• 3 جولائی, 2020

چین میں احمدیت

صحابہ ؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ احمدیت کا نفوذ اور مختصر تاریخ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش تربیت سے فیضیاب صحابہؓ نے چین میں اسلام کے جو درخشاں نقوش چھوڑے اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ بھی اشاعتِ اسلام کے واسطے دُور دراز ممالک میں جایا کرتے تھے ۔ یہ جو چین کے ملک میں کروڑوں مسلمان ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی صحابہؓ میں سے کوئی شخص پہنچا ہوگا‘‘

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 482)

حضرت مسیح موعود ؑ کے دور میں ہی چین میں احمدیت کا بیج

حضرت قاری غلام مجتبیٰ ؓ تحریر کرتے ہیں کہ آپ کے ہانک کانگ میں قیام کے دوران اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا فرمادئیے کہ آپ تک امام الزماں علیہ السلام کی کتب پہنچنا شروع ہوگئیں۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں۔

’’میں نے سنا تو بچپن میں تھا کہ ایک شخص نے مہدویّت کا دعویٰ کیا ہے مگر جب میں ملازم ہو کر ہانگ کانگ گیا تو وہاں مجھے 1899ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’ازالۂ اوہام‘‘ ملی، میں نے اُسے پڑھا، میرے ساتھ ایک اور شخص بھی شریک تھا، ہم دونوں پڑھتے اور غور کرتے اور یہ کہتے تھے کہ اس شخص نے بہت بڑا دعویٰ کیا ہے۔ پھر 1901ء میں مجھے درثمین کا ایڈیشن ملا، اس میں اُردو اور فارسی نظمیں ملی جلی تھیں۔

(الحکم 21 تا 28 دسمبر 1934ء صفحہ 10،9)

بیعت کی تقریب اور امام الزماں کا چین کے حالات سننا

آپ چین (ہانک کانگ) سے واپس تشریف لائے تو اس دوران آپ کے دو بھائی حضرت قاری غلام یسین ؓ اور حضرت قاری غلام حٰم ؓ بیعت کرکے احمدیت میں داخل ہوچکے تھے ۔ اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے آپ تحریر فرماتے ہیں۔

’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس وقت تشریف لاکر حجرہ میں داخل ہوئے چونکہ سب لوگ کھڑے ہوگئے تھے، میں اس وقت دیکھ نہ سکا لیکن جب سب لوگ بیٹھ گئے تو میں نے اس کمرہ میں جس میں سے حضرت مسیح مود علیہ السلام تشریف لائے نور کو دیکھا ،پھر لوگ حجرہ کے اندر چلے گئے اور عرض کی کہ حضور بیعت کرنی ہے۔ حضور نے میرے بھائی قاری غلام حٰم کو پہچان لیا اور اس وقت میری بھی بیعت لی، بیعت کے بعد مجھے فرمایا کہ چین کے حالات سناؤ۔میں نے حالات سنائے جو مجھے یاد نہیں رہے کہ کیا سنائے تھے۔

بیعت کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور میں تھا مگر وہ نور اپنی اس حالت میں دکھائی دیا جس حالت میں مَیں نے کشف یا خواب میں دیکھا تھا، تین دن تک ہمارا قیام رہا۔ اس کے بعد میں نے اجازت چاہی،حضور مسجد میں تشریف لے آئے، تقریباً پندرہ منٹ تشریف فرما رہے ہوں گے۔ اس عرصہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ بھی آکر ایک کونے میں بیٹھ گئے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت چاہی، اگر اجازت ہو تو مَیں بھی ان سے چین کے متعلق چند باتیں دریافت کروں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندر تشریف لے گئے، حضرت خلیفہ اول نے مجھ سے پوچھا کہ چینی زبان میں خدا کو کیا کہتے ہیں؟ آسمان کو کیا کہتے ہیں؟ پانی کو کیا کہتے ہیں وغیرہ وغیرہ اس کے بعد ہم اجازت لے کر چلے آئے۔ مکان پر پہنچ کر معاً مَیں نے ایک خط لکھا جو میری قلبی کیفیت کا اظہار کر تا تھا کہ حضور مجھے معلوم نہیں مَیں کیوں یہاں آگیا ہوں۔ حضور کو دیکھنے کی تڑپ ہمیشہ دل میں موجزن رہتی ہے۔

(الحکم 21 تا 28 دسمبر 1934ء صفحہ 10،9)

