سید شمشاد احمد ناصر نے لاہور میں احمدیہ عبادت گاہوں پر حملہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور میں ان کی دو عبادت گاہوں پر دہشت گردوں نے احمدیت کی مخالفت میں حملہ کیا۔ ایک لمبے عرصے یہ لوگ جماعت کے افراد کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ جس کا حکومت پاکستان اور ذمہ دار افراد کو قبل از نوٹس دیاجاتا رہا۔ لیکن افسوس ہے کہ حکومت نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی بلکہ جائے حادثہ پر پولیس بہت دیر سے پہنچی اور پھر کوئی خاص جرأت کا مظاہرہ بھی نہیں کیا۔

ویسٹ سائڈ سٹوری نیوز پیپر نے اپنی اشاعت 3جون 2010ء صفحہ اول پر خاکسار کی رنگین تصویر کے ساتھ یہ خبر شائع کی کہ

علاقہ کے مسلمان پاکستان میں دہشت گردی کے حملہ کی وجہ سے غمزدہ ہیں

اخبار لکھتا ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ اس علاقہ میں جس کا تعلق بیت الحمید سے ہے پاکستان میں اپنی دو مساجد پر دہشت گردی کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی وجہ سے افسردہ اور غمزدہ ہیں۔ یہ حملہ 28 مئی کو لاہور پنجاب پاکستان میں ہوا۔ پنجابی طالبان نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ جس میں اس وقت تک آمدہ اطلاعات کے مطابق 98 آدمی مارے گئے۔ جماعت احمدیہ کے افراد کا دیگر مسلمانوں سے مذہبی عقائد میں اختلاف ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں 1889ء میں مرزا غلام احمد مسیح بن کر آئے ہیں۔ اس وجہ سے یہ جماعت دہشت گردی کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ 1921ء میں امریکہ میں یہ جماعت قائم ہوئی تھی۔ خبر میں مزید لکھا ہے کہ 1974ء میں پاکستان کی نیشنل اسمبلی نے انہیں غیرمسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ پھر 1984 ء میں ایک آرڈیننس کے تحت ان پر مزید قدغنیں لگائی گئیں۔ جس کی وجہ سے احمدی فرقہ کے لوگ اپنے آپ کو نہ صرف مسلمان کہلانہیں سکتے بلکہ کوئی کام بھی مسلمانوں والا نہیں کر سکتے۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد تک نہیں کہہ سکتے اور یہ آرڈیننس ان کو اپنی تبلیغ کرنے سے بھی منع کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس فرقہ پر یہ مظالم کئے جارہے ہیں۔

جماعت احمدیہ کے خلیفہ مرزا مسرور احمد نے لندن سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ احمدیوں کے لئے پاکستان میں مشکلات بڑھائی جارہی ہیں۔

چینو چیمپئن نے اپنی اشاعت 5تا11 جون 2010ء صفحہ B-5 پر ایک تصویر کے ساتھ یہ خبر دی ہے۔ ’’نماز جنازہ‘‘ Funeral Prayers

چینو مسجد بیت الحمید احمدی احباب نے لاہور کے سانحہ میں وفات پانے والے 100 لوگوں کی نماز جنازہ غائب ادا کی جو کہ 28 مئی کو پاکستان لاہور میں 2 مساجد پر دہشت گردی کے حملے میں مارے گئے تھے۔ امام شمشاد نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ چینو مسجد سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے کچھ افراد وہاں لاہور کے سانحہ میں مارے گئے ہیں۔

ہفت روزہ نیویارک عوام نے اپنی اشاعت 4 جون 2010ء پر خاکسار کا ایک مضمون بعنوان ’’محبت کے سفیروں کے ساتھ یہ سلوک؟‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔

