• 20 ستمبر, 2020

ظاہری پاکیزگی باطنی طہارت کی ممداورمعاون ہے

بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کو دوست رکھتا ہے۔ اور ان لوگوں سے جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں پیار کرتا ہے۔ اس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی توبہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری ہے ورنہ نری توبہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔

(الحکم ۱۷ ستمبر ۱۹۰۴ء جلد نمبر ۸ نمبر ۳۱ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد اوّل صفحہ ۷۰۵)

پھر آپؑ فرماتے ہیں : ’’جو باطنی اور ظاہری پاکیزگی کے طالب ہیں ان کو دوست رکