• 25 جنوری, 2022

خلاصہ خطبہ جمعتہ المبارک مؤرخہ 3؍دسمبر 2021ء

خلاصہ خطبہ جمعتہ المبارک

امیر المؤمنین سیدنا حضرت خلیفتہ المسیحِ الخامس ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ مؤرخہ 3؍دسمبر 2021ء بمقام بیت المبارک، اسلام آباد؍ٹلفورڈ یوکے

حضرت ابوبکرؓ کا نام عبدالله تھا اور عثمان بن عامر اِن کے والد کا نام تھا، کنیّت ابوبکرؓ تھی اور آپؓ کے لقب جو ہیں عتیق اور صدّیق تھے۔۔۔ آپؓ کی ولادت عام الفیل کے دو سال چھ ماہ بعد 573؍ عیسوی میں ہوئی ، آپؓ کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو تیم بن مُرّہ سے تھا، جاہلیّت میں آپؓ کا نام عبدالکعبہ تھا جسے رسول اللهﷺ نے تبدیل کر کے عبدالله رکھ دیا۔۔۔ والدہ کا نام سلمیٰ بنت صخر بن عامر تھا اور اِن کی کُنیّت اُمّ الخیر تھی۔

یا رسول اللهؐ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں مجھے کوئی تکلیف نہیں سوائے اِس کے جو لوگوں نے میرے مُنہ پر چوٹیں لگائی ہیں اور یہ میری والدہ اپنے بیٹے سے اچھا سلوک کرنے والی ہیں۔۔۔ممکن ہے کہ الله تعالیٰ آپؐ کے طفیل اِن کو آگ سے بچا لے۔۔۔ رسول اللهؐ نے آپؓ کی والدہ کے لیئے دعا کی اور اُنہیں اسلام کی طرف دعوت دی جس پر اُنہوں نے اسلام قبول کر لیا۔

ہر زمانہ میں جو شخص صدّیق کے کمالات حاصل کرنے کی کوشش کرے اُس کے لیئے ضروری ہے کہ ابوبکری خصلت اور فطرت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لیئے جہاں تک ممکن ہو مجاہدہ کرے اور پھر حتّی المقدور دُعا سے کام لے جب تک ابوبکری فطرت کا سایہ اپنے اوپر ڈال نہیں لیتا اور اُسی رنگ میں رنگین نہیں ہو جاتا صدّیقی کمالات حاصل نہیں ہو سکتے۔

کیا تمہیں کسی ایسے شخص کا علم ہے جسے ثانی اثنینکے نام سے موسوم کیا گیا اور نبی دوجہان کے رفیق کا نام دیا گیا ہو اَور اِس فضیلت میں شریک کیا گیا ہو کہ اِنَّا اللهَ مَعَنَا اور اُسے دَو تائید یافتہ میں سے ایک قرار دیا گیا ہو، کیا تم کسی ایسے شخص کو جانتے ہو جس کی قرآن میں اِس تعریف جیسی تعریف کی گئی ہو۔

حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تشہّد، تعوّذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد ارشاد فرمایا! آج حضرت ابوبکر صدّیقؓ کا ذکر شروع ہوگا۔

حضرت ابوبکرؓ کا نام اور لقب

حضرت ابوبکرؓ کا نام عبدالله تھا۔۔۔ کنیّت ابوبکرؓ تھی اور آپؓ کے لقب جو ہیں عتیق اور صدّیق تھے۔۔۔ آپؓ کی ولادت عام الفیل کے دو سال چھ ماہ بعد 573؍ عیسوی میں ہوئی۔۔۔ آپؓ کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو تیم بن مُرّہ سے تھا، جاہلیّت میں آپؓ کا نام عبدالکعبہ تھا جسے رسول اللهﷺ نے تبدیل کر کے عبدالله رکھ دیا۔

والدین اور شجرۂ نسب

آپؓ کے والد نام عثمان بن عامر تھا اور اُن کی کُنیّت ابو قُحافہ تھی اور والدہ کا نام سلمیٰ بنت صخر بن عامر تھا اور اِن کی کُنیّت اُمّ الخیر تھی، ایک قول کے مطابق آپؓ کی والدہ کا نام لیلیٰ بنت صخر تھا۔ حضرت ابوبکرؓ کا شجرۂ نسب ساتویں پُشت میں مُرّہ پر جا کر رسول اللهؐ سے مِلتا ہے، اِسی طرح حضرت ابوبکرؓ کی والدہ کا سلسلۂ نسب اپنے ننھیال اور دَدھیال دونوں طرف سے چھٹی پُشت پر جا کر رسول اللهؐ سے مِل جاتا ہے۔ ابو قُحافہ یعنی حضرت ابوبکرؓ کے والد کی اہلیّہ اُمّ الخیر اُن کے چچا کی بیٹی تھیں ۔۔۔حضرت ابوبکرؓ کے والدین حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے اور اُن دونوں نے اپنے بیٹے یعنی حضرت ابوبکرؓ کا ورثہ پایا، حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد پہلے اُن کی والدہ کی وفات ہوئی اور پھر حضرت ابوبکرؓ کے والد نے 14؍ ہجری میں ستانوے برس کی عمر میں وفات پائی۔

حضرت ابوبکرؓ کے والدین کو اسلام قبول کرنے کی توفیق مِلی

آپؓ کے والد کے ایمان لانے کا واقعہ یُوں ہے کہ آپؓ کے والد فتح مکّہ تک ایمان نہیں لائے تھے اُس وقت اُن کی بینائی جا چکی تھی، فتح مکّہ کے وقت جب رسولِ کریمؐ مسجدِ حرام میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکرؓ اپنے والد کو لے کر رسولِ کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب نبیٔ کریمؐ نے اُن کو دیکھا تو آپؐ نے فرمایا! اَے ابوبکرؓ! تم اِس بُوڑھے عمر رسیدہ شخص کو گھر ہی رہنے دیتے، مَیں خود اُن کے پاس آ جاتا۔ اِس پر حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللهؐ! یہ اِس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوتے نہ یہ کہ آپؐ اُن کے پاس تشریف لاتے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اُنہیں رسولِ کریمؐ کے سامنےبٹھایا تو آپؐ نے اُن کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اَور فرمایا کہ اسلام لے آئیں، آپ سلامتی میں آ جائیں گے چنانچہ ابوقُحافہ نے اسلام قبول کر لیا۔

ابو قُحافہ کو فتح مکّہ کے دن لایا گیا

حضرت جابرؓ بن عبداللهؓ سے روایت ہے کہ ابو قُحافہ کو فتح مکّہ کے دن لایا گیا تو اُن کا سَر اور داڑھی ثغامہ کی طرح سفید ہو چکے تھے (ثغامہ کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک پھول ہوتاتھا سفید رنگ کا جو پہاڑوں پر اُگتا تھا)۔۔۔اِس پر رسول اللهؐ نے فرمایا کہ اِسے کسی اور رَنگ سے تبدیل کر دو (یعنی اِس پر خزاب لگا دو، رنگ کر دو زیادہ بہتر ہے) لیکن سیاہ رنگ سے بچو!حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اِس کی تصریح فرمائی کہ یہ مطلب نہیں تھا کہ سیاہ رنگ کوئی بُرائی ہے بلکہ شائد آپؐ نے خیال فرمایا ہو کہ عمر کے اِس حصّہ میں بالکل سیاہ رنگ کے بال جو ہیں وہ چہرہ پر شائدمناسب نہ لگیں بہرحال آپؐ نے کہا! اِس کو رنگ دینا چاہیئے، خزاب لگا دینا چاہیئے۔

حضرت ابوبکرؓ کی والدہ ابتدائی اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھیں

اِس کا ذکر سیرت حَلبیّہ میں اِس طرح ہے کہ جب رسول اللهؐ دارِ ارقم میں تشریف لے گئے تاکہ وہاں آپؐ اور آپؐ کے صحابہؓ چُھپ کر الله تعالیٰ کی عبادت کر سکیں اور اُس وقت مسلمانوں کی تعداد اَڑتیس تھی، اُس وقت حضرت ابوبکرؓ نے رسولِ اللهؐ کی خدمت میں درخواست کی کہ مسجدِ حرام میں تشریف لے چلیں، آپؐ نے فرمایا، اَے ابوبکرؓ! ہماری تعداد قلیل ہے لیکن حضرت ابوبکرؓ اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ آنحضرتؐ اپنے تمام صحابہؓ کے ساتھ مسجدِ حرام میں تشریف لائے وہاں حضرت ابوبکرؓ نے لوگوں کے سامنے خطاب کیا جبکہ رسول اللهؐ تشریف فرما تھے، حضرت ابوبکرؓ نے خطاب میں لوگوں کو الله اور اُس کے رسول کی طرف دعوت دی، اِس طرح آپؓ رسول اللهؐ کے بعد پہلے خطیب ہیں جنہوں نے لوگوں کو الله کی طرف بُلایا۔ اِس پر مشرکین حضرت ابوبکرؓ اور مسلمانوں کو مارنے کے لیئے ٹوٹ پڑے اور اُنہیں بُری طرح مارا پیٹا، حضرت ابوبکرؓ کو پیروں تلے روندا گیا اور اُنہیں خوب مارا پیٹا گیا۔ عُتبہ بن ربیعہ حضرت ابوبکرؓ کو اُن جُوتوں سے مار رہا تھا جس پر دہرا چمڑا لگا ہؤا تھا ، اُس نے اِن جُوتوں سے حضرت ابوبکرؓ کے چہرہ پر اتنا مارا کہ مُنہ سوجھ جانے کی وجہ سے آپؓ کے چہرہ پر ناک کی بھی پہچان نہیں ہو پا رہی تھی۔ پھر بنو تیم کے لوگ بھاگتے ہوئے آئے اور مشرکین کو حضرت ابوبکرؓ سے دُور کیا، بنو تیم کے لوگوں نے آپؓ کو ایک کپڑے میں ڈال کر اُٹھایا اور اُن کے گھر میں اُنہیں لے گئے اور اُنہیں حضرت ابوبکرؓ کی موت میں کوئی شک نہیں تھا اِس حد تک مارا تھا، اِس کے بعد بنو تیم کے لوگ واپس آئے اور مسجد میں داخل ہوئے(خانۂ کعبہ میں) اور اُنہوں نے کہا، خدا کی قسم!اگر ابوبکرؓ فوت ہو گئے تو ہم ضرور عُتبہ کو قتل کر دیں گے۔۔۔ پھر وہ لوگ حضرت ابوبکرؓ کے پاس واپس آئے اور آپؓ کے والد ابوقُحافہ اور بنو تیم کے لوگ آپؓ سے بات کرنے کی کوشش کرنے لگے مگر آپؓ بے ہوشی کی وجہ سے کوئی جواب نہ دیتے تھے یہاں تک کہ دن کے آخری حصّہ میں آپؓ بولے اور سب سے پہلے یہ پوچھا کہ

