• 20 جون, 2021

گولڈن مول Golden Mole (اندھا شکاری)

گولڈ مول دیکھنے میں ایسے چوہے کی طرح نظر آتا ہے جس کی آنکھیں اور کان نہ ہوں۔لیکن اس کا شمار چوہوں کی طرح Rodent (چوہوں کا خاندان جو ممالیا ہوتے ہیں اور اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں) میں نہیں ہوتا بلکہ یہ insectivore نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے بچوں کی پرورش کیڑے مکوڑوں سے کرتے ہیں۔

گولڈن مول جنوبی افریقہ کے صحراؤں میں پایا جاتا ہے۔ یہ شاندار تیراک ہے لیکن پانی میں نہیں بلکہ ریت میں تیرتا ہے۔ اس کی مخصوص جسمانی بناوٹ اور جسم پر نرم ملائم بال اسے ریت میں تیرنے میں مدد کرتے ہے۔ اس کی ناک پر کھال کی موٹی تہہ ریت کو اس کے راستے سے ہٹانے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پنجے چھوٹے لیکن نہایت طاقتور ہونے کے باعث یہ آسانی سے خود کو ریت میں چھپا کر آگے بڑھتا ہے۔

جانور، چرند، پرنداوردیگر حشرات مختلف مقاصد کے لیے اپنے بالوں اور رنگوں کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ جیسے تتلی اپنے رنگوں سے اپنے شکاری کو چقمہ دیتی ہے۔ مچھلیوں کی بعض اقسام (اسکوئڈ) اپنے بالوں سے مد مقابل کو ڈراتی ہیں۔ پرندے اپنے رنگوں سے صنف مخالف کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔لیکن گولڈن مول اندھے ہوتے ہیں تو آخر ان کی جلد پر چمکدار بالوں کا جن کا چلتے وقت رنگ تبدیل ہوتا ہے کیا مقصد ہوا؟ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ چمکدار لچکیلے بال انہیں ریت میں روانی سے تیرنے میں مدد کرتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کا کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا۔

اس کے کان بہت حساس ہوتے ہیں اور آنکھوں کی طرح کان بھی جلد کے اندر ہوتے ہیں۔ اس کی جسامت پنگ پونگ گیند کے برابر ہوتی ہے۔ اس کی لمبائی تین انچ تک ہوتی ہے۔پیدائش کے وقت ان کی آنکھیں ہوتی ہیں لیکن کچھ ہی عرصہ بعد آنکھیں اور کان کھال اور جلد کے بالوں سے مکمل طور پر ڈھک جانے سے بصارت سے بکلی محروم ہوجاتے ہیں۔گو کہ ان کی آنکھیں دیکھنے کے قابل نہیں رہتی لیکن اتنی فعال ضرور ہوتی ہیں کہ دن اور رات میں تمیز کر سکیں۔ ان کی آنکھیں بصارت سے محروم ہونے کے باوجود نہ صرف دن اور رات میں تمیز کر سکتی ہیں بلکہ موسموں کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنے کے بھی قابل ہوتی ہیں۔ اسی بناء پر یہ اپنے بریڈنگ سیزن کو محسوس کر لیتے ہیں۔

یہ رات کے وقت خوارک کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ دیمک، چھپکلیاں اور اس طرح کے دوسرے حشرات اس کی بنیادی خوارک میں شامل ہے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں شاندار قوت سماعت عطاء فرمائی ہے۔

ان کے کان کتنے حساس اور معمولی سی آواز کو سننے اور ارتعاش کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا کہ یہ ریت پر چلتی ہوئی چھپکلی اور دیمک کے چلنے کی آواز کو بھی با آسانی سن سکتا ہے۔ یہ ریت میں چھپ کر بیٹھتا ہے اور ریت کی سطح پر چلنے والے کیڑوں کی نہ صرف آواز کو سن سکتا ہے بلکہ ان کے چلنے سے ریت میں پیدا ہونے والے معمولی سے ارتعاش (Vibration) کو بھی محسوس کر سکتا ہے۔ ریت پر چلنے والے کیڑے کی رفتار اور سمت کا بخوبی اندازہ لگا لینے کے بعد یہ اسے کھا لیتا ہے۔

یہ اس کے کان میں موجود مخصوص ہڈیوں کے باعث ممکن ہو تا ہے۔

خالق کائنات نے بصارت سے محروم اس چھوٹے سے جانور کی خوراک کا انتظام ایسے شاندار طریقے سے کر رکھا ہے کہ خوراک کے حصول میں اسے کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔

(ترجمہ و تلخیص: مدثر ظفر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 جون 2021