• 30 نومبر, 2020

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں (قسط ہشتم)

مارچ 1990ء کی رپورٹ میں خاکسار نے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں رپورٹ دی جس کاموضوع تھا ’’ڈیٹن میں گورنر سٹیٹ آف اوہایو کی خدمت میں قرآن کریم‘‘۔ اس خبر کا پہلے ذکر ہو چکا ہے لیکن اس کی تفصیل خبر میں نہیں ہے۔ خاکسار اس کا ذکر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہے۔

’’سیدی! گورنر سٹیٹ آف اوہایو Hon Richard F. Celeste کی طرف سے دعوت نامہ ملا کہ وہ کولمبس سے ڈیٹن دو دن کے لئے آرہے ہیں اور 16 مارچ کو وہ ڈیٹن کو ایک دن کے لئے اوہایو سٹیٹ کے لئے Capital for a Day کا اعلان کریں گے۔ 15 مارچ کو ان کا استقبالیہ تھا اور 16 مارچ کو یہ تاریخی دن تھا۔ دعوت نامہ ملتے ہی خاکسار نے برادر مظفر احمد صاحب (صدر جماعت ڈیٹن و نائب امیر) سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ اس موقعہ پر انہیں قرآن کریم پیش کیا جائے ۔انہوں نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا۔ چنانچہ گورنر کے ڈیٹن میں انتظامیہ کمیٹی کےساتھ خاکسار نے متعدد مرتبہ رابطہ کیا اور پروگرام میں اپنا نام رکھوایا۔

اسقبالیہ میں برادر مظفر صاحب، برادر بشیر احمد صاحب اور خاکسار (سید شمشاد احمد ناصر) تھے۔ اس موقعہ پر برادر مظفر صاحب نے خاکسار کا بہت سے لوگوں سے تعارف بھی کرایا۔ کچھ عرب اور ایرانی بھی تھے ان کے ساتھ رابطہ ہوا۔ لیکن مسلمانوں کی لوکل تنظیم کا کوئی نمائندہ نہ تھا۔ اس میں کوئی 400 کے قریب شہر کی اہم شخصیات مدعو تھیں۔ اگلے روز ایڈٹو ایم B کے، سن کلیر کالج میں تاریخی فنکشن تھا۔ انتظامیہ کمیٹی نے خاکسار کو بتایا کہ پہلے دن استقبالیہ کے لئے آپ 3 ممبران کا وفد لا سکتے ہیں اور دوسرے دن 16 مارچ کو 10 احباب کا۔ چنانچہ ہم اس تاریخی فنکشن میں شامل ہوئے۔ الحمد للہ

اگلے روز برادر مظفر صاحب اپنے کسی کام سے کینیڈا چلے گئے اس وجہ سے وہ 16 مارچ کے فنگشن میں شریک نہ ہو سکے۔ اس تقریب میں قریباً 300 افراد شامل تھے۔

پہلے گورنر کو سٹیج پر بلانے کے لئے کالج کے چیئرمین نے تقریر کی۔ پھر لیفٹیننٹ گورنر نے اور پھرگورنر نے تقریر کی۔ اس کے بعد میئر نے گورنر کو تحائف پیش کئے اور گورنر نے خاکسار کو سٹیج پر بلایا۔ خاکسار نے تشہد کے بعد جماعت کا مختصراً تعارف پیش کیا اور جماعت احمدیہ کی ’’قرآن کی خدمت‘‘ خصوصاً تراجم کے سلسلہ میں بیان کی۔ اور گورنر کی خدمت میں قرآن کریم شارٹ کمنٹری والا (انگریزی ترجمہ) پیش کیا۔ اس کے بعد پھر خاکسار نے حاضرین کو بتایاکہ ہم خداتعالیٰ کے فضل سے اس وقت دنیا کے 125 ممالک میں جماعت احمدیہ کا مشن قائم کر چکے ہیں اور اس وقت اپنی صد سالہ جوبلی کی تقریبات منا رہے ہیں۔ اور اس موقع کی مناسبت سے گورنر کی خدمت میں احمدیہ جوبلی کا ’’Pen Set‘‘ پیش کرتا ہوں۔ اس کے بعد خاکسار نے لیفٹیننٹ گونر Hon Paul Leonard کو بھی قرآن کریم اور احمدیہ جوبلی کا پین سیٹ پیش کیا۔ اور گورنر کی کابینہ کے ہر ممبر کے لئے اسلامی اصول کی فلاسفی کا انگریزی ترجمہ پیش کیا جو کہ گورنر صاحب نے ہی وصول کیا۔ اپنے شکریہ کے ریمارکس میں گورنر صاحب نے کہا:

I deeply grateful and specially I appreciate having a copy of the Holy Quran tرanslated in English.

ٹی وی چینل 30 پر یہ ہماری ’’Presentation‘‘ کی ساری کارروائی دکھائی گئی تھی اور پھر دوبارہ 2 مئی کو بھی دکھائی گئی۔ گورنر صاحب اور لیفٹیننٹ گورنر صاحب کو حضورؒ کا جوبلی کا پیغام بھی دیا گیا تھا۔‘‘ گورنر کی طرف سے خاکسار کے نام شکریہ کا خط بھی آیا تھا۔

اسی رپورٹ میں خاکسار نے لکھا ’’ڈیٹن کے ساتھ ایک اور شہر Xenia (زینیا) ہے (اس کے بارہ میں پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے) یہاں سے ایک اخبار زینیا گزٹ نکلتا ہے۔ اس اخبار کے (مذہبی سیکشن) ایڈیٹر سے فون پر رابطہ کیا اور اسے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی کتاب ‘‘مذہب کے نام پر خون’’کا انگریزی ترجمہ بھجوایا۔ دوبارہ فون کیا تو پتہ چلا کہ وہ تبدیل ہو کر کسی اور جگہ چلے گئے ہیں جو نئے ان کی جگہ آئے ان سے متعدد مرتبہ فون پر رابطہ کیا اور ملاقات کا وقت لیا گیا اور اپنی صد سالہ جوبلی کے بارہ میں خبریں دیں چنانچہ انہوں نے 24 مارچ کی اشاعت میں خبر دی۔ بعد میں خاکسار نے انہیں شکریہ کا فون بھی کیا۔ اس کے علاوہ انہیں احمدیوں پر پاکستان میں مظالم پر مشتمل ایک ڈاکومنٹری بھی دی۔ اس اخبار کی اشاعت 11 ہزار ہے۔‘‘

TN ۔ ٹے نے سی سٹیٹ میں جس اخبار نے جوبلی کی خبر دی تھی ان کو بھی خاکسار نے ’’احمدیوں پر پاکستان میں مظالم کی رپورٹ‘‘ بھجوائی۔
مئی 1990ء کی رپورٹ میں اخبارات اور پریس سے رابطہ کے بارہ میں خاکسار نے اپنی رپورٹ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت اقدس میں لکھا کہ خاکسار نے اپنے علاقہ کے دو اخبارات سے رابطہ کیا اور ڈیٹن ڈیلی نیوز کے سٹاف رائٹر کو ’’خلافت ڈے‘‘ کے بارے میں انٹرویو دیا۔ چنانچہ اخبار نے اپنی 19 مئی کی اشاعت میں بڑی عمدہ رپورٹ شائع کی۔ بہت سے مسلمانوں اور عیسائیوں نے یہ خبر پڑھ کر خاکسار کو بتایا کہ آپ کی خبر شائع ہوئی ہے۔ ایفروامریکن اخبار ڈیٹن ڈیفنڈر نے بھی گورنر اور لیفٹیننٹ گورنر کو قرآن کریم کا تحفہ دینے کی خبر شائع کی۔

ڈیٹن میں مقامی طور پر 27 مئی کو خدام الاحمدیہ کی زیرنگرانی لوکل خلافت ڈے منایا گیا اس سے قبل یہاں ریجنل خلافت ڈے بھی منایا گیا تھا۔ لوکل خلافت ڈے میں برادر حبیب شفیق صاحب اور برادر شکور صاحب قائد خدام الاحمدیہ اور برادر اسرافیل صاحب نے تقاریر کیں۔ مکرم اسرافیل احمد صاحب کی تقریر کی ٹی وی والوں نے کوریج دی۔ اس موقعہ پر چینل نمبر 7 اور چینل نمبر 22 والے آئے ہوئے تھے انہوں نے متعدد مرتبہ مختلف اوقات میں کوریج دی۔ الحمدللہ

جون 1990ء کی ڈائری میں خاکسار نے لکھا جو حضور خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت میں بھجوائی گئی کہ
’’Mr David E. Kepple جو یہاں کے سب سے بڑے اخبار کے سٹاف رائٹر ہیں اور مذہبی سیکشن کے انچارج بھی ہیں، کو خاکسار نے مشن ہاؤس آنے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کی۔ چنانچہ انہوں نے ایک گھنٹہ مشن ہاؤس میں گزارا اور بہت عمدہ سوالات کئے۔ اس دوران انہیں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی کینیڈا کی ایک سوال و جواب کی ویڈیو کیسٹ بھی دکھائی گئی۔ جس میں حضورؒ نے ’’امام خمینی اور سلمان رشدی‘‘ کے بارہ میں ایک سوال کا جواب دیا تھا۔ اس کو سن کر یہ اخبار کے سٹاف رائٹر بہت متاثر ہوئے۔ خاکسار نے انہیں ریویو آف ریلیجنز کے دو شمارے بھی دیئے۔
اسی رپورٹ میں خاکسار نے ’’اخبارات کے ذریعہ احمدیت کا پیغام و تبلیغ‘‘ کے عنوان سے یہ ذکر کیا کہ ڈیٹن کے مضافات کے 3 شہروں میں سے جو اخبارات نکلتے ہیں ان میں ایک تبلیغی اشتہار دیا گیا۔ جس کا عنوان یہ تھا:

“Promised Messiah has Come”

یعنی مسیح موعود آچکے ہیں۔

اس کے علاوہ کل 6 اخبارات کے ساتھ مختلف شہروں میں رابطہ کیا گیا اور انہیں جلسہ سالانہ ڈیٹرائٹ کی خبر اور انٹرویوز دیئے۔

ایک اخبار یہاں سے 40 میل دور سپرنگ فیلڈ سے نکلتا ہے۔ خاکسار اس اخبار کے دفتر بھی دو مرتبہ ایڈیٹر صاحب سے ملنے گیا اور فون پر بھی رابطہ رکھا۔ اس اخبار کی سرکولیشن 45 ہزار ہے۔

زینیا گزٹ اور فیئر بارن اخبارات کے دفاتر میں بھی خاکساردو دو مرتبہ گیا اور ان کے سٹاف رائٹر سے فون پر بھی بات کی۔ نیز ان اخبارات کے نمائندگان کو جلسہ سالانہ امریکہ میں شرکت کے دعوت نامے بھی دیئے۔

اسی رپورٹ میں خاکسار نے مزید لکھا کہ عیدالاضحیہ یہاں پر 3 جولائی کو ہونی تھی اس لئے ڈیٹن ڈیلی نیوز کے نمائندہ کو فون کر کے عید کے پروگرام کے بارے میں بتایا گیا۔ انہوں نے مختصرا سی عید کے بارے میں خبر دی۔ کل 6 اخبارات کے 7 تراشے ارسال کئے گئے۔

