• 18 جولائی, 2024

جرمنی میں حفاظتی ٹیکوں کا انتظام

بیت السبوح جرمنی میں خدام الاحمدیہ کے تحت
حفاظتی ٹیکوں کا انتظام

مرا مقصود و مطلوب و تمنا خدمتِ خلق است
ہمیں کارم ہمیں بارم ہمیں رسمم ہمیں راہم

جس دور سےہم گزر رہے ہیں یہ دور مسیح محمدیﷺ کا بابرکت دور ہے جو حکم وعدل اور مبشر ونذیر بن کر آنحضرت ﷺ کی نیابت میں مبعوث ہوئے۔ اسی دور میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنے پیارے بندے سے ایمان لانے والوں کے متعلق شمار خوشخبریوں کا وعدہ فرمایا وہاں منکرین کے لئے مختلف انذار بھی موجود ہیں جن میں زلزلے، طوفان، سیلاب اور مہلک بیماریاں وغیرہ شامل ہیں۔ مگر انبیاء کی ہمیشہ سے ہی یہ شان رہی ہے کہ وہ عام خلق اللہ کے لئے مادرِ مہربان کی طرح ہوتے ہیں اور کبھی نہیں چاہتے کے ان کی وجہ سے کوئی روحانی وجسمانی طور پر ہلاک ہو بلکہ اُن کا مقصد حیات تو احیائے موتیٰ یعنی روحانی و جسمانی بیماروں کا علاج کرنا ہوتا ہےاور ان سے شفقت ومہربانی سے پیش آنا ہوتا ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہاماً فرمایا تھا کہ

’’یَااَحمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَۃُ عَلیٰ شَفَتَیک‘‘

اے احمد! تیرے لبوں پر رحمت جاری ہوئی ہے۔

( تذکرہ صفحہ 73-74 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ)

پس اس رحمت نے جہاں روحانی بیماروں کے لیے آپؑ کے دل میں درد پیدا کیا ہوا تھا وہاں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی جسمانی اور مادی ضرورتوں کے لئے بھی آپ ؑ دعا اور تدبیر کے لئے ہر وقت اور ہر لمحہ تیار رہتے تھے۔

اپنے آقا کی پیروی میں مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی مندرجہ بالا شعر کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہوئے دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھتی ہے۔بوڑھے، بے گھر افراد کو کھانا کھلانا ہو یا گرم کپڑے مہیا کرنےہوں یا عطیات خون دینے ہوں۔ خواہ سیلاب زدگان کی مدد کرنا ہو یا وبائی امراض سے بچاؤ کی تدابیر کرنی ہوں غرضیکہ اپنے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی براہ راست راہنمائی میں خدمت کی توفیق پا رہی ہے۔اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے اپنی بساط کے مطابق مصروفِ عمل ہے۔

جیسا کہ احباب جماعت جانتے ہیں کہ آج کل ’’کرونا وباء‘‘ نے پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اللہ جانے اور کتنا عرصہ اس وباء کے ساتھ نبردآزما ہونا پڑے گاعام انسان تو ایک طرف بڑی بڑی جابر حکومتوں نے بھی اس کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اور وہ بھی اس بیماری کے سامنے بےبس و مجبور نظر آرہی ہیں۔ پوری دُنیا اس وقت معاشی و معاشرتی طور پر مشکلات کا شکار ہے ہر ملک میں حفاظتی ٹیکے لگوانے کا عمل اس قدر آسان نہیں لوگوں کو ڈاکٹر زسے اپوائنٹمنٹ لینے میں بعض اوقات کافی وقت لگ جاتا ہے اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جماعت احمدیہ ہمیشہ ہی ’’حب الوطن من الایمان‘‘ کے تحت اپنی استعدادوں کے مطابق خدمت خلق کے لئے اپنے آپ کو حکومت وقت کی مدد کے لئے پیش کرتی رہی ہے۔ زیر نظر رپورٹ بھی خدمت خلق اور ’’حب الوطن من الایمان‘‘ کی ایک زندہ مثال ہے۔ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کو ماہ دسمبر2021 میں 4دن یعنی مورخہ11-12اور 18-19 کو صبح 9بجے سے رات 9بجے تک بلا تخصیصِ مذہب وملت کرونا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم چلانے کی توفیق ملی۔ قارئین الفضل کی معلومات کی خاطر خاکسار نے مکرم سجاد حیدر عتیق صاحب نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی سے اس مہم کی غرض وغائت اور تفصیلات دریافت کیں تو انہوں نے بتایا کہ جون،جولائی میں مکرم صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کی یہ خواہش تھی کہ ہم حفاظتی ٹیکے لگانے میں جرمن ادارۂ صحت کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ دن بدن سماجی پابندیوں میں ناگزیر اضافے کی وجہ سے لوگوں میں خوف وہراس کے علاوہ بے چینی پائی جارہی ہےاور حفاظتی ٹیکے لگوانے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خدمت خلق کے اس جذبےکی تکمیل کے لئے تقریباً ہر عاملہ میٹنگ میں اس موضوع کو زیربحث لایا گیا۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ گرمیوں میں عموماً کرونا سے متاثرین کی تعداد میں واضح کمی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے اس مہم کو عملی جامہ پہنانے میں تاخیر ہوتی گئی لیکن جیسے ہی سردیاں شروع ہوئیں مریضوں کی تعداد میں یک لخت بہت زیادہ اضافہ ہوا تو مکرم کمال احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی اور مکرم سجاد حیدر عتیق صاحب کو اس کا ناظم مقرر فرمایا نیز صدر صاحب نے فرمایا کہ اس کام کے لئے قائدین مجالس سے مدد لی جائے اور انہی کے سپر د کام کئے جائیں۔ کمیٹی کے قیام کے بعد ایک خادم مکرم ڈاکٹر ثاقب چیمہ صاحب ابن مکرم منور احمد چیمہ صاحب سے رابطہ کیا گیا اور اُن سے حفاظتی ٹیکوں کی مہم کے بارے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ مکرم ڈاکٹر صاحب نے اپنی کمپنی رجسٹرڈ کروائی ہوئی ہے اور اسی کمپنی کے الحاق سے اس خدمت کا بیڑا اُٹھایا گیا۔ مکرم ڈاکٹر صاحب نہ صرف خود صبح سے شام تک خدمت میں مصروف رہے بلکہ اپنے عملے کو بھی ساتھ لائے۔ اسی طرح احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشن جرمنی کا تعاون بھی شامل حال رہا جنہوں نے احمدی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے انتظام میں مدد فرمائی۔

ٹیکے لگانے کا انتظام بیت السبوح کے مردانہ سپورٹ ہال میں نہایت منظم طریق پر میڈیکل کے تمام اصولوں اور یورپین معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔ ڈاکٹرز اور سٹاف کے استعمال کی مطلوبہ اشیاء وافر مقدار میں موجود تھیں۔ ہال کے اندر قالین بچھائے گئے۔قطاریں اور نظم وضبط قائم رکھنے کے لئے لوہے کے دیدہ زیب اسٹینڈ ز کی مدد سے راہداریاں بنائ گئیں نیز ٹیکہ لگانے کے لئے 10باپردہ عارضی کیبن تیار کئے گئے۔مکرم سجاد صاحب نے بتایا کہ تمام ضروری چیزیں تو ہمارے پاس تھیں لیکن کیبن بنانے کے لئے ہمارے پاس سامان نہ تھا۔ ان کا انتظام کرنے کی ڈیوٹی ایک مخلص خادم مکرم ولید احمد صاحب کے سپرد کی اس نوجوان نے اللہ کے فضل سے دن رات پورے جرمنی میں ان کی تلاش کی اور بالآخر فرینکفرٹ سے تقریباً 150 کلومیٹر دور سے یہ کیبن لیکر آئے۔ فجزاھم اللّٰہ۔

اس مہم کی تیاری صرف ایک ہفتے کے اندر اندر کی گئی۔ اسی دوران ویب سائٹ تیار کی گئی تاکہ لوگ آن لائن اپنا اندراج کرکے تشریف لائیں۔ خدام الاحمدیہ کی مرکزی ویب سائٹ کے علاوہ اس مہم کی سوشل میڈیا اور اخبارات کے ذریعہ بھی تشہیر کی گئی لیکن ایک بڑی تعداد اُن احباب کی بھی تھی جنہیں اس سہولت سے فائدہ اٹھانے لوگوں نے از خود مطلع کیا تھا کہ جماعت احمدیہ سے ٹیکہ لگوائیں یہاں بہت عمدہ انتظام اور اچھے لوگ ہیں نیز انتظار کی زحمت بھی نہیں اٹھانی پڑتی۔

ان چار دنوں میں بیت السبوح کے اندر اور باہر جلسے کا ساماں تھا خوب گہماگہمی رہی احباب جماعت کے علاوہ کثیر تعداد جرمن احباب وخواتین کی تھی جو حفاظتی ٹیکے لگوانے کے لئے تشریف لائے تھے۔ آنے والے مہمانوں کےداخلے کے لئے بیت السبوح کا عقبی دروازہ استعمال کیا گیا۔ بیت السبوح کے باہر جگہ جگہ خدام راہنمائی کے لئے کھڑے تھے۔داخلی و خارجی دروازوں پر بھی خدام ڈیوٹی پر موجود تھے جو آنے والے احباب کو خوش آمدید کہتے اور جاتے وقت شکریہ ادا کرتے۔ رجسٹریشن و اندارج کے لئے خیمہ جات لگاکر انتظام کیا گیا تھا جہاں آنے والے احباب کے نام لکھے جاتے، حفاظتی ٹیکوں والے کارڈ زپر اندراج کیا جاتا اور انہیں اپنی باری کا انتظار کرنے کے لئے کہا جاتا انتظار گاہ کوبھی بڑی خوبصورتی سے تیار کیا گیا تھا جہاں کرسیاں میز لگائے گئے اور مہمانوں کے لئے ہر وقت چائے، کافی، بکسٹ اور کیک وغیرہ کا انتظام موجود تھا۔ سردی سے بچنے کے لئے ہیٹرز بھی لگا رکھے تھے اسی طرح بعض جماعتی فلاحی سرگرمیوں کے پوسٹر و بینرز بھی معلومات کے لئے لگا رکھے تھے تاکہ احباب و خواتین فارغ وقت میں جماعت کا تعارف حاصل کرتے رہیں۔ڈاکٹرز کے لئے بھی میز لگائے گئے جہاں ڈاکٹرز ٹیکہ لگوانے والے کے کاغذات چیک کرتے اور انہیں بعض ضروری طبی معلومات دینے کے بعد کیبن میں بھجوا دیتے جہاں پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے خدام انہیں ٹیکہ لگاتے اور مزید 15منٹ آرام کرنے کا کہتے اس دوران بھی لوگ چائے کافی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

مکرم سجاد صاحب نے مزید بتایا کہ دو ہفتے قبل مجلس خدام الاحمدیہ نے بیت السبوح میں عوام الناس کی سہولت کے لئے مفت کرونا ٹیسٹ کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے اس کے لئے مستقل طور پر ایوان خدمت کے اندر انتظام کیا گیا ہے تاہم اس مہم کے دوران بیت السبوح کے شمالی جانب خیمہ لگا کر یہ سنٹر برقرار رکھا گیا یہاں سے ٹیسٹ کروانے والے احباب پہلے اپنے کوائف خدام الاحمدیہ کی بنائی ہوئی ایپ کے ذریعہ بھجواتے ہیں اور اُسے دکھاکر ٹیسٹ کرواتے ہیں جس کا نتیجہ متعلقہ شخص کو بذریعہ ای میل بھجوایا جاتا ہے۔ اس طرح بھی جرمن احباب کو جماعت کا مؤثر تعارف ہو رہا ہے۔

مکرم سجاد حیدر صاحب نے مکرم ڈاکٹر ثاقب چیمہ صاحب کے حوالے سےبتایا کہ انہوں نے جولائی 2021میں ہی Impfpraxis Frankfurt کے نام سے ایک ادارہ رجسٹر کرایا ہے اور فرینکفرٹ شہر میں اس کا دفتر قائم کرکے کام کا آغاز کیا تھا اور اب تک ہزار ہا افراد کو کامیابی کے ساتھ کرونا کےحفاظتی ٹیکے لگا چکے ہیں۔ اس ادارے کے ذریعہ ٹیکے لگانے کا مختلف جگہوں پر انتظام کیا جاتا ہے۔گزشتہ دنوں جرمنی کے شہر Würzburg میں پانچ ہزار افراد کو ٹیکے لگائے گئے۔اسی طرح ایک اور گاؤں میں ایسا ہی پروگرام کیا گیا جس کی آبادی گو کہ بہت کم تھی مگر وہاں جب لوگوں کو ٹیکے لگانے شروع کئے گئے تو ہمارے اس فلاحی پروگرام کا سن کر آس پاس کے دیہاتوں سے بھی لوگ آنا شروع ہوگئے۔ بیت السبوح میں ہونے والے اس پروگرام کا خیال بھی صدر صاحب خدام الاحمدیہ کو اسی وجہ سے آیا کہ لوگوں کو اس وقت بہت پریشانی کا سامنا ہے اور انہیں متعلقہ سنٹرز میں لمبے انتظار کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس لئے احباب جماعت اور جرمن احباب کو جس قدر ممکن ہو اس معاملے میں سہولت مہیا کی جائے۔ چنانچہ احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشن جرمنی کے ساتھ مل کر اس کی منصوبہ بندی کی گئی اور اس کا اشتہارِ عام دیا گیا جسے پڑھ کر عام جرمن لوگ بھی یہاں ٹیکہ لگوانے تشریف لائے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ احباب جماعت سے زیادہ تعداد میں آئے۔چنانچہ ان دونوں میں 7000سے زائد افراد نے اس سہولت سے استفادہ کیا کہیں بھی لمبی لمبی قطاریں نہیں لگیں۔ اس خدمت کے لئے مجموعی طور پر 20ڈاکٹر زصاحبان اور 30 پیرامیڈیکل سٹاف کے علاوہ نظم وضبط، نظافت وضیافت وغیرہ کے لئے 70سے زائد خدام نے ڈیوٹی دی۔ فجزاھم اللّٰہ تعالیٰ احسن الجزاء۔ مکرم سجاد حیدر عتیق صاحب نے آخر پر بعض خدام کا بڑے پیارے انداز میں خصوصی ذکر کیا کہ ان نوجوانوں نے اس ہنگامی مہم کی کامیابی میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اللہ تعالیٰ سب کو اخلاص ووفا میں بڑھائے اور انہیں دین ودنیا کی حسنات سے نوازے۔ آمین

ان خدام میں مکرم طلحہ طاہر صاحب قائد مجلس Rodgau، مکرم ارسلان صادق صاحب قائد مجلس Friedberg، مکرم محمود کاہلوں صاحب قائد مجلس Flörsheim، مکرم انیب بیگ صاحب قائد مجلس Limburg نے اپنی اپنی ٹیموں کے ساتھ بہت عمدہ اور مثالی خدمت کی توفیق پائی۔ اسی طرح مکرم نائب معتمد مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی مکرم اُسامہ خان صاحب کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہے جنہوں نے مجموعی طور پر اس مہم کی نگرانی اور جملہ انتظامات میں مدد فرمائی اسی طرح انہوں نے کہا کہ میں صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کا بھی ممنون احسان ہوں جنہوں نے بے پناہ مصروفیت کے باوجود قدم قدم پرہماری راہنمائی فرمائی۔ فجزاھم اللّٰہ تعالیٰ احسن الجزاء۔

اللہ تعالیٰ جماعت جرمنی کی اس خدمت اور خاموش تبلیغ کو منظور فرمائے۔ آمین۔ اللہ کےفضل سے یہ پروگرام ہماری توقع اور سوچ سے زیادہ کامیاب رہا جس کا اندازہ جرمن لوگوں کے تاثرات سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو ہدیہ قارئین الفضل کئے جاتے ہیں۔

ایک جرمن فیملی ٹیکہ لگوانے کے بعد بیان کرتی ہے کہ ہم بہت خوش ہیں کہ ہمارا استقبال بہت شاندار انداز میں کیا گیا۔ ڈاکٹر نے ہمارے ساتھ بہت اچھے اور نرم انداز میں گفتگو کی اور سمجھایا۔ جنہوں نے ٹیکہ لگایا وہ بھی نفیس اور رحم دل معلوم ہورہے تھے۔ ٹیکہ لگنے کے بعد جوآپ لوگوں نے ہمیں مفت چائے کافی وغیرہ پیش کی تو اس نےہماری حیرانی میں اضافہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ بہت خوشی بھی ہوئی کہ آپ غیروں کے لئے کس قدر خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اب ہم اپنے عزیز رشتہ داروں اور قریبی دوستوں کو بھی اطلاع کرنے لگے ہیں کہ وہ بھی یہاں آکر اس عمدہ اور دوستانہ ماحول سے لطف اندوز ہوں اور ٹیکے بھی لگوائیں۔

اسی طرح ایک فیملی Wolf نے اپنے تاثرات میں لکھا کہ آپ نے بہت عمدہ انتظامات کئے ہیں۔ یہاں پر جتنے احباب ڈیوٹی دے رہے ہیں وہ سب کے سب بہت اچھے اور عمدہ اخلاق کے مالک نظر آرہے ہیں۔

پرتگال کے ایک پروفیسر صاحب نے اپنے تاثرات قلم بند کرتے ہوئے لکھا کہ بہت عمدہ سروس، لاجواب لوگ اور پورا ماحول انتہائی دوستانہ ہے۔

ایک جرمن خاتون نے لکھا تو کچھ نہیں لیکن تاثرات والی نوٹ بُک پر 5ستارے بنا کر آگے لکھا کہ ٹِپ ٹاپ۔ (یعنی بہت عمدہ اس سے بڑھ کر میرے پاس کوئی دنیاوی آلہ نہیں جس سے اس محنت اور انتظامات کو سراہا جاسکے)۔

بے شمار لوگوں کے تاثرات اسی قسم کی باتوں کے گرد ہی گھومتے رہے کہ بہت اچھے لوگ ہیں۔ انتظامات بہت اچھے ہیں۔ ڈیوٹی والے خدام بہت اچھے انداز میں گفتگو کرتے ہیں اور ان کے لب ولہجے میں تمکنت اور احساس ہمدردی نمایاں نظر آتا ہے۔ پیشہ وارانہ مہارت، تیزی اور جانفشانی کے ساتھ ہر بندہ کام میں مصروف ہے ہر کوئی اپنی اپنی جگہ پر اپنی خدمت پوری ایمانداری سے ادا کر رہا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدمت کرنے والے تمام حضرات قابل تقلید نمونہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔

ایک خاتون Astrid karoline lamm صاحبہ نے لکھا کہ میں اس وقت بہت روہانسی ہو رہی ہوں اور ایسی خدمت دیکھتے ہوئے میرے آنسو نکلنے کو ہیں جس طرح آپ لوگوں نے میرا خیال رکھا اور آپ کے کاموں میں انتہائی پیشہ وارانہ مہارت نظر آرہی تھی کسی بندے کوانتظار کی زحمت نہیں اٹھانا پڑی ہر کام تیزی اور پھرتی سے کرتے ہوئے نوجوان نظر آئے اور اس بات نے بھی مجھے بہت متاثر کیا کہ عورتوں اور مردوں کے ساتھ یکجا رواداری کا سلوک روا رکھا گیا اور میری نظر میں Integration کی یہ عملی تصویر ہے جو میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر جارہی ہوں۔

ایک خاتون نے بتایا کہ اس جگہ پر آنا ہی بذات خود ہمارے لئے بہت عمدہ تجربہ رہا یہ ہماری خوش قسمتی ہے۔

ایک جرمن دوست نے یوں لکھا کہ سروس اچھی۔ لوگ اچھے۔کام انتہائی پیشہ وارانہ سب سے بڑھ کر بہت عمدہ،مسحورکن اور پرسکون ماحول تھا۔

ایک جرمن شخص نے ایک خادم کو بتایا کہ میں نے اخبار میں اشتہار دیکھنے کے بعد فوری طور پر آن لائن بکنگ کی جو چند منٹوں میں ہوگئی اور یہاں آکر بھی میں حیران ہوں کے مجھے کسی قسم کا انتظار نہیں کرنا پڑا۔ پیشہ وارانہ مہارت نظر آرہی ہے۔آپ کی ساری ٹیم ہی شکریہ کی مستحق ہے۔

مجموعی طور پر اسی قسم کے تاثرات تھے جولوگوں نے لکھے اور بعض نے ڈیوٹی پر موجود خدام سے بیان کئے بے شمار لوگوں نے ہمارے متعلق پوچھا کہ آپ کون لوگ ہیں؟ اس قسم کے احباب کو جس قدر ممکن ہوا اختصار کے ساتھ جماعت کا تعارف کروایا گیا۔ گہری دلچسپی لینے والے احباب وخواتین کو جوابات دینے کے لئے مربیان کرام بھی موجود تھے، جنہیں اسلام کی اچھی اور خوبصورت تعلیم پیش کرنے کی توفیق ملی۔لوگوں نے اظہار بھی کیا کہ ہمارے خدشات تھے کہ مسلمانوں کی مسجد ہے پتہ نہیں کیسے لوگ ہوں کوئی شرارت یا فساد برپا نہ ہوجائے لیکن بہت ہی پرسکون ماحول تھا۔ الحمدللّٰہ کہ سوفیصد لوگ مطمئن رہے اور اسلام کی خوبصورت تصویر اپنی آنکھوں میں بسا کر واپس لوٹے۔ احباب جماعت سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پروگرام کے دور رس نیک نتائج عطا فرمائے۔ اور جملہ کارکنا ن ومعاونین کو اپنی جناب سے اخلاص ووفا میں بڑھاتا چلا جائے۔ آمین

(رپورٹ: صفوان احمد ملک ۔نمائندہ روزنامہ الفضل آن لائن جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 فروری 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