• 18 جولائی, 2024

حاصل مطالعہ (قسط 15)

ارشاد نبویؐ 

حضرت محمود بن لبیدؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک دفعہ باہر نکل کر فرمایا: اے لوگو! شرکِ خفی سے بچو۔ صحابہؓ نے عرض کیا حضور ؐ! شرک خفی کیا ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا: ایک شخص سنوار کر نماز پڑھتا ہے اور اس کی خواہش و کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگ مجھے اس طرح نماز پڑھتے دیکھیں اور بزرگ سمجھیں یہی دکھاوے کی خواہش شرک خفی ہے۔

(الترغیب و الترھیب صفحہ32 الترھیب من الریاء بحوالہ ابن خزیمہ فی الصحیح)

ارشاداتِ عالیہ

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
اخلاق سے اس قدر ہی مراد نہیں ہے کہ زبان کی نرمی اور الفاظ کی نرمی سے کام لے۔ نہیں بلکہ شجاعت، مروت، عفت جس قدر قوتیں انسان کو دی گئی ہیں۔ دراصل سب اخلاقی قوتیں ہیں، اُن کا برمحل استعمال کرناہی اُن کو اخلاقی حالت میں لے آتا ہے۔ ایک مناسب موقع پر غضب کا استعمال بھی اخلاقی رنگ اختیار کرلیتا ہے۔

(ملفوظات جلد1 صفحہ393 مطبوعہ قادیان 2018)

اسلام کی ترقی کا انحصار

اسلام کی تمام ترقی تقویٰ سے شروع ہوئی ہے اور پھر جب اسلام ترقی کرے گا تقویٰ سے کرے گا۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2 صفحہ422)

حلفیہ ارشاد حضرت مسیح موعودؑ

مَیں سچ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیں اور میری جماعت مسلمان ہے اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر اُسی طرح ایمان لاتی ہے جس طرح پر ایک سچے مسلمان کو لانا چاہیے۔ مَیں ایک ذرّہ بھی اسلام سے باہر قدم رکھنا ہلاکت کا موجب یقین کرتا ہوں اور میرا یہی مذہب ہے کہ جس قدر فیوض اور برکات کوئی شخص حاصل کر سکتا ہے اور جس قدر تقرب الی اللہ پا سکتا ہے وہ صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اطاعت اور کامل محبت سے پا سکتا ہے ورنہ نہیں۔ آپؐ کے سوا اب کوئی راہ نیکی کی نہیں۔

(لیکچر لدھیانہ روحانی خزائن جلد20 صفحہ260)

حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی تحریرات کی اہمیت

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’جو کتابیں ایک ایسے شخص نے لکھی ہوں جس پر فرشتے نازل ہوتے تھے ان کے پڑھنے سے بھی ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت صاحبؑ کی کتابیں جو شخص پڑھے گا اس پر فرشتے نازل ہوں گے۔ یہ ایک خاص نکتہ ہے کہ کیوں حضرت صاحبؑ کی کتابیں پڑھتے ہوئے نکات اور معارف کھلتے ہیں اور جب پڑھو جب ہی خاص نکات اور برکات کا نزول ہوتا ہے۔ براہین احمدیہ خاص فیضانِ الٰہی کے ماتحت لکھی گئی ہے۔ اس کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ جب کبھی میں اس کو لے کر پڑھنے کے لئے بیٹھتا ہوں۔ دس صفحے بھی نہیں پڑھ سکا۔ کیونکہ اس قدر نئی نئی باتیں اور معرفت کے نکتے کھلنے شروع ہو جاتے ہیں کہ دماغ انہیں میں مشغول ہوجاتا ہے۔ تو حضرت صاحب کی کتابیں بھی خاص فیضان رکھتی ہیں۔ ان کا پڑھنا بھی ملائکہ سے فیضان حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اور ان کے ذریعہ نئے نئے علوم کھلتے ہیں۔ دوسری اگر کوئی کتاب پڑھو تو اتنا ہی مضمون سمجھ میں آجائے گا جتنا الفاظ میں بیان کیا گیا ہوگا مگر حضرت صاحب کی کتابیں پڑھنے سے بہت زیادہ مضمون کھلتاہے۔ بشرطیکہ خاص شرائط کے ماتحت پڑھی جائیں۔

(ملائکۃ اللہ انوار العلوم جلد5 صفحہ560)

قرآن اور سائنس

سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ النحل آیت 79 وَاللّٰہُ اَخۡرَجَکُمۡ مِّنۡۢ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا ۙ وَّجَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَۃَ ۙ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
آج سائنس نے ثابت کیا ہے کہ سب سے پہلے بچہ کے کان کام کرتے ہیں پھر آنکھیں اور سب سے آخر میں دل یعنی قوت فکریہ کام کرتی ہے یہ ترتیب قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کا ایک ثبوت ہے کیونکہ اس آیت میں وہ مضمون بیان کئے گئے ہیں جو اُس زمانہ میں مخفی تھے۔

(تفسیر کبیر جلد4 صفحہ209)

خلافت کا کوئی بدل ہی نہیں ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
خلافت کا کوئی بدل ہی نہیں ہے۔ ناممکن ہے کہ خلافت کی کوئی متبادل چیز ایسی ہو جو خلافت کی جگہ لے لے اور دل اسی طرح تسکین پالیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 28؍دسمبر 1984ء بمقام پیرس)

ارشاداتِ امام

سیدنا حضرت امیر الموٴ منین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
پہلا مطالبہ سادہ زندگی کا ہے۔ آج جب مادیت کی دوڑ پہلے سے بہت زیادہ ہے اس طرف احمدیوں کو بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ سادگی اختیار کرکے ہی دین کی ضروریات کی خاطر قربانی دی جا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔ شادیوں، بیاہوں پر فضول خرچیاں ہوتی ہیں۔ اگریہی رقم بچائی جائے تو بعض غریبوں کی شادیاں ہو سکتی ہیں، مساجد کی تعمیر میں دیا جا سکتا ہے، اور کاموں میں دیا جا سکتا ہے، مختلف تحریکات میں دیا جاسکتا ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 3؍نومبر 2006ء)

چشم دید انکسار

سر فیروز خان نون ہماری ملکی سیاست میں ایک نمایاں نام اور ممتاز مقام رکھتے ہیں اور پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیر اعظم بھی رہے ہیں انہوں نے اپنی سرگزشت میں ایک نہایت دلچسپ اور عجیب واقعہ لکھا ہے جس میں انکساری اور فروتنی کے علاوہ بھی بہت سے قابل توجہ اور قابل غور امور پائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی سرگزشت ’’چشم دید‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’یہ واقعہ مجھے اپنی زندگی کے ایک اور چھوٹے سے واقعہ کی یاد دلاتا ہے جس کا تعلق سر محمد ظفر اللہ سے ہے جو میرے عمر بھر کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے بلا کی قوتِ حافظہ پائی ہے۔ ایک دفعہ میں سر ظفر اللہ خان کی دعوت پر مرزا صاحب سے ملاقات کے لئے ربوہ جو احمد یہ فرقہ کا مرکزی صدر مقام ہے گیا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے جوتے اتار دیے۔ ملاقات کے بعد جب میں جانے کے لئے کھڑا ہوا تو مرزا صاحب سے باتیں کرتے کرتے پاؤں سے جوتے ٹٹولنے لگا۔ یہ دیکھ کر سر ظفر اللہ خان نیچے جھکے، میرے جوتے اٹھائے اور قرینے سے جوڑ کر میرے سامنے رکھ دیئے۔ بیشتر پاکستانیوں نے اس طرز تپاک کا خواب بھی نہیں دیکھا ہوگا۔ وہ تو ایسی حرکت کوشان ووقار کے منافی اور کسرِ شان سمجھتے ہوں گے۔ لیکن ظفر اللہ خان کے وقار کو اس سے کوئی صدمہ نہیں پہنچا۔ ان کی منکسر المزاجی نے میرے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔‘‘

(’’قندیلیں‘‘ بحوالہ الفضل 13؍فروری 1989ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی