• 21 مئی, 2022

آؤ! اُردو سیکھیں (سبق نمبر43)

آؤ! اُردو سیکھیں
سبق نمبر43

زمانہ حال پر بات کی جارہی ہے اور ہم اس کی مختلف صورتیں اور حالتیں سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اب تک ہم نے مضارع اور امر کے متعلق پڑھا ہے۔ آج ہم حال مطلق کے بارے میں پڑھیں گے۔ اس زمانہ کو انگریزی میں Present Indefinite کہا جاتا ہے۔

حال مطلق Present Indefinite

زمانہ حال کی اس صورت میں جو کام کیا جاتا ہے وہ عادت اور مستقل رویئے کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔ پانی نشیب کی طرف بہتا ہے۔

اس کو بنانے کے لئے مادہ فعل کے بعد تا ہے، تی ہے، تے ہیں، تی ہیں وغیرہ لگتا ہے۔ اب اس کو مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مثالیں: وہ اسکول جاتا ہے۔ یعنی یہ نہیں کہا جارہا کہ وہ اسکول جاچکا ہے، یا جارہا ہے یعنی یہ کام نہ مکمل ہوا ہے نہ اس وقت ہورہا ہے جب اس کی بات کی جارہی ہے۔ یہ ایک مذکر فاعل Male Subject کی مستقل عادت کو بیان کررہا ہے یعنی وہ اسکول جاتا ہے۔ پس اگر فاعل مذکر اور واحد ہو Singular, male subject تو تا ہے آئے گا۔

وہ اسکول جاتے ہیں۔ یہاں فاعل مذکر جمع ہے Plural, male subject تو تاہے بدل کر تے ہیں ہوگیا۔ اس کی مزید مثالیں دیکھیں۔ گھوڑے تیز دوڑتے ہیں۔ بعض طوطے بولتے ہیں۔ کتے رات کو بھونکتے ہیں۔ بادل نہ ہوں تو ستارے خوب چمکتے ہیں۔ یہاں گھوڑے، کتے، طوطے، ستارے مذکر ہیں۔

وہ بچوں کو قاعدہ پڑھاتی ہے۔ یہاں فاعل مونث واحد ہے تو پڑھانا Teachingسے فعل کا مادہ ہے پڑھا Teach اور ساتھ تی ہے کا اضافہ کیا گیا پس بن گیا پڑھاتی ہے

جیسے جانا سے مادہ ہے جا اور تاہے کا اضافہ کیا تو بن گیا جاتا ہے۔اسی طرح دوڑنا سے دوڑتا ہے، دوڑتے ہیں، دوڑتی ہیں اور اپنے آپ کے لئے دوڑتا ہوں۔ پھر چمکنا سے چمکتا ہے، چمکتی ہے، چمکتے ہیں، چمکتی ہیں، اور اپنے آپ کے لئے چمکتا ہوں، جیسے میں جگنو ہوں میں رات میں چمکتا ہوں۔ ہم ستارے ہیں ہم رات کو چمکتے ہیں۔ میں سورج کی کرن ہوں میں صبح کو چمکتی ہوں۔ مغربی ممالک Western Countries میں موسم تیزی سے بدلتا ہے۔ نا انصافی اور ظلم سے دنیا کا امن خطرے میں پڑتا ہے۔ ان مثالوں سے امید ہے آپ کو سمجھ آگئی ہوگی۔

منفی فقرات

جن میں انکار یا نہ ہونا پایا جاتا ہے۔ ان کو بنانے کے لئے فعل سے پہلے نہیں کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ جیسے نہیں جاتا ہوں، نہیں جاتا ہے، نہیں جاتے ہیں، نہیں چمکتے ہیں وغیرہ۔

مجہول صورت: Passive Voice

وہ اسکول جاتا ہے۔ اس جملے میں فاعل اپنی قوت ارادی اور مرضی سے سکول جاتا ہے۔ مجہول صورت میں فاعل کو کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے یا کم از کم ایسا ظاہر ہوتا ہے۔ جیسے اسے سکول بھیجا جاتا ہے۔ یا وہ اسکول بھیجا جاتا ہے۔ ہم سبق یاد کرتے ہیں۔ ہمیں سبق یاد کروایا جاتا ہے۔ وہ برتن دھوتی ہے۔ اس سے برتن دھلوائے جاتے ہیں۔ اس کو بنانے کا طریقہ یہ ہے۔ جیسے پڑھانا سے مادہ ہے پڑھا تو اس میں یا کا اضافہ کریں گےتو بن جائے گا پڑھایا جو ماضی تمام یعنی Past Participle ہے او ر اس کے بعد ہے کا امدادی فعل لگایا تاکہ زمانہ حال کو ظاہر کیا جاسکے۔ اس کی مزید وضاحت کے لئے الگ سے اسباق تیار کئے جائیں گے۔

سوالیہ یا استفہامیہ جملے

اردو زبان کا اصول ہے کہ سوال بنانے کے لئے کیا کا اضافہ عام طور پہ فقرے کے آغاز میں کردیا جاتا ہے۔ جیسے کیا وہ اسکول جاتا ہے؟ جملے کی باقی ساخت ویسی ہی رہتی ہے۔ جیسے۔وہ برتن دھوتی ہے۔ کیا وہ برتن دھوتی ہے؟ وہ برتن کب دھوتی ہے؟ وہ کہاں برتن دھوتی ہے؟ وہ کب سے برتن دھوتی ہے؟۔ پس یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا، کب، کہاں، کیوں، کب سے، کس سے وغیرہ کے ذریعے سوالیہ فقرات بنائے جاتے ہیں اور جملے کی باقی ساخت ویسے ہی رہتی ہے۔ سوالیہ الفاط کا اضافہ کرتے وقت ان کی جگہ بدلنے سے معنی بھی بدلتے ہیں اور اس کے لئے مشق ضروری ہے۔

