• 6 دسمبر, 2022

کیا چقندر کی چینی روایتی چینی کا نعم البدل ہو سکتی ہے؟

چقندر
کیا چقندر کی چینی روایتی چینی کا نعم البدل ہو سکتی ہے؟

چقندر کا شمار ان پودوں میں ہوتا ہے جن کی ہم جڑیں کھاتے اور اپنے روز مرہ کھانوں میں استعمال کرتے ہیں۔ ان پودوں کو بطور سبزی اور سلاد استعمال کیا جاتا ہے۔چقندر اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے ان پودوں میں ممتاز مقام رکھتی ہے۔ اسکی متعدد اقسام ہیں جن کی تقسیم ان کی شکل و صورت کے لحاظ سے کی جاتی ہے مثلاً لمبی،بیضوی اورگول وغیرہ۔چقندر میں شکر کے علاوہ کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، آئرن، فائبر، سوڈیم، زنک، پوٹاشیم، میگنیشیم، وٹامن بی اور وٹامن کے بھی پایا جاتا ہے۔

اس کا آبائی وطن یورپ کا بحر روم کا علاقہ یا مغربی ایشیاء ہے۔یہ گزشتہ دو ہزار سال سے سبزی اور سلاد کے طور پر کھانوں میں استعمال ہو رہی ہے۔چقندر صحت کیلئے ایک عمدہ غذائی ٹانک ہے۔اس میں شوگر کی صورت میں کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جبکہ پروٹین اور چکنائی کی بہت کم مقدار اس میں موجود ہے۔چقدر کا جوس سبزیوں کے ہر جوس سے زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔یہ قدرتی شکر کا سب سے بہترین ذریعہ بھی ہے۔

کیمائی اجزاء کے حوالہ سے دیکھا جائے تو اس میں سوڈیئم،پوٹاشیم فاسفورس،کیلشیئم،سلفر وغیرہ اجزاء پائے جاتے ہیں جو گردوں اور پِتّے کو صاف کرتے ہیں۔سرخ چقندر کا انسانی خون اور خون بنانے کی صلاحیت سے گہرا تعلق ہے۔اس میں موجود آئرن کی وافر مقدار خون کے سرخ ذرات کو نئے سرے سے تخلیق کرتی ہے اور پہلے سے موجود ذرات کو متحرک کرتی ہے۔جرمنی کے ماہرین کے مطابق سرخ چقندر کا جوس جسم کی قوتِ مدافعت کوتقویت دیتا ہے۔یہ اینمیا (خون کی کمی) کا عمدہ علاج ثابت ہوا ہے۔اسکا جوشاندہ پرانی قبض میں بہت مفید ہے۔یرقان،ہیپاٹائٹس،صفرا کی وجہ سے متلی،قے،اور اسہال میں چقندر کے جوس کا استعمال مفید ہوتا ہے۔

چقندر ایک ایسی فصل ہے جس کا استعمال متعدد اشیاء کی تیاری میں بھی کیا جاتا ہے۔ چقندر کی چار اقسام میں سے ایک قسم چینی نکالنے کیلئے جبکہ باقی سبزی اور سلاد کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ چقندر کی کاشت سولہویں صدی عیسوی میں یورپ سے شروع ہوئی۔ اپنے بے شمار طبی فوائد اور منفرد ذائقے کی بدولت چقندر نے دنیا میں جلد ہی ایک اہم مقام حاصل کر لیا۔ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں 1912ء سے لے کر 1928ء تک چقندر کی کاشت پر ڈاکٹر ڈبلیو آر براون سابق صوبہ خيبر پختونخوا کے ایگریکلچر آفیسر کی زیر نگرانی تجربات کیے اور ثابت کیا کہ وادی پشاور چقندر کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ 1952ء میں زرعی ماہرین نے چقندر پر مزید توجہ دی اور اندازہ کیا کہ چقندرسے حاصل شدہ چینی گنے کی چینی کی نسبت زیادہ فائدے مند ہے۔ چقندر میں گنے کی نسبت 30 فیصد زیادہ چینی پائی جاتی ہے۔پاکستان میں چقندر سے چینی بنانے کی دوفیکٹریاں موجود ہیں۔چقندر پاکستان کے علاوہ بھارت، یورپی ممالک اور شمالی افریقہ میں بکثرت کاشت کیا جاتا ہے۔

طبی فوائد

چقندر کا پیسٹ یا قتلے بنا کر آنکھوں کے اطراف میں لگانے سے آنکھوں کی سوزش اور جلن میں افاقہ ہوتا ہے۔چقندر کے پانی کو روغن زیتون میں ملا کر جلے ہوئے مقام پر لگانا مفید ہے۔ سفید چقندر کا پانی جگر کی بیماریوں میں اچھے اثرات رکھتا ہے۔ چقندر کے قتلوں کو پانی میں ابال کر اس پانی کی ایک پیالی صبح ناشتے سے ایک گھنٹہ پہلے پینے سے پرانی قبض جاتی رہتی ہےاور بواسیر کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔فائبر سے بھرپورہونے کے سبب یہ ہاضمے کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔فائبر ایک اہم غذائی جز ہے جو آنتوں کو صحت مند رکھنے کے لئے جانا جاتا ہے۔جلد کے زخموں اور خشک خارش میں چقندر کے قتلوں کو پانی اور سرکہ میں ابال کر لگانا مفید ہے۔اس مرکب کو لگانے سے سر کی خشکی غائب ہو جاتی ہے۔چقندر کے اجزاء دست آور ہیں جبکہ اسکا پانی دستوں کو بند کر تا ہے۔ایک کپ چقندر میں ساڑھے 3 گرام فائبر ہوتی ہے اور یہ جز قبض کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ نہ گھلنے والا فائبر غذا کو تیزی سے غذائی نالی سے گزرنے میں مدد دیتا ہے اور بہت جلد خارج بھی کردیتا ہے، قبض کا شکار رہنے والوں میں بواسیر کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے تو چقندر اس موذی مرض سے بھی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ اوکلاہاما کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پرانی قبض یا کم فائبر والی غذا بواسیر کا خطرہ بڑھاتی ہے جس سے بچاؤ کے لیے زیادہ فائبر والی غذائیں جیسے چقندر فائدہ مند ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق چقندر کا جوس نکال کر پینا جسمانی مشقت کے کاموں کے لیے توانائی بڑھاتا ہے۔ایک تجربہ کے دوران متعدد افراد کو چار ہفتوں تک ڈھائی سو ملی لیٹر چقندر کا جوس استعمال کرایا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان کے بلڈ پریشر میں نمایاں کمی آئی ہے۔

چقندرمیں اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو کہ جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچانے میں مدد کرتا ہے اور آکسیڈیٹو تناؤ کو دور کرتا ہے۔

تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ سوزش کو کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ آسٹیو ارتھرائٹس کے درد سے بھی نجات دلاتا ہے۔اس کے علاوہ آئرن اور فولک ایسڈ سے بھرپور ہونے کی وجہ سے چقندر خون کی کمی کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ خون کے خلیوں کو بڑھاتا ہے جو ہمارے جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن لے جانے کا کام کرتے ہیں۔ماہرین کا اس کے جوس کو استعمال کرنے کے حوالے سے کہنا ہے کہ جو س کو فریج میں اسٹور نہ کریں فریج والا جوس نقصان دہ ہوتا ہے چقندر کاتازہ جوس گاجر، مالٹا، کنو، آڑو اور سیب وغیرہ کے ساتھ ملا کر ہی پیا جائے تو مفید رہتا ہے۔

(ظہیر احمد شاہد)

پچھلا پڑھیں

انڈیکس مضامین نومبر 2021ء الفضل آن لائن لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