آپ نے چین کے علاقہ ہانگ کانگ میں تبلیغی مہمات میں حصہ لیا ،آپ کے بچوں نے چینی زبان سیکھی اور آپ انجمن احمدیہ ہانگ کانگ کے پہلے سیکرٹری مقرر ہوئے۔ آپ قاری غلام مجتبی چینی کے نام سے معروف تھے اور چینی علاقوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچانے والے اوّلین وجودوں میں سے تھے۔
تحریک جدید کی سکیم کے نتیجہ میں جب دُنیا بھر میں تبلیغ اسلام کی باقاعدہ مہم شروع ہوئی توحضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہؓ کے ذریعہ ہی اکناف عالم میں اسلام احمدیت کا پیغام پہنچانے کا تصور پیش فرمایا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔

’’پس ہمارا کم سے کم فرض یہ ہے کہ ہم ہر ملک میں احمدیہ جماعت ایسے وقت میں قائم کر دیں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہؓ زندہ ہیں تاوہ یہ کہہ سکیں گو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں دیکھا مگر ان کے دیکھنے والوں کو تو دیکھ لیا۔‘‘

(تحریک جدید ایک الہی تحریک ۔ جلد اول صفحہ 173)

اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے خلافتِ اولیٰ کے مبارک دَور میں ہی چین میں احمدیت کے پہنچنے کی خوشخبری عطا فرمادی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاول ؓ فرماتے ہیں۔ ’’ہماری جماعت چار لاکھ سے زیادہ ہے اور بلاد افریقہ،یورپ و امریکہ و چین و آسٹریلیا میں ابھی پہنچے ہیں‘‘

(بحوالہ تاریخ احمدیت، جلد3 صفحہ 611)

خلافت ثانیہ کے اوائل میں چین میں احمدیت کا چرچا

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓ نے1924ء کے ایک خطبہ جمعہ میں چین میں احمدیت کے حوالہ سے ایک عجیب واقعہ کا ذکر فرمایا ہے آپ فرماتے ہیں۔

’’اسی سال یعنی گزشتہ بارہ مہینوں میں کئی نئی باتیں احمدیت کے متعلق معلوم ہوئی ہیں ۔ چنانچہ معلوم ہوا ہے کہ چین میں احمدیہ جماعت موجود ہے ۔ وہاں کون گیا۔ وہ لوگ کس طرح احمدی ہوئے۔ ہمیں اس کا بھی علم نہیں اور نہ اس جماعت کے متعلق کوئی علم تھا کہ ترکی پارلیمینٹ کا ایک ممبر چین میں گیا اس نے اپنا سفر نامہ لکھا جس میں وہ لکھتا ہے کہ مَیں نے چین کے شہر ’’کانٹن‘‘ میں یہ جھگڑا فساد سنا کہ احمدی جامع مسجد کے متعلق کہتے تھے یہ ہماری ہے اور دوسرے مسلمان کہتے تھے کہ ہماری ہے۔

(خطبات محمود جلد8 صفحہ 312 خطبہ جمعہ فرمودہ 29فروری 1924ء)

پھر آپ فرماتے ہیں۔
’’کچھ عرصہ ہوا ایک ترک ایک عجیب بات چین میں احمدیت کے متعلق اپنی تصنیف میں لکھتا ہے کہ ایک شہر میں مَیں گیا۔ تومجھے معلوم ہوا کہ ایک مسجد کے متعلق جھگڑا ہے اور کچھ لوگوں کو اس میں نماز پڑھنے سے روکا جاتا ہے۔ مَیں نے دریافت کیا تو بتایا گیا کہ یہ احمدی لوگ ہیں جو ہندوستان کے ایک شخص کو مسیح موعود مانتے ہیں۔ ان کو ہم مسجد میں نماز نہیں پڑھنے دیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ چین میں بھی احمدی ہیں حالانکہ آج تک وہاں کوئی احمدی مبلغ نہیں گیا۔‘‘

(خطبات محمود جلد8 صفحہ 312 ۔خطبہ جمعہ فرمودہ 29 فروری 1924ء)

تحریک جدید کے تحت مبلغین کا پہلا قافلہ

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نےتحریک جدید کے منصوبہ کا اعلان فرمایا تو اس منصوبہ کے تحت مبلغین کا پہلا وفد جن ممالک کو روانہ فرمایا ان میں چین بھی شامل تھا۔چین میں احمدیہ مشن کے باقاعدہ قیام کے حوالہ سے تاریخ احمدیت میں درج ہے کہ

