• 27 فروری, 2021

حضرت غلام رسول صاحب رضی اللہ عنہ چانگریاں، حضرت رحمت اللہ صاحب احمدی پنشنر، حضرت مولوی فتح علی صاحب احمدی منشی فاضل دوالمیال

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
حضرت غلام رسول صاحب رضی اللہ عنہ چانگریاں تحصیل پسرور، ڈاکخانہ پھلورہ ضلع سیالکوٹ لکھتے ہیں کہ
’’خاکسار خدا کے فضل وکرم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں داخل ہے۔ میں نے 1901ء میں یا 1902ء میں بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر کی تھی۔ اُس وقت حضور کی خدمت میں ایک ہفتہ رہا۔ اور ہم آپ کو جب آپ مسجد میں عموماً مغرب کی نماز کے بعد بیٹھتے تھے دباتے تھے۔ یعنی ٹانگیں وغیرہ دبایا کرتے تھے۔ اور آپ ہم کو منع نہیں کرتے تھے۔ اور آپ کا چہرہ مبارک ایسا تھاکہ وہ شبہات جو مولوی ڈالتے تھے آپ کا چہرہ دیکھنے سے دور ہوجاتے تھے۔ چنانچہ مَیں نے سنا ہوا تھا کہ مہدی معہود کا چہرہ ستارے کی طرح چمکتا ہوگااور مَیں نے ایسا ہی پایا۔ اور میرے سارے اعتراضات آپ کے چہرہ دیکھتے ہی حل ہوگئے۔ اور جب آپ پر کرم دین نے دعویٰ کیا تھا اور مجسٹریٹ چندولال کی عدالت میں دعویٰ تھا اور بہت شور تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ضرور جیل میں جائیں گے اور حضرت مسیح موعودؑ فرماتے تھے کہ لوگ یہ افواہ اٹھا رہے ہیں کہ میں جیل میں جاؤں گا۔ ہمارا خد اکہتا ہے تمہیں ایسی فتح دوں گا جیسے صحابہ کو جنگ بدر میں دی تھی اور وہ الفاظ آپ کے اب تک کانوں میں گونجتے ہیں‘‘۔

(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 111 روایت حضرت غلام رسول صاحبؓ۔ غیرمطبوعہ)

حضرت رحمت اللہ صاحب احمدی پنشنر۔ سنگرور ریاست جیند لکھتے ہیں کہ ’’میرا نام رحمت اللہ خلف مولوی محمد امیر شاہ قریشی سکنہ موضع بیرمی ضلع لدھیانہ ہے۔ کہتے ہیں خدانے اپنے فضل و رحم سے مجھے چن لیا۔ اور غلامی حضور سے سرفراز فرمایا ورنہ من آنم کہ من دانم۔ تفصیل اس کی یہ ہے: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چند ماہ لدھیانہ میں قیام فرمایا۔ میری عمر اس وقت قریباً سترہ اٹھارہ برس کی ہوگی۔ اور طالب علمی کا زمانہ تھا۔ میں حضور کی خدمتِ اقدس میں گاہے بگاہے حاضر ہوتا۔ مجھے وہ نور جو حضور کے چہرہ مبارک پر ٹپک رہاتھا نظرآیا۔ جس کے سبب سے میراقلب مجھے مجبور کرتاکہ یہ جھوٹوں کا منہ نہیں ہے۔ مگر گردونواح کے مولوی لوگ مجھے شک میں ڈالتے۔ اسی اثناء میں حضور کا مباحثہ مولوی محمد حسین بٹالوی سے لدھیانہ میں ہواجس میں مَیں شامل تھا۔ اس کے بعد خدانے میری ہدایت کے لئے ازالہ اوہام کے ہردوحصے بھیجے۔ وہ سراسر نوروہدایت سے لبریز تھا۔ خداجانتاہے کہ میں اکثراوقات تمام رات نہیں سویا۔ اگر کتاب پر سررکھ کر غنودگی ہوگئی تو ہوگئی ورنہ کتاب پڑھتا رہا اور روتا رہاکہ خدایہ کیا معاملہ ہے۔ مولوی لوگ کیوں قرآن شریف کو چھوڑتے ہیں؟ خدا جانتا ہے کہ میرے دل میں شعلۂ عشق بڑھتا گیا۔ میں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو لکھا کہ حضرت مرزاصاحب عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تیس آیات سے ثابت کرتے ہیں۔ آپ براہِ مہربانی حیات کے متعلق جو آیات و احادیث ہیں تحریر فرماویں۔ اور ساتھ جو تیس آیاتِ قرآنی جو حضرت مرزا صاحب لکھتے ہیں تردید فرماکر میرے پاس بھجوادیں۔ میں شائع کرادوں گا۔ جواب آیا کہ آپ عیسیٰ کی حیات و ممات کے متعلق حضرت مرزاصاحب یا اُس کے مریدوں سے بحث مت کرو۔ کیونکہ اکثر آیاتِ وفات ملتی ہیں۔ (قرآنِ کریم میں اگر دیکھنا ہے تو پھر وہاں تو وفات کی آیات ہی ملتی ہیں) یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ لکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ اُن غیر احمدی مولوی صاحب نے لکھا کہ یہ مسئلہ اختلافی ہے اس امر پر بحث کرو کہ مرزاصاحب کس طرح مسیح موعود ہیں؟ جواب میں عرض ہوا کہ اگر حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں تو حضرت مرزاصاحب صادق ہیں۔ جواب ملا کہ آپ پر مرزاصاحب کا اثر ہوگیاہے۔ میں دعاکروں گا۔ جواب میں کہتے ہیں۔ مَیں نے عرض کیا کہ آپ اپنے لئے دعا کریں۔ آخرمَیں آستانۂ الوہیت پر گرا اور میرا قلب پانی ہو کر بہہ نکلا۔ گویا میں نے عرش کے پائے کو ہلادیا۔ عرض کی خدایا مجھے تیری خوشنودی درکارہے۔ میں تیرے لئے ہر ایک عزت کو نثارکرنے کو تیارہوں اور ہرایک ذلت کو قبول کروں گا۔ تو مجھ پر رحم فرما۔ تھوڑے ہی عرصہ میں مَیں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ بوقت صبح قریباً چار بجے 25 دسمبر 1893ء بروز سوموار جناب سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ تفصیل اس خواب کی یہ ہے کہ خاکسارموضع بیرمی میں نماز عصر کا وضو کر رہا تھا کہ کسی نے مجھے آکر کہا کہ رسول ِ عربی آئے ہوئے ہیں اور اسی ملک میں رہیں گے۔ میں نے کہا کہاں؟ اس نے کہا یہ خیمہ جات حضورؐ کے ہیں۔ میں جلد نماز ادا کر کے گیا۔ حضورؐ چند اصحاب میں تشریف فرماتھے۔ بعد سلام علیکم مجھے مصافحہ کا شرف بخشا گیا۔ میں بہ ادب بیٹھ گیا۔ حضورؐ عربی میں تقریر فرمارہے تھے۔ خاکسار اپنی طاقت کے موافق سمجھتا تھا۔ اور پھر اردو بولتے تھے۔ فرمایا میں صادق ہوں۔ میری تکذیب نہ کرو۔ وغیرہ وغیرہ۔ لکھتے ہیں کہ مَیں نے کہا آمَنَّا وَ صَدَّقْنَایَا رَسُوْلَ اللّٰہ۔ تمام گاؤں مسلمانوں کا تھا۔ مَیں حیران تھاکہ خدایا! یہ کیا ماجرا ہے؟ آج مسلمانوں کے قربان ہونے کا دن تھا۔ گویا حضورؐ کا ابتدائی زمانہ تھا۔ گو مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ حضورؐ اسی ملک میں تشریف رکھیں گے مگر حضورؐ نے کوچ کا حکم دیا۔ مَیں نے روکر عرض کی حضورؐجاتے ہیں۔ مَیں کس طرح مل سکتاہوں۔ میرے شانہ پر حضور نے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے) اپنا دستِ مبارک رکھ کر فرمایاکہ گھبراؤ نہیں ہم خود تم کو ملیں گے۔ کہتے ہیں اس کی تفہیم مجھے یہ ہوئی کہ حضرت مرزاصاحب رسولِ عربی ہیں۔ مجھے فعلی رنگ میں سمجھایا گیا۔ کہتے ہیں میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔ مگر بتاریخ 27 دسمبر 1898ء قادیان حاضر ہو کر بعد نمازِ مغرب بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا اور خدا کے فضل نے مجھے وہ استقامت عطا فرمائی کہ کوئی مصائب مجھے تزلزل میں نہیں ڈال سکے۔ مگر یہ سب حضورؑکی صحبت کےطفیل تھا جو بار بار حاصل ہوئی۔ اور ان ہاتھوں کو حضوؑر کی مٹھیاں بھرنے کا فخر ہے (یعنی کہ دبانے کا بھی فخر ہے)۔ گو مجھے اعلان ہونے پر رنگا رنگ کے مصائب پہنچے مگر خدانے مجھے محفوظ ہی نہیں رکھا بلکہ اس نقصان سے بڑھ کر انعام عنایت کیا۔ اور میرے والد اور میرے بھائی اور قریبی رشتہ دار احمدی ہو گئے۔ اَلْحَمْدُللّٰہ۔

(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 58-59 روایت حضرت رحمت اللہ صاحبؓ۔ غیرمطبوعہ)

حضرت مولوی فتح علی صاحب احمدی منشی فاضل دوالمیال ضلع جہلم کہتے ہیں کہ مَیں نے 1904ء میں بمعہ بال بچہ آکر حضور مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضورؑ کی حیاتِ مقدس میں ہر سال بمعہ بال بچہ ہی حضورؑ کی خدمت اقدس میں یہاں پہونچتا رہااور جب کبھی حضورؑ باہر نماز کے لئے تشریف لاتے اور مسجد میں بیٹھتے تو ہم دوالمیال کی جماعت جو پانچ سات کس تھے پاس بیٹھتے۔ اور حضور ؑکی زبان مقدس کے الفاظ سے فیض اٹھاتے اور چند دفعہ دعا کے لئے بھی عرض کی گئی تھی۔ اس وقت وہ چھوٹی سی مسجد جس میں پانچ چھ آدمی بصد مشکل کھڑے ہوسکتے تھے۔ پھر مسجد مبارک وسیع کی گئی۔ ایک دفعہ ہماری جماعت کے امام مسجد مولوی کرم داد صاحب نے عرض کی کہ حضور!ہماری مسجد میں قدیم سے ایک امام سید جعفر شاہ صاحب ہیں۔ وہ حضورؑ کے معتقد ہیں۔ وہ آپ کو مانتے ہیں لیکن غیروں کی بھی گاہ بگاہ جنازوں میں یا نمازوں میں اقتداء کرتے ہیں (مانتے تو ہیں لیکن غیروں کے پیچھے، مولویوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں)۔ تومیں نے عرض کی کہ وہ شخص یہاں تک معتقد ہے کہ ایک دفعہ مجھ سے اس نے خط لکھوایا اور یہ لفظ لکھوائے کہ میں حضوؑرکے کتوں کا بھی غلام ہوں۔ اگر کسی وقت جہالت یا نادانی سے کمی بیشی ہوگئی ہو تو حضور فی سبیل اللہ معاف فرما دیں۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جب وہ اب تک دنیا کی لالچ یا خوف سے غیروں کے پیچھے نماز یا جنازہ پڑھتا ہے (جو تکفیر کرتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اُن کے پیچھے نماز پڑھتا ہے) تو کب اس نے ہم کو مانا۔ آپ اس کے پیچھے نمازیں مت پڑھیں۔ درزی تھے، کہتے ہیں: مَیں نے اسی وقت حضرت امّ المومنین کے حکم سے اندرسے سلائی مشین منگوائی اور حضرت صاحبزادہ شریف احمد ؓ کا جو اس وقت آٹھ دس سال کے ہوں گے گرم کوٹ تیار کررہا تھا اور اس طرح انہوں نے تیار کیا اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کھیوڑہ سے آیا کرتے تھے تو ہماری عورتوں نے کہا کہ دس گیارہ میل ہمیں پیدل پہاڑی سفر کرنا پڑتا ہے، اس لئے ہم بستر نہیں لا سکتے۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ حامد علی (حامد علی صاحب جو آپ کے خدمت گار تھے) دوالمیال والوں کو رضائیاں اور بستر دے دیا کرو۔

حضورؑ کی برداشت کا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ کسی کو کوئی تکلیف ہوتی تھی تو ہم حضورؑ سے دوائیاں وغیرہ بھی منگو الیتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میرا لڑکا عبدالعزیز مرحوم جو سات آٹھ سال کا تھا جو میرے ساتھ بھی آتا رہا اور حضورؑ کی درثمین کے اشعار نہایت خوش الحانی، خوش آوازی سے پڑھتا تھا (خوش الحانی سے پڑھا کرتا تھا)۔ جلسوں میں بھی اور حضورؑ کے اندر بھی آکر سناتا تھا۔ حضورؑ اس سے بہت پیار کرتے تھے۔ دوالمیال والوں کی درخواستیں بھی یہی اندر میں حضورکو پہنچاتا تھا۔ ایک دفعہ محمد علی ولدنعمت نے ایک عرضی کسی خاص دعا کے لئے لکھ کر عبد العزیز کو دی کہ حضورؑ کو دے آؤ اور گھر جانے کی اجازت لے آؤ۔ چونکہ ابھی سویرا ہی تھا اور حضورؑ نماز فجر کے بعد رضائی اوڑ ھ کر بمعہ بچوں کے لیٹے ہوئے تھے۔ یہ بھی بچہ تھا۔ اس قدر ادب اور احترام کو نہیں سمجھتا تھا کہ حضورؑ آرام کررہے ہیں۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض دفعہ، بلکہ اکثر نمازِ فجر کے بعد آرام کیا کرتے تھے) یہ بچہ اندر گیا اور فوراً حضورؑ کے چہرہ ٔمبارک سے رضائی اٹھا لی اور وہ رُقعہ دیا اور ساتھ اجازت جانے کی بھی مانگی۔ لکھتے ہیں قربان ہوں میرے ماں باپ کہ ذرا بھی حضورؑ کے چہرہ مبارک پر ملال نہ آیاکہ ارے بیوقوف! ہم کو بے آرام کردیا بلکہ پیار سے کہا کہ اچھا اجازت ہے۔ یہ تھے حضورؑکے اخلاق فاضلہ جس نے تمام مخلوقات کو اپنا گرویدہ بنالیا۔

(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 72-73 روایت حضرت مولوی فتح علی صاحبؓ۔ غیرمطبوعہ)

(خطبہ جمعہ 17؍ دسمبر 2010ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 فروری 2021