• 1 دسمبر, 2020

پاک محمدؐ مصطفیٰ نبیوں کا سردار

رکھ پیش نظر وہ وقت بہن، جب زندہ گاڑی جاتی تھی
گھر کی دیواریں روتی تھیں ، جب دنیا میں تو آتی تھی

جب باپ کی جھوٹی غیرت کا، خوں جوش میں آنے لگتا تھا
جس طرح جنا ہے سانپ کوئی، یوں ماں تیری گھبراتی تھی

یہ خونِ جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے
جو نفرت تیری ذات سے تھی فطرت پر غالب آتی تھی

کیا تیری قدروقیمت تھی! کچھ سوچ تری کیا عزت تھی!
تھا موت سے بد تر وہ جینا قسمت سے اگر بچ جاتی تھی

عورت ہونا تھی سخت خطا، تھے تجھ پر سارے جبر روا
یہ جرم نہ بخشا جاتا تھا، تا مرگ سزائیں پاتی تھی

گویا تو کنکر پتھر تھی، احساس نہ تھا جذبات نہ تھے
توہین وہ اپنی یاد تو کر!، ترکہ میں بانٹی جاتی تھی

وہ رحمت عالم آتا ہے‘ تیرا حامی ہو جاتا ہے
تو بھی انساں کہلاتی ہے، سب حق تیرے دلواتا ہے

ان ظلموں سے چھڑواتا ہے

بھیج درود اس مُحسن پر تو دن میں سو سو بار
پاک محمدؐ مصطفی نبیوں کا سردار

صلِّ علٰی محمَّدٍ

الفضل ’’خاتم النبیین نمبر مورخہ 12جون 1928ء صفحہ 71۔72
(درعدن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 نومبر 2020