• 20 جون, 2021

مجددین ایک وقت میں کئی کئی بلکہ ہزاروں بھی ہو سکتے ہیں۔ جبکہ خلیفہ ایک وقت میں ایک ہی ہو گا

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پس خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہو جائے گی تو یہی حقیقت میں تجدیدِ دین کا کام کرنے والی ہو گی۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ ہیں کہ ’’مَیں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور مَیں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں، اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے‘‘

(الوصیت روحانی خزائن جلد20 صفحہ306)

اور دوسری قدرت کی مثال آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُنہیں کھڑا کر کے اللہ تعالیٰ نے دوسری قدرت کا نمونہ دکھایا۔ پس آپ جو آخری ہزار سال کے مجدد ہیں آپ کے ذریعہ سے حدیث کے مطابق خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہو گی۔ تو خلافت ہی اُس کام کو آگے چلائے گی جو تجدیدِ دین کا کام ہے، جو مجدد کا کام ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تربیت، اصلاح، تبلیغ کے کام جو ہیں خلافت کے ذریعہ سے ہو رہے ہیں اور گزشتہ ایک سو تین سال سے ہم دیکھ رہے ہیں۔ پس عین ممکن ہے کہ آئندہ صدیوں میں بھی اس حدیث کے مطابق بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو فرمایا ہے کوئی مجدد ہونے کا اعلان کرے لیکن اس کی شرط یہی ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تابع ہو۔ اور اُس دوسری قدرت کا مظہر ہو جس کا اعلان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے۔ پس اگر کبھی دو صدیوں کے سنگم پر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایسے مجدد کا مقام کسی بھی خلیفہ کو دے سکتا ہے۔ جو اُس وقت کا خلیفہ ہو گا، وہ اُس سے اعلان کروا سکتا ہے۔ کیونکہ ایسے مجددین بھی اُمت میں پیدا ہوتے رہے ہیں جن کی وفات کے بعد پھر لوگوں نے کہا کہ مجدد تھے۔ سو ضروری نہیں کہ مجدد کا اعلان بھی ہو۔ لیکن اگر اللہ چاہے تو مجدد کا اعلان اُس خلیفہ سے کروا سکتا ہے کہ مَیں مجدد ہوں۔ لیکن یہ بھی واضح ہو کہ ہر خلیفہ اپنے وقت میں مجدد ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ اُسی کام کو آگے بڑھا رہا ہے جو نبی کا کام ہے، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کام ہے۔ چاہے وہ مجدد ہونے کا اعلان کرے یا نہ کرے کیونکہ مجدد ہونے کے اعلان سے یا مجدد ہونے سے خلافت کا مقام نہیں بٹتا۔ بلکہ خلافت کا مقام پہلے ہے جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ہر خلیفہ مجدد ہوتا ہے۔ مجدد کا مطلب ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاہے بدعات کا خاتمہ کرنے والا، اصل تعلیم کو جاری رکھنے والا، اصلاح کی کوشش کرنے والا، تبلیغِ اسلام کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہوئے اُس کو آگے پھیلانے والا۔ پس یہ کام تو خلافتِ احمدیہ کے تحت ہو ہی رہا ہے۔ بلکہ یہ کام تو خلافت کے نظام کے تحت مستقل مبلغین کے علاوہ بہت سے احمدی بھی اپنے دائرے میں کر رہے ہیں۔ گویا تجدیدِ دین کے یہ چھوٹے چھوٹے دیے یا lampتو ہر جگہ جل رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں تو تجدیدِ دین کے لئے ایک ایک وقت میں سینکڑوں نبی اور مجدد گزرے ہیں، وہی نبی جو تھے وہ خلیفہ بھی کہلاتے تھے اور مجدد بھی کہلاتے تھے۔

(ماخوذا زتحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد17صفحہ123)

اسلام میں ہزاروں کیوں نہیں ہو سکتے؟ الفاظ میرے ہیں، مفہوم کم و بیش یہی ہے۔ اور یہ جو سوال اُٹھتا ہے کہ ہر صدی کے مجدد تھے، اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے بارہ صدیوں کے بارہ مجدد گزرے ہیں اور چودھویں صدی کے تیرھویں مجدد آپ ہیں۔ تو تاریخِ اسلام سے تو یہ ثابت ہے کہ ہر علاقے میں مجددین پیدا ہوئے ہیں یہ صرف بارہ کا سوال نہیں ہے بلکہ ایک ایک وقت میں کئی کئی مجددین پیدا ہوئے ہیں۔ دین کی اصلاح کے لئے جہاں جہاں ضرورت پڑتی رہی اللہ تعالیٰ لوگوں کو کھڑا کرتا رہا۔ لیکن پھر سوال یہاں یہ ہے کہ جماعتِ احمدیہ کے لٹریچر میں بھی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی لکھا ہے کہ ہم بارہ مجددین کیوں گنتے ہیں؟ عربوں میں تو اکثریت ایسی ہے جو اس بات کو نہیں مانتی کہ یہ بارہ مجدد تھے، خاص طور پر اس ترتیب سے جس سے ہم ہندوستانی مجددین گنتے ہیں۔ اکثریت مسلمانوں کی یہ تو مانتے ہی نہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ایک بہت اچھا جواب دیا ہے۔ آپ ایک جگہ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ ہندوستانی بارہ مجددین کے نام پیش کرتے ہیں کہ شاید یہ تمام دنیا کے لئے تھے حالانکہ یہ غلط ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:
’’مجددین کے متعلق لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ایک ہی مجدد ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر ملک اور ہر علاقے میں اللہ تعالیٰ مجدد پیدا کیا کرتا ہے مگر لوگ قومی یا ملکی لحاظ سے اپنی قوم اور اپنے ملک کے مجدد کو ہی ساری دنیا کا مجدد سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ جب اسلام ساری دنیا کے لئے ہے تو ضروری ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں اور مختلف ملکوں میں مختلف مجددین کھڑے ہوں۔ حضرت سید احمدصاحب بریلویؒ بھی بے شک مجدد تھے مگر وہ ساری دنیا کے لئے نہیں تھے بلکہ صرف ہندوستان کے مجدد تھے۔ اگر کہا جائے کہ وہ ساری دنیا کے مجدد تھے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے عرب کو کیا ہدایت دی۔ انہوں نے مصر کو کیا ہدایت دی۔ انہوں نے ایران کو کیا ہدایت دی۔ انہوں نے افغانستان کو کیا ہدایت دی۔ ان ملکوں کی ہدایت کے لئے انہوں نے کوئی کام نہیں کیا لیکن اگر ان ممالک کی تاریخ دیکھی جائے تو اِن میں بھی ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو صاحبِ وحی اور صاحبِ الہام تھے اور جنہوں نے اپنے ملک کی رہنمائی کا فرض سرانجام دیا۔ پس وہ بھی اپنی اپنی جگہ مجدد تھے۔‘‘ وہ لوگ چاہے انہوں نے اعلان کیا یا نہیں، کسی نے اُن کے بارے میں کہایا نہیں، جنہوں نے بھی دین کی رہنمائی کا فرض ادا کیا، اصلاح کا فرض ادا کیا وہ اپنی اپنی جگہ مجدد تھے۔ ’’اور یہ بھی اپنی جگہ مجدد تھے‘‘ یعنی ہندوستان والے۔ ’’فرق صرف یہ ہے کہ کوئی بڑا مجدد ہوتا ہے اور کوئی چھوٹا۔ ہندوستان میں آنے والے مجددین کی اہمیت اس لئے ہے کہ وہ اُس ملک میں آئے جہاں مسیح موعودنے آنا تھا اور اس طرح اُن کا وجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے بطورِ ارہاص تھا‘‘۔ آپ سے پہلے آنے والے تھے، بتانے والے تھے کہ مسیح موعود آنے والا ہے۔ چودھویں صدی کا مجدد آنے والا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ’’ورنہ ہمارا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ صرف یہی مجدد ہیں باقی دنیا مجددین سے خالی رہی ہے۔ ہر شخص جو الہام کے ساتھ تجدیدِ دین کا کام کرتا ہے وہ روحانی مجدد ہے۔ ہر شخص جو اسلام اور مسلمانوں کے لئے تجدید کا کوئی کام کرتا ہے وہ مجدد ہے چاہے وہ روحانی مجددنہ ہو۔ جیسے میں نے کئی دفعہ مثال دی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ اورنگزیب‘‘ (جو بادشاہ تھا وہ) ’’بھی مجدد تھا۔ حالانکہ اورنگزیب کو خود الہام کا دعویٰ نہیں تھا۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد7 صفحہ199)

پس یہ حقیقت ہے مجددین کی کہ ایک ایک وقت میں کئی کئی ہو گئے، بلکہ ہزاروں بھی ہو سکتے ہیں۔ جبکہ خلیفہ ایک وقت میں ایک ہی ہو گا۔ اب حیثیت اُس کی بڑی ہے جو ایک وقت میں ایک ہو یا وہ جو ایک وقت میں کئی کئی ہوں۔

(خطبہ جمعہ 10؍ جون 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 جون 2021