• 1 دسمبر, 2020

حفظ مراتب

حفظ مراتب کے معنی مرتبے کا پاس یا لحاظ کرنےاور درجے کی رعایت یا ادب کا پاس کرنے کے ہیں ۔ عمر یا عہدہ سے بڑھے آدمی کو اس کا مقام دینا اور عزت سے پیش آنا حفظ مراتب کہلاتا ہے ۔ اسلام نے مرتبوں اور منصبوں کی تکریم و توقیر کی تعلیم دی ہے۔ بلکہ بعض نے تو اس کو ان علوم میں سے ایک علم قرار دیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سکھلائے جس کا ذکر سورۃ البقرہ آیت 32 میں ملتاہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ ۙ فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ ہٰٓؤُلَآءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ

ترجمہ: اور اس نے آدم کو تمام نام سکھائے پھر ان (مخلوقات) کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا مجھے ان کے نام بتلاؤ اگر تم سچے ہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہر چیز کے مراتب ہوتے ہیں ۔ مثلاً کپڑا ہے ۔ تو کھدر، ململ اور خاصہ لٹّھامحض کپڑا ہونے کی حیثیت سے تو کپڑا ہی ہیں۔ اور اس لحاظ سے کہ وہ سفید ہیں بظاہر ایک مساوات رکھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ریشم بھی سفید ہوتا ہے۔ لیکن کیا ہر آدمی نہیں جانتا کہ ان سب میں جدا جدا مراتب ہیں اور ان میں فرق پایا جاتا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ حفظ مراتب کی تفصیل میں بیان فرماتے ہیں:

گر حِفْظِ مَرَاتِبْ نَہ کُنِیْ زَنْدِیْقِیْ

پس جس طرح پر ہم سب اشیاء میں ایک امتیاز اور فرق دیکھتے ہیں ۔ اسی طرح کلام میں بھی مدارج اور مراتب ہوتے ہیں جبکہ آنحضرت ﷺ کاکلام جو دوسرے انسانوں کے کلام سے بالا تر اور عظمت اپنے اندر رکھتا ہے اور ہر ایک پہلو سے اعجازی حدود تک پہنچتا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کے برابر وہ بھی نہیں ۔ تو پھر اور کوئی کلام کیونکر اس سے مقابلہ کر سکتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 26)

یہاں حضرت مسیح موعود ؑ نے فارسی کا یہ مصرعہ استعمال فرمایا ہے:

گر حِفْظِ مَرَاتِبْ نَہ کُنِیْ زَنْدِیْقِیْ

اس کا ترجمہ یہ ہے: اگر تُو لوگوں کے مرتبہ کا خیال نہیں رکھتا تو، تُو بے دین ہے۔

یہ معروف صوفی شاعر مولانا نورالدین عبدالرحمن جامی کی اس رباعی کا ایک مصرعہ ہے

اے بُردہ گمان کہ صاحب تحقیقی
وندر صفت صدق و یقین صدیقی
ہر مرتبہ از وجود حکمی دارد
گر حفظ مراتب نہ کُنی زندیقی

اے وہ جو اپنے آپ کو دانشمندو عالم سمجھتے ہو اور درستی اور یقین کی صفت میں سچا۔تمہیں ہر مرتبہ کا احترام بجا لانے کا حکم ہے۔ اگر تُو لوگوں کے مرتبہ کا خیال نہیں رکھتا تو، تُو بے دین ہے۔

حفظ مراتب کا آغاز خود اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا جو مقام قرآن و حدیث میں بیان ہوا ہے وہ اللہ کو دیا جائے اللہ کے نام کو ادب و احترام سے لیا جائے ہنسی مذاق میں بھی اللہ تعالی کے متعلق کوئی تحقیرانہ فقرہ یا لفظ نہ بولا جائے۔ مشرکانہ مجالس میں بیٹھنا مناسب نہیں۔

اللہ کے لفظ کے ساتھ ’’تعالیٰ‘‘ لگانا بابرکت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اسمائے حسنہ کا نام لے کر اس کو پکارنے کا حکم سورۃ الاعراف آیت 181 میں یوں ملتا ہے۔

وَ لِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوہُ بِہَا ۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَآئِہٖ ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ

ترجمہ : اور اللہ ہی کے سب خوبصورت نام ہیں۔ پس اُسے ان (ناموں) سے پکارا کرو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارہ میں کج روی سے کام لیتے ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے رہے اس کی انہیں ضرور جزا دی جائے گی۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکریم و تعظیم

حفظ مراتب میں دوسرا نمبر ہمارے بہت ہی پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا آتا ہے۔ جن کے متعلق کہا گیا کہ جب تمہارے سامنے ’’محمد‘‘ کا نام لیا جائے تو اس پر درود بھیجو۔ اس کا 10 گنا ثواب ہو گا ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
’’وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا۔ یعنی انسان کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا نجوم میں نہیں تھا قمر میں نہیں تھا آفتاب میں بھی نہیں تھا۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اَتم اور اَکمل اور اعلیٰ اور ارفَعْ فرد ہمارے سید و مولی سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘‘۔

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ 160۔161)

پھر فرمایا:
’’میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی سچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کار انسان کو خدا کا پیارا بنا دیتا ہے ۔ اس طرح پر کہ خود اس کے دل میں محبت الہٰی کی ایک سوزش پیدا کر دیتا ہے۔ تب ایسا شخص ہر ایک چیز سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف جھک جاتا ہےاور اس کا اُنس و شوق صرف خدا تعالیٰ سے باقی رہ جاتا ہے۔ تب محبت الہٰی کی ایک خاص تجلّی اس پر پڑتی ہے اور اس کو ایک پورا رنگ عشق اور محبت کا دیکر قوی جذبہ کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ تب جذباتِ نفسانیہ پر وہ غالب آ جاتا ہے اور اس کی تائید اور نصرت میں ہر ایک پہلو سے خدا تعالیٰ کے خارق عادت افعال نشانوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 ص 67-68)

قرآن کریم کا مقام

رسول کریم ﷺ کے بعد دینی لحاظ سے حفظ مراتب میں قرآن کریم آتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’آج روئے زمین پر سب الہامی کتابوں میں سے ایک فرقان مجید ہی ہے کہ جس کا کلام الہٰی ہونا دلائل قطعیہ سے ثابت ہے۔ جس کے اصول نجات کے بالکل راستی اور وضع فطرتی پر مبنی ہے۔ جس کے عقائد ایسے کامل اور مستحکم ہیں جو براہین قویہ ان کی صداقت پر شاہد ناطق ہیں جس کے احکام حق محض پر قائم ہیں۔ جس میں توحید اور تعظیم الہٰی اورکمالات حضرت عزت کے ظاہر کرنے کے لئے انتہا کا جوش ہے جس میں یہ خوبی ہے کہ سراسر وحدانیت جناب الہٰی سے بھرا ہوا ہے اور کسی طرح کا دھبہ نقصان اور عیب اور نالائق صفات کا ذات پاک حضرت باری تعالیٰ پر نہیں لگاتا‘‘۔

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اول ص 81-82)

پھر فرمایا:
’’میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے 700 حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔‘‘

(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 ص 26)