جولائی 1990ء کی رپورٹ میں خاکسار نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت اقدس میں لکھا۔ (اصل بات لکھنے سے پہلے یہاں ایک واقعہ درج کر رہا ہوں جو اس رپورٹ میں لکھا ہے جو میرے لئے بھی دلچسپی کا باعث ہے)

12 جولائی کو خاکسار ویسٹ ڈیٹن کے علاقہ میں گیا ۔یہ علاقہ سارے کا سارا ایفرو امریکن کا علاقہ ہے ۔یہاں پر حکومتی سطح پر ایک پروگرام تھا کہ ’’ڈرگس اور نشہ آور چیزوں کی کس طرح روک تھام کی جائے‘‘۔ اس کے لئے خاکسار کو بھی دعوت نامہ آیا تھا اس میٹنگ میں 150 بچے اور والدین شامل تھے اور مذہبی پاسٹر بھی۔ خاکسار نے دعوت نامہ ملتے ہی آرگنائزر سے فون پر اس موقعہ پر تقریر کرنے کی اجازت لی۔ جو انہوں نے بخوشی قبول کی اور اس طرح یہاں پر نشہ آور چیزوں یعنی شراب اور ڈرگس کے بارے میں کہ اسلام نے ان چیزوں کو حرام اور ممنوع قرار دیا ہے، بیان کرنے کا موقع ملا اور نئے عہدنامہ سے خاکسار نے انہیں سنایا کہ عیسائی اس پروگرام کو کامیاب نہیں بنا سکتے۔ نہ اس موضوع پر کوئی مؤثر بات کر سکتے ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ نے پہلا معجزہ دکھایا وہ پانی کو شراب بنانے کے لئے ہی تھا ۔(یوحنا باب نمبر 2 آیات 6تا9) اب عیسائی کس طرح نشہ آور چیزوں سے روک سکتے ہیں۔ یہ کام صرف اسلام کا ہی ہے کیونکہ بانی اسلام نے شراب اور نشہ آور چیزوں کو کلیۃ حرام قرار دیا ہے اور جب شراب حرام ہوئی تو مدینہ میں سب نے شراب کے مٹکے توڑ دیئےتھے۔ اس لئے ہمار احق ہے کہ ہم آپ کو اس کے مضر اثرات سے بچائیں اور آپ کو کہیں کہ یہ شراب پینا اور دیگر نشہ آور چیزیں انسانی صحت کے لئے مضر ہیں اس لئے ان کا استعمال نہ کریں۔ خاکسار کی تقریر کے بعد سب نے تالیاں بجائیں اور پھر خاکسار نے اُن کے سوالات کے جوابات بھی دیئے اور تقریر کے بعد ایک دو پادریوں نے شکریہ بھی اداکیا کہ آپ کی بات واقعی درست ہے۔ (یہ تفصیل خاکسار کی رپورٹ میں نہیں ہے لیکن خاکسار کو اچھی طرح یاد ہے کہ یہ بات بیان کی گئی تھی)۔ الحمدللہ

اسی رپورٹ میں خاکسار نے یہ بھی لکھا کہ خاکسار FairBorn ڈیٹن سے قریباً 20 میل دور ہے ۔یہاں پر کوئی احمدی نہیں ہے، یہاں سے ایک اخبار نکلتا ہے۔ خاکسار اُن کے دفتر گیا اور انٹرویو دیا۔ انہیں اپنے پمفلٹ دکھائے، پوسٹر دکھائے اور اس شہر میں اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔ خاکسار دوسرے اخبارات کی چند ایک خبریں بھی ساتھ لے کر گیا تھا وہ انہیں دیں۔ (اس کا بھی بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی نئے شہر یا نئے اخبار یا TV سٹیشن اور ریڈیو والوں کے دفاتر میں جائیں تو کچھ اپنا پرانا ریکارڈ ساتھ لے جائیں اور انہیں وہ دکھائیں ۔اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے اور وہ اس سے اپنی خبر بنانے میں اسے مفید سمجھتے ہیں) اس اخبار والوں کو ایک تبلیغی اشتہار بھی شائع کرنے کے لئے دیا۔ اسی طرح جماعتی پوسٹر کو وہاں کی پبلک لائبریری کےسامنے لگایا۔ لوگوں نے پوسٹر بھی پڑھے اور لٹریچر بھی لیا۔ پھر خاکساروہاں سے اپنے پوسٹر لے کر ڈاکخانے چلا گیا۔ پوسٹ آفس کے اندر کام کرنے والے اس وقت صرف دو آدمی تھے ۔پہلے انہیں اپنا تعارف کرایا اور پھر لٹریچر دیا پھر ان سے پوسٹ آفس کے باہر لٹریچر تقسیم کرنے کی اجازت لی۔ جو انہوں نے دے دی۔اس طرح وہاں پر چیمبر آف کامرس میں بھی گیا۔ 2 احباب کو لٹریچر دیا۔ ایک نوجوان جس نے پوسٹ آفس کے سامنے لٹریچر لیا تھا وہ لائبریری میں مل گیا اس کے ساتھ پھر تبلیغی گفتگو ہوئی۔