رسول اللهؐ کا کیا حال ہے؟

مگر لوگوں نے اُن کی بات کا جواب نہیں دیا مگر آپؓ بار بار یہی سوال دہراتے رہے، اِس پر آپؓ کی والدہ نے کہا! خدا کی قسم مجھے تمہارے ساتھی کے متعلق کچھ معلوم نہیں ۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپؓ حضرت عمرؓ کی بہن اُمّ جمیل ؓبنت خطاب کے پاس جائیں، اُم ّ جمیل پہلے ہی مسلمان ہو چکی تھیں لیکن اپنے اسلام کو چھپایا کرتی تھیں، آپؓ اُن سے آنحضرتؐ کا حال دریافت کریں چنانچہ وہ اُن کی والدہ حضورؓ کی اُمّ جمیلؓ کے پاس گئیں اور اُن سے کہا کہ ابوبکرؓ ، محمد ؐبن عبدالله کے بارہ میں پوچھتے ہیں تو اُنہیں جواب دیا مَیں محمدؐ کو نہیں جانتی اور نہ ہی ابوبکرؓ کو ، پھر اُمّ جمیلؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی والدہ سے کہا کہ کیا آپ چاہتی ہیں کہ مَیں آپؓ کے ساتھ چلوں، اُنہوں نے کہا، ہاں! پھر وہ اُن کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئیں تو اُمّ جمیلؓ نے آپؓ کو زخموں سے چُور زمین پر پڑا دیکھا تو چیخ اُٹھیں اور کہا کہ جن لوگوں نے آپؓ کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے وہ یقینًا فاسق لوگ ہیں اور مَیں اُمّید رکھتی ہوں کہ الله تعالیٰ اُن سے بدلہ لے گا، تب حضرت ابوبکرؓ نے اُن سے پوچھا کہ آنحضرتؐ کا کیا حال ہے؟اُمّ جمیلؓ نے کہا! یہ تمہاری والدہ بھی سُن رہی ہیں، آپؓ نے کہا! وہ تمہارا رَاز ظاہر نہیں کریں گی۔ اِس پر اُمّ جمیلؓ نے کہا کہ آنحضرتؐ خیریت سے ہیں، حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا کہ آپؐ اِس وقت کہاں ہیں؟ اُمّ جمیل ؓنے کہا، دارِ ارقم میں!

حضرت ابوبکرؓ کے عشقِ رسولؐ کے اِس اعلیٰ مقام کو دیکھیں

 جب یہ بات سُنی تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا، خدا کی قسم! مَیں نہ کھانا چکھوں گا اور نہ پانی پیوؤں گا یہاں تک کہ پہلے مَیں رسول اللهؐ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ حضرت ابوبکرؓ کی والدہ نے بتایا کہ ہم نے اُنہیں یعنی ابوبکرؓ کو کچھ دیر روکے رکھا یہاں تک کہ جب لوگوں کا باہر آنا جانا تھم گیا اور لوگ پرسکون ہو گئے تو ہم آپؓ کو لے کر نکلے، آپؓ میرے سہارے سے چل رہے تھے یہاں تک کہ آپؓ رسول اللهؐ کے پاس پہنچ گئے تو حضرت ابوبکرؓ پر شدید رقّت طاری ہو گئی، آنحضورؐ بوسہ دینے کے لیئے حضرت ابوبکرؓ پرجھکے۔۔۔اور مسلمان بھی آپؓ پر جھکے پھر حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا، یا رسول اللهؐ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں مجھے کوئی تکلیف نہیں سوائے اِس کے جو لوگوں نے میرے مُنہ پر چوٹیں لگائی ہیں اور یہ میری والدہ اپنے بیٹے سے اچھا سلوک کرنے والی ہیں۔۔۔ممکن ہے کہ الله تعالیٰ آپؐ کے طفیل اِن کو آگ سے بچا لے۔۔۔ یعنی ایمان لے آئیں۔ اِس پر رسول اللهؐ نے آپؓ کی والدہ کے لیئے دعا کی اور اُنہیں اسلام کی طرف دعوت دی جس پر اُنہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اِس طرح حضرت ابوبکرؓ کی والدہ نے شروع میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔

حضرت ابوبکرؓ کی پیدائش کے بارہ میں روایات

الاصابة، جو صحابہؓ کی سوانح پر ایک مُستند کتاب ہے اِس کے مطابق حضرت ابوبکر صدّیقؓ کا عام الفیل کے دو سال چھ ماہ بعد پیدا ہوئے، تاریخِ طبری اور طبقات الکبریٰ میں لکھا ہے کہ آپؓ عام الفیل کےتین سال کے بعد پیدا ہوئے۔

دو مشہور لقب

اِسی طرح حضرت ابوبکرؓ کے لقب ہیں، دو لقب مشہور ہیں جو بیان کیئے جاتے ہیں ایک عتیق اور ایک صدّیق۔

عتیق کی وجۂ تسمیہ کیا ہے

اِس بارہ میں لکھا ہے حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایا کہ حضرت ابوبکرؓ، رسول اللهؐ کے پاس آئے تو آپؐ نے فرمایا! اَنْتَ عَتِیْقُ اللهِ مِنَ النَّارِ کہ تم الله کی طرف سے آگ سے آزاد کردہ ہو۔پس اُس دن سے آپؓ کو عتیق کا لقب دیا گیا۔