انبیاء و رُسل کا مقام

حفظ مراتب میں تمام انبیاء و رسل پر ایمان بھی ضروری ہے۔ کسی کو تحقیر کی نظر سے نہ دیکھا جائے کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے بھجوائے گئے ہیں۔ آج کے دور میں بعض مسلمان حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کا نہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ گالی گلوچ اور بُرا بھلا کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتے جبکہ حفظ مراتب کے لحاظ سے ان کی عزت و تکریم تمام پر لازم ہے۔ پھر آپ کے خلفاء اور صحابہ کا درجہ آتا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی تحریرات اور کتب ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
ہمارا ایمان ہے کہ بزرگوں اور اہل اللہ کی تعظیم کرنی چاہئے لیکن حفظ مراتب بڑی ضروری شے ہے ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ حد سے گزر کر خود ہی گنہگار ہو جائیں اور آنحضرت ﷺ یا دوسرے نبیوں کی ہتک ہو جائے۔ وہ شخص جو کہتا ہے کہ کل انبیاء علیہم السلام حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ بھی امام حسینؑ کی شفاعت سے نجات پائیں گے۔اس نے کیسا غلو کیا ہے جس سے سب نبیوں کی اور آنحضرت ﷺ کی ہتک ہوتی ہے مگر میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ ان لوگوں نے حضرت امام حسینؑ کی تعریف میں اس قدر غلو کیا ہے مگر امام حسن رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے وقت ان لوگوں سے ایسا دلی جوش صادر نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ معلوم نہیں کہ کیا ہے شاید یہی باعث ہو کہ انہوں نے حضرت معاویہ کی بیعت کر لی تھی۔

(الحکم جلد 7 نمبر 16 صفحہ 8 مورخہ 30 اپریل 1903ء)

صحابہ رسول کی عزت و تکریم

حفظ مراتب میں صحابہ رضوان اللہ علیہم کا مقام و مرتبہ درجہ بدرجہ آتا ہے۔ آج اس آرٹیکل میں اس کا ذکربطور خاص ضروری ہے کیونکہ آج کل مسلمانوں میں بعض فرقے ایک دوسرے کے مسلمہ صحابہ کو بُرا بھلا کہنے میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ جبکہ تمام صحابہ رسول ؐ معزز اور مکرم ہیں۔ جن کے بارہ میں آنحضور ﷺ نے فرمایا ہے۔

اَصْحَابِیْ کَالْنُّجُوْمِ بِاَ یِّھِمْ اِقْتَدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُمْ کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جس کسی نے ان کی پیروی کی وہ ہدایت پا گیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:
’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دستور تھا کہ آپ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں اس طرح بیٹھتے تھے جیسے سر پر کوئی پرندہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان سر اوپر نہیں اٹھا سکتا۔ یہ تمام ان کا ادب تھا کہ حتی الوسع خود کبھی کوئی سوال نہ کرتے ۔ اگر باہر سے کوئی نیا آدمی آکر کچھ پوچھتا تو اسی ذریعہ سے جو کچھ آنحضرت ﷺ کی زبان سے نکلتا وہ سن لیتے۔ صحا بہ بڑے متأدب تھے‘‘۔

(ملفوظات جلد سوم ص 455)

عہدیداران کا مقام اور تکریم

جماعت احمدیہ میں عہدیداران کے مقام و مرتبہ کا پاس کرنا اور ان سے ادب سے پیش آنا بھی حفظ مراتب میں شامل ہے۔ بسا اوقات ایک ایسا انسان منتخب ہو جاتا ہے جس کو کوئی دوسرےانسان کی طبیعت قبول نہیں کر رہی ہوتی۔ ایسے میں بھی اطاعت ضروری ہے۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر آپ پر کوئی حبشی غلام بھی مسلط کر دیا جائے تو اس کی اطاعت کرو۔ اس کو اس کا حق اور مقام دو۔

اس حوالہ سے حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں:
’’قرآن جس کو اطاعت کہتا ہے وہ نظام اور ضبط نفس کا نام ہے یعنی کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انفرادی آزادی کو قومی مفاد کے مقابلہ میں پیش کر سکے۔ یہ ہےضبط نفس اور یہ ہے نظام‘‘۔

(تفسیر کبیر جلد10 ص 156)

اساتذہ کی عزت و تکریم

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم حاصل کرو، علم حاصل کرنے کے لئے وقار اور سکینت کو اپناؤ اور جس سے علم سیکھو اس کی تعظیم و تکریم اور ادب سے پیش آؤ۔

(الترغیب و الترھیب جلد1 ص 78)

تو اس سے طلبہ کے لئے نصیحت ہے کہ اپنے اساتذہ کی عزت کرو۔ ایک وقار ہونا چاہئے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد2 ص 411)

آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ جس سے تم علم حاصل کرو وہ بھی باپ کے زمرے میں آتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
’’یہ بات خوب یاد رکھنی چاہیے کہ خدا کا مامور جو ہدایت کرتا ہے اور روحانی اصلاح کا موجب ہوتا ہے۔ وہ درحقیقت باپ سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔ افلاطون حکیم لکھتا ہے کہ باپ تو روح کو آسمان سے زمین پرلاتا ہے، اگر استاد زمین سے پھرآسان پر پہنچاتا ہے۔ باپ کا تعلق توصرف فانی جسم کے ہی ساتھ ہوتا ہے۔ مرشد اور مرشد بھی وہ جو خدا کی طرف سے ہدایت کے لئے مامور ہوا ہو، اس کا تعلق روح سے ہوتا ہے جس کو فنا نہیں ہے۔ پھر جب وہ روح کی تربیت کرتا ہے اور اس کی روحانی تولید کا باعث ہوتا ہے تو وہ اگر باپ نہ کہلائے گا ، توکیا کہلائے گا ؟ اصل یہی ہے کہ یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں پر بھی کچھ توجہ نہیں کرتے ورنہ اگر ان کو سوچتے اور قران کو پڑھتے تو منکرین میں نہ رہتے‘‘

(ملفوظات جلد اول ص556)

معاشرتی مراتب

مخلوق الہٰی کی درجہ بدرجہ تکریم و تعظیم اب ہم معاشرے میں عام انسانوں ، عزیز و اقارب کی بات کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق قرار دیا گیا ہے۔ اوران کی عزت و تکریم لازماً ہے۔ انسانی معاشرے میں سب سے پہلے تو گھرانہ آتا ہے۔ جس میں بڑے چھوٹے اکٹھے مل جل کر زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ اس حوالہ سے آنحضور ﷺ کا یہ ارشاد ہر چھوٹے بڑے کو یاد رہنا چاہئے۔ مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَلَمْ يُوَقِّرْكَبِيرِنَا فَليْسَ مِنَّا۔ (ترمذی)

جس نے ہمارے معاشرے میں کسی چھوٹے پر رحم نہ کیا اور بڑے کااحترام نہ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

خاندان میں سب سے پہلے بزرگ آتے ہیں ۔ جن کا احترام اور ان کی دیکھ بھال ہم سب پر لازم ہے ۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا : اَ لْبَرَکَۃُ مَعَ اَکَابِرِ کُمْ (الترغیب و الترہیب) کہ برکت تمہارے بزرگوں کے ساتھ ہے۔ ہمارے مغربی معاشرے میں بزرگوں کو خاندان سے جدا کر کے اولڈ ایج ہومز (Old age homes) یا ڈے کئیر سنٹرز پر چھوڑ آتے ہیں۔ جبکہ ان بزرگوں کی گھروں میں موجودگی برکت کا موجب ہوتی ہے ۔ کہتے ہیں کہ انسان بڑھا پے میں ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ جس کو بچے کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کے لاڈ اور ادائیں پسند کرتے ہیں تو ان بزرگوں سے ادب سے پیش آنا اور ان کی باتوں کو برداشت کرنا چاہئے ۔

والدین سے حسن سلوک

بزرگوں میں سب سے پہلے والدین کا نمبر آتا ہے۔ ان کی اطاعت ، ان سے وفا ، ان سے حسن سلوک اور ان سے عزت و احترام کےساتھ پیش آنا ضروری ہے۔ جو انسان کو اس دنیا میں لانے کا موجب بنے ۔ا س لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک (بنی اسرائیل 24) اور اپنا شکر ادا کرنے کی تلقین کے ساتھ والدین کا بھی شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (لقمن:15) آنحضور ﷺ نے نماز وقت پر ادا کرنے کی تلقین کے ساتھ والدین سے حسن سلوک کا ذکر فرمایا ہے۔

(بخاری کتاب الجہاد)

