• 1 فروری, 2023

ٹا ئٹینک

یہ ایک مشہور برطانوی مسافر بحری جہاز تھا جو اپنے پہلے ہی سفر کے دوران ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھا ۔Harland and Wolff بیلفاسٹ اس کے صانع تھے۔

اس پر 7.5ملین امریکی ڈالر لاگت آئی۔ 31مارچ 1909ء کو تعمیر کا آغاز ہوا اور 31؍مئی 1911ء کو پانی میں اترا۔ پہلا سفر 10؍اپریل 1912ء کو ہوا۔ اس کا مالک وائٹ سٹار لائن تھا اس کی لمبائی 882 فٹ 9 انچ اور جہاز کا عرض 92 فٹ تھا اور اونچائی 175 فٹ تھی۔ اس کی رفتار 39 کلومیٹر فی گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ 44 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔اس میں دو ہزار چار سو پینتیس افراد اور 892 عملہ سمیت تین ہزار تین سو ستائیس یا دیگر ذرائع کے مطابق تین ہزار پانچ سو سینتالیس کی گنجائش تھی۔ 20 کشتیاں 1178 افراد کے لئے اس میں موجود تھی۔

حادثہ

اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار پانچ سو بارہ افراد تھی۔ٹا ئٹینک نے امریکی شہر نیو یارک کے لیے سفر کا آغاز برطانوی شہر ساؤتھیمسن سے کیا تھا اور یہ شمالی بحر اوقیانوس میں ڈوبا۔ اس کا ملبہ اب بھی سمندر میں تین یا چار ہزار میٹر گہرائی میں موجود ہے۔اپنے سفر کے آغاز کے چوتھے اور پانچویں روز کی درمیانی شب اس میں سوار 1502 مسافروں کی زندگی کا چراغ اس وقت گل ہوگیا جب یہ سمندر کا بادشاہ برف کے تو دے سے ٹکرا کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ لائف بوٹس کے ذریعے وائٹ سٹار لائن کمپنی کے ٹا ئٹینک کے صرف 722 مسافر زندہ بچ پائے۔ان میں کمپنی کا مالک بھی شامل تھاجو خواتین اور بچوں کو ڈوبتے جہاز میں چھوڑ کر ایک کشتی کے ذریعے نکل گیا یہ خود غرض اپنی پوری زندگی نفرت کا نشانہ بنا رہا ہے اسے ٹا ئٹینک کا بزدل کہا جاتا ہے۔

مالک اور کیپٹن

اس کا مالک اکتوبر 1937ء کو گوشہ تنہائی میں چل بسا دوسری طرف جہاز کا کیپٹن ایڈورڈ عملہ کے ساتھ خواتین اور بچوں کو بچانے کی کوشش میں خود ڈوب کر انسانیت پر احسان کر گیا یہ وہ آخری آدمی تھا جس نے جہاز سے چھلانگ لگائی ایک آدمی آخری کشتی کی طرف تیرتے ہوئے لپکا تو ایک مسافر نے کہا یہ پہلے ہی اوور لوڈ ہے اس پرتیراک پیچھے ہٹ گیا اور اس نے کہا

‘‘Alright boys good luck and God bless you’’

یہ جہاز کا کپتان 62 سالہ ایڈورڈ تھا دوسروں پر اپنی جان نچھاور کرنے کے عظیم جذبے کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کا مجسمہ سٹیفورڈ میں نصب کیا گیا ہے۔

موجودہ حالت

ٹا ئٹینک جہاز تک پہنچنے کے لئے آپ کو تقریبا چار کلومیٹر سمندر کے نیچے جانا ہوگا جو ناممکن ہے کیونکہ سمندر میں آپ جتنی گہرائی میں جاتے ہیں اتنا ہی پانی کا پریشر زیادہ ہو جاتا ہے۔یہ دریافت ایک غوطہ خور گاڑی کے ذریعے ٹا ئٹینک کے ڈوبنے کے تقریبا ستر سال بعد ممکن ہو پائی۔غ

