• 22 جنوری, 2021

حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں او ر وفات پر فن لینڈ کے اخبارات میں ذکر

خاکسار کا اس سے قبل ایک مضمون مورخہ 6جون 2020ء کے شمارہ میں ’’فن لینڈ میں احمدیت کی ابتدائی تاریخ‘‘ کے عنوان سے چھپ چکا ہے جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں آپؓ کی حضرت چوہدری ظفر اللہ خانؓ کے ساتھ خط و کتابت اور حضرت چوہدری صاحب رضی اللہ عنہ کی فن لینڈ میں تبلیغ کا ذکر تھا۔ خاکسار کو اپنی کسی ریسرچ کے سلسلے میں فن لینڈ کی نیشنل لا ئبریری کی آرکائیوز کو کنگھالنا پڑا تو ایک موقع پر خوشگوار حیرت نے جکڑ لیا پھر مزید تحقیق کی تو اللہ کی حمد سے دل بھر گیا ۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہاماً یہ فرمایا تھا کہ ’’مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ (الحکم مورخہ 27 مارچ و 12 اپریل 1898ء جلد2 نمبر5-6 صفحہ13)۔ اور پھر یہ بھی فرمایا کہ ’’خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ648)

اور یقیناً یقیناً اللہ تعالیٰ نے آپؑ کی تبلیغ کو ہر سمت تک پہنچا دیا اور پہنچا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ اللہ کے اس وعدہ کے ایفا کی مثالیں فن لینڈ کے اخبارات میں بھی نظر آتی ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے آپؑ کی زندگی ہی میں قادیان سے تقریبا 5000کلو میٹر دور آپؑ کا ذکر یہاں تک پہنچا دیا تھا اور کس طرح آپؑ کی وفات پر بھی آپؑ اور آپ علیہ السلام کے مشن (جو اللہ کی توحید کے قیام اور اسلام کے احیاء کا مشن ہے) کا ذکر فن لینڈ کے اخبارات میں ہوا۔ تاریخ کے یہ انمول موتی خاکسار قارئین الفضل کی خدمت میں پیش کرتا ہے (خاکسار کے مطابق یہ معلومات اس سے پہلے جماعتی ریکارڈ میں نہیں ہیں)۔

پگٹ کو تنبیہ کی خبر

خاکسار کی تحقیق کے مطابق سب سے پہلے حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر فن لینڈ کے سویڈش زبان کے اخبار «فولکت» نے شائع کیا تھا۔ فن لینڈ حضرت مسیح موعودؑ کے دور میں روس کا حصہ تھا (1809-1917) لیکن اس سے پہلے تقریباً 700سال یہ سویڈن کے زیرِ نگیں رہا جس کی وجہ سے اُس وقت تک بھی سویڈیش اثرات اور زبان کا کافی اثر تھا اور سویڈیش پریس و اخبارات فنش اخبارات کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ تھیں ۔ جب حضرت مسیح موعودؑ نے جان ہیو پگٹ کے دعویٰ کو چیلنج کیا اور اُس کو تنبیہ کی تو اخبار نے اپنے 1903 کے فروری کے شمارہ میں «مقابلہ مسیحیت» کے عنوان کے تحت جن الفاظ کے ساتھ آپؑ کا تعارف کرایا وہ بذاتِ خود ایک نشان ہے ، اخبار لکھتا ہے۔

’’مسٹر سمتھ پگٹ ، جنہوں نے کچھ ماہ قبل یہ اعلان کیا تھا کہ وہ مسیحا ہیں ، انگلینڈ میں مکمل طور پر گمنامی میں کھوچکے ہیں ، لیکن ان کا بھارت میں حریف ہے جو اس پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ پنجاب کے شہر قادیان سے تعلق رکھنے والے مرزا غلام احمد نے ایک پرچہ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے مسٹر پگٹ پر توہین رسالت کا الزام لگایا ہے۔ مرزا غلام احمد لکھتے ہیں ، ’’میں سچا مسیحا ہوں ، زمین پر خدا کی عظمت کا اعلان کرنے آیا ہوں’’۔لگتا ہے کہ وہ ایک قسم کے کھیلوں کےکھلاڑی ہیں۔۔۔۔‘‘

(اخبارFolket مورخہ6فروری 1903 شمارہ نمبر 6)

’’کیا دنیا کو محمڈن (مسلمانوں) سے خطرہ لاحق ہے؟‘‘

ایک اور سویڈش اخبار Åbo Tidning نے اپنے جون 1905 کے شمارہ میں ایک تفصیلی سیاسی تجزیہ شائع کیا جس کا عنوان تھا ’’کیا دنیا کو محمڈن سے خطرہ لاحق ہے؟‘‘ (قارئین کے لیے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ اس وقت خصوصاً مسلمانوں کے لیے لفظ ’’محمڈن‘‘ کا استعمال عام تھا۔) اس مضمون میں اخبار نے مغربی اقوام جو کہ پوری دنیا میں اکثر مقامات پر قابض تھیں یا اثر و رسوخ رکھتی تھیں کو مسلمانوں یا مسلمان تحریکوں و اقوام سے درپیش خطرات کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس تفصیلی مضمون سے چیدہ چیدہ حصے پیش خدمت ہیں۔

اخبار آرٹیکل کے شروع میں لکھتا ہے کہ، جس طرح غیر معمولی طور پر مبالغہ کی حد تک یہ خیا ل کیا جاتا ہے کہ مغرب کو ’’ییلو ڈینجر‘‘ (Yellow Peril) سے بہت خطرہ ہے اسی طرح اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ محمڈن خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مزید لکھتا ہے

اس طرح یہ کہا گیا ہے کہ ایک مقدس جنگ، ’’جہاد‘‘، اسلامی نظریے کا مرکزی نقطہ ہوگا، ایساکہ اس طرح کی جنگ شاید ایشیاء اور افریقہ، دونوں خطوں سے یوروپینز (Europeans) کو مکمل طور پر بے دخل کرنے پر منتج ہو گی۔ پھر مزید یہ لکھتا ہے کہ
ایک امریکی سائنس دان، Crawford. H. Toy ، جو ہارورڈ یونیورسٹی کے اورینٹل زبانوں کے پروفیسر ہیں ، نے اب اس کے خلاف بات کی ہے اور یہ دکھانا چاہا ہے کہ اس خطرے کو بھی بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ ’’وہ توجہ دلاتے ہو ئے کہتے ہیں کہ عربی زبان کے لفظ «جہاد» کا مطلب مقدس جنگ نہیں ہے۔ اس کا مطلب ایک مسلح کوشش ہوسکتی ہے، لیکن اس کے عام معنی نفس مطمٔنہ کے حصول کی سنجیدہ کوشش کرنا ……… یہ قرآن مجید میں 36 مرتبہ آیا ہے ، اور اکثر مواقع پریہ واضح طور پر جنگ کےحوالہ سے نہیں آیا بلکہ اس کا ترجمہ «کوشش» کے طور پر کیا جانا چاہئے۔‘‘

آنحضرتﷺ کے اسوہ اور طرزِ عمل کے بارے میں، Crawford. H.Toy کے حوالے سے اخبار کی گواہی

’’محمد (ﷺ) نے خود مخالف لوگوں پر بلا اشتعال حملے نہیں کئے، اور زیادہ تر معاملات میں محمڈن فاتحوں نے مظلوم لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا، بلکہ انھیں اجازت دی کہ وہ جہاں چاہتے ہیں اپنا اعتقاد برقرار رکھیں۔ یہ اُن عیسائی مبلغین کے بالکل برعکس ہے، مثال کے طور پرجیسا کہ کارل دی گریٹ جیسے جس نے ’’Saxons‘‘ کو بڑی تعداد میں قتل کر کے اور بچ جانے والوں کو غلاموں میں تبدیل کرکے انہیں ’’convert‘‘ کیا۔‘‘

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

اس کے بعد مصنف ترکی، مصر، مراکش، عرب، فارس اور افغانستان کا جیو پولیٹیکل تجزیہ کرنے کے بعد انڈیا کے بارے میں کہتا ہے۔

’’محمڈن (مسلمانوں) کی آبادی کے لحاظ سے ہندوستان دنیا میں سب سے ذیادہ گنجان آباد ہے۔ لیکن ہندوستانی محمڈن کی کوئی سیاسی تنظیم نہیں ہے، اور وہ انگریزی تاج کے ماتحت وفادار رعایا دکھائی دیتے ہیں۔‘‘ پھر مزید لکھتا ہے کہ

حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ کا بیان اور آپؑ کی امن پسندی کا اخبار کا اعتراف

