• 19 اپریل, 2021

خلاصہ خطبہ جمعہ بیان 02؍ اپریل 2021ء

خلاصہ خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 02؍ اپریل 2021ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یو کے

حضرت عثمانؓ میں تواضع اور سادگی اتنی تھی کہ رات کے وضو کا انتظام خود کرتے اور کسی خادم کونہ جگاتے
الجزائر اور پاکستان میں احمدیوں کی مخالفت کے پیش نظر خصوصی دعاؤں کی مکرر تحریک ، چینی ڈیسک کی جدید ویب سائٹ کے اجراکا اعلان
پانچ مرحومین محترم محمد یونس خالد صاحب مربی سلسلہ، مکرم ڈاکٹر نظام الدین بدن صاحب آف آئیوری کوسٹ، محترمہ سلمیٰ بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر راجہ نذیر احمد ظفر صاحب،
مکرمہ کشور تنویر ارشد صاحبہ اہلیہ عبدالباقی ارشد صاحب چیئرمین الشرکة الاسلامیہ اور مکرم عبدالرحمٰن حسین محمد خیر صاحب آف سوڈان کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد ذوالنّورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 02؍ اپریل 2021ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا۔ جمعہ کی اذان دینےکی سعادت مکرم آصف بن اویس صاحب کے حصے میں آئی۔تشہد،تعوذ اور سورةالفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

گذشتہ خطبے سے پہلے حضرت عثمانؓ کا ذکر چل رہاتھا، آج بھی وہی ذکرہوگا۔ حضرت عثمانؓ میں عفّت اور حیا بہت زیادہ تھی چنانچہ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابوبکرؓ، دین میں سب سے زیادہ مضبوط عمرؓ، سب سےزیادہ حیا والے عثمانؓ، عمدہ فیصلہ کرنے والے علیؓ، قرآن کو جاننے والے ابی بن کعبؓ، حلال وحرام کو جاننے والے معاذبن جبلؓ، فرائض کا عِلْم رکھنے والے زید بن ثابتؓ اور امت کے امین ابوعبیدہ بن جراحؓ ہیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ میرے گھر میں اپنی رانوں یاپنڈلیوں سے کپڑا ہٹائے لیٹے ہوئے تھے کہ ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ یکےبعددیگرے وہاں آئے تو رسول کریمﷺ یوں ہی لیٹے رہے لیکن جب عثمانؓ حاضر ہوئے تو آپؐ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو ٹھیک کیا۔ بعد میں حضرت عائشہؓ کے استفسار پر حضورﷺ نے فرمایا کہ کیا مَیں اس سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نےیہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ کریم کے ذکر میں بیان کیا ہے، آپؓ فرماتے ہیں دیکھو رسول اللہﷺ نے عثمانؓ کی شرم کا لحاظ کیا کہ وہ لوگوں سے شرماتے تھے آپؐ ان سے شرمائے۔ خداتعالیٰ کےکریم ہونےسے لوگوں کو گناہوں سےبچنےکی کوشش کرنی چاہیے۔ اس بات کو سامنے رکھنا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی صفت کریم ہے تو بندے کو بھی حیاکرنی چاہیے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

حضرت عثمانؓ میں تواضع اور سادگی اتنی تھی کہ رات کے وضو کا انتظام خود کرتے اور کسی خادم کو نہ جگاتے۔ سخاوت کایہ عالَم تھا کہ فرمایا اسلام قبول کرنے کے بعد مجھ پر کوئی ایسا جمعہ نہیں گزرا جس میں مَیں نے کوئی گردن آزاد نہ کی ہو۔ گھر کے محاصرےکےدوران بھی آپؓ نے بیس غلام آزاد کیے۔ ایک جنگ کے دوران جب مسلمانوں کو بھوک کی تکلیف پہنچی تو عثمانؓ نے نَو اونٹ غلّے سمیت رسول اللہﷺ کو بھجوائے جس پر حضورﷺ کےچہرے پر خوشی اور مسرت پھیل گئی اور آپؐ نے دعا کی کہ اے اللہ! عثمانؓ کو بہت عطافرما۔ اے اللہ! عثمانؓ پر اپنا فضل وکرم نازل فرما۔

ابن سعید بن یربوع کہتے ہیں کہ مَیں بچہ تھا اور مسجد میں کھیل رہا تھا جبکہ وہاں ایک خوب صورت بزرگ سر کے نیچے اینٹ کا ٹکڑارکھےلیٹے ہوئے تھے۔مَیں انہیں تعجّب سے دیکھنے لگا تو انہوں نے آنکھیں کھول کر مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو۔پھر انہوں نے ایک لڑکے کو حکم دے کر پوشاک اور ایک ہزار درہم منگوائے اور مجھے عطا کیے۔جب مَیں اپنے والد کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ امیرالمومنین عثمان بن عفانؓ ہیں۔

حضرت عثمانؓ کے عہدِخلافت میں کرمان کی جانب ایک مہم کے دوران چار ہزار مسلمانوں کےلشکرکو بارش کےپانی کی وجہ سے بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ امیرِلشکر قطن بن عوف ہلالی نے دشوار گزار علاقہ پار کرنے والےسپاہی کےلیے ایک ہزار درہم انعام کا اعلان کیا تو ایک ایک کرکے تمام لشکر نے وادی پار کرلی۔یوں ان سب کو چالیس لاکھ درہم دیے گئے لیکن جب یہ معاملہ گورنر تک پہنچا تو اس نےرقم دینے سے انکار کردیا اور معاملہ حضرت عثمانؓ کو لکھ بھیجا۔ آپؓ نے فرمایا کہ قطن کو یہ رقم دے دو کیونکہ اس نے تو اللہ کےراستے میں مسلمانوں کی مدد کی ہے۔

حضرت عثمانؓ کو کتابتِ وحی کا بھی موقع ملا چنانچہ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک شدید گرم رات کو جبکہ نبیﷺپر جبرئیل وحی نازل کر رہےتھے عثمانؓ آنحضورﷺ کےسامنے بیٹھے لکھتے جارہے تھے۔اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ کا ایسا قرب کسی نہایت معززومکرّم شخص کوہی عطا فرماتا ہے۔

حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں قرآن کریم کے تحریری صحیفے جمع ہوئے جو عہدِ فاروقی کےبعد حضرت حفصہ بنت عمرؓ کےپاس تھے۔حضرت عثمانؓ کے عہدِ خلافت میں قراءت میں اختلاف کےخطرے کےپیشِ نظر آپؓ نے حضرت حفصہؓ سے تحریری صحیفےمنگواکر حضرت زید بن ثابتؓ،حضرت عبداللہ بن زبیرؓ،حضرت سعید بن عاصؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشامؓ کو حکم دےکر قریش کی لغت کے مطابق ان صحیفوں کی نقول تیار کروائیں اور وہ نقول اسلامی ممالک کو بھجوادی گئیں۔

حضرت مصلح موعودؓ آیتِ کریمہ سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰی کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت کےمعنی یہ ہیں کہ ہم تمہیں وہ کلام سکھائیں گے جسے قیامت تک تم نہیں بھولو گےبلکہ یہ کلام اسی طرح محفوظ رہے گاجس طرح اس وقت ہے۔ اس دعوے کا ثبوت یہ ہے کہ اسلام کے اشد ترین معاند بھی آج کھلے بندوں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم اسی شکل و صورت میں محفوظ ہے جس شکل و صورت میں رسول کریمﷺ نے اسے پیش فرمایا تھا۔ نولڈکے،سپرنگر اور ولیم میور سب نے تسلیم کیا ہے کہ سوائے قرآن کریم کے اور کسی کتاب کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جس شکل میں بانیٔ سلسلہ نے وہ کتاب پیش کی تھی اسی شکل میں وہ دنیا کے سامنے موجود ہے۔

حضرت خلیفة المسیح الاولؓ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عثمانؓ کو ’جامع القرآن‘ بتلاتے ہیں یہ بات غلط ہے۔ ہاں ’شائع کنندہ قرآن‘ اگر کہیں تو کسی حد تک بجا ہے۔آپؓ کے زمانے میں اسلام دُور دُور تک پھیل گیا تھا اس لیے آپ نے چند نسخے نقل کرا کر مکّہ،مدینہ،شام،بصرہ،کوفہ اور بلاد میں بھجوادیے تھے۔ جمع تو اللہ تعالیٰ کی پسند کی ہوئی ترتیب کے ساتھ نبی کریمﷺ نے ہی فرمایا تھا اور اسی پسندیدہ ترتیب کے ساتھ ہم تک پہنچایا گیا ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے زمانے میں مدینے کے لمبے عرصے سے دارالحکومت ہونے کی وجہ سے تمام قومیں ایک ہوگئیں۔ اس وقت مدینے والے حاکم تھے جن میں مہاجرین کا بڑا طبقہ تھا اور خود اہلِ مدینہ بھی اہلِ مکّہ کی صحبت میں حجازی عربی سیکھ چکے تھے۔ چونکہ حکومت ان کے پاس تھی اور دیگر علاقوں کے لوگ مہاجرین و انصار سے دین سیکھتے تھے لہٰذا سب ملک کی علمی زبان ایک ہوتی جاتی تھی۔ جنگوں کی وجہ سے بھی قبائل کو اکٹھے رہنے کا موقع ملتا تھا۔ صحابہ کی صحبت میں ان کی نقل کی طبعی خواہش بھی یک رنگی پیدا کرتی تھی۔ اس وقت علمی مذاق کےلوگ قرآنی زبان سے پوری طرح واقف ہوچکے تھے چنانچہ حضرت عثمانؓ نے حکم دیا کہ آئندہ صرف حجازی قراءت پڑھی جائے۔ آپؓ کے اس حکم پر شیعہ لوگ اعتراض کرکے کہتے ہیں کہ موجودہ قرآن ‘بیاضِ عثمانی’ ہے حالانکہ یہ اعتراض بالکل غلط ہے۔ حضرت عثمانؓ کے زمانے تک عربوں کےمیل جول پر لمبا عرصہ گزر چکا تھا وہ ایک دوسرے کی زبانوں کے فرق سے پوری طرح آگاہ ہوچکے تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا نزول حجازی زبان میں ہوا تھا اور قراءتوں کا فرق دوسرے قبائل کے اسلام لانے پر ہوا۔بعض دفعہ ایک قبیلہ اپنی زبان کے لحاظ سے دوسرے قبیلے سے کچھ فرق رکھتا تھا اور یوں بعض الفاظ کے معنی میں فرق ہوجاتا تھا اس لیے رسول کریمﷺ نے اللہ تعالیٰ کی منشا کے ماتحت بعض اختلافی الفاظ کے لہجے بدلنے یا دوسرا لفظ رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔ جب حضرت عثمانؓ کے عہد میں تمدن اور حکومت کے ذریعے سے قبائلی حالت کی جگہ ایک قومیت اور ایک زبان نے لےلی اور سب لوگ حجازی زبان سے پوری طرح آشنا ہوگئے تو حضرت عثمانؓ نے سمجھا کہ اب ان قراءتوں کو قائم رکھنا اختلاف کو قائم رکھنے کا موجب بن جائے گا۔ اس لیے ان قراءتوں کا عام استعمال بند کرنا چاہیے۔

حضورِانور نے حضرت عثمانؓ کا ذکر آئندہ جاری رہنے کا ارشاد فرمانے کے بعد پاکستان اور الجزائر کے احمدیوں کے لیے دعا کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دُور فرمائے۔ خاص طور پر پاکستان میں قانون کی وجہ سے مختلف وقتوں میں احمدیوں کے لیے مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں اور کسی صورت میں بھی انہیں اب آزادی نہیں رہی۔ اسی طرح الجزائر میں بھی بعض حکومتی اہلکار مشکلات کھڑی کرتے رہتے ہیں۔

اس کے بعد حضورِانور نےمرکزی آئی ٹی ٹیم کے تعاون سے تیار کردہ چینی ڈیسک کی ویب سائٹ کے اجراکا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ نمازِ جمعہ کے بعد مَیں یہ ویب سائٹ لانچ کروں گا۔ اس ویب سائٹ سے چینی زبان میں اسلام اور احمدیت کےمتعلق تفصیلی معلومات مل سکیں گی۔خدا کرے کہ یہ ویب سائٹ چینی عوام کےلیے ہدایت کا موجب ہو اور اسلام اور احمدیت کےلیے ان کے دل کھلیں۔

خطبے کے آخری حصّے میں حضورِانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل مرحومین کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان فرمایا:

1۔ محترم محمد یونس خالد صاحب مربی سلسلہ جو 15؍مارچ کو حرکتِ قلب بند ہوجانے کی وجہ سے 67 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

2۔ مکرم ڈاکٹر نظام الدین بدن صاحب آف آئیوری کوسٹ جو 15؍مارچ کو 73 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

3۔ محترمہ سلمیٰ بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر راجہ نذیر احمد ظفر صاحب جو 24؍جنوری کو 85 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

4۔مکرمہ کشور تنویر ارشد صاحبہ اہلیہ عبدالباقی ارشد صاحب چیئرمین الشرکة الاسلامیہ یوکے۔ آپ 27؍فروری کو 87 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

5۔ مکرم عبدالرحمٰن حسین محمد خیر صاحب آف سوڈان۔ آپ 24 دسمبر کو 56 سال کی عمر میں وفات پاگئے تھے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

حضورِانور نے تمام مرحومین کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی۔

٭…٭…٭

(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اپریل 2021