آج مغربی حتی کہ مشرقی معاشرے میں بھی والدین کی تأدیب اس طرح نہیں کی جاتی یا ان کو اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ جس طرح ہمارے آباؤ اجداد کرتے رہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آنحضورﷺ نے والدین کی خدمت کو جہاد کے برابر ثواب کا موجب قرار دیا ہے اور عدم اطاعت اور گستاخی سے پیش آنے کو گناہ گردانا ہے۔

(صحیح مسلم کتاب الایمان)

بڑوں کا مقام

پس ماں باپ کا احترام لازم ہے کیونکہ ان کی مماثلت رب العالمین سے ملتی ہے۔ ساس سسر بھی اس زمرے میں آتے ہیں وہ بھی میاں یا بیوی کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا جس نے اپنی بیٹی دے دی یعنی ساس سسر بھی والدین ہیں۔ مراتب میں والدین کے بعد درجہ بدرجہ قریبی رشتے داروں سے حسن سلوک کی تلقین ملتی ہے (بخاری کتاب الادب)۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا: حَقُّ كَبِيرِ الْإِخْوَةِ عَلَى صَغِيرِهِمْ حَقُّ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ (حدیقۃ الصالحین صفحہ421) کہ بڑے بھائی کا حق اپنے چھوٹے بھائیوں پر ایسے ہی ہے جیسے والد کا حق اپنے بچوں پر یعنی بڑا بھائی ، بمنزلہ باپ کے ہے ۔ جس کا ادب و احترام بھی واجب ہے۔چچا تایا بھی صلبی رشتہ داروں میں سے ہیں۔ جو باپ کی مثل ہے (مسلم کتاب الزکوۃ) والد کی وفات کے بعد بچے کی پرورش چچا کے سپرد فرمائی۔

(ترمذی ابواب البرولصلہ)

خالہ کا درجہ و مرتبہ بھی ماں کے برابر ہے۔ ایک صحابی نےآنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ یا رسول اللہ! بڑا گناہ ہو گیا ۔ کیا توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا۔ ماں ہے؟ جواب ملا نہیں فرمایا خالہ ہے؟ جواب ملا۔ جی۔ فرمایا اس کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ خدا تیرا گناہ معاف کر دے گا۔

(ترمذی کتاب البرو الصلہ)

اس طرح ایک دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب حضرت حمزہ ؓ کی بیٹی حضرت علی ؓ کی طرف میرے چچا میرے چچا کہہ کر لپکی۔ حضرت علیؓ نے یہ فرماکر کہ یہ میری بہن ہے۔ اسے اٹھا لیا۔ اس پر حضرت زیدؓ نے آنحضورؐ سے عرض کی کہ حمزہ میرے مذہبی بھائی ہیں اس لئے یہ میری بہن ہے۔ حضرت جعفر ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ! اس کی خالہ میرے گھر میں ہے ۔ جس پر آنحضرت ﷺ نے بچی حضرت جعفرؓ کی گود میں ڈال دی۔ اور فرمایا: اَلْخَالَةُ بِمَنْزَلَةِ الْأُمِّ (بخاری کتاب المغازی)

اسی پر بس نہیں۔ اسلام نے حفظ مراتب کی تعلیم کے درس میں بہت دور کے لوگوں کو بھی شامل کیا ہے۔ حتی کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا۔ إِنَّ أَبرَّ البرِّ صِلَۃُ الرَّجُلُ اَھْلُ وُدِّ أَبِيهِ (مسلم) کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ کوئی والد کے دوستوں سے حسن سلوک کرے ۔ آنحضرت ﷺ حضرت خدیجؓہ کی سہیلیوں کے لئے احتراماً اٹھ کھڑے ہوتے اور ان کے لئے کپڑا بچھاتے اور ان کے گھروں میں اشیاء بھی بھجواتے تھے۔ الغرض والدین کے دوستوں کا احترام اور ان کی عزت اور ان سے حسن سلوک بھی جاری رکھنا چاہئے۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 نومبر 2020