’’ہندوستان کے محمڈن (مسلمانوں) کے معاملے میں، یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں ظاہر ہوئے مسیحا، مرزا غلام احمد نے «Review Of Religions» کے ایک آرٹیکل میں بہت ہی جوش کے ساتھ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ بھی پہلے مسیحا کی طرح، امن کی تبلیغ اورتمام جنگ کو ختم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ نئے نبی لکھتے ہیں، «آج کوئی مہذب قوم مذہبی معاملات پر تلوار نہیں پکڑتی «، « خونی مہدی پر یقین رکھنا خدائی مرضی کے منافی ہے۔» اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جنگ کے فن میں عیسائی قومیں مسلمانو ں سے بہت آگے ہیں کو بطور ایک ثبوت دیکھتے ہیں کہ خدا نہیں چاہتا کہ اسلام جنگ کے ذریعے پھیل جائے۔‘‘

(اخبار Åbo Tidning، جون1909، شمارہ 154)

رجسٹر روایت میں شیخ عبدالکریم صاحب ولد شیخ غلام محمد صاحب جلد ساز کراچی ، صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روایت اور اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی درج ہے کہ 1904ء میں ایک روز سیرکے موقعہ پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’میں اپنی جماعت کو رشیا کے علاقہ میں ریت کی مانند دیکھتا ہوں۔‘‘

(رجسٹرروایات صحابہ جلد13 صفحہ114)

حضرت مسیح موعودؑ نے جب یہ فرمایا تھا تو تب فن لینڈ بھی رشیا کا ہی ایک خود مختار علاقہ تھا اور تب تک آزاد نہیں ہوا تھا اور Nicholas II زارِ روس کی بادشاہت تھی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس پیشگوئی کو فن لینڈ کے حق میں بھی پورا فرمائے اور ہمیں بھی اس کام کی تکمیل میں اپنا بھرپور حصہ ڈالنے کی توفیق بخشے آمین۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر اخبارات میں خبریں

حضرت اقدس مسیح موعود ؑکی وفات کی خبر نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا اور اخبارات اور سرکردہ لوگ بلاتفریق مذہب یہ لکھنے اور کہنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ ایک عظیم شخصیت اب اس دنیا سے کُوچ کر گئی ہے۔ خاکسار کی تحقیق کے مطابق فن لینڈ کے کم از کم 4 سویڈیش اخبارات نے حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کی وفات پر خبریں یا کالم لکھے۔ فن لینڈ کے دارالحکومت سے تب سب سے زیادہ شائع ہونے والے اخبار ’’Hufvudstadsbladet‘‘ جو کے آج تک شائع ہورہا ہے،نے کچھ اس طرح خبر شائع کی:
’’ہندوستان میں محمڈن مسیحا، ایک ’’مہدی‘‘ مرزا غلام احمد خان (خان شاید غلطی سے اخبار نے ساتھ لگا دیا ہے۔ مصنف) نام کے، حال ہی میں لاہور میں وفات پاگئے جہاں وہ بنیادی طور پر اسلامی دنیا کی احمدیہ اسکیم کے سربراہ کی حیثیت سے سرگرم تھے۔ یہ شخص جس کایہ دعویٰ تھا کہ وہ خدا کی طرف سے اُس سچے عقیدے کی تبلیغ کے لئے زمین پر بھیجا گیا تھا جسے یہودیوں ، عیسائیوں اور مسلمان نے مسخ کر دیا تھا۔ یہ ہندوستان میں پیدا ہوئے لیکن اُن کے آبا ء سمرقند سے ہجرت کر کے وہاں آئے تھے۔اُنہوں نے کچھ مدت تک حکومت کی نوکری کی لیکن اپنی مذہبی تبلیغ کی خاطر استعفیٰ دے دیا۔ اُنہوں نے بہت ساری کتابیں اور پرچے لکھے اور شائع کیےجن میں انہوں نے اپنی تعلیمات بیان کیں۔ ۔۔۔۔ ان سب کے علاوہ وہ ایک اخبار کے ایڈیٹر بھی تھے یہاں تک کہ انہوں نے دو اخبار جس میں ایک انگریزی زبان میں ہے، شائع کیے ۔

ان کی معلومات کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام فلسطین کے علاقہ ’’Nazareth‘‘ میں نہیں مرے تھے بلکہ اُنہیں صلیب سے زندہ اتارا گیا تھا اور پھر انہوں نے مشرق کے راستے کا سفر کیا اور آخر کار کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں وفات پائی۔ عیسیٰؑ موسیٰ ؑکا مسیحا تھا اور مرزا ؑمحمد (ﷺ) کا مسیحا تھا۔

زیادہ تر مسلمان اس مبلغ کوبنیادی عقیدے سے ہٹا ہوا خیال کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے ارد گرد پیروکاروں کی ایک جماعت جمع کر لی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُن کی تعداد 70,000 سے 80,000 افراد کے درمیان ہے۔ خود لاہور میں 10,000 پیروکار ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا مستقبل کے واقعات کی پیش گوئی کر سکتے تھےاور معجزوں کا مظاہرہ کر سکتے تھے۔ ایک انگریز جو کہ اُن کو ملا تھا ،نے اُن کو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص قرار دیا اور اُن کو تیز ذہن کے ساتھ ایک قابلِ احترام مظہر (phenomenon) بیان کیا ہے۔ حکام نے اُنہیں آزادانہ طور پر تبلیغ کرنے کی اجازت دی ہوئی تھی کیوں کہ وہ ایک انتہائی امن پسند انسان تھے اور انہوں نے اپنے پیروکاروں کو ہمیشہ حکومتی قوانین کی تعمیل کرنے کی تعلیم دی۔ وفات کے وقت اُن کی عمر تقریباً 70 سال تھی۔‘‘

(اخبار Hufvudstadsbladet مؤرخہ 26جون 1908ء شمارہ171)

اِس کے علاوہ اخبار Nya Pressen نے بھی یہ خبر من و عن انہی الفاظ کے ساتھ اپنے شمارہ مؤرخہ 27جون 1908ء میں شائع کی۔

ایک اور اخبار نے بھی مندرجہ ذیل اضافے کے ساتھ تقریباً اُنہیں الفاظ کے ساتھ یہ خبر شائع کی:
’’کہا جاتا ہے کہ مرزا ؑمستقبل کے واقعات کی پیش گوئی کر سکتے تھے اور عیسیٰؑ سے بھی زیادہ عجیب معجزوں کا مظاہرہ کر سکتے تھے۔‘‘

(اخبار Åbo Underrättelser مؤرخہ 28جون 1908ء)

اسی طرح ایک اور اخبار نے بھی کم و بیش انہیں الفاظ میں لکھا:
’’کہا جاتا ہے کہ مرزا ؑمستقبل کے واقعات کی پیش گوئی کر سکتے تھےاور عیسیٰؑ سے بھی زیادہ عجیب معجزوں کا مظاہرہ کر سکتے تھے۔ ایک انگریز جو کہ اُن کو ملا تھا، نے اُن کو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص قرار دیا اور اُن کو تیز ذہن کے ساتھ ایک قابلِ احترام مظہر بیان کیا اور مقناطیسی شخصیت قرار دیا۔ حکام نے اُنہیں آزادانہ طور پر تبلیغ کرنے کی اجازت دی ہوئی تھی کیوں کہ وہ ایک انتہائی امن پسند انسان تھے اور انہوں نے اپنے پیروکاروں کو ہمیشہ حکومتی قوانین کی تعمیل کرنے کی تعلیم دی۔ وفات کے وقت اُن کی عمر تقریباً 70 سال تھی۔‘‘

(اخبار Syd Österbotten مؤرخہ 30جون 1908ء)

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡ یعنی اور جب صحیفے نشر کئے جائیں گے (التکویر:11) کے ذکر میں فرماتے ہیں :
’’دیکھو کس قدر پریس ہیں جو ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں پا ئے جاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے تا وہ ہمارے کام میں ہماری مدد کرے اور ہمارے دین اور ہماری کتابوں کو پھیلا ئے اور ہمارے معارف کو ہر قوم تک پہنچا ئے تا وہ ان کی طرف کان دھریں اور ہدایت پائیں۔‘‘

(عربی عبارت کا اردو ترجمہ کتاب آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد5صفحہ 473)

’’ایساہی طلوع شمس کاجو مغرب کی طرف سے ہوگا۔ ہم اسپربہرحال ایمان لاتے ہیں لیکن اس عاجز پر جوایک رؤیا میں ظاہر کیا گیا وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتاہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر و ضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منّور کئے جائیں گے اور اُن کو اسلام سے حصّہ ملے گا۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ 515 مطبوعہ 1891ء۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 376اور377)

اللہ تعالیٰ ہمیں ان مغربی اقوام میں اللہ کے پیغام کو پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ جلد اسلام کے نور سے منور ہوں ۔ آمین

(تحقیق،ترجمہ وتحریر: طاہر احمد فن لینڈ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

آنحضورﷺ کا معجزہ