خاکسار نے اس مضمون میں سانحہ لاہور کے بارے میں لکھا کہ:
’’تمام عالم انسانیت نے سانحہ لاہو رکے موقع پر آنسو بہائے، جب گزشتہ جمعۃ المبارک کو عین اس وقت جب احمدی حضرات اپنی دو مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے نماز میں مصروف تھے تو دہشت گردوں نے موقع پر موجود نوجوانوں پر فائرنگ کر کے مسجد کے اندر داخل ہو کر بہیمانہ انداز میں گرنیڈ اور رائفلوں اور دیگر ہتھیاروں سے حملہ کر کے 85 سے زائد افراد کے خون سے ہولی کھیلی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اگرچہ اس قسم کے حملے دیگر مساجد میں بھی ہو رہے ہیں۔ مگر جماعت احمدیہ کے بارے میں جو حملے ہوتے ہیں اور ان کی جانیں اور اموال لوٹے جارہے ہیں اس کے پیچھے حکومت کا ہاتھ ہے۔ اور وہ ایسے کہ 1974ء میں جماعت احمدیہ کو سیاسی اغراض کی خاطر ’’ناٹ مسلم‘‘ قرار دیا گیا جس کی وجہ سے ان دہشت گردوں کے ہاتھ میں یہ قانون آگیا ہے کہ اگر ہم جماعت احمدیہ کے افراد اور ان کی مساجد پر حملہ کریں گے تو ہمیں کچھ نہ کہا جائے گا اور حقیقت میں ہو بھی ایسا ہی رہا ہے۔

خود ہی دیکھ لیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں جماعت احمدیہ کے افراد کو قتل کیا گیا اور بڑے بڑے نامور ڈاکٹر جو انسانیت کی خدمت میں بے لوث کام کر رہے تھے۔ انہیں بہیمانہ اور وحشیانہ طور پر قتل کر دیا گیا۔ ہمارے وکلاء اور اساتذہ کو انہوں نے بے دردی کے ساتھ قتل کیا۔ اور اس پر حملہ آور کبھی بھی پکڑے نہیں گئے تو کسی پر مقدمہ بھی نہیں چلا۔ حالیہ لاہور کے واقعہ کو ہی دیکھ لیں عین نماز جمعہ کے وقت ہماری مساجد پر حملہ ہوا۔ موقع پر لوگ مارے گئے اور خون کی ہولی کھیلی گئی اس کے فوراً بعد ہی تحفظ ختم نبوت والوں نے جماعت کے خلاف نعرے لگائے اور انہیں واجب القتل ٹھہرایا گیا اور اگر کسی نے جماعت کے حق میں ہمدردی کے الفاظ بولے تو اسے توبہ کرنے، دوبارہ کلمہ پڑھنے، اور نکاح کرنے کے لئے کہا گیا۔ خود ہائی کورٹ میں معزز ججز کے ناموں کی تختی کے نیچے بینر لگے ہوئے ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت نہیں کہ ایسے واقعات کے پیچھے حکومت کا ہاتھ اور ریاستی قانون ہے؟

پھر پولیس اول تو نام نہاد علماء کے پریشر اور ڈر کی وجہ سے مقدمہ درج ہی نہیں کرتی اور اگر کرتی ہے تو پھر ایکشن ہی نہیں لیتی۔ سانحہ لاہور کے موقعہ پر پولیس دیر سے پہنچی اورجب پہنچی تو پھر بھی کوئی کارروائی نہیں کی اور ہمارے نوجوانوں نے ہی دہشت گردوں کو پکڑا۔

ہاں اگر کوئی مخالفت جھوٹے طور پر پولیس میں جاکر یہ کہہ دے کہ یہ احمدی ہے اور یہ تبلیغ کر رہا تھا یا اپنے آپ کو اس نے مسلمان کے طور پر پیش کیا تو اس احمدی کے خلاف فوراً مقدمہ درج ہو کر بغیر تفتیش کے اسے حوالات میں بھیج دیا جائے گا۔

ایک مرتبہ تو ایسا ہوا کہ سارے ربوہ کے مکینوں کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ السلام علیکم کہنے پر مقدمہ درج، بسم اللّٰہ کہنے پر مقدمہ درج، کلمہ پڑھنے پر مقدمہ درج، شادی کے دعوت نامہ پر بسم اللّٰہ لکھنے پر مقدمہ درج، اس وقت بھی ہمارے درجنوں احمدی پاکستان کی جیلوں میں پڑے ہیں۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

عید مبارک

اگلا پڑھیں

بیکار اور نکمی چیزوں کا خرچ