• 1 دسمبر, 2020

قرآن سمجھ کے پڑھو یہی مستحسن ہے

حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
ایک دفعہ میں وقف عارضی پر کسی کے ساتھ گیا ہوا تھا۔ تو ایک دن صبح کی نماز کے بعد ہم تلاوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے کہنے لگے کہ میاں تم سے مجھے ایسی امید نہیں تھی۔ میں سمجھا پتہ نہیں مجھ سے کیا غلطی ہو گئی۔ میں نے پوچھا ہوا کیا ہے۔ کہنے لگے کہ مَیں دو تین دن سے دیکھ رہا ہوں کہ تم تلاوت کرتے ہو تو بڑی ٹھہر ٹھہر کے تلاوت کرتے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اٹکتے ہو تمہیں ٹھیک طرح قرآن کریم پڑھنا نہیں آتا۔ تو میں نے ان کو کہا کہ اٹکتا نہیں ہوں بلکہ مجھے اسی طرح عادت پڑی ہوئی ہے۔ ہر ایک کا اپنا اپنا طریق ہوتا ہے۔ اس حدیث کا حوالہ تو نہیں پتہ تھا۔ قرآن کی یہ آیت میرے ذہن میں نہیں آئی۔ لیکن مَیں نے کہا مجھے تیز پڑھنا بھی آتا ہے بے شک تیز پڑھنے کا مقابلہ کر لیں لیکن بہرحال جس میں مجھے مزا آتا ہے اسی طرح میں پڑھتا ہوں، تلاوت کرتا ہوں۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بعض لوگ اپنی علمیت دکھانے کے لئے بھی سمجھتے ہیں کہ تیز پڑھنا بڑا ضروری ہے حالانکہ اللہ اور اللہ کے رسول کہہ رہے ہیں کہ سمجھ کے پڑھو تاکہ تمہیں سمجھ بھی آئے اور یہی مستحسن ہے۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا ہر ایک کی اپنی اپنی استعداد ہے۔ ہر ایک کی اپنی سمجھنے کی رفتار اور اخذ کرنے کی قوت بھی ہے تو اس کے مطابق بہرحال ہونا چاہئے اور سمجھ کر قرآن کریم کی تلاوت ہونی چاہئے۔ قرآن کریم کا ادب بھی یہی ہے کہ اس کو سمجھ کر پڑھا جائے۔ اگر اچھی طرح ترجمہ آتا بھی ہو تب بھی سمجھ کر، ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کا حق ادا کرتے ہوئے پڑھنا چاہئے تاکہ ذہن اس حسین تعلیم سے مزید روشن ہو۔ پھر جب انسان سمجھ لے، ہر ایک کا اپنا علم ہے اور استعداد ہے جس کے مطابق وہ سمجھ رہا ہوتاہے جیسا کہ مَیں نے کہا لیکن قرآن کریم کا فہم حاصل کرکے اس کو بڑھانا بھی مومن کا کام ہے۔ ایک جگہ ہی یہ تعلیم محدود نہیں ہو جاتی۔ تو جتنی بھی سمجھ ہے، بعض تو بڑے واضح احکام ہیں، سمجھنے کے بعد ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ کسی بھی اچھی بات کا یا نصیحت کا فائدہ تبھی ہو سکتا ہے جب وہ نصیحت پڑھ یا سن کر اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہو گی۔ کیونکہ تلاوت کا ایک مطلب پیروی اور عمل کرنا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرما دیا ہے کہ یہ قرآن میں نے تمہارے لئے، ہر اس شخص کے لئے جو تمام نیکیوں اور اچھے اعمال کے معیار حاصل کرنا چاہتا ہے اس قرآن کریم میں یہ اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے لئے تمام اصول اور ضابطے مہیا کر دئیے ہیں۔ ہر قسم کے آدمی کے لئے، ہر قسم کی استعداد رکھنے والے کے لئے، اور نہ صرف یہ کہ جیسا کہ مَیں نے کہا کسی خاص آدمی کے لئے نہیں رکھے ہیں بلکہ ہر طبقے اور ہر معیار کے آدمی کے لئے رکھے ہیں۔ اور اس میں ہر آدمی کے لئے نصیحت ہے وہ اپنی استعداد کے مطابق سمجھ لے۔ فرمایا کہ وَلَقَدْیَسَّرْنَاالْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِفَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (القمر:18)۔ اور یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کی خاطر آسان بنا دیا ہے۔ پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔ اب یہ ہمارے پر ہے کہ ہم اس تعلیم کو کس حد تک اپنے اوپر لاگو کرتے ہیں اور اس کی تعلیمات سے نصیحت پکڑتے ہیں۔ پس آج ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس رمضان میں اس نصیحت سے پُر کلام کو، جیسا کہ ہمیں اس کے زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی توفیق مل رہی ہے، اپنی زندگیوں پر لاگو بھی کریں۔ اس کے ہر حکم پر جس کے کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کریں۔ اور جن باتوں کی مناہی کی گئی ہے، جن باتوں سے روکا گیا ہے ان سے رکیں، ان سے بچیں، اور کبھی بھی ان لوگوں میں سے نہ بنیں جن کے بارے میں خود قرآن کریم میں ذکر ہے۔

(خطبۂ جمعہ فرمودہ 21 اکتوبر 2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 نومبر 2020