• 29 فروری, 2024

نیک لوگ، اعلیٰ درجات اور ابتلاء

’’ایک روایت میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے گیارہ لڑکے فوت ہو ئے تھے ۔ انبیاء اور رُسل کو جو بڑے بڑے مقام ملتے ہیں وہ ایسی معمولی باتوں سے نہیں مل جاتے جو نرمی سے اور آسانی سے پوری ہو جائیں بلکہ ان پر بھاری ابتلاء اور امتحان وارد ہوئے جن میں وہ صبر اور استقلال کے ساتھ کامیاب ہوئے تب خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو بڑے بڑے درجات نصیب ہوئے ۔

دیکھو حضرت ابراہیم ؑپر کیسا بڑا ابتلا ء آیا ۔ اس نے اپنے ہاتھ میں چھری لی کہ اپنے بیٹے کوذبح کر ے اور اس چھری کو اپنے بیٹے کی گردان پر اپنی طرف سے پھیر دیا مگر آگے بکرا تھا ۔ابراہیم امتحان میں پاس ہوا ۔اور خدا تعالیٰ نے بیٹے کو بھی بچا لیا۔تب خدا تعالیٰ ابراہیم پر خوش ہوا کہ اُس نے اپنی طرف سے کوئی فرق نہ رکھا یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ بیٹا بچ گیا ورنہ ابراہیم نے اس کو ذبح کر دیا تھا ۔ اس واسطے اس کو صادق کا خطاب ملا ۔ اور توریت میں لکھا ہے کہ خد ا تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم تو آسمان کے ستاروں کی طرف نظر کر کیا تو ان کو گن سکتا ہے۔ اسی طرح تیری اولاد بھی نہ گنی جائے گی۔ تھوڑے سے وقت کی تکلیف تھی وہ تو گذر گئی ۔ اس کے نتیجہ میں کس قدر انعام ملا ۔ آج تمام سا دات اور قریش اور یہود اور دیگر اقوام اپنے آپ کو ابراہیم کا فرزند کہتے ہیں۔

گھڑی دو گھڑی کی بات تھی وہ تو ختم ہو گئی اور اتنا بڑا انعام ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا۔ درحقیقت انسان کا تقویٰ تب محقق ہوتا ہے جب کہ اس پر کوئی مصیبت وارد ہو ۔ جب وہ تمام پہلو ترک کر کے خدا تعالیٰ کے پہلو کو مقدم کر لے اور آرام کی زندگی کو چھوڑ کر تلخ زندگی قبول کر لے تب انسان کو حقیقی تقویٰ حا صل ہوتا ہے۔ انسان کی اندرونی حالت کی اصلاح نری رسمی نما زوں اور روزوں سے نہیں ہو سکتی بلکہ مصائب کا آنا ضروری ہے۔

عشق اول سر کش وخونی بود
تا گریز د ہر کہ بیرونی بود

اول حملہ عشق کا شیر کی طرح سخت ہو تا ہے جس قدر انبیاء اور رسول اور صدیق گذرے ہیں اُن میں سے کسی نے معمولی امور سے ترقی نہیں پائی بلکہ ان کے مدارج کا راز اس بات میں تھا کہ انہوں نے خدا تعالے کے ساتھ موافقت تامہ کی ۔مومن کی سا ری اولاد ذبح کر دی جائے اور اس کے سوائے بھی اس پر تکالیف پڑیں تب بھی وہ بہر حال قدم آگے بڑھاتا ہے ۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 416، 417)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 ستمبر 2020