• 25 جنوری, 2022

This Week With Huzoor (10ستمبر 2021ء)

This week With Huzoor
10ستمبر2021ء

اس ہفتے مجلس خدام الاحمدیہ انگلستان کے 2 ریجن South England اور Midlands کی مجالس سے عمر 16 تا 19 سال کے خدام کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے آن لائن ملاقات کا شرف حاصل ہوا جس میں خدام نے پیارے امام سے مختلف سوالات کےذریعہ رہنمائی حاصل کی۔

*ایک خادم نے سوال کیا کہ حضور! حضرت مسیح موعود ؑ کے وقت میں جب طاعون پڑی تھی تو خدا تعالیٰ نے آپ ؑ اور ان سب سے جو آپ کی چار دیواری میں ہوں گے الہی حفاظت کا وعدہ فرمایا تھا۔ کیا یہ بشارت مستقبل میں آنے والی آفات کے متعلق بھی ہے؟

فرمایا: وہ ایک خدائی نشان تھا جس کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ اب طاعون شروع ہونے والی ہے۔ پس تم اپنے ماننے والوں کو جو ایمان میں پختہ ہیں کہو کہ اگر وہ اینٹی طاعون ویکسین نہیں لگوائیں گے تو تب بھی وہ محفوظ رہیں گے۔ لیکن اُس وقت بھی حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ کوئی شخص بھی یہ ویکسین نہ لگوائے بلکہ فرمایا کہ اگر حکومت اس کو لازمی قرار دے تو پھر لگوانے میں کوئی حرج نہیں لیکن یہاں ہمیں اس قسم کا کوئی وعدہ نہیں دیا گیا۔ پس آپ کو یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر ہم لوگ ایمان میں پختہ ہیں تو خدا تعالیٰ ہمیں اس قسم کی وبا سے عموما محفوظ رکھے گا۔ رسول کریم ؐ کے دور میں بھی اور خلفاء راشدین کے دور میں بھی طاعون پھوٹی تھی اور رسول کریم ؐ نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی طاعون سے فوت ہو جائے گا تو وہ شہید کا درجہ پائے گا۔ اس لیے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ (کرونا) خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے وقت میں تو یہ ایک نشان تھا۔ پس اس لحاظ سے یہ (کرونا وبا) نشان نہیں ہے۔ اگر گورنمنٹ ہمیں اینٹی کرونا ویکسین لگوانے کے لیے کہے تو لگوانی چاہئیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ باقی لوگوں کو کرونا ہو اور احمدی احباب کو نہیں ہوگا اور یہ بھی کہ اگر کسی احمدی کو کرونا ہوا تو وہ محفوظ بھی رہے۔ اگر کوئی احمدی کرونا سے فوت جائے تو جیسا کہ رسول کریم ؐ نے فرمایا ہے ایسا شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں شہید کا درجہ پائے گا۔ اس لیے ہمیں ہر قسم کی آفات اور وبا کے مقابل تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے۔ سوائے اس کےکہ خداتعالیٰ وقت کے خلیفہ کو بتا دے کہ ہر کوئی اس آفت کے وقت بچایا جائے گا۔ تو یہ ایک الگ معاملہ ہے۔

*ایک خادم نے سوال کیا کہ حضور! میں باقاعدگی سے اپنی روحانی ترقی کے لیے دعا کرتا ہوں لیکن اگلے دن میں اپنے آپ میں روحانی ترقی محسوس نہیں کرتا۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ میں روحانی ترقی کیسے حاصل کر سکتا ہوں؟