اس نے اپنا ایڈریس دیا اسے ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ کا انگریزی ترجمہ بھجوایا گیا۔ یہاں کی لائبریری میں لائبریرین سے ملا۔ اسلام و احمدیت کے لٹریچر کی پیشکش کی۔ خاکسار یہاں ایک بار پھر گیا۔ ایک خاتون نے اخبار میں ہمارا اشتہار پڑھا تھا اس کے ساتھ ملاقات کی اور اسے بھی کتاب ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ کا انگریزی ترجمہ دیا جاچکا تھا اس کے ساتھ 45 منٹ تک تبلیغی گفتگو ہوئی۔ یہ ایک معمر خاتون ہیں اس نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کر رکھا تھا اور کتاب پر نوٹس اور سولات لکھے ہوئے تھے جن کا جواب دیا۔ اس خاتون نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے چرچ کے پاسٹر سے بات کر کے اپنے چرچ میں میری تقریر بھی کرائیں گی۔ چنانچہ خاکسار نے ان کے پاسٹر کے لئے بھی کچھ اسلامی کتب تحفہ دیں:
خاکسار اُس نوجوان کے گھر بھی گیا جس کو کتب بھجوائی گئی تھیں اس نے بھی بتایا کہ وہ کتب مل گئی ہیں اور وہ ان کا مطالعہ کر رہا ہے۔ اس کے بعد خاکسار یہاں کے ایک شاپنگ سینٹر گیا وہاں پر ایک ہاتھ میں اپنا پوسٹر پکڑ کر رکھا جس پر لکھا تھا۔

Good News. Messiah has Come.

خوشخبری۔ مسیح آچکے ہیں۔ مسیح آچکے ہیں۔

لوگ اسے پڑھتے تھے اور لٹریچر بھی لیتے تھے چنانچہ ایک جوڑے نے لٹریچر لیا اور چلا گیا۔ نصف گھنٹہ کے بعد وہ واپس آیا ان کے ہاتھ میں بائبل تھی۔ انہوں نے سوالات شروع کر دیئے۔ خاکسار جواب دیتا رہا۔ آخر میں طے پایا کہ وقت مقرر کریں گے اور پھر بیٹھ کر آرام سے باتیں کریں گے۔ انہوں نے مجھے اپنا گھر دکھایا کہ ان کے گھر جا کر گفتگو ہو گی۔ اگلے روز انہیں مزید لٹریچر بھجوایا گیا۔ تا میرے وہاں آنےسے پہلے وہ مزید مطالعہ کر لیں۔ جب خاکساردوبارہ ان کے گھر گیا تو بڑے اچھے دوستانہ ماحول میں بات ہوئی۔ ان کے وہاں ایک مصری خاتون کے ساتھ بھی جو اپنے بچوں کے ساتھ تھی ،گفتگو کا موقعہ ملا۔ اسے اگلے روز عربی زبان میں لٹریچر بھجوایا گیا۔ اس دن بھی قریباً اسی شہر میں 5 گھنٹے گزارے اور قریباً 70 افراد کو پڑھنے کے لئے لٹریچر دیا گیا۔ اس علاقہ کے دو پولیس افسران سے بھی ملا اور انہیں بھی اپنا تعارف کرایا، لٹریچر دیا۔

خاکسار نے مزید لکھا کہ اس علاقہ میں اخبار میں تبلیغی اشتہار اور خبریں شائع ہونے کی وجہ سے جماعت احمدیہ کا اچھا تعارف ہو گیا ہے۔ الحمدللہ

پریس اور اخبارات کے ساتھ رابطہ کے حوالہ سے خاکسار نے اپنی اسی رپورٹ میں مزید یہ بھی لکھا:
1۔ Fair Born اخبار کے دفتر دو مرتبہ گیا۔ حضور رحمہ اللہ کی 24 فروری کی لندن میں جو تقریر تھی اس کا خلاصہ اور اسی طرح ‘‘مذہب کے نام پر خون’’کتاب کا ریویو بھی انہیں دیا گیا تااگر وہ اسے شائع کرنا چاہیں تو شائع کر یں۔
2۔ ڈیلی ڈیٹن نیوز کے دفتر بھی دو مرتبہ گیا اور انہیں بھی حضور رحمہ اللہ کی 24 فروری کی تقریر کا خلاصہ اور ’’مذہب کے نام پر خون‘‘ کا ریویو دیا گیا ۔
3۔ اخبار ڈیٹن ڈیفنڈر کے دفتر بھی 3 مربتہ گیا۔ ان سب اخبارات کے سٹاف رائٹرز یا مذہبی سیکشن میں لکھنے والوں سے ملاقات کی جاتی رہی۔
4۔ Spring Field کے دفتر میں فون پر رابطہ رکھا گیا۔
5۔ زینیا گزٹ کے دفتر بھی گیا۔ انہیں بھی حضور رحمہ اللہ کے 24 فروری کے لندن کے خطاب کا خلاصہ اور ’’مذہب کے نام پر خون‘‘ والی کتاب کا ریویو دیا۔
6۔ عرصہ زیر رپورٹ میں 3اخبارات میں تبلیغی اشتہار بھی شائع کرایا گیا۔

اگست 1990ء کی رپورٹ میں خاکسار نے پریس اور میڈیا سے رابطہ کے سلسلہ میں جو کام کیا تھا اس کی تفصیل درج ہے:
پریس کانفرنس ڈیٹن میں مسجد احمدیہ میں پریس کانفرنس ہوئی۔ 3 ٹی وی سٹیشن والے اور ایک اخبار کے نمائندہ نے شرکت کی۔ برادر مظفر احمد صاحب ظفر اور خاکسار نے پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب دیئے۔ ہر سہ سٹیشن نے دو دو مرتبہ ہماری خبر دی اور اگلے دن کی اشاعت میں اخبار نے بھی خبر دی۔ ٹی وی والوں نے جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ بیان کیا۔ حضور انور ؒکی کتاب مذہب کے نام پر خون کے انگریزی ترجمہ والی تصویر بھی نمایاں پورے سائز کی دکھائی۔ ہمارے پاس اس کا پوسٹر موجود تھا۔ اور پھر ایک پوسٹر جو تبلیغ کے لئے تیار کیا گیا تھا اس کا اتنا حصہ کہ Islam is the only Solution. دکھایا گیا۔ یہ اخبار یہاں کا سب سے بڑا اخبار ہے ۔2 لاکھ اشاعت ہے۔ پریس اور ٹی وی والوں کو لندن سے آمدہ پریس ریلیز دیا گیا تھا۔

