• 29 ستمبر, 2020

نیک نتائج اس وقت قائم ہوں گے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پیروی ہو گی

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
یہ الزام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ہر روز لگتا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ دنیاوی خواہشات کی تکمیل اور اپنی بڑائی کے لئے جماعت کا قیام کیا ہے۔

بہرحال ہم جانتے ہیں کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی تجدید و تکمیل اشاعت کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا تھا۔ قرآن کریم کے علوم و معارف کا فہم وادراک آپ کے ذریعہ سے ہی ہمیں حاصل ہوا۔ آپ نے ہر موقع پر قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائی۔ چنانچہ اس آیت قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ کو مختلف مواقع پر مختلف زاویوں اور معانی کے ساتھ آپ نے پیش فرمایا اور یہی وہ باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلاکر، اس کا پیارا بنا کر فتنہ و فساد کی حالت سے نکالنے والی بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے لئے اپنی بقا کو قائم رکھنے کے لئے، اپنے ملکوں میں امن قائم رکھنے کے لئے، اسلام کی شان و شوکت کو دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے کوئی اور راستہ نہیں۔ نیک نتائج اس وقت قائم ہوں گے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پیروی ہو گی ورنہ لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہ کا نعرہ بھی کھوکھلا ہے اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کا نعرہ بھی کھوکھلا ہے۔

اس وقت مَیں نے اس آیت کی تشریح میں بعض اقتباسات لئے ہیں جو آپ نے فرمائے۔

ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ:
’’مسلمانوں میں اندرونی تفرقہ کا موجب بھی یہی حُبّ دنیا ہی ہوئی ہے۔ کیونکہ اگر محض اللہ تعالیٰ کی رضا مقدم ہوتی تو آسانی سے سمجھ میں آ سکتا تھا کہ فلاں فرقے کے اصول زیادہ صاف ہیں اور وہ انہیں قبول کر کے ایک ہو جاتے۔ اب جبکہ حُبّ ِدنیا کی وجہ سے یہ خرابی پیدا ہو رہی ہے تو ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان کہا جا سکتا ہے جبکہ ان کا قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا: قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ یعنی (کہو) اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا’’۔آپ فرماتے ہیں کہ‘‘اب اس حُبُّ اللہ کی بجائے اور اِتّباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے حُبُّ الدنیا کو مقدم کیا گیا ہے۔ کیا یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اِتّباع ہے؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیادار تھے؟ کیا وہ (نعوذ باللہ) سود لیا کرتے تھے؟ یا فرائض اور احکامِ الٰہی کی بجاآوری میں غفلت کیا کرتے تھے؟ کیا آپ میں معاذ اللہ نفاق تھا، مداہنہ تھا؟ دنیا کو دین پر مقدم کرتے تھے؟ غور کرو! اِتّباع تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کیسے کیسے فضل کرتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد8 صفحہ348-349۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

لیکن آجکل عملی طور پر جو مسلمانوں کی حالت ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی جو فعلی شہادت اس کے خلاف ہے وہ اس بات کی گواہ ہے کہ اُن کا یہ برا حال ہو رہا ہے۔ ملک ملک لڑ رہے ہیں۔ غیروں کے پاس جا کر ہم مسلمان ممالک دوسرے مسلمان ممالک کے خلاف لڑنے کے لئے بھیک مانگتے ہیں۔ اب گزشتہ دنوں امریکہ کے صدر نے جو ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں لگانے کا ایک اعلان کیا اور اس کے اوپر کام ہو رہا ہے اس پہ سارا یورپ، یورپی یونین، دوسرے ممالک اس کے خلاف ہیں۔ اور یہاں انگلستان میں ایک انگریز کالم لکھنے والے نے لکھا کہ امریکہ کے صدر کی اس حرکت پرساری دنیا خلاف ہے سوائے تین ممالک ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ امریکہ بڑا اچھا کر رہا ہے۔ ایک تو امریکہ خود، ایک اسرائیل اور ایک سعودی عرب۔ اب سعودی عرب مسلمان ملک کے خلاف ایک غیر مسلم ملک کو جنگ کرنے کی اجازت دے رہا ہے بلکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے۔ تو یہ حالات ہیں مسلمانوں کے۔ اور اسی کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھینچا ہے کہ تم لوگ تو پھٹے ہوئے ہو۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کس طرح حاصل کر سکتے ہو۔

اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ حقیقی نیکی انسان کس طرح کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کو انسان کس طرح حاصل کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات سے کس طرح فیضیاب ہو سکتاہے۔ اور آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ انعامات کس طرح ملے؟ آپ کے خلاف یہ فتوے دئیے جاتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے انحراف کرنے والے ہیں۔ آپ اسلام کی تعلیم سے ہی انحراف کرنے والے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ:
’’مَیں سچ کہتا ہوں (اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں) کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا جو اعلیٰ درجہ کے تزکیہ نفس پر ملتے ہیں۔‘‘ (اعلیٰ درجہ کا جو تزکیہ نفس ہوتا ہے ایک مقام پر انسان پہنچتا ہے تبھی اللہ تعالیٰ سے انعامات و برکات ملتے ہیں۔ کشوف ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے مکالمہ ہوتا ہے۔ فرمایا کہ) ’’جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِتّباع میں کھویا نہ جائے اور اس کا ثبوت خود خدا تعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے: قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ اور خدا تعالیٰ کے اس دعویٰ کی عملی اور زندہ دلیل‘‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں ہوں‘‘۔ (ملفوظات جلد1 صفحہ204۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)۔ اس زمانے میں مجھ سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے اس لئے کہ مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں کھویا گیا۔ آپ کی پیروی کی اور اللہ تعالیٰ نے پھر محبت کا سلوک کیا۔

(خطبہ جمعہ 20؍ اکتوبر 2017ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 ستمبر 2020