فرمایا: یہ لازمی نہیں ہے کہ آپ فوراَ ہی اس کا نتیجہ پا لیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بزرگ جس کا خدا تعالیٰ سے مضبوط تعلق تھا اور وہ ہر روز دعا مانگا کرتا تھا۔ اور ہر روز یہ آواز سنتا کہ تمہاری دعا قبول نہیں ہوئی۔ ایک دفعہ ان کا ایک مرید بھی ان کے ساتھ تھا۔ جب بزرگ نے دعا مانگی تو پھر وہی جواب آیا۔ اور یہ جواب مرید نے بھی سنا۔ اس پر مرید نے کہا کہ اگر خدا تعالیٰ آ پکو بتا رہا ہے کہ وہ آ پکی دعا نہیں سنے گا تو اس کے باوجود بھی آپ کیوں دعا ما نگتے چلے جارہے ہیں؟ بزرگ نے جواب دیا کہ میں تو 30 سال سے دعا مانگ رہا ہوں اور یہی جواب روز سنتا آرہا ہوں لیکن میں دعا مانگتا چلا جاؤں گا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ میری دعا کو قبول فرما لے۔ (اگر دعا نہ مانگوں تو اور) کس در پر جاؤں؟ تو اچانک آواز آئی اور یہ آواز مرید نے سنی کہ میں نے تمہارے اس جملہ کی وجہ سے تمہاری گزشتہ 30 سال کی تمام دعائیں سن لیں۔ پس جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر آپ اپنی روحانی ترقی کے لیے دعا مانگ رہے ہیں تو آپ کو دیکھنا چاہیے کہ کیا آپ خدا تعالی ٰ کے احکامات پر بھی عمل پیرا ہو رہے ہیں؟ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ آپ کو اپنے ایمان میں پختہ ہونا چاہیے۔ اگر آپ اپنے ایمان میں پختہ ہیں تو پھر میں آپ کی دعاؤں کو قبول کروں گا۔اور روحانی درجات میں بھی بڑھاؤں گا۔ (اس کے ساتھ) یہ بھی ضروری ہے کہ پنج وقتہ نماز باقاعدگی سے ادا کریں اور اگر ممکن ہو تو باجماعت نماز ادا کریں۔ نوافل بھی ادا کر یں اور جیسا کہ میں آپکو ہمیشہ کہتا ہوں قرآنی تعلیم پر عمل کریں۔یہ نہیں ہے کہ آپ ہلکی پھلکی دعا مانگ لیں کہ اے خدا !مجھے روحانی ترقی میں بڑھا اورخدا تعالیٰ آپ کو بزرگ بنا دے۔ایسا نہیں ہے۔ایک رات میں آپ بزرگ نہیں بن سکتے۔یہ ایک مسلسل کوشش ہے خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ کو میرے راستے میں بھرپور کوشش کرنی ہوگی۔ پھر میں (روحانی) مقام سے سرفراز کروں گا۔ آپ نے ہار نہیں ماننی۔ کوشش کرتے رہیں تو (ان شاء اللہ) ایک دن آپ روحانی مقام پا لیں گے۔اس کے علاوہ آپ کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔

*ایک اور خادم نے سوال کیا کہ حضور! اگر جماعت کی سچائی کا کوئی ایک ثبوت دینا ہو تو آپ کیا ثبوت دیں گے؟

فرمایا:مختلف قسم کے لوگوں کے لیے مختلف دلائل ہوتے ہیں۔(مثال کے طور پر)اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین نہیں رکھتا تو اسے آپ سب سے پہلے ایک خدا کی ہستی پر یقین دلائیں گے۔ اگر کوئی مسلمان ہو اور اسلامی بیک گراؤنڈ رکھتا ہوتو اسے مختلف دلائل دینے پڑیں گے۔مثال کے طور پر یہ کہ اس زمانے کے متعلق رسول کریم ؐ کی جو پیشگوئیاں ہیں وہ پوری ہو گئی ہیں۔قرآنِ کریم میں بھی ہے کہ آخری وقت میں مسیح اور مہدی آئے گا۔ اگر کوئی عیسائی ہو تو اس کے لیے مختلف دلائل ہوں گے۔ ایک عیسائی کو سب سے پہلے یہ یقین دلوانا پڑے گا کہ جس شخص نے آنا ہے یہ وہی عیسی بن مریم نہیں جو جنت سے نازل ہو گا بلکہ یہ امت مسلمہ میں سے ہو گا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے دلائل ہیں۔ لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول کریم ؐ نے ایک آسمانی نشان کی بھی پیشگوئی فرمائی تھی۔ یعنی سورج اور چاند گرہن کی پیشگوئی جو کہ مسیح موعود ؑ کے آنے کے متعلق تھی اور جس کے متعلق مسلمان اور دوسرے لوگ انتظار کر رہے تھے۔اور یہ پیشگوئی 1894ء میں مشرق میں اور1895ء میں مغرب میں پوری ہوئی۔ اور (اس وقت پوری ہوئی جب کہ) مسیح موعودؑ کا دعوٰ ی بھی موجود تھا۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص نے آنا تھا اس کے آنے کے متعلق قرآن کریم اور رسول کریم ؐ نے ہمیں کافی سارے نشانات بتائے تھے اور یہ ان آسمانی نشانوں میں سے ایک تھا جو کہ پورا ہوا۔اگر اس قسم کے نشان کے پورے ہونے کے باوجود بھی کوئی شخص نہیں مانتا تو ہم کسی پر زبردستی نہیں کر سکتے کہ وہ مانے۔ یہ ایک آسمانی نشان تھا جسے انسان نہیں بنا سکتا تھا۔