پریس کے ساتھ رابطہ

1۔ رائٹ سٹیٹ یونیورسٹی آف ڈیٹن کا ایک پرچہ ڈیلی نکلتا ہے جس کا نام ڈیلی گارڈین ہے ان کے سٹاف رائٹر سے جاکر ملا۔ اسےجماعت کا تعارف اور 2 خبریں دی گئیں۔
2۔ فیئربورن کے اخبار کی سٹاف رائٹر اور نیوز ایڈیٹر سے فون پر رابطہ رکھا گیا۔ ایک مرتبہ ان کے دفتر بھی گیا اور لندن سے آمدہ پریس ریلیز عراق و کویت کے مسئلہ پر جو کہ حضور انور ؒکی ہدایت کے مطابق تھاانہیںدیاگیا۔
3۔ کیٹرنگ اخبار کے دفتر گیا۔ Victorian Ross یہاں کے اخبار کی نیوز ایڈیٹر ہیں۔ ان کے ساتھ 20 منٹ تک تعارف ہوا اور خاکسار نے لندن سے آمدہ پریس ریلیز انہیں دیا۔
4 ۔ڈیٹن ڈیلی نیوز کےا یک نئے رائٹر سے ملاقات ہوئی تھی۔ 2 مرتبہ اس کے ساتھ بھی فون پر رابطہ کیا گیا۔
5۔ زینیا گیا۔ یہ ڈیٹن سے 20 میل دور ایک اور شہر ہے یہاں پر بھی لندن سے آمدہ پریس ریلیز دیا گیا۔
6۔ 2 مرتبہ ڈیٹن کے ایک اور اخبار ڈیٹن ڈیفنڈر کے دفتر گیا۔ اور ان کے سٹاف رائٹر سے ملاقات کی۔
7۔ کلیو لینڈ میں یہاں کے تین اخبارات سے رابطہ کیا۔ ایک اخبار نے ہمارےسمر سکول گرلز کی خبر بھی دی۔
8۔ ٹی وی کے چینل 22 اور چینل نمبر7 کے دفاتر بھی گیا اور مزید رابطہ بڑھایا۔

ستمبر 1990ء کی رپورٹ میں وہ حصہ خاکسار پیش کرتا ہے جو علاقہ میں پریس سےرابطہ کے بارہ میں ہے۔ خصوصاً وہ ہدایات اور نقاط جو لندن سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی طرف سےآئی تھیں، ان کے بارے میں ہے۔

ڈیٹن میں First Baptist چرچ والوں کی طرف سے عیسائیوں کےد وسرے فرقوں یہودی اور مسلمانون کو ’’امن کے لئے دعا‘‘ کرنے کے لئے ایک دعوت نامہ دیا۔ چنانچہ 5 عیسائی فرقوں، ایک یہودی، ایک مسلمان نمائندہ اور جماعت احمدیہ کی طرف سے خاکسار نے نمائندگی کی۔ مڈل ایسٹ میں جو حالات ہیں ان کے بارہ میں دعا کرنی تھی۔ ہر ایک نے دعا بھی کی تقریر بھی کی۔ خاکسار نے بھی اسلامی نقطہ نگاہ سے دعا کی اہمیت بتلائی۔ انبیاء کرام نے جس رنگ میں دعائیں کی ہیں ان کا طریق کار بتلایا اور مسلسل دعا کرنے کی طرف توجہ دلا کر سورۃ فاتحہ اور اس کا ترجمہ سنایا۔

اس موقعہ پر پادریوں، یہودیوں کے نمائندہ اور دیگر اہم شخصیات کو Invitation to all good Christians جو کہ محترم مشنری انچارج صاحب مولانا شیخ مبارک احمد صاحب کی ایک تقریر ہے دی گئی۔ قریباً 12 شخصیات کو یہ رسالہ دیا گیا۔

تبلیغی اشتہار Fair Born کے اخبار جس کی اشاعت دس ہزار ہے میں ایک تبلیغی اشتہار شائع کرایا گیا۔

پریس کانفرنس عرصہ زیر رپورٹ میں دو جگہ ڈیٹرائیٹ اور کلیولینڈ میں پریس کانفرنس کی گئی۔ ۔ ڈیٹرائٹ میں بھی ایک چینل نمبر7 نے کوریج کی اور ایک اخبار کے نمائندہ نے شرکت کی۔ ایک اخبار کو پریس ریلیز Fax کے ذریعہ بھجوایا گیا۔ فون پر اس کے ساتھ متعدد مرتبہ رابطہ کیا۔ اس کے سوالوں کے جواب دیئے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگلے دن کی اشاعت میں اس نے خبر دی۔ چینل نمبر 7 بھی یہاں کا سب سے بڑا چینل ہے۔ اس نے بھی شام کی خبروں میں بہت اچھی کوریج دی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر پوری سکرین پر دکھائی جو کہ 24×36 انچ والی ہے یہ خاکسار ساتھ لے کر گیا تھا۔ اس کے علاوہ Islam is the only Solution of the Problems of mankind. والا پوسٹر بھی ساتھ لے کر گیا تھا۔ وہ بھی آویزاں کیا گیا تھا۔ یہ بھی انہوں نے پورا دکھایا اس کے علاوہ حضورؒ کی ہدایت کے مطابق بھی پریس ریلیز تھی اس سے بھی انہوں نے سنایا اور ملک ناصر محمود صاحب صدر جماعت، مکرم ڈاکٹر محمد سوہنا صاحب آف گیمبیا، اور ایک خادم عرفان شیخ صاحب اور خاکسار کا انٹرویو بھی نشر کیا۔ الحمدللہ۔ سب احباب اس بات پر بہت خوش ہوئے کہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی تصویر انہوں نے دکھائی۔ الحمدللہ۔ اچھی خبر دی تھی۔

