• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

مالی قربانی کا واقعہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’گیمبیا کے شمال میں واقع ایک گاؤں ہے وہاں کے ایک دوست عثمان صاحب ہیں۔ کہتے ہیں کہ گزشتہ سال انہوں نے وقف جدید کے لیے ایک بالٹی مکئی دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اب امیر آدمی کے پاس کشائش ہے اگر کوئی لاکھوں پاؤنڈ رکھنے والا ہزار ڈالر یا ہزار پاؤنڈ یا پانچ ہزار پاؤنڈ بھی دے دیتا ہے تو اس کے لیے کوئی ایسی خاص قربانی نہیں لیکن یہ لوگ جو اپنے کھانے کے لیے، اپنے زمینداری کے لیے جنس رکھتے ہیں۔ اب ایک بالٹی مکئی جو ہے اس کی ایک شہر میں رہنے والے کے لیے، یورپ میں رہنے والے کے لیے کوئی حیثیت نہیں لیکن ان کے لیے ایک بہت بڑی قربانی ہے۔ اس کا، ایک بالٹی مکئی کا انہوں نے وعدہ کیا تھا جو شاید یہاں آپ کو پانچ، چھ پاؤنڈز میں مل جائے۔ کہتے ہیں اگرچہ گزشتہ سال بہت کم فصل ہوئی تھی اور صرف بارہ بوریاں آمد ہوئی تھی۔ مشکل سے ان کے گھر کے خرچ پورے ہو رہے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ کہتے ہیں کہ نتیجہ یہ نکلا کہ اس سال تیس بوریاں مکئی کی ان کو مل گئیں اور اس کے علاوہ بھی ایک فصل ہے، کوئی چیز ہے اس کی پندرہ بوریاں ملیں۔ تو اخلاص میں دیا ہوا یہ تھوڑا سا بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا قبول ہوتا ہے کہ پھر کئی گنا بڑھا کر اللہ تعالیٰ واپس کرتا ہے اور یہی پھر ان کے لیے اللہ تعالیٰ کو پہنچنے، اللہ تعالیٰ پر ایمان مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ مورخہ 3جنوری 2020ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