چین میں پہلا احمدیہ مشن صوفی عبدالغفور بھیروی نے قائم کیا جو 27مئی 1935ء کو ہانگ کانگ پہنچے اور متعدد سال تک فریضہ تبلیغ بجالانے کے بعد واپس قادیان تشریف لے آئے۔ آپ کے زمانہ میں جماعت احمدیہ چین کی داغ بیل پڑی۔ سب سے پہلے چینی احمدی (جس کی اطلاع مرکز پہنچی) لی اونگ کنگ فنگ Leung King Fung تھے۔ جو قصبہ Kawai Show ضلع Santax صوبہ Kawanteeng کے باشندہ تھے۔

صوفی صاحب موصوف نے دوران قیام ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کا چینی ترجمہ کرایا جس سے اشاعت احمدیت میں پہلے سے زیادہ آسانی پیدا ہوگئی۔ صوفی صاحب کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے حکم سے 16 جنوری 1936ء کو شیخ عبد الواحد فاضل چین روانہ ہوئے۔ شیخ صاحب نے ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے چینی ترجمہ کی اشاعت کے علاوہ بعض تبلیغی پمفلٹ بکثرت شائع کئے۔ آپ کے ذریعہ بھی کئی سعید روحیں حلقۂ بگوش احمدیت ہوئیں۔

آپ 6 مارچ 1939ء کو واپس مرکز پہنچے۔ شیخ صاحب ابھی چین میں ہی اشاعت احمدیت کا فرض ادا کررہے تھے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓ نے چوہدری محمد اسحاق سیالکوٹی کو 27 ستمبر 1937ء کو چین روانہ فرمایا اور اپنے قلم سے نصائح لکھ کر دیں۔

چوہدری محمد اسحق صاحب قریبا ساڑھے تین سال تک چین میں احمدیت کا نور پھیلاتے رہے اور اپریل 1941ء کو قادیان آگئے۔

(تاریخ احمدیت جلد 7ص 221۔222)

چین میں خدمت کرنے والے صحابہؓ حضرت مسیح موعود ؑ

چین میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جن صحابہؓ کو بطور مبلغ یا ملازمت کے سلسلہ میں قیام کا موقع ملا ان میں سے کچھ کے اسماء درج ذیل ہیں۔

  1. حضرت قاری غلام مجتبیٰ ؓ
  2. حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان ؓ
  3. حضرت ملک عطا ء اللہ ؓ
  4. حضرت شیخ عبد الواحد ؓ ( مبلغ سلسلہ)
  5. حضرت صوفی عبد الغفور ؓ( مبلغ سلسلہ)
  6. حضرت قاری غلام حٰم ؓ
  7. حضرت چوہدری محمد اسحاق سیالکوٹی ؓ ( مبلغ سلسلہ)

وزیر اعظم چین کوانگریزی ترجمۃالقرآن کا تحفہ

مکرم مولوی علی انور نے مکرم عبد القادر مہتہ کی طرف سے وزیر اعظم چین ھز ایکسی لنسی چوان لائی کی خدمت میں ڈھاکہ آمد پر قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ نیز جماعت کا تعارف کرواتے ہوئے چینی وزیر اعظم اور وزیر اعظم پاکستان جناب سہروردی کے مابین ملاقات کے نتیجہ میں بننے والی پاک چین دوستی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔

(الفضل 3 جنوری 1957ء)

حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خانؓ کا چین میں تقرر

اللہ نے اپنے خاص فضل سے خلافت ثانیہ ہی کے مبارک دَور میں یہ انتظام فرمادیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی اور احمدیت کے بطل جلیل حضرت چوہدری ظفر اللہ خان ؓ کے چین جاپان کے سامان پیدا ہوگئے۔

فروری 1942ء میں جب چین سے جنرل چیانگ کائی شیک دِلّی تشریف لائے تو اس وقت وائسرائے ہند سے ملاقات میں یہ فیصلہ ہوا کہ ہندوستان اور چین کے مابین براہ راست تعلقات قائم ہونے چاہیئں۔ لیکن ہندوستان چونکہ انگلستان کے ماتحت تھا اس لئے ہندوستانی نمائندہ جس کی حیثیت تو سفیر کی تھی مگر اسے سفیر کی بجائے ایجنٹ جنرل کا ٹائٹل دیا گیا۔ گویا ایک لحاظ سے حضرت چوہدری ظفر اللہ خانؓ چین میں ہندوستان کے پہلے سفیر تھے۔

وائسرائے کی خواہش پر آپ کا تقرر عمل میں آیا۔ اس دوران آپ نے ہندوستانی مشن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ چین کے مسلمانوں کے حالات سے بھی آگاہی حاصل کی، چینی مسلمان لیڈروں سے ملاقاتیں کرکے چین میں اسلام کے بارہ جانکاری حاصل کی۔

(بحوالہ تحدیث نعمت صفحہ 446 تا 456)

ایم ایم احمد کی بدولت چین امریکہ تعلقات کا قیام

1971ء کے وسط میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا دَورہ چین صاحبزادہ مرزا مظفر احمد کی کاوشوں کا مرہون منت تھا۔ اسی دَورہ کے نتیجہ میں چین اور امریکہ کے مابین تعلقات کا آغاز ہوا ۔

صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کا دورہ چین

مشرقِ بعید اور چینی النسل اقوام میں اسلام احمدیت کی تبلیغ کیلئے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد نے چین کا بھی دورہ فرمایا ۔آپ 15سے 18جولائی 1963ء تک چین کے علاقہ ہانگ کانگ تشریف لے گئے۔

چینی سفیر کی ربوہ آمد اور پُرتپاک استقبال

پاکستان میں چین کے سفیر چانگ تُنگ، سفارتخانہ چین کے تھرڈ سیکرٹری مسٹر چَین سُونگ لُو کی معیت میں 17؍اپریل 1972ء بروز پیر دوپہر اسلام آبا دسے بذریعہ ہوائی جہاز لائل پور تشریف لائے۔ جہاں ہوائی اڈہ پر مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ناظر امور عامہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان آپ کے استقبال اور مشایعت کے لئے پہلے سے موجود تھے۔ لائلپور کے ہوائی اڈے سے آپ مکرم باجوہ صاحب کی معیت میں بذریعہ موٹر کار ربوہ تشریف لائے۔

ربوہ میں آپ کے استقبال کی خصوصی تیاریاں کی گئی تھیں۔ لائلپور سے سرگودھا جانے والی سڑک سے لے کر تحریک جدید کے گیسٹ ہاؤس تک جہاں آپ نے قیام کرنا تھا، شارع مبارک (وہ سڑک جس پر مسجد مبارک واقع ہے) کو پاکستان اور چین کے لاتعداد چھوٹے چھوٹے جھنڈوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔ اہل ربوہ مقررہ وقت سے قبل ہی شارع مبارک کے دونوں طرف اور اس کے ساتھ ساتھ پھیلے ہوئے گھاس کے قطعات میں جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ تین بجے سہ پہر تک احباب ایک بہت ہی کثیر تعداد میں آجمع ہوئے۔ سکولوں کے بچوں نے ہاتھوں میں پاکستان اور چین کے چھوٹے چھوٹے خوشنما جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔

ربوہ تشریف آوری پر سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث ؒ نے اکرام ِضیف کی تعلیم کے مطابق سفیر کا استقبال کیا۔ شام کو قصر ِخلافت میں سفیر کے اعزاز میں عصرانہ پیش کیا گیا جس میں ممبران اسمبلی، بعض غیر از جماعت مہمانوں سمیت کثیر تعداد میں احباب شامل ہوئے۔ سفیر موصوف نے زیر تعمیر جامع مسجد ’’مسجد اقصی‘‘ کا دَورہ کیا اور اس کی چھت سے ربوہ کا نظارہ کیا۔ رات کو ایوان ِمحمود ربوہ میں سفیر کے اعزاز میں ایک وسیع دعوت کا اہتمام کیا گیا۔

اگلے روز صبح موصوف نے جماعتی دفاتر کا معائنہ کیا، وکالت تبشیر کے تحت بیرون ممالک میں اسلام احمدیت کی تبلیغی سرگرمیوں کے بارہ میں معلومات حاصل کیں، مدرسۃ الحفظ اور جامعہ احمدیہ میں زیر تعلیم غیر ملکی طلباء سے مل کرغیر معمولی جذبات کا اظہار کیا۔

صبح ساڑھے 10بجے کے قریب سفیر نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ سے الوداعی ملاقات کی اور بذریعہ موٹر کار واپس لائل پور تشریف لے گئے۔

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 28 صفحہ 78)

مکرم محمد عثمان چُو کی خدمات

جن سعید فطرت چینیوں نے اسلام احمدیت قبول کیا ان میں نمایاں نام مکرم محمد عثمان چوچنگ شی کا ہے۔ آپ 13دسمبر 1925ء میں چین کے صوبہ آن خوئی میں پیدا ہوئے اور 13 ۔اپریل 2018ء کو انگلستان میں وفات پاگئے۔ آپ کا ذکر کرتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ نے فرمایا۔

عطاء المجیب راشد صاحب نے ان کا جو خلاصہ لکھا ہے وہ اچھا خلاصہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے بہت بڑا خلا چھوڑا۔ بلند پایہ بزرگ تھے۔ کہتے ہیں مَیں چینی صاحب کی خصوصیات کے بارے میں سوچ رہا تھا تو مجھے ذہن میں آیا کہ بہت دُعا گو اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ نمازوں کے بیحد پابند، بیماری اور کمزوری کے باوجود مسجد جانے والے، بہت نیک اور خدا ترس، بے ضرر انسان تھے۔ ہر ایک کی خیر خواہی کرنے والے اور نیک مشورہ دینے والے تھے۔ بہت سادہ مزاج اور بے تکلف انسان تھے۔ بہت مہمان نواز اور محبت بھرے اصرار سے مہمان نوازی کرنے والے تھے۔ بہت بلند ہمت اور کمزوری کے باوجود متحرک خدمت دین میں مصروف اپنی ذمہ داری کو بہت اخلاص محنت اور محبت سے ادا کرنے والے، خدمت دین کرتے چلے جانے کی ایک دُھن بہت نمایاں تھی۔ خلافت احمدیہ کے سچے، بے ریا اور باوفا خدمت گزار تھے۔ ہمیشہ بہت خندہ پیشانی اور مسکراہٹ سے ملتے تھے اور بے شمار ان کی خصوصیات ہیں اور یہ حقیقت ہے جو انہوں نے بیان کی۔

(بحوالہ خطبہ جمعہ فرمودہ 27۔اپریل 2018ء)

چینی زبان میں ترجمۃالقرآن کی اشاعت

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ کے ارشاد پر 1986ء میں مکرم محمد عثمان چُو نے چینی زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ کا کام شروع کیا اور اسی سال جون میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے آپ کو پاکستان سے برطانیہ بلا لیا ۔چار سال کی محنت کے بعد اور حضور انور کی مسلسل نگرانی اور ارشادات کی روشنی میں یہ ترجمہ مکرم محمد عثمان چو چنگ شی نے تیار کیا ۔ اس کے لئے حضور کی اجازت سے ترجمہ میں زیادہ تر تفسیر صغیر کے ترجمہ سے استفادہ کیا گیا ……… چینی ترجمہ کے ساتھ جو فٹ نوٹس دیئے گئے ہیں ،وہ زیادہ تر حضرت ملک غلام فرید ؓ کے انگریزی ترجمہ قرآن (Short Commentry) سے لئے گئے اور ان کا ترجمہ چین کے ایک پروفیسر Zhu Jin AN نے کیا ہے۔

(الفضل 12مارچ 2012ء)

چینی زبان کے ترجمۃ القرآن کی طباعت 1990ء میں مکمل ہوئی اور اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے جملہ اخراجات حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ نے اپنی طرف سے ادا کئے۔

اسلام احمدیت کی تبلیغ کے لئے چینی ڈیسک کا قیام

چین میں اسلام احمدیت کی ترویج و اشاعت کے لئے لندن میں باقاعدہ چینی ڈیسک قائم ہے ۔ چینی ڈیسک کے توسط سے چین میں اسلام احمدیت کے پیغام کی اشاعت کے ساتھ ساتھ خلفائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشادات اور منشاء کے مطابق چینی قوم کو اسلام احمدیت کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داریاں ادا کی جارہی ہیں۔

چینی زبان میں اسلام احمدیت کی تبلیغ کے لئے ویب سائٹ

چین میں اسلام احمدیت کی اشاعت کے لئے چینی زبان میں ایک ویب سائٹ بھی موجود ہے ۔یہ ویب سائٹ کا لنک درج ذیل ہے۔

http://www.islam.cn

چینی زبان میں کتب و تراجم کی اشاعت

چین میں اسلام احمدیت کی تبلیغ و اشاعت کے لئے قرآن کریم کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور خلفائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب، خطابات اور ارشادات کے تراجم شائع ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ چینیوں کو تبلیغ کے لئے مکرم عثمان چینی کی مصنفہ کتب بھی شائع ہیں۔ ان میں سے اکثر کتابیں جماعت احمدیہ کی چینی زبان کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