کلیولینڈ میں بھی پریس کانفرنس تھی۔ مگر شہر میں ہنگامے اور آگ لگنے کے واقعات کی وجہ سے کوئی بھی نہ آیا۔ اگلے روز خاکسار نے مختلف چینلز سے خود رابطہ کیا۔ چنانچہ چینل نمبر43کی انتظامیہ مان گئی۔ مگر انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے سٹوڈیو آجائیں۔ یہاں پر ہم انٹرویو لیں گے۔ خاکسار مکرم ڈاکٹر جعفر علی صاحب اور مکرم مائیکل حمید الرحمن صاحب کے ساتھ ان کے سٹوڈیو گیا۔آدھا گھنٹہ تک انٹرویو ہوا۔ الحمد للہ اسی روز رات کو 10 بجے کی خبروں میں انہوں نے بڑی اچھی خبر دی۔ الحمد للہ

پریس کے ساتھ رابطہ

1۔ عرصہ زیر رپورٹ میں زینیا گزٹ والوں سے فون پر 2 مرتبہ رابطہ ہوااور ان سے پریس ریلیز کے بارہ میں دریافت کیا گیا اور اب انہیں ایک خط ایڈیٹر کے نام بھجوایا گیا جو کہ مڈل ایسٹ کے بارے میں تھا۔
2۔ کیٹرنگ اخبار کی ایڈیٹر سے گزشتہ ماہ مل کر انہیں پریس ریلیز دیا گیا تھا۔ پھر وہ اچانک چھٹی پر چلی گئیں۔ ان کے اخبار کےاسسٹنٹ ایڈیٹر صاحب سے 2 مرتبہ رابطہ کیا گیا اور ان سے بھی پریس ریلیز کی اشاعت کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ ایک خط ایڈیٹر کے نام بھی اب بھجوایا ہے۔
3 ۔ Fairborn کے اخبار والوں کےساتھ بھی فون پر رابطہ رکھا گیا اور پریس ریلیز کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ اللہ تعایٰ کے فضل سے انہوں نے خبر شائع کر دی ہے۔
4۔ ڈیٹن میں یہاں کے سب سے بڑے اخبار کے ایڈیٹر کے نام ایک خط مڈل ایسٹ کے بارے میں بھجوا کر فون پر رابطہ کیا۔ اس کے علاوہ اس اخبار کے مذہبی سیکشن کے رائٹر سے ذاتی طور پر ان کے دفتر جا کر بھی ملاقات کی۔
5۔Spring Field کے اخبار کے ساتھ فون پر رابطہ کیا انہیں بھی لندن سے آمدہ پریس ریلیز اور ایک خط ایڈیٹر کے نام بھجوایا گیا۔
6۔Huber Hights ایک جگہ ہے ڈیٹن کے ساتھ یہاں سے ان کا اپنا ایک اخبار نکلتا ہے۔ ان کے ساتھ فون پر رابطہ کیا گیا اور ایڈیٹر سے ملاقات کا وقت بھی ملا۔
7۔ ڈیٹرائٹ میں وہاں کے سب سے بڑے اخبار ’’ڈیٹرائٹ نیوز‘‘ کے علاوہ جس نے ہماری خبر دے دی ہے کے علاوہ مندرجہ ذیل اخبارات سے فون پر متعدد مرتبہ رابطہ کیا گیا۔
1.Southfiled Ecuntric News
2.The Michigan Chronicle
نمبر 2 اخبار کے نمائندہ نے انٹرویو بھی لیا۔ اس کے علاوہ چینل نمبر 2 اور نمبر4 کے ساتھ بھی متعدد مرتبہ فون پر رابطہ کیا گیا۔ چینل نمبر 4 نے کہا کہ وہ خاکسار کو مڈل ایسٹ کے بارے میں انٹرویو کے لئے ڈیٹن سے بلائیں گے۔ واللہ اعلم۔ ان کے ساتھ بھی رابطہ کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ
8 ۔ کلیولینڈ میں چینل نمبر8 ، نمبر5 اور نمبر3 کے ساتھ متعدد مرتبہ رابطہ کرنا پڑا مگر وہ ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔ صرف ایک چینل نمبر43 نے کوریج دی۔ جس کی تفصیل لکھ دی ہے۔ البتہ یہاں پر بھی اخبارات کے ساتھ خاکسار نے متعدد مرتبہ رابطہ کیا۔ یہاں کے سب سے بڑے اخبار The Plain Dealer جس کی اشاعت 5 لاکھ ہے، سے 4 مرتبہ رابطہ کیا گیا۔ پہلے تو ایڈیٹر صاحب کے ساتھ پھر انہوں نے ایک رپورٹر کے ساتھ فون پر رابطہ کرادیا۔ چنانچہ انہوں نے تعارف اور انٹرویو لیا۔ جب خاکسار نے یہ بتایا کہ میں تو پریس ریلیز دینا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا کہ یہ پریس ریلیز آپ میرے نام پر Fax کر دیں۔ چنانچہ مکرم نسیم رحمت اللہ صاحب کے ذریعہ فوراً فیکس کرایا گیا۔ پھر ان کا فون آیا اور فون پر مزید سوال وجواب ہوئے جب خاکسار ڈیٹن پہنچ گیا تو انہوں نے کلیو لینڈ سے ڈیٹن فون کیا کہ ہم اس پریس ریلیز کی ایک مختصر خبر بنا کر شائع کریں گے جس پر خاکسار نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس اخبار نے مکرم صدر جماعت نسیم رحمت اللہ صاحب کا ایک خط بھی شائع کیا ہے۔
9۔ اس کے علاوہ یہاں ہماری مسجد کے علاقہ سے دو اخبار نکلتے ہیں خاکسار ان کے دفتر گیا اور لندن سے آمدہ پریس ریلیز اور انٹرویو دیا۔