لقب کے بجائے نام عتیق، درست نہیں

بعض مؤرّخین حضرت ابوبکرؓ کے لقب کے بجائے نام عتیق بیان کرتے ہیں۔۔۔ لیکن یہ درست نہیں ہے چنانچہ علامہ جلال الدّین سیوطیؒ نے تاریخ الخلفاء میں امام نووی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا نام عبدالله تھا اور یہی زیادہ مشہور اور درست ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپؓ کا نام عتیق تھا لیکن درست وہی ہے جس پر اکثر علماء متفق ہیں کہ عتیق آپؓ کا لقب تھا نہ کہ نام۔

عتیق لقب کی وجوہات

سیرت ابن ہشّام میں لقب عتیق کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ آپؓ کے چہرہ کی خوبصورتی کی وجہ سے اور آپؓ کے حسن و جمال کی وجہ سے آپؓ کو عتیق کہا جاتا تھا، سیرت ابنِ ہشّام کی شرح میں عتیق لقب کی درج ذیل وجوہات بیان کی گئی ہیں۔عتیق کا مطلب ہے اَلْحَسَنُ یعنی عمدہ صفات والا گویا کہ آپؓ کو مذمت اور عیوب سے بچایا گیا تھا۔۔۔ آپؓ کو عتیق اِس لیئے کہا جاتا ہے کہ آپؓ کی والدہ کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا اُنہوں نے نذر مانی کہ اگر اُن کے ہاں بچہ ہؤا تو وہ اِس کا نام عبدالکعبہ رکھیں گی اور اِس کو کعبہ کے لیئے وقف کر دیں گی، جب آپؓ زندہ رہے اور جوان ہو گئے تو آپؓ کا نام عتیق پڑ گیا گویا کہ آپؓ موت سے نجات دیئے گئے۔۔۔ بعض لوگوں کے مطابق آپؓ کو عتیق اِس لیئے کہا جاتا تھا کہ آپؓ کے نسب میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کی وجہ سے اُس پر عیب لگایا جاتا، عتیق کا ایک معنی قدیم یا پُرانے کے بھی ہیں اِس لیئے حضرت ابوبکرؓ کو عتیق اِس وجہ سے بھی کہا جاتا تھا کہ آپؓ قدیم سے نیکی اور بھلائی کرنے والے تھے ، اِسی طرح اسلام قبول کرنےمیں اور بھلائی میں پہل کرنے کی وجہ سےآپؓ کا لقب عتیق رکھا گیا تھا۔

لقب صدّیق کی وجوہات

علامہ جلال الدّین سیوطیؒ لکھتے ہیں کہ جہاں تک صدّیق کا تعلق ہے تو کہا جاتا ہے زمانۂ جاہلیّت میں یہ لقب آپؓ کو دیا گیا تھااِس سچائی کی وجہ سے جو آپؓ سے ظاہر ہوتی رہی، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آنحضرتؐ آپؓ کو جو خبریں بتایا کرتے تھے اِن کے متعلق رسول اللهؐ کی تصدیق میں جلدی کرنے کی وجہ سےآپؓ کا نام صدّیق پڑ گیا، حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایا کہ جب رات کے وقت نبیٔ کریمؐ کو بیت المقدس؍ مسجد اقصیٰ کی طرف لے جایا گیا (یعنی واقعیٔ اِسراء جو ہؤا تھا) تو صبح کو لوگ اِس واقعہ کے متعلق باتیں کرنے لگے (جب آپؐ نے بتایا) اور لوگوں میں سے جو بعض آپؐ پر ایمان لائے تھے اور اُنہوں نے آپؓ کی تصدیق بھی کی تھی وہ پیچھے ہٹ گئے۔۔۔اُس وقت مشرکین میں سے کچھ لوگ حضرت ابوبکرؓ کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے، کیا آپؓ کو اپنے ساتھی کے بارہ میں کچھ معلوم ہے کہ وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اُنہیں رات کو بیت المقدس لے جایا گیا تھا، حضرت ابوبکرؓ نے کہا! کیا واقعی یہ آپؐ نے فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں! اُنہوں نے کہا ہے، اِس پر حضرت ابوبکرؓ نے کہا! اگر آپؐ نے یہ فرمایا ہے تو یقینًا سچ کہا ہے! لوگوں نے کہا، کیا تم اُن کی تصدیق کرتے ہو کہ رات کو بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے۔۔۔حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ ہاں! مَیں اُس کی بھی تصدیق کروں گا جو اِس سے بھی بعید ہے۔۔۔مَیں صبح ،شام اُترنے والی آسمانی خبر کے بارہ میں بھی آپؐ کی تصدیق کرتا ہوں چنانچہ اِس وجہ سے حضرت ابوبکرؓ کا نام صدّیق پڑ گیا،آپؓ کو صدّیق کہا جانے لگا۔

آپؐ کی تصدیق ابوبکرؓ کریں گے اور وہ صدّیق ہیں

حضرت ابو ہریرہؓ کے آزاد کردہ غلام ابووہب نے بیان کیا کہ رسول اللهؐ نے فرمایا! جس رات مجھے لے جایا گیا (یعنی واقعۂ اِسراء میں) تو مَیں نے جبرائیلؑ سے کہا! یقینًا میری قوم میری تصدیق نہیں کرے گی (یعنی میری بات کو سچ نہیں مانے گی) تو جبرائیلؑ نے کہا! یُصَدِّقُکَ اَبُوْبَکْرٍ وَ ھُوَ صِدِّیْقٌ یعنی آپؐ کی تصدیق ابوبکرؓ کریں گے اور وہ صدّیق ہیں، یہ طبقات الکبریٰ میں لکھا ہے۔ اِس تناظر میں حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت المصلح الموعودؓ کا ارشاد بھی پیش کیا۔