*ایک خادم نے سوال کیا کہ حضور! آجکل سیاست دان انصاف کے متعلق ڈبل سٹینڈرڈ رکھتے ہیں۔ ایک احمدی سیاست دان کس طرح ان ڈبل سٹینڈرڈ ایشوز کو ڈیل کرے اوروہ کونسی پالیسیاں ہیں جن کو اپنانے کی ضرورت ہے؟

فرمایا: اصل چیز حقیقی انصاف کو قائم کرنا ہے۔جب تک ہم انصاف کو قائم نہیں کریں گے اس وقت تک دنیا یا معاشرے میں امن کو قائم نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقی انصاف کو کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟ اس بارے میں قرآن کریم کی تعلیم ہے کہ اگر آپ کو اپنے لوگوں یا اپنے رشتہ داروں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کیا جائے اور سچ بولا جائے۔اگر ہم یہ معیار حاصل کر لیں گے تو پھر ہم معاشرہ میں امن پھیلا سکتے ہیں۔ اور جب یہ معاشرے کا انصاف دنیا میں پھیل جائے گا تو پھر چانس ہے کہ دنیا میں امن،رواداری اور محبت قائم ہو سکےورنہ بہت مشکل ہے۔سیاست دانوں کے ڈبل سٹینڈرڈ ہیں۔ ان کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی سیاست دان کو دیکھیں کہ وہ اُس بات سے متفق ہے جو آپ کہہ رہے ہیں تو پھر بھی وہ جب وہاں سے جائےگا تو اپنی پارٹی کے ایجنڈے اور پالیسی کو ہی فالو کرےگا۔ کیونکہ وہ اپنے پارٹی کی پالیسیوں سے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ اس لیے وہ آپ سے کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ ایک احمدی ہونے کے ناطے اگر آپ سیاست میں آئیں تو independent سیا ست دان بنیں اور پھر معاشرے میں امن، انصاف اورمحبت کی فضا قائم کرنے کی آواز اٹھائیں۔ اگر آپ کسی پارٹی کو جوائن کرو اور دیکھو کہ پارٹی آپ کو انصاف اورآزادنہ سچ بولنے کا موقعہ نہیں دے رہی تو ایسی پارٹی کو چھوڑ دو۔ ایک آزاد سیاست دان بن جاؤ اور کچھ عرصے بعد پھرآپ اپنی پارٹی بھی بنا سکتے ہو یا اکیلے ہی معاشرہ میں امن کے لیے fight کرو اور پھر معاشرہ میں امن کے قیام لیے کوشش کرو۔

*ایک خادم نے سوال کیا کہ حضور! ہم کس طرح خدام پر چندے دینے کی اہمیت اور اس کےفوائد اجاگر کر سکتے ہیں؟

حضور انوار ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس پر فرمایا ؛خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔اگر ہمارا چندہ خدا کی راہ میں خرچ ہوتا ہے تو پھر ہمیں کوشش کر کے ضرور دینا چاہیےاور اگر نہیں ہوتا تو نہیں دینا چاہیے۔ پس اپنے خدام کو سمجھائیں کہ جو کچھ بھی ہم دے رہے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اور جماعت کی بہتری کے لیے، لٹریچر، پرنٹنگ کے لیے، ہمارے آفس کے روز مرہ کے اخراجات کے لیے اور دوسرے جماعتی پروگرام کے لیے خرچ ہو رہا ہے۔آجکل آپ رقم کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتے۔رسول کریم ؐ اور آپ سے گزشتہ انبیاء بھی چندہ کے لیے تحریکات کرتے رہے ہیں۔ قرآن کریم کی دوسری سورۃ، سورۃ البقرۃ کے آغاز میں ہی خدا تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کا حکم ہے۔ (جو چندہ دیتے ہیں) اگر انہیں پتا ہو کہ جو وہ دے رہے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہو گاتو وہ خوشی سے اپنا چندہ ادا کریں گے۔لیکن اگر ان کو لگے کہ مہتممین، صدران، ناظمین صاحبان، اور میاں اطہر محمود صاحب (خادم کا نام جس نے سوال پوچھا) اس کو Nandos اور پیزے Enjoy کرنے کے لیے استعمال کریں گے (تو پھر وہ چندہ نہیں دیں گے) ان کو یہ realize کروائیں کہ جو کچھ وہ دیں گے وہ اسلام کے پھیلاؤ اور جماعت کی بہتری کے لیے استعمال ہو گا۔آپ ایک چھوٹے سے کلب کو بھی بغیر پیسوں کے نہیں چلا سکتے۔ آپ کو کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا۔اسی طرح آپ کو جماعتی کاموں کے لیے بھی دینا ہو گا۔آپ کو چاہیے کہ آپ اپنا تفصیلی بجٹ تیار کریں۔ اس کو عاملہ میں ڈسکس کریں اور اگر نیشنل عاملہ کا بجٹ ہے تو نیشنل عاملہ میں ڈسکس کریں۔ پھر شوریٰ میں ڈسکس کیا جائےاور پھر مجھے بھجوایا جائے۔میں دیکھوں گا کہ کیا (چندہ کی رقم) صحیح مقصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے یا نہیں؟اور جب approved ہو جائے تو پھر اس کی ادائیگی کریں۔

دوسری آن لائن ملاقات Midlands ریجن کے خدام کی تھی جس کے 60 خدام اس دن دارلبر کات برمنگھم میں موجود تھے

*ایک خادم نے سوال کیا کہ حضور!جب آپ خدام الاحمدیہ میں تھے تو اس وقت کا اپنا کوئی یادگار واقعہ بتا سکتے ہیں جسے آپ ابھی بھی یاد کر کے محظوظ ہوتے ہیں؟

فرمایا: ایک نوجوان ہونے کے ناطےمیں بھی خدام الاحمدیہ میں اپنا ہر لمحہ cherish کرتا تھا۔جب آپ عمر رسیدہ ہوتے جاتے ہیں تو آپ اپنے جوانی کے دنوں کو cherish کرتے ہیں۔خدام الاحمدیہ میں جب ہم اپنا اجتماع منعقد کرتے تھے تو یہ کھلی جگہ پر ہوتا تھا۔ہم خود ہی اپنے ٹینٹ لگاتے تھے۔ یہ proper ٹینٹ نہیں ہوتے تھے جیسے کہ آپ لوگ یہاں یایورپ میں استعمال کرتے ہیں بلکہ ہم لوگ ٹینٹ بنانے کے لیے اپنی بیڈ شیٹ استعمال کرتے تھے۔اور جب بارش ہوتی تھی تو بارش کا پانی قطرہ قطرہ کر کے اوپر سے بہنا شروع ہو جاتا اور پانی ٹینٹ میں آ جاتا تھا کیونکہ یہ واٹر پروف نہیں ہوتے تھے۔تو اس وقت کو بھی یاد کر کے ہم خوش ہوتے تھے اور یہ کیمپنگ Enjoy کرتے تھے۔ 3 دن ہم ان کیمپوں میں رہتے تھے۔ اسی طرح جلسہ اور اجتماع کی مارکی بھی وہیں لگتی تھیں اور وہ بھی واٹر پروف نہیں ہوتی تھیں جس طرح یہاں ہوتا ہے۔اگر بارش ہوتی تو آپ پوری طرح بھیگ جاتے تھے۔اور پھر وہاں cooked food ہوتا تھا جس کو ہم Enjoy کیا کرتے تھے۔ ہم بالٹی میں کھانا لاتے اور ایک خیمہ میں 10 افراد ہوتے تھے۔تو یہ وہ دن ہیں جن کو آج بھی میں یاد کرتا ہوں اور خوش ہوتا ہوں۔

*ایک خادم نے سوال کیا کہ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان میں جب سے صاحبزادہ عبداللطیف صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی ہے تب سے افغانستان میں امن نہیں ہے۔ پاکستان میں بھی ایک لمبے عرصہ سے شہادتیں اور ظلم ہو رہے ہیں تو کیا پاکستان میں بھی کبھی امن ہو سکے گا؟

فرمایا: جب تک پاکستانی نام نہاد علماء اپنے رویوں میں تبدیلی نہیں لاتے۔ اچھے اخلاق کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اچھا رویہ اختیار نہیں کرتےاور غیر انسانی سر گرمیوں کو چھوڑ کر حقیقی انسان نہیں بن جاتے تب تک پاکستان میں کبھی امن نہیں ہوگا۔ ہم نے 1953ء میں بھی یہ بات کہی تھی جب احمدیوں سے غیر انسانی سلوک رکھا جا رہا تھا۔ احمدیت کے خلاف احتجاج ہو رہے تھے اور کچھ احمدیوں کو شہید بھی کیا گیا تھا۔لیکن اس وقت تک احمدی حکومت ِپاکستان میں آزادانہ شہری تصور کیے جاتے تھے۔ لیکن پھر آئین میں تبدیلی کر دی گئی۔ ضیاء الحق صاحب نے آئین میں مزید ترمیم کی اور احمدیوں پر قوانین کو مسلط کیا جس کے بعد ہم مسلمانوں کو اپنے بچوں کے اسلامی نام رکھنے سے بھی روکا گیا۔ ہم بسم اللہ نہیں کہہ سکتے۔السلام علیکم نہیں کہہ سکتے۔ اگر آپ پاکستان کی تاریخ دیکھیں تو تب سے پاکستان میں امن نہیں ہے۔جب بھی کوئی فوجی یا سیاسی حکومت آتی ہے تو وہ پریشان ہی رہتے ہیں کیونکہ ان کا عوام پر کنٹرول نہیں ہوتا۔ (نام نہاد) مولویوں نے عوام پر کنٹرول کیا ہوا ہے۔ جب تک یہ لوگ حقیقی توبہ نہیں کر لیتے میرا نہیں خیال کہ پاکستان میں امن کے لحاظ سے کوئی تبدیلی آسکے۔

*ایک خادم نے سوال کیا کہ کرونا وبا کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی دماغی صحت متاثر ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر ڈپریشن اور بے چینی وغیرہ بڑھ رہی ہے تو ایسی صورت حال میں آپ خدام کو کیا نصیحت کریں گے کہ وہ ان معاملات کو کیسے deal کریں؟

فرمایا: خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب۔ میری یاد اور میرا ذکر تمہارے دلوں کو اطمینان دے گا۔پس ان دنوں خدا تعالیٰ کا قرب پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پنج وقتہ نماز کا التزام کرنا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو با جماعت نماز ادا کرنی چاہیے۔ درود شریف، استغفار اور کثرت سے ذِکرالہی کریں۔ خدا تعالیٰ سے مدد مانگیں۔اس طرح خدا تعالیٰ آپ کو قلبی سکون دے گا۔اس وائرس کے دوران وہ لوگ جو میرے پاس رہ رہے ہیں انہوں نے بھی اور میں نے خود بھی کچھ برا محسوس نہیں کیا۔میرا نہیں خیال کہ اس (وبا) نے ہم پر کوئی برا اثر چھوڑا ہے۔ میں بھی (الحمد للہ) ٹھیک ہوں اور آپ بھی ٹھیک ہی ہوں گے۔ اور وہ جو ٹھیک نہیں ہیں ان کو چاہیئے کہ وہ نماز میں باقا عدگی اختیار کرتے ہوئےخدا تعالیٰ سے مدد طلب کریں تو خدا تعالیٰ بھی ان کی مدد کرے گا۔ مزید یہ کہ مختلف ذِکر کریں۔ کثرت سے استغفار اور درود شریف پڑھیں۔ لاحول و لا قوۃ الا باللہ۔ بھی پڑھیں۔ اور بہت سی دعائیں جو کہ Prayer Book میں درج ہیں وہ بھی پڑھیں۔ اس سے آپ کو اطمینان ملے گا۔