جہاز ڈوبنے کی وجہ

اب ایک نئی تحقیق میں عندیہ دیا گیا ہے کہ 14؍اپریل 1912ء کی شب زمین کے مقناطیسی کرے میں عارضی انتشار ٹا ئٹینک کے حادثے کا باعث بنا۔ جریدے ویدر میں شائع ہونے والی یہ تحقیق ایک موسمیاتی ماہر میلا زنکووا کی جانب سے کی گئی۔عینی شاہدین نے برفانی تودے سے ٹائیٹینک کے ٹکرانے کے بعد مضبوط ناردرن لائٹس کو آسمان پر دیکھا تھا۔آر ایم ایس کارپیتھا کے سیکنڈ آفیسر جیمز بسیٹ (وہ بحری جہاز جس نے 15؍اپریل کو علی الصبح ٹا ئٹینک کے 705 مسافروں کو بچایا تھا) نے 14؍اپریل 1912ء کی رات کو اپنی لاگ میں لکھا تھا آسمان پر چاند نہیں تھا، مگر ناردرن لائٹس کی روشنی چاندنی کی طرح جگمگا رہی تھی۔

ٹا ئٹینک کے حادثے میں بچ جانے والوں نے بھی صبح 3 بجے کے وقت اپنی لائف بوٹس میں آسمان پر ان روشنیوں کا ذکر کیا تھا۔ اس طرح کی روشنیاں سورج کی جانب سے تیز رفتار ذرات کے سیلاب کے اخراج کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شمسی طوفان سے بنتی ہیں۔ جب یہ ذرات زمین کے ماحول سے ٹکراتے ہیں تو زمینی ماحول کی گیسز کو توانائی ملتی ہے جس سے وہ سبز، سرخ، جامنی اور نیلے رنگ میں جگمگانے لگتی ہیں۔یہ شمسی ذرات زمین کے برقی اور مقناطیسی سگنلز میں مداخلت بھی کرتے ہیں جس سے برقی ڈیوائسز کے افعال متاثر ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں یہ خیال پیش کیا گیا ہے کہ یہ شمسی طوفان اتنا طاقتور تھا جو اس مقام پر ناردرن لائٹس کا باعث بنا جہاں ٹا ئٹینک برفانی تودے سے ٹکرایا تھا۔اس شمسی طوفان کے نتیجے میں اس کے مقناطیسی کمپاس اور جہاز کا الیکٹریکل ٹیلی گراف متاثر ہوئے تھے۔

شمالی بحر اوقیانوس میں برفانی تودوں کے حوالے سے وہاں سفر کرنے والے دیگر بحری جہازوں کی معلومات سے آگاہ رہنے کے لیے ٹا ئٹینک کے کپتان ایڈورڈ جون اسمتھ نے حکم دیا تھا کہ زیادہ خطرناک علاقے میں جانے سے گریز کیا جائے۔

مگر تحقیق میں بتایا گیا کہ اس شمسی طوفان کے نتیجے میں جہاز کی سمت میں کمپاس کی خرابی کے نتیجے میں معمولی تبدیلی آئی اور خطرناک برفانی علاقے میں جانے سے بچنے کی بجائے وہ بحری جہاز سیدھا اس طرف چلا گیا۔ اس خیال سے ٹا ئٹینک کے سانحے کے ایک اور پہلو کی وضاحت بھی ممکن ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ڈوبتے ہوئے جہاز سے مدد کی درخواست پر دیگر بحری جہازوں نے پہلے غلط سمت میں تلاش کی اور بعد میں درست جگہ پر پہنچے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ شمسی مداخلت ہی امداد کی کوششوں میں رکاوٹ بھی بنی۔جب کپتان کو اندازہ ہو گیا کہ ٹا ئٹینک کو ڈوبنے سے بچایا نہیں جاسکتا تو انہوں نے 2 ریڈیو آپریٹرز کو مدد کے سگنل قریبی جہازوں کو بھیجیں۔آر ایم ایس بالٹک جو ان جہازوں میں سے ایک تھا جس نے مدد کی کال پر جواب دیا کے عملے نے بتایا کہ اس رات ریڈیو سگنلز بہت عجیب تھے اور بیشتر پیغامات پڑھے نہیں جاس کے اور ٹا ئٹینک کا جواب کبھی مل نہیں سکا۔

(صلاح الدین باجوہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی