• 23 ستمبر, 2021

آؤ! اُردو سیکھیں (سبق نمبر 8)

آؤ! اُردو سیکھیں
سبق نمبر 8

سبق نمبر 8 سے اردو زبان میں وقت کے لحاظ جو تبدیلی آتی ہے اس پر بات شروع کی گئی ہے اور پوری کوشش کی گئی ہے کہ سبق کو سادہ ترین انداز میں بیان کیا جائے۔ اب آئندہ کچھ اسباق زمانہ حال کے بارے میں ہوں گے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کے زمانہ حال کیا ہے تو زمانہ کا مطلب ہے وقت یعنی ٹائم جبکہ حال کا مطلب ہے وہ وقت جو ابھی گزر رہا ہے۔ یا کم از کم اسے گزرے ہوئے زیادہ وقت نہیں ہوا۔

In English grammar, the time is divided into three categories. These are Present, Past and Future and we are discussing Present.

میں نے آپ کی آسانی کے لیے انگریزی میں بھی بتا دیا ہے کہ ہم پریزنٹ یعنی حال کی بات کررہے ہیں۔ پچھلے سبق میں ہم نے دیکھا تھا کہ اردو میں ’عادات ، ایسے کام جو انسان ہر روز کرتا ہو، اور چیزوں کی ایسی خصوصیات جو بدلتی نہیں ہیں‘ انھیں کیسے بیان کیا جاتا ہے۔ جیسے سورج ہمیشہ مشرق سے نکلتا ہے اور پانی ہمیشہ نشیب کی طرف بہتا ہے۔ اس کی دو مثالیں ہیں۔

آج ہم دیکھیں گے کہ اردو میں ان کاموں کو کیسے بیان کرتے ہیں جو ہورہے ہوں یعنی پروگریسو ہوں۔

Now we will see that how we can describe or talk about those things which are continuous in Present Times. In English it is called either present continuous tense or progressive tense.

سب سے پہلے وہ کام اس زمانے میں بیان کیے جاتے ہیں جو اُس وقت ہورہے ہوں جب بات کرنے والا بات کر رہا ہو۔ جیسے آپ دیکھ رہے ہیں کہ بارش ہورہی ہے تو آپ کہیں گے کہ بارش ہورہی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کے ان فقرات کی کو لکھتے کیسے ہیں۔ یعنی الفاظ کی ترتیب کیا ہوتی ہے۔

وہ (کام کرنے والا) خط (اسم) لکھ (فعل یا کام) رہا ہے (دو امدادی فعل ایک رہنا سے رہا اور دوسرا ہونا سے ہے)

اردو زبان میں جب بھی کسی ایسے کام کی بات کرتے ہیں جو جاری و ساری ہو یعنی پروگریس کررہا ہو اس وقت عام امدادی یعنی ہیلپنگ ورب ہے، ہیں، ہو وغیرہ سے پہلے ہورہا، ہورہی، ہورہے لگاتے ہیں جو ہونا کی ایک شکل ہے انگریزی میں اس کے لیے پریزنٹ پارٹیسپل یعنی ورب کی پہلی فارم آئی این جی کے ساتھ استعمال ہوتی ہے جیسے

He is writing a letter.

So, the writing is called present participle and it shows a progressive verb or action.

مزید مثالیں:

وہ خط لکھ رہا ہے۔

وہ خط لکھ رہی ہے

اب یہاں دیکھیں کے جب کام کرنے والا مذکر سے موئنث ہوا تو ’رہا‘ جو ہے وہ ’رہی‘ میں بدل گیا تو اردو میں ورب یعنی فعل کی شکل بدلنے سے دو چیزوں کا پتا چلتا ہے

(الف) کام کرنے والے کی جنس یعنی کیا وہ مرد ہے یا عورت ہے

(ب) کام کرنے والے کی تعداد یعنی وہ ایک ہے یا ایک سے زائد، واحد ہے یا جمع

وہ (ایک مرد) خط لکھ رہا ہے

وہ (زیادہ مرد) خط لکھ رہے ہیں: ’رہا ہے‘ ’رہے ہیں‘ میں بدل گیا جس سے پتا چلا کہ کام کرنے والے جمع ہیں

وہ (ایک عورت یا موئنث) خط لکھ رہی ہے

وہ (زیادہ عورتیں یعنی جمع) خط لکھ رہی ہیں

یہاں بھی ’رہی ہے‘ نے بتایا کہ کام کرنے والی ایک ہے یعنی واحد ہے اور موئنث ہے جبکہ رہی ہیں نے بتایا کہ کام کرنے والیاں جمع ہیں اور موئنث ہیں۔

اب دیکھیے کہ اس زمانے میں صرف ایسے کام ہی بیان نہیں ہوتے جو اس وقت ہورہے ہوں جب ان کی بات کی جارہی ہو بلکہ وہ کام بھی بیان ہوتے ہیں جو ان دنوں، مہینوں ، اور برسوں یا سالوں میں ہورہے ہوں۔

جیسے

آجکل فیفا کے مقابلے ہو رہے ہیں

بچے بہت تیزی سے ویڈیو گیمز کے عادی ہو رہے ہیں

میں آجکل درثمین پڑھ رہا ہوں

اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان فقرات میں ایسے کام بیان ہوئے ہیں جو ضروری نہیں کہ اس وقت ہو رہے ہوں جب ان کی بات کی جا رہی ہے۔

پھر اس زمانے میں ایسے کاموں کو بھی ذکر کیا جاتا ہے جو آنے والے دنوں میں ہونے ہوں یعنی مستقبل میں ہونے ہوں۔

جیسے

ہم اگلے ماہ پاکستان جارہے ہیں

وہ کل اپنی زندگی کا بہت اہم امتحان دینے جارہا ہے

اس زمانے پر گفتگو اگلے سبق میں بھی جاری رہے گی ان شاء اللہ

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
ہمت بلند رکھنی چاہیے۔ انسان اگر دنیوی امور میں ہمت ہاردے تو دینی امور میں بھی ہار دیتا ہے۔ یہ عجیب چیز ہے کیونکہ وہ گواہی دیتی ہے کہ قویٰ ٹھیک ہیں۔ جو لوگ کم ہمت ہیں ان میں پست خیالی پیدا ہوجاتی ہے۔ مسجدوں کے ملاں جو ہوتے ہیں ان کو دیکھو۔ ایک بار ہمارے میرزا صاحب کے پاس یہاں کا ایک ملاں شکایت لایا کہ ہمارے جو گھر باہم تقسیم ہوئے ہیں تو مجھے چھوٹے قد کے آدمیوں کے گھر ملے ہیں اور ان کے مرنے سے بہت چھوٹا کفن ملا ہے۔ یہاں تک حالت ان کی گر جاتی ہے کہ ایک ملاں نے نمازِ جنازہ غلط پڑھائی جب کہا گیا تو جواب دیا کہ اس کی مشق نہیں رہی۔ غرض دنیا کے معاملہ میں ہمت نہ کی تو دین میں بھی پست ہمتی پیدا ہوجاتی ہے۔

(ملفوظات حضرت مسیح موعودؑ جلد 4 صفحہ 3تا 4)

مندرجہ بالا اقتباس کے مشکل الفاظ کے آسان اردو میں معنے:

دنیوی امور: دنیا کے کام

ہمت ہار دے: یعنی سست ہوجائے یا مایوس ہوجائے

دینی امور: دین کے کام، عبادت

قویٰ: جسمانی صحت، اعضا، ہاتھ پاؤں، آنکھیں، دماغ وغیرہ

کم ہمت: جس میں ہمت نہ ہو

پست خیالی: اپنی عزت کا خیال نہ رہنا

جو گھر باہم تقسیم ہوئے ہیں: یعنی جو علاقہ مولوی صاحب کے حصےّ میں آیا

چھوٹے قد کے آدمی: یعنی ان گھروں میں جو لوگ رہتے ہیں ان کے قد چھوٹے ہیں

کفن: وہ سفید کپڑا جس میں وفات پانے والے کو لپیٹ کر دفن کرتے ہیں

حالت ان کی گر جاتی ہے: یعنی اپنی عزت کا ذرہ خیال نہیں رہتا

مشق نہیں رہی: یعنی سستی کے باعث طریقہ یاد نہ رہا

غرض: یعنی مقصد اس بات کا یہ ہے کہ
پست ہمتی: سستی، کاہلی، دلچسپی نہ ہونا پیدا ہوجاتی ہے۔

(عاطف وقاص ۔ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 اگست 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اگست 2021