*ایک خادم نے سوال کیا کہ حضور! بعض دفعہ نماز میں توجہ ادھر اُدھر ہو جاتی ہے۔ پس نماز میں توجہ کو قائم رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہئے؟

فرمایا: کیونکہ نماز ادا کرتے ہوئے آپکی ترجیح نماز نہیں ہوتی اس لیے ایسا ہوتا ہے۔ اس پر حضور نے اس خادم سے استفسار فرمایا کہ آپ کیاسٹڈی کر رہے ہیں؟ موصوف نے جواب دیا۔ میں اے لیول کر رہا ہوں۔ اس پر حضور نے فرمایا۔ کون کون سے SUBJECTS ہیں؟۔ تو انہوں نے عرض کیا کہ آرٹس، میتھ، اور کمپیوٹر سائنس۔ فرمایا: بعض دفعہ آپکی توجہ بٹ جاتی ہے اور آپ کمپیوٹر سائنس کے کسی مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں یا بعض دفعہ آپ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ کس طرح ریاضی کے اس فارمولہ کو سیکھا جائے یا پھر اس سوال کو کیسے حل کیا جائے؟ بعض دفعہ آپ ٹی وی پر ڈرامہ دیکھ رہے ہوتے ہیں تو آپ کے ذہن میں اس ڈرامے کا کوئی کریکٹر آجاتا ہے کہ وہ یہ کر رہا ہے یا یہ کر رہا ہے تو یہ چیزیں ہیں جو نماز میں آپکی توجہ کو کسی اور طرف بٹا دیتی ہیں اور آپ نماز میں توجہ نہیں کر رہے ہوتے تو جب آپ نماز میں سورۃ الفاتحہ پڑھ رہے ہوں تو ’’اھدناالصراط المستقیم‘‘ کا بار بار ورد کرنا چاہیے۔ ’’اعوز باللہ من الشیطٰن الرجیم‘‘۔ پڑھیں۔ اور اگر آپ باجماعت نماز ادا کر رہے ہیں تو۔ ’’اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم‘‘ پڑھیں اور اس کے بعد جو امام پڑھ رہا ہو اس پر فوکس کریں۔ اور جب آپ اکیلے نماز ادا کر رہے ہوں، سنت ادا کر رہے ہوں یا گھر میں (انفرادی) نماز ادا کر رہے ہوں تو آپ ’’اعوز باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم‘‘، ’’لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ‘‘، اور ’’استغفراللّٰہ‘‘ پڑھیں۔ اور جس جگہ بھی آپ کو پتا چلے کہ آپکی توجہ بٹ رہی ہے تو ان ذکر کو پڑھیں اور پھر وہیں سے شروع کر دیں۔ مثلاَ آپ سورۃ الفاتحہ میں ’’مالک یوم الدین‘‘ اد کرنے کے بعد (آپکی توجہ) کمپیوٹر کے کسی مسئلہ کو حل کرنے یا میتھ کا سوال حل کرنے یا پھر ڈرامے کے کسی کریکٹر کی طرف چلی گئی ہو تو پھر ’’اعوز باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم‘‘ اور ’’استغفراللّٰہ‘‘ پڑھیں اور دوبارہ ’’الحمد للّٰہ رب العالمین‘‘ سے شروع کریں۔ اور بار بار اس طرح کرتے چلے جائیں اور خدا تعالیٰ سے مدد مانگتے رہیں۔خدا تعالیٰ بھی مدد فرمائے گا۔ یہ ایک مسلسل کوشش ہو گی تو پھر کچھ عرصے بعد جب آپ کافی Trained ہو جائیں گے تو (ان شاءاللہ) پھر آپکی توجہ نہیں بٹے گی۔

*ایک خادم نے سوال کیا کہ کیا عید الاضحی کے موقعہ پر کسی جانور کی قربانی کرنے کی بجائے ہم کسی ضرورت مند کو وہ رقم دے سکتے ہیں اور کیا یہ قربانی کہلائے گی؟

فرمایا: کیا ہمیں اپنی نئی شریعت یا سنت متعارف کروانی چاہیے یا ہمیں اس عمل کی پیروی کرنی چاہیے جو رسول کریم ؐ نے ہمیں کر کے دکھایا۔ رسول کریم ؐ کی یہ سنت تھی کہ آپ ایک مینڈھے کی قربانی کرتے تھے۔ اور دنیا میں ایک تعداد ایسی بھی ہوتی ہے جن کی ضرورت پوری نہیں ہو رہی۔ لیکن یہاں یورپ میں رہتے ہوئے آپ اس کا تصور نہیں کر سکتے۔ پس وہ لوگ جو یورپ یا مغرب یا امیر ممالک میں رہنے والے ہیں وہ غریب ممالک جیسے افریقہ، پاکستان، انڈیا اور جنوبی امریکہ یا دنیا کے کسی اور غریب ملک میں قربانی کر سکتے ہیں۔

ایک دفعہ میں نے کچھ افراد کو افریقہ کے گاؤں میں بکرے کی قربانی کرنے کا کہا تو جب ان (افریقن) لوگوں کے پاس گوشت پہنچا تو ان لوگوں نے مجھے یہ Feedback دیا کہ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 3 یا 4 سال بعد گوشت کھایا ہے۔اس لیے قربانی کرنی چاہیے۔اور اگر قربانی کرنے کے بعد بھی آپ کے پاس کچھ رقم ہو تو آپ چیریٹی میں جمع کروا سکتے ہیں یا پھر خود ہی کسی ضرورت مند کی مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم سچے مسلمان ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم رسول کریم ﷺ کی پیروی کریں اور قربانی کریں۔

*ایک خادم نے سوال کیا کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے احمدیت کی کامیابی کے متعلق پیشگوئی فرمائی تھی کہ ایک دن آئے گا جب خدا تعالیٰ کی مدد سے زیادہ تر لوگ وقت کے امام کو مان لیں گے۔ آپکے خیال میں یہ کب ہو گا؟

حضور انور نے فرمایا: حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا تھا کہ حضرت موسیٰؑ کے مسیح کی قبولیت کو 300 یا اس سے کچھ زیادہ سال کا عرصہ لگا تھا۔ جب رومن بادشاہ نے عیسائیت قبول کر لی تھی۔ اسی طرح حضرت مسیح ِ موعودؑ نے فرمایا کہ ابھی 300 سال ختم نہیں ہوں گے کہ دنیا کا بیشتر حصہ جان لے گا کہ احمدیت حقیقی اسلام ہے۔ لیکن یہ سب ہمارے عمل پر ہے۔ اگر تم اعمال صالحہ بجا لارہے ہو اور خدا تعالیٰ کے احکامات بجا لا رہے ہو۔ اگر آپ خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے ہو۔ اگر آپ ایک سچے مسلمان ہو تو یہ اس وقت سے پہلے بھی ہو سکتا ہے (جو پیشگوئی میں بتایا گیا ہے) آپ نے اپنے آپ میں دیکھنا ہے کہ آپ اس (غلبہ) کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ اسلام احمدیت کو دنیا میں پھیلانے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ اگر ہمارے عمل اور کام اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو فرائض ہیں وہ صحیح طرح ادا ہو رہے ہیں (جس طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے)۔ اور ہم صحیح طرح حقوق العباد بھی ادا کر رہے ہیں تو ہم اس ہدف کو وقت مقررہ سے پہلے بھی پا سکتے ہیں۔

(ترجمہ و کمپوزنگ: ابو اثمار اٹھوال)

پچھلا پڑھیں

تاریخ جلسہ ہائے سالانہ جماعت احمدیہ عالمگیر (حصہ دوم)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 اکتوبر 2021