الله تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپؓ میں کیا کیا کمالات تھے

حضرت مسیحِ موعود ؑ فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے جو حضرت ابوبکرؓ کو صدّیق کا خطاب دیا ہے تو الله تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپؓ میں کیا کیا کمالات تھے، آنحضرتؐ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی فضیلت اُس چیز کی وجہ سے ہے جو اُس کے دل کے اندر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو حقیقت میں حضرت ابوبکرؓ نے جو صدق دکھایا اِس کی نظیر ملنی مشکل ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں جو شخص صدّیق کے کمالات حاصل کرنے کی کوشش کرے اُس کے لیئے ضروری ہے کہ ابوبکری خصلت اور فطرت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لیئے جہاں تک ممکن ہو مجاہدہ کرے اور پھر حتّی المقدور دُعا سے کام لے جب تک ابوبکری فطرت کا سایہ اپنے اوپر ڈال نہیں لیتا اور اُسی رنگ میں رنگین نہیں ہو جاتا صدّیقی کمالات حاصل نہیں ہو سکتے۔

عتیق اور صدّیق کے علاوہ حضرت ابوبکرؓ کے دیگر القابات

خَلِیْفَةُ الرَّسُوْلِ اللهِ؛ ۔۔۔ روایت میں ذکر ہے،ایک آدمی نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا! یَا خَلِیْفَةَ اللهِ، اَے الله کے خلیفہ تو آپؓ نے فرمایا! خَلِیْفَةُ اللهِ نہیں بلکہ خَلِیْفَةُ الرَّسُوْلِ اللهِ یعنی رسول اللهؐ کا خلیفہ ہوں اور مَیں اِسی پر راضی ہوں۔ صحیح بخاری کے شارع علامہ بدرالدّین عینیؒ بیان کرتے ہیں کہ مؤرّخین وغیرہ کا اِس بات پر اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر صدّیقؓ کا لقب خَلِیْفَةُ الرَّسُوْلِ اللهِ تھا لیکن ظاہر ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا یہ لقب آنحضرتؐ کی وفات کے بعد اُن کے خلیفہ ہونے کی وجہ سے دیا گیا تھا۔۔۔ اَوَّاہٌ؛ ایک یہ بھی لقب ہے، اَوَّاہٌ کے معنی ہیں بہت ہی بُردبار اور نرم دل۔ طبقات الکبریٰ میں لکھا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کو اُن کی نرمی اور رحمت کی وجہ سے اَوَّاہٌ کہا جاتا تھا۔ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ؛ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ کا مطلب ہے بہت ہی بُردبار ، نرم دل اور جھکنے والا، طبقات الکبریٰ میں ہے کہ مَیں نے حضرت علیؓ کو سُنا! وہ مِنبر پر کہہ رہے تھے غور سے سُنو کہ حضرت ابوبکرؓ بہت ہی بُردبار، نرم دل اور جھکنے والے تھے، غور سے سُنو کہ الله تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کو خیر خواہی عطاء کی جس کے نتیجہ میں وہ خیر خواہ ہو گئے۔ اَمِیْرُالشّٰکِرِیْنَ؛ یہ بھی ایک لقب کہا جاتا ہے، اَمِیْرُالشّٰکِرِیْن کے معنی ہیں شکر کرنے والوں کا سردار، حضرت ابوبکرصدّیقؓ کو کثرتِ شکر کی وجہ سے اَمِیْرُالشّٰکِرِیْن کہا جاتا تھا۔ عمدۃالقاری میں لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدّیقؓ کو اَمِیْرُالشّٰکِرِیْن کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ ثَانِىَ اثْنَيْنِ؛ یہ بھی ایک لقب کہا جاتا ہے، حضرت ابوبکر صدّیقؓ کو الله تعالیٰ نے ثانی الثنین کےلقب سے پکاراہے۔

