• 23 ستمبر, 2021

ڈولفن

ڈولفن
دنیا کا سب سے ذہین جانور

ڈولفن کا شمار ممالیہ جانوروں میں ہوتا ہے اور انہیں Aquatic یعنی پانی کی ممالیہ کہا جاتا ہے ۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ انسان کے بعد ڈولفن سب سے زیادہ ذہین مخلوق ہے ۔ہم سوال کر سکتے ہیں کہ ڈولفن کتنی ذہین ہوتی ہیں ۔ یا یہ کہ ڈولفن اتنی ذہین کیسے ہوتی ہیں ؟ وہ کون سے عوامل ہیں جو اسے دنیا کا ذہین ترین جانور بنا دیتے ہیں ۔ یہ آپس میں ایک دوسرے سے رابطہ کیسے کرتی ہیں ؟جانوروں پر تحقیق کرنے والے ان سوالوں کے جوابات تلاش کرنے کے لیے مختلف اقسام کے تجربات کرتے رہتے ہیں۔ ڈولفن کی کم و بیش تیس اقسام ملتی ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ان کی تعداد نو ملین کے لگ بھگ ہے۔فطری طور پر ڈولفن ایک سماجی جانور ہے جو مل جل کر رہنا پسند کرتے ہیں ۔یہ گروپ کی صورت میں رہتی ہیں اور ایک گروپ میں ایک ہزار تک ڈولفن ہو سکتی ہیں لیکن ان کے گروپ کا کوئی لیڈر نہیں ہوتا ۔

یہ خوارک کے حصول اور نسل کی افزائش کے لیے مخصوص علاقوں کی طرف ہجرت بھی کرتی ہیں۔یہ دنیاکے اکثر خطوں میں پائی جاتی ہیں اور گرم پانیوں میں رہنا پسند کرتی ہیں ۔اس کی لمبائی چھے سے بارہ فٹ تک ہوتی ہے۔یہ پینتیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیر سکتی ہیں ۔دیگر مچھلیوں کے بر عکس ڈولفن پھیپھڑوں کے ذریعے سانس لیتی ہیں اس لیے ان کو وقفے وقفے سے پانی کی سطح پر آ کر سانس لینے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایک بار سانس لینے کے بعدیہ پانی کے اندر آٹھ سے پندرہ منٹ تک رہ سکتی ہیں۔ڈولفن کا شمار گرم خون والے جانداروں میں ہوتا ہے ۔ ان کے جسم کا درجہ حرارت انسانوں کی طرح 36سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے ۔نر ڈالفن کو Bull یعنی بیل ، مادہ کو Cow یعنی گائے اور بچے کو Calves یعنی بچھڑے کہا جاتا ہے۔ان کے گروپ کو School یا POD کہا جاتا ہے ۔یہ پانی کی سطح سے پندرہ سے تیس فٹ تک اونچی چھلانگ لگا سکتی ہیں۔

ڈولفن میں ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے لیے ایکو لوکیشن کا نظام موجود ہوتا ہے ۔(ایکو لوکیشن یعنی آواز کی لہروں کی مدد سے دیکھنےاور سننے کا عمل جو آواز کی لہروں کو تصاویر میں بدل کر دماغ میں ارد گرد کا نقشہ بنا دیتا ہے )یہ سارا دن سمندر میں مچھلیوں کا شکار کرنے ، سمندر میں اٹھکیلیاں کرنے اورایک دوسرے کو پیغامات بھیجنے میں اپنا وقت گزارتی ہیں ۔سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ایک دوسرے کو پیغامات بھیجنے کی ان کی اپنی ایک زبان ہے جس میں یہ ایک دوسرے سے رابطہ میں رہتی ہیں ۔ خطرہ محسوس کرتے ہی دوسری ڈولفن کو خطرے کی نوعیت سے فوری آگاہ کرتی ہیں۔