حال ناتمام Present continuous/ Progressive

اس حالت میں جب کام ہوتا ہے تو اس کا جاری ہونا نظر آتا ہے۔ اور کیونکہ وہ جاری ہے تو منطقی لحاظ سے وہ مکمل یا ختم نہیں ہوا اس لئے اردو میں اس صورت کوحال ناتمام یعنی Present Imperfect کہا جاتا ہے۔جیسے، وہ آرہا ہے۔ وہ کھا رہا ہے۔ میں پڑھ رہا ہوں وغیرہ۔

بنانے کا طریق: مادہ فعل کے بعد رہا ہے، رہی ہے، رہے ہیں، رہا ہوں، رہی ہیں وغیرہ کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔اردو میں اس کو ایک طرح سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔ جیسے۔ وہ جرم کے تمام نشان مٹائے جاتا ہے۔ ہم ایک ایک کرکے تمام اصولوں کو بھلائے جاتے ہیں۔ مہمان اندر بلا کر عزت سے بٹھائے جاتے ہیں۔ وغیرہ۔ یعنی بجائے یہ کہنے کے، کہ ہم ایک ایک کرکے تمام اصول بھلاتے جارہے ہیں، کہ دیا جاتا ہے کہ بھلائے جاتے ہیں۔مٹائے جاتے ہیں وغیرہ۔

مثالیں

اکبر پودوں کو پانی دے رہا ہے۔ زید خط لکھ رہا ہے۔ یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ فعل کا مادہ اپنی اصل شکل میں استعمال ہورہا ہے اور حال ناتما م بنانے کے لئے رہا ہے، رہے ہیں وغیرہ امدادی فعل یعنی helping verbs استعمال ہوتے ہیں۔

منفی فقرات میں فعل سے پہلے نہیں کا اضافہ کردیا جاتا ہے اور سوالیہ فقرات میں کیا، کب، کیسے، کہاں، کیوں وغیرہ کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں
اب اس دوسرے پہلو کو دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کیا اس وقت اسلام کے لئے کوئی آفت اور مشکلات ایسی پیدا ہوگئی ہیں جو کسی مامور کے لئے داعی ہیں۔ جب ہم اس پہلو پہ غور کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہےکہ اسلام پر اس وقت دو قسم کی آفتیں آئی ہیں۔ اندرونی اور بیرونی۔ اندرونی طور پر یہ حالت اسلام کی ہوگئی ہے کہ بہت سی بدعتیں اور شرک سچی توحید کے بجائے پیدا ہوگئے ہیں اعمال صالحہ کی جگہ صرف چند رسومات نے لے لی ہے۔ قبر پرستی اور پیر پرستی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ وہ بجائے خود ایک مستقل شریعت ہوگئی ہے۔مجھ کو ہمیشہ تعجب اور حیرت ہوئی ہے کہ مجھ کو یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ اس امر کو انہوں نے نہیں سمجھا کہ میں کیا کہتا ہوں مگر اپنے گھر میں یہ لوگ ہرگز غور نہیں کرتے کہ نبوت کا دعویٰ تو انہوں نے کیا ہے جنہوں نے اپنی شریعت بنالی ہے کوئی بتائے کہ وہ ورد اور وظائف جو سجادہ نشین اور مختلف گدیوں والے اپنے مریدوں کو سکھاتے ہیں، میں نے ایجاد کئے ہیں؟ یا میں رسول اللہﷺ کی شریعت اور سنت پر عمل کرتا ہوں اور اس پر ایک نقطہ یا شعشہ (شوشہ) بڑھانا کفر سمجھتا ہوں۔

(ملفوظات جلد2 صفحہ232-233 ایڈیشن 2016)

اقتباس کے مشکل الفاظ کے معنی

دوسرا پہلو: کسی بات یا اصول کا اگلا معاملہ، نکتہ۔

داعی: دعوت دینا، ضرورت ظاہر کرنا۔

بدعتیں: (اسلام) دین میں کوئی ایسی نئی بات جس کا قرآن اور سنت میں وجود نہ ہو، دین میں کوئی نئی رسم ڈالنا۔

رسوم: رسم کی جمع یعنی رِیت، رواج، دستور۔

قبر پرستی: قبر کی عبادت، پوجا، غایت تعظیم، توقیر۔

پیر پرستی: وہ خیالی بزرگ جس کے نام پر ضعیف الاعتقاد لوگ منت مانتے ہیں اور اس کے فرضی نام کے ساتھ لفظ پیر استعمال کرتے ہیں۔

ورد، وظائف: کسی بات کو یا کسی نام کو بار بار دہرانے کا عمل، جاپ، رٹ، وظیفہ کی جمع؛ وہ دعائیں یا آیات وغیرہ جو مخصوص تعداد میں صرف ایک دن یا مخصوص دنوں تک پڑھی جائیں، اوراد، اشغال، تسبیحات، اذکار۔

سجادہ نشیں: کسی بزرگ کی گدی پر بیٹھنے والا، کسی بزرگ کا خلیفہ، ایک صوفی کی وصال کے بعد ان کا جانشیں۔

گدی: کسی پیر، درویش وغیرہ کی مسند، نشست گاہ، سجّادہ

شوشہ: چھوٹا سا ٹکڑا یا حصہ، کم سے کم جزو۔

(عاطف وقاص۔ ٹورانٹو کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 مئی 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