کیا تمہیں کسی ایسے شخص کا علم ہے جسے ثانی اثنین کے نام سے موسوم کیا گیا

حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سُورۂ التّوبہ آیت 40 کے تناظر میں بیان کیا کہ حضرت مسیحِ موعود علیہ الصّلوٰۃ والسّلام فرماتے ہیں!الله نے تکلیف دہ وقت اور مشکل حالت میں اپنے نبیؐ کی آپؓ کے ذریعہ تسلی فرمائی اور اَلصِّدِّیْقُ کے نام اور نبی ثقلین کے قرب سے مخصوص فرمایا اور الله تعالیٰ نے آپؓ کو ثانی اثنینکی خلعتِ فاخرہ سے فیضیاب فرمایا اور اپنے خاص الخاص بندوں میں سے بنایا، کیا تمہیں کسی ایسے شخص کا علم ہے جسے ثانی اثنین کے نام سے موسوم کیا گیا اور نبی دوجہان کے رفیق کا نام دیا گیا ہو اَور اِس فضیلت میں شریک کیا گیا ہو کہ اِنَّا اللهَ مَعَنَا اور اُسے دَو تائید یافتہ میں سے ایک قرار دیا گیا ہو، کیا تم کسی ایسے شخص کو جانتے ہو جس کی قرآن میں اِس تعریف جیسی تعریف کی گئی ہو اور جس کے مخفی حالت سے شُبہات کے ہجوم کو دُور کر دیا گیا ہو اور جس کے بارہ میں نصوصِ صریحہ سے نہ کہ ظنّی، شکی باتوں سے یہ ثابت ہو کہ وہ مقبولینِ بارگاہِ اِلٰہی میں سے ہے، بخدا اِس قسم کا صریح ذکر جو تحقیق سے ثابت شدہ ہو جو حضرت ابوبکر صدّیقؓ سے مخصوص ہے، مَیں نے ربِّ بیتِ عتیق کے صحیفوں میں سے کسی اور شخص کے لیئے یہ نہیں دیکھا! پس اگر تجھے میری اِس بات کے متعلق شک ہو یا تمہارا یہ گمان ہو کہ مَیں نے حقّ سے گُریز کیا ہے تو قرآن سے کوئی نظیر پیش کرو اور ہمیں دکھاؤ کہ فرقانِ حمید نے کسی اور شخص کے لیئے ایسا ہی صراحت کی ہو اگر تم سچوں میں سے ہو۔۔۔پھر ایک لقب صَاحِبُ الرَّسُوْلِ بھی ہے، اِس کا مطلب ہے رسول کا ساتھی۔ حضرت ابوبکرؓ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے ایک جماعت سے کہا! تم میں سے کون سُورۂ توبہ پڑھے گا؟ ایک شخص نے کہا! مَیں پڑھتا ہوں، پھر جب وہ آیت اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ کہ جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غمّ نہ کر یہاں تک پہنچا تو حضرت ابوبکرؓ رو پڑے اور فرمایا، الله کی قسم! مَیں ہی آپؐ کا ساتھی تھا۔ پھر آدمِ ثانی ایک لقب ہے، حضرت ابوبکرؓ کا یہ وہ لقب ہے جو حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ السّلام نے آپؓ کو عطاء فرمایا ہے، آپؑ نے حضرت ابوبکرؓ کو آدمِ ثانی قرار دیا ہے۔ اِس ضِمن میں حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپؑ کے ایک مکتوب کا ارشاد فرمودہ نیز سرّ الخلافہ سے بیان کیا کہ آپؑ فرماتے ہیں! اور بخدا! آپؓ اسلام کے لیئے آدمِ ثانی اور خیر الانام محمدؐ کے انوار کےمظہرِ اوّل تھے۔ پھرخَلِیْلُ الرَّسُوْل ِ ایک لقب ہے، سیرت کی کتابوں میں خَلِیْلُ الرَّسُوْل ِ بھی حضرت ابوبکرؓ کا لقب بیان کیا گیا ہے اور اِس کی بنیاد کتبِ حدیث میں موجود ایک روایت ہے کہ آنحضورؐ نے فرمایا! اگر مَیں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکرؓ کو بناتا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے، حضرت ابنِ عبّاس ؓ سے روایت ہے کہ مرض الموت کے دوران آنحضورؐ نے فرمایا! اگر مَیں نے لوگوں میں سےکسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ضرور حضرت ابوبکرؓ کو ہی خلیل بناتا لیکن اسلام کی دوستی سب سے افضل ہے، اِس مسجد میں تمام کھڑکیوں کو میری طرف سے بند کر دو سوائے ابوبکرؓ کی کھڑکی کے۔

ہمارے ریسرچ سیل نے یہاں یہ سوال اُٹھایا ہے، ٹھیک سوال ہے

حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اِس کی بابت تصریح فرمائی! اِس روایت میں صِرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر آنحضرتؐ اپنا خلیل کسی کو بناتے تو حضرت ابوبکرؓ کو بناتے لیکن بنایا نہیں۔ مزید آپ ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نےاِس بات کی حضرت مسیحِ موعودؑ کی خود بیان فرمودہ وضاحت بھی پیش فرمائی۔

حضرت ابو بکرؓ کی کُنیّت

حضرت ابوبکرؓ کی کُنیّت ابوبکر تھی اور اِن کی ایک سے زائد وُجوہ بیان کی جاتی ہیں بعض کے نزدیک بَکْرٌ جوان اونٹ کو کہتے ہیں چونکہ آپؓ کو اونٹوں کی پرورش اور غور و پَرداخت میں بہت دلچسپی اور مہارت تھی اِس لیئے لوگوں نے آپؓ کو ابو بکرؓ کہنا شروع کر دیا۔ بَکَرَ کا ایک معنی جلدی کرنا بھی ہے، پہل کرنے کے بھی ہوتے ہیں، بعض کے بقول یہ کُنیّت اِس لیئے پڑی کہ آپؓ سب سے پہلے اسلام لائے، اِنَّهٗ بَکَرَ اِلَی الْاِسْلَامِ قَبْلَ غَیْرِہٖ؛ اُنہوں نے دوسروں سے پہلے اسلام کی طرف پیش قدمی کی۔ علامہ زمخشری ؒنے لکھا ہے کہ اُن کو پاکیزہ خصلتوں میں اِبتکاریعنی پیش پیش ہونے کی وجہ سے ابوبکرؓ کہا جاتا تھا۔

حضرت ابوبکر صدّیقؓ کا حُلیَہ

حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ اُنہوں نے ایک عربی شخص کو دیکھا جو پیدل چل رہا تھا اور آپؓ اُس وقت اپنے حوضج میں تھیں ، آپؓ نے فرمایا! مَیں نے اِس شخص سے زیادہ حضرت ابوبکرؓ سے مشابہ کوئی شخص نہیں دیکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے کہا! آپؓ ہمارے لیئے حضرت ابوبکرؓ کا حُلیَہ بیان کریں تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ حضرت ابوبکرؓ گورے رنگ کے شخص تھے، دُبلے پتلے تھے، رُخساروں پر گوشت کم تھا، کمر ذرا خمیدہ تھی (ذرا سی جھکی ہوئی تھی) کہ آپؓ کا تہہ بند بھی کمر پر نہیں رُکتا تھا اور نیچے سِرک جاتا تھا، چہرہ کم گوشت والا تھا، آنکھیں اندر کی طرف تھیں اور پیشانی بلند تھی۔ اِس تناظر میں صحیح بخاری میں حضرت عبداللهؓ بن عمرؓ سے مروی روایت کا بھی تذکرہ فرمایا گیا نیزبیان ہؤا کہ حضرت ابوبکرؓ مہندی اور کتم سےخزاب لگایا کرتے (کتم یہ بُوٹی بلند پہاڑوں پر اُگتی ہے اور وَسمہ کے ساتھ ملا کر لگائی جاتی ہے اور اِس کے ذریعہ بالوں کو سیّاہ رنگت دی جاتی تھی)۔

قبل قبولِ اسلام حضرت ابوبکرؓ کا پیشہ اور قریش میں مقام

تاریخِ طبری میں لکھا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اپنی قوم میں مقبول اور محبوب تھے، آپؓ نرم مزاج شخص تھے، قریش کے حسب و نسب اور اُس کی اچھائی اور برائی کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے، آپؓ تجارت کرنے والے شخص تھے اور اچھے اخلاق اور نیکیوں کے مالک تھے، آپؓ کی قوم کے لوگ ایک سے زائد باتوں کی وجہ سے آپؓ کے پاس آتے اور آپؓ سے محبّت رکھتے تھے یعنی آپؓ کے علم کی وجہ سے اور آپؓ کے تجربات کی وجہ سے اور آپؓ کی اچھی مجلسوں کی وجہ سے۔محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں کہ قریش کی ساری قوم تجارت پیشہ تھی اور اِس کا ہر فرد اِسی شُغل میں مشغول تھا چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے بھی بڑے ہو کر کپڑے کی تجارت شروع کر دی جس میں اُنہوں نے غیر معمولی فروغ حاصل کیا اور اِن کا شمار بہت جلد مکّہ کے نہایت کامیاب تاجروں میں ہونے لگا، تجارت کی کامیابی میں اُن کی جاذبِ نظر شخصیّت اور بے نظیر اخلاق کو بھی بڑا خاصا دخل تھا۔

حضرت ابوبکرؓ کا رأس المال

رسولِ کریمؐ کی بعثت کے وقت حضرت ابوبکرؓ کا رأس المال چالیس ہزار دِرہم تھا، آپؓ نےاِس میں سے غلاموں کو آزاد کرواتے اور مسلمانوں کی خبر گیری کرتے رہے یہاں تک کہ جب آپؓ مدینہ تشریف لائے تو اُس وقت آپؓ کے پاس پانچ ہزار دِرہم باقی تھے۔

سیرتِ مبارکہ حضرت ابوبکر صدّیقؓ کی بابت قبلِ اسلام کے بعض واقعات

حضرت ابوبکرؓ اپنی مالی وسعت اور اخلاق کی وجہ سے قریش میں اعلیٰ مقام کے حامل تھے، آپؓ رؤسائے قریش میں سے تھے۔۔۔آپؓ سب سے زیادہ پاکیزہ اور نیک لوگوں میں سے تھے، آپؓ رئیس، معزّز، سخی تھے اور بکثرت اپنا مال خرچ کیا کرتے تھے، اپنی قوم میں ہر دلعزیز اور محبوب تھے۔۔۔علم تعبیر الرؤیا کے بہت بڑے عالم ابنِ سیرینؒ کہتے ہیں کہ نبیٔ کریمؐ کے بعد حضرت ابوبکرؓ اِس اُمّت کے سب سے بڑے تعبیر الرؤیا کے عالم تھے اور آپؓ لوگوں میں سب سے زیادہ اہلِ عرب کے حسب و نسب کو جاننے والے تھے، جُبیرؓ بن مطعم جو اِس علم الانساب میں کمال تک پہنچے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ مَیں نے نسب کا علم حضرت ابوبکرؓ سے سیکھا ہے خاص طور پر قریش کا حسب و نسب کیونکہ حضرت ابوبکرؓ قریش میں سے قریش کے حسب و نسب اور جو اَچھائیاں برائیاں اِن کے نسب میں تھیں اُن کا آپؓ سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے اور آپؓ اُن کی برائیوں کا تذکرہ نہیں کرتے تھے۔۔۔ اِسی وجہ سے آپؓ حضرت عقیلؓ بن ابو طالب کی نسبت اُن میں زیادہ مقبول تھے۔ ۔۔اہلِ مکّہ کے نزدیک حضرت ابوبکرؓ اُن کے بہترین لوگوں میں سے تھے چنانچہ جب بھی اُنہیں کوئی مشکل پیش آتی وہ آپؓ سے مدد طلب کر لیا کرتے تھے۔ مکّہ میں بسنے والے تمام قبائل کو کعبہ کے مناصب کے لحاظ سے کوئی نہ کوئی منصب حاصل ہوتا تھا اور کوئی فریضہ تفویض ہوتا تھا۔۔۔ خون بہا اور دیّتیں اکٹھا کرنا حضرت ابوبکرؓ کے قبیلہ بنو تیم بن مُرّہ کا کام تھا جب حضرت ابوبکرصدّیقؓ جوان ہوئے تو یہ خدمت اُن کے سپرد کر دی گئی، جب حضرت ابوبکرؓ کسی چیز کی دیّت کا فیصلہ کرتےتو قریش آپؓ کی تصدیق کرتے اور آپؓ کی دیّت کا لحاظ کرتے۔۔۔ پھر حلف الفضول اور اُس میں حضرت ابوبکرؓ کی شمولیّت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی نیز اِس کی نسبت رسولِ کریمؐ کے حوالہ سے بیان کیا گیا! آپؐ بھی اِس موقع پر موجود تھے اور شریکِ معاہدہ تھے چنانچہ آپؐ ایک دفعہ نبوت کے زمانہ میں فرماتے تھے کہ مَیں عبدالله بن جدعان کے مکان پر ایک ایسی قسم میں شریک ہؤا تھا کہ اگر آج اسلام کے زمانہ میں بھی مجھے کوئی اِس کی طرف بُلائے تو مَیں اِس پر لبّیک کہوں گا۔

بعثت سے قبل آپؓ کے رسولِ کریمؐ سے تعلق اور دوستی کا حال

ابنِ اسحٰق اوراِن کے علاوہ بعض اور لوگوں نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ بعثت سے قبل رسول الله ؐ کے ساتھی تھے، وہ آپؐ کے صدق و امانت اور آپؐ کی پاک فطرت اور عمدہ اخلاق سے اچھی طر ح واقف تھے۔۔۔سیر الصحابہؓ میں لکھا ہے کہ آنحضرتؐ کے ساتھ بچپن سے ہی اُن کو (یعنی حضرت ابوبکرؓ کو) خاص اُنس اور خلوص تھا اور آپؐ کے حلقۂ احباب میں داخل تھے ، اکثر تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا شرف حاصل ہوتا تھا۔ حضرت مرزا بشیر احمدصاحِبؓ نے بعثت سے قبل رسولِ کریمؐ کے حلقۂ احباب کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آنحضرتؐ کے دوستانہ تعلقات کا دائرہ بہت ہی محدود نظر آتا ہے ۔۔۔ جن کے ساتھ آپؐ کے دوستانہ تعلقات تھے اِن سب میں ممتاز حضرت ابوبکرؓ یعنی عبدالله بن ابی قُحافہ تھے۔

زمانۂ جاہلیّت سے ہی حضرت ابوبکرؓ کا شرک اور شراب سے نفرت و اجتناب

زمانۂ جاہلیّت سے ہی حضرت ابوبکرؓ کے شرک اور شراب سے نفرت و اجتناب کے بارہ میں سیرتِ حَلبیّہ اور علامہ ابنِ جوزیؒ کے اقوال کا تذکرہ ہؤانیز حضرت عائشہؓ کی روایت بیان کی گئی کہ اِسی طرح بیان ہؤا کہ ایک روایت میں آتا ہے! رسول الله ؐ کے صحابہؓ کے مجمع میں حضرت ابوبکرؓ سے پوچھا گیا کہ کیا آپؓ نے زمانۂ جاہلیّت میں کبھی شراب پی؟ اِس پر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا! اَعُوْذُ بِاللهِ، مَیں الله کی پناہ میں آتا ہوں۔ پوچھا گیا اِس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا! مَیں اپنی عزت کو بچاتا تھا اور اپنی پاکیزگی کی حفاظت کرتا تھا کیونکہ جو شخص شراب پیتا ہے وہ اپنی عزت اور پاکیزگی کو ضائع کرتا ہے۔۔۔جب یہ بات رسول اللهؐ تک پہنچی تو آپؐ نے فرمایا! صَدَقَ اَبُوْبَکْرٍ، صَدَقَ اَبُوْبَکْرٍ یعنی ابوبکرؓ نے سچ کہا، ابوبکرؓ نے سچ کہا۔ آپؐ نے دو مرتبہ یہ فرمایا۔

حضرت ابوبکر صدّیقؓ کے قبولِ اسلام کے بارہ میں کچھ روایات کا بیان

حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ٔ ثانیہ سے قبل فرمایا! حضرت ابوبکر صدّیقؓ کے قبولِ اسلام کے بارہ میں مختلف جگہوں پر روایات ملتی ہیں بعض تفصیلی ہیں، بعض مختصر ہیں، بہر حال یہ کچھ بیان کر دیتا ہوں۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب سے مَیں نے ہوش سنبھالا ہے میرے ماں، باپ اِسی دین یعنی اسلام پر تھے اور ہم پر کوئی ایسا دن نہیں گزرا کہ جس میں رسول اللهؐ ہمارے پاس صبح، شام دونوں وقت نہ آئے ہوں۔ مزید برآں اِس سلسلہ میں شرحٔ زرقانی میں آپؓ کے واقعۂ قبولِ اسلام ، سیرت ابنِ ہشّام کی شرح الرّوض الانف میں حضرت ابوبکرؓ کی ایک رؤیا اور اسلام لانے کے واقعہ اور سبیل الہدیٰ میں آپؓ کے قبولِ اسلام کے بارہ میں کعب سے مروی روایت کا تذکرہ ہؤانیز آخر پر ارشادفرمایا! بہر حال اِس بارہ میں مزید روایتیں بھی سیرت لکھنے والوں نے لکھی ہیں، اِن شاء الله! آئندہ بیان ہوں گی۔

(خاکسار قمر احمد ظفر۔ نما ئندہ روزنامہ الفضل آن لائن جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 دسمبر 2021

اگلا پڑھیں

کفار کا طرزِ عمل۔اسے ماردو یا جلادو