ان دونوں اخباروں میں ہمارا ایک اشتہار بھی شائع ہوا جو مڈل ایسٹ کے حالات کے بارے میں ہے اور لندن سے آمدہ پریس ریلیز کا خلاصہ ہی ہے جو شائع کرایا گیا۔

اکتوبر 1990ء کی رپورٹ میں پریس اور میڈیا سے رابطہ کی رپورٹ یوں درج ہے

اللہ تعالیٰ کے فضل سے عرصہ زیر رپورٹ میں 3 اخبارات میں جماعتی خبریں شائع ہوئیں۔

1۔ ڈیٹن ڈیلی نیوز میں خط شائع ہوا اس اخبار کی اشاعت 2 لاکھ ہے بہت سے لوگوں نے یہ خط پڑھ کر سراہا اور اس اخبار نے مڈل ایسٹ کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر سے متعلق پہلے بھی خبر دی تھی۔
نوٹ یہ وہ ایام ہیں جب مڈل ایسٹ خصوصاً عراق پر حملہ کی تیاریاں زور شور سے ہو رہی تھیں اور امریکہ اپنے اتحادیوں کےساتھ مل کر یہ کر رہا تھا۔ اس وقت جماعت احمدیہ کے امام سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے گلف کرائسز پر بہت سارے خطبات دیئے تھے اور ان ملکوں کی خصوصاً عرب ملکوں کی راہنمائی کی تھی اور بتایا تھا کہ اسلامی طور پر جو قرآن شریف کہتا ہے اس کا حل کریں اور سورۃ الحجرات سے بار بار استدلال پیش فرمایا تھا۔ بار بار انہیں متنبہ کیا تھا کہ اگر یہ جنگ ہوئی تو ان ملکوں خصوصاً عراق کا کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔ لیکن افسوس! مسلمان ملکوں نے اس بات پر بالکل کان نہیں دھرے اور بالکل اسلامی حل کی پرواہ نہ کی جو جماعت احمدیہ نے قرآن شریف سے ان کے سامنے بیان کیا یا پیش کیا۔ لیکن یہاں جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی طرف سے جو ہدایات ملتی تھیں انہیں بار بار پریس کے سامنے پیش کیا گیا تا امریکہ کے عوام کی آنکھیں کھلیں اور عرب ملکوں کو کچھ ہوش آئے۔ امریکہ اور دیگر ممالک میں اکثر جگہوں پر مظاہرے بھی ہوئے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کہا گیا کہ وہ جنگ مسلط نہ کریں۔ مگر کسی نے بھی نہ سنی۔ زیادہ افسوس مسلمان ممالک پر ہے کہ جنہوں نے مسلمان کہلا کر بھی قران شریف کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ اور قرآن شریف کی تعلیمات کے مطابق اس مسئلہ کا حل نہ نکالا اور جماعت احمدیہ کے خلیفہ نے جو بروقت انہیں بتا دیا تھا کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا آج بعینہٖ سو فی صد وہی نتیجہ نکلا ہے۔ مسلمان ممالک کی حالت خصوصاً عراق، شام، لیبیا کی کیا ہوئی۔ سب کے سامنے ہے اور اس جنگ کا فائدہ بھی کس کو ہوایہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔
اس لئے خاکسار نے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو بار بار پریس کے سامنے پیش کیا اور خداتعالیٰ کے فضل سے اس کی کوریج بھی ہوئی تو اگلی رپورٹس میں اسی کا ذکر بار بار آئے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ جس قدر تکلیف جماعت احمدیہ کو اس جنگ سے ہوئی کسی اور کو نہیں ہوئی۔
2۔ زینیا گزٹ میں لندن سے آمدہ پریس ریلیز دیا گیا تھا۔ اخبار سے بار بار رابطہ بھی کیا گیا۔ چنانچہ اخبار کے مذہبی سیکشن میں پریس ریلیز کا متن شائع ہوا۔ اس اخبار کی اشاعت 11 ہزار ہے۔
3 کیٹرنگ سے شائع ہونے والے ایک اور اخبار میں بھی یہ خط شائع ہوا خط اور پریس ریلیز ہر دو کا تعلق مڈل ایسٹ کی جنگ سے ہے اور جماعت احمدیہ جنگ کے خطرات اور اس کے بھیانک انجام سے عرب ممالک کو خصوصاً اور دوسری دنیا کو عموماً بار بار آگاہ کر رہی تھی۔

ستمبر 1990ء کی ہی اگلی دو ہفتہ کی رپورٹ میں خاکسار نے لکھا کہ
1۔ فیئر بورن اخبار کے ایڈیٹر سے بھی خاکسار جا کر ملا اور اسے خط شائع کرنے کے لئے دیا۔ یہ خط اخبار نے اپنی 20 ستمبر 1990ء کی اشاعت میں شائع کیا۔ فون پر بھی ان سے رابطہ کیا جاتا رہا۔
2۔ Spring Field (سپرنگ فیلڈ) 45 میل دور شہر ہے وہاں کے اخبار کے ایڈیٹر سے ملا اور پھر رپورٹر سے بھی فون پر بار بار رابطہ کیا انہیں بھی لندن سے آمدہ پریس ریلیز دیا گیا۔
3۔ زینیا گزٹ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر سے فون رپر رابطہ کیا انہیں پریس ریلیز جو لندن سے آیا تھا دیا گیا۔
4۔ ڈیلی ڈیٹن نیوز کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبرز سے فون پر رابطہ انہیں بھی خط شائع کرنے کے لئے دیا گیا۔
5۔ ہیوبر ہائٹس۔ یہ بھی ایک اور شہر کا اخبار ہے اس اخبار کے ایڈیٹر سے فون پر رابطہ کیا گیا۔ ملاقات کا وقت لیا گیا۔ ان کے ساتھ نصف گھنٹہ تک مڈل ایسٹ کے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔ انہیں لندن سے آمدہ پریس ریلیز دیا گیا۔ چنانچہ انہوں نے ہمارے نقطہ نگاہ اور اس مسئلہ کا ’’اسلامی حل‘‘ اپنے اخبار کے صفحہ 5 پر شائع کیا۔
6۔ Conneaut Ohio ایک اور جگہ ہے جو ڈیٹن سے قریباً 300 میل دور ہے۔ یہاں کے ایک لوکل اخبار کے ایڈیٹر سے فون پر رابطہ کیا گیا اور انہیں بھی لندن سے آمدہ پریس ریلیز بھجوایا گیا۔
ان سب پریس ریلیز میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی ہدایات اور جماعت کا نقطہ نظر ہوتا تھا۔ اور مڈل ایسٹ میں جنگ کی مخالفت ،مسلمانوں کا یہ آپس کا مسئلہ ہے نیز مسلمانوں کو آپس میں مل کر ہی اس کا حل نکالنا چاہئے۔ جنگ اس کا حل نہیں ہے وغیرہ امور شامل ہوتے تھے۔
7۔ ایک اور شہر Troy ہے یہاں کےا خبار کے ایڈیٹر سے بھی فون پر رابطہ کیا گیا اور ملاقات کا وقت لیا چنانچہ انہوں نےا یک رپورٹر دیا جس نے ایک گھنٹہ تک انٹرویو لیا اگلے روز کی اشاعت میں انہوں نے صفحہ اول پر ہماری خبر شائع کی۔ الحمدللہ
8 کولمبس میں وہاں کےا خبار کے نیوز روم سے رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی۔
9۔ اسی طرح یہاں کے (ڈیٹن کے علاقہ) اور ایک اور مشہور شہر سنسنیاٹی Cincinati جو کہ قریباً 50 میل دور ہے کے ایک اخبار کے اسسٹنٹ ایڈیٹر سے بھی فون پر رابطہ کیا مگر انہوں نے بھی کوئی دلچسپی نہیں لی۔
10۔ کیٹرنگ سے ایک اخبار Times نکلتا ہے جس کی اشاعت 60 ہزار ہے ان سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا۔ اسسٹنٹ ایڈیٹر کو پریس ریلیز دیا گیا مگر وہ خبر انہوں نے شائع نہ کی البتہ اپنی اشاعت میں ایک خط اس پریس ریلیز سے بنا کر شائع کر دیا۔ جب خاکسار کو علم ہوا تو اخبار کی سب کاپیاں نکل چکی تھیں اس لئے اس کا تراشہ نہ مل سکا۔
کلیولینڈ کے اخبار Beadford Times گزشتہ ماہ انہیں انٹرویو دیا گیا تھا اور پریس ریلیز بھی۔ انہوں نے بھی اپنے فرنٹ پیج پر ہماری خبر شائع کی۔
12 ۔ ڈیٹرائٹ کے چینل نمبر 4 کے ساتھ ڈیٹن سے رابطہ کیا گیا اس کے علاوہ ہر اخبار اور ٹی وی چینل جنہوں نے ہماری خبر دی تھی سب کو فون کر کے شکریہ بھی کہا گیا۔
13 ۔ ڈیٹن ڈیلی نیوز بھی ہماری ایک اور خبر جو ریجنل تبلیغ ورکشاپ سے متعلق تھی 15 ستمبر کو شائع کی۔
14 ۔ میپل ہائٹس اخبار نے بھی ہماری خبر کو شائع کیا۔ الحمد للہ

خداتعالیٰ کے فضل سے اس ایک ماہ میں 14 اخبارات میں جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ شائع ہوا اور جماعتی خبریں شائع کیں جس سے علاقہ کے لوگوں میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا۔ وذالک فضل اللہ۔ الحمدللہ

خاکسار نے نہ صرف اخبارات کے ساتھ رابطہ کیا اور امریکن عوام کو جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ بیان کیا بلکہ واشنگٹن ڈی سی میں جہاں ممکن ہو سکا وہاں پر دوسرے ممالک کے سفارتخانوں میں جا کر بھی اس بارہ میں بات کی چنانچہ

جنوری 1991ء کی رپورٹ میں خاکسار نے لکھا

سفارتخانوں کےسا تھ رابطہ

عرصہ زیر رپورٹ میں گھانا، سیرالیون اور آسٹریلیا کے سفارتخانوں میں رابطہ کیا۔ جماعت احمدیہ کا تعارف کرایا اور انہیں حالات کی سنگینی سے اطلاع دی۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

٭…٭…٭

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 نومبر 2020