چین کے حکومتی وفد اور جماعت احمدیہ کے مابین روابط

2012ء چین کے ایک اعلیٰ سطحی حکومت وفد نے دَورہ اسرائیل کے دوران جماعت احمدیہ کے مرکز کبابیر کا بھی دورہ کیا ۔ اس حکومتی وفد میں چین کے نائب وزیر برائے اقلیتی امور اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ اس دورہ کے بعد حکومت چین کی طرف سے وزیر برائے اقلیتی امور نے امیر جماعت احمدیہ فلسطین (کبابیر) مکرم محمد شریف عودہ کو چین کے دَورہ کی دعوت دی۔ جماعت احمدیہ کے نمائندہ چین تشریف لے گئے اور اس دَورہ کے ذریعہ چین کے اعلیٰ حکام کو اسلام احمدیت کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔

اسی دَورہ کے دوران مکرم محمد شریف عودہ امیر جماعت احمدیہ فلسلطین نے چین وزیر اعظم کے نام امام جماعت احمدیہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا خط بھی پہنچایا۔

حضرت خلیفۃالمسیح ایدہ اللہ کا چینی وزیر اعظم کے نام خط

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیر نے امن عالم کے قیام کے لئے عالمی رہنماؤں کو خطوط کے سلسلہ میں وزیر اعظم چین کو بھی مخاطب فرمایا۔ سیدنا حضور انور نے چین وزیر اعظم کو اسلام احمدیت کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ادا فرماتے ہوئے اس خط میں تحریر فرمایا۔

’’آپ کے اُصولوں کی بنیاد محض اخلاقیات پر ہے مگر میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اُس خدا نے جس کا تصور اسلام نے پیش کیا ہے۔ قرآن کریم کو تمام بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لئے نازل کیا ہے اور قرآن کریم وہ تمام اخلاق سکھاتا ہے جن پر آپ عمل پیرا ہیں۔تا ہم قرآن کریم اس سے بھی بڑھ کر اخلاقی رہنمائی سے بھرا ہوا ہے۔ یہ انسانیت کی بقا اور اعلیٰ انسانی اقدار کے قیام کی طرف حسین پیرائے میں رہنمائی فرماتا ہے۔‘‘

(بحوالہ عالمی بحران اور امن کی راہ ص200)

چینی قوم کے لئے دُعا کی اپیل

مسجد مبارک اسلام آباد (یوکے) کے افتتاح کے بعد اگلے جمعہ کے موقع پر سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے چینی قوم کو اسلام احمدیت کا پیغام پہنچانے کی خاطر دُعائیہ تحریک کرتے ہوئے فرمایا۔

گزشتہ خطبے میں جو یہاں مسجد کا افتتاح کا خطبہ تھا، مَیں ایک ذکر کرنا بھول گیا تھا کہ اس مسجد کی جب بنیاد رکھی گئی تھی تو مَیں کینیڈا کے سفر پہ تھا شاید۔ شایدنہیں بلکہ تھا یا جا رہا تھا اور جب انہوں نے تاریخ مقرر کی ہے اور جو تاریخ تھی وہ میرے سفر پر جانے کے بعد کی تھی تو بہرحال سفر کی وجہ سے اینٹ پہ دُعا کرواکے انہوں نے مجھ سے لے لی تھی اور پھر اس مسجد کی بنیاد 10۔ اکتوبر 2016ء کو دُعاؤں کے ساتھ مکرم عثمان چینی مرحوم نے رکھی تھی اور اس مسجد کی بنیاد کے ساتھ ہی اس سارے پراجیکٹ کی بھی تعمیر شروع ہوئی تھی۔ تو بنیاد اس مسجد کی مکرم عثمان چینی نے رکھی تھی اور اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے چینی قوم کا بھی اس میں حصہ ہے اور اس لئے ہمیں دُعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ چین میں بھی اسلام کو جلد پھیلانے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے مکرم عثمان چینی کی بڑی خواہش تھی، ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ چین میں کسی طرح احمدیت اور اسلام کا حقیقی پیغام پہنچ جائے۔ ہمیں جہاں ان کے درجات کی بلندی کے لئے دُعا کرنی چاہئے وہاں چین میں بھی اور دُنیا کے ہر ملک میں بھی احمدیت اور حقیقی اسلام کے پھیلنے کے لئے بہت دُعائیں کرنی چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔

(الفضل انٹرنیشنل 10جون 2019ء)

( انیس احمد ندیم۔ جاپان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 04 جون 2020ء