ڈولفن کی بنیادی خوراک سمندری مچھلیاں، چھوٹی شارکس اور آکٹوپس وغیرہ ہیں ، جبکہ ابتداء میں اپنی ماں کے دودھ پر پرورش پاتی ہیں اور پھر خود سے شکار کرنے کے قابل ہوجاتی ہیں۔ڈولفن ہر بار افزائش نسل کے لیے نیا ساتھی چنتی ہیں، گو کہ ہر بار جوڑا ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتا ہے اس کے باوجود ان کی خاندانی روایات میں فرق نہیں آتا ۔یہ ایک دوسرے کی ہمدردی اور مدد گار ہوتی ہیں ۔جب کسی ڈولفن کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہےتو گروپ کےدوسرے نر اور مادہ ڈولفن اسے اپنے حصار میں رکھتی ہیں کیونکہ اس وقت شارک کے حملوں کا خطرہ ہوتا ہے ۔پیدائش کے فوراً بعد ماںبچے کو سانس دلانے کے لیے پانی کی سطح پر لاتی ہے۔اسی وقت شارک کے حملہ کا خطرہ ہوتا ہےچنانچہ دیگر ڈولفن اس کے اردگرد حفاظت کی غرض سے موجود رہتی ہیں ۔ماں بچے کو دودھ پانی کے اندر ہی پلاتی ہیں لیکن سانس دلوانے کے لیے ہر چند سیکنڈ بعد بچے کو پانی کی سطح پر لانا ضروری ہوتا ہے ۔پہلے دو ہفتوں کے دوران شیر خوار ڈولفن اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہیں ۔نیز گروپ کی باقی ڈولفن بھی بچے کی دیکھ بھال کرتی اور اس کے نزدیک ہی رہتی ہیں ۔دو ہفتوں بعد بچہ خود سے آزادانہ پانی میں تیرنے کے قابل ہو جاتا ہے اور پانی کی سطح پر آکر سانس لینے لگتا ہے ۔پہلے ہفتے میں بچے کے مسوڑوں سے دانت نکلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔ایک جوان ڈولفن کے 188 سے 268تک دانت ہوتے ہیں۔یہ دانتوں سے چباتی نہیں ہیں بلکہ ان سے پکڑ کر شکار کو سالم نگل لیتی ہیں۔

چودہ سے پندرہ ہفتوں کے دوران بچہ مکمل طور پر اپنی خوراک تلاش کرنے کے قابل ہو جاتا ہے ۔

اپنی عقلمندی کے باعث یہ اپنے ماحول کو اچھی طرح سمجھ سکنے کے ساتھ موقع کی مناسبت سے فیصلہ کرنے اور گروپ کی دوسری ڈولفن کو سمجھانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔یہ پانی میں تین ہزار فٹ کی گہرائی تک جا سکتی ہیں۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ڈولفن دوسرے جانوروں کی نسبت آپس میں خیالات کا اظہار بول کرکرتی ہیں اور ایک دوسرے کو نام سے بلاتی ہیں ۔پیدائش کے وقت مادہ ڈولفن مخصوص آواز نکالتی ہے جو پیدا ہونے والے بچہ کا نام ہوتا ہے ۔کرہ ارض پر انسانوں کے علاوہ یہ واحد مخلوق ہے جو ایک دوسرے کو نام سے بلاتی ہے۔ڈولفن کی نظر بہت کمزور ہوتی ہے اور سونگھنے کی حس تو بالکل نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ۔یہ اپنے شکار کو سونگھ کر تلاش کرنے کی بجائے ایکو لوکیشن کا استعمال کرتی ہیں ۔یہ اپنے منہ سے مخصوص فریکوئنسی کی طاقت والی آواز کی لہریں خارج کرتی ہیں وہ لہریں جب لوٹ کر ان کی جانب واپس آتی ہیں تو انہیں اپنے شکار کا پتہ چل جاتا ہے ۔نہ صرف یہ بلکہ اس طرح انہیں خطرےکا بھی احساس ہو جاتا ہے۔ یہ بہت جلدانسانوں سے مانوس ہو جاتی ہیں اور ان میں سیکھنے کی حیرت انگیز صلاحیت ہوتی ہے ۔یہ مختلف قسم کے کرتب بڑی آسانی سے سیکھ لیتی ہیں۔دوسرے ممالیہ جانوروں کی نسبت یہ ایک آنکھ کھول کر سوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ سوتے میں ان کا آدھا دماغ کام کرتا ہے تاکہ سانس لینے میں تسلسل رہے اور آدھا آرام کی کیفیت میں ہوتا ہے ۔سونے کے اس عمل کو Uni-Hemisphere Sleep کہاجاتا ہے ۔سونے کے دوران اگر دماغ کا دائیاں حصہ جاگ رہا ہوتو دائیں آنکھ کھلی رہتی ہے اور جب بائیاں حصہ جاگتا ہے تو بائیں آنکھ کھلی ہوتی ہے۔اس طرح یہ باری باری دماغ کے دونوں حصوں کو آرام دیتی ہیں۔

یہ سونے کے دوران اپنے آپ کو مختلف زاویوں میں تبدیل کرتی رہتی ہیں اور ان کی دم مسلسل حرکت میں رہتی ہے ۔ایسا اس لیے کرتی ہیں تاکہ پانی کی گہرائی میں نا چلی جائیں ، دوسری وجہ یہ ہے کہ سونے کے دوران کسی بھی قسم کے خطرہ سے آگاہ رہیں اور تیسری وجہ یہ ہے کہ ان کے عضلات حرکت میں رہیں ۔

ماحولیاتی آلودگی کے باعث ان کی تعداد میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ مووی ڈولفن جو کہ ڈولفن کی ایک نایاب نسل ہے کی تعداد صرف 50سے 60کے درمیان رہ گئی ہے ۔

(مدثر ظفر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 اگست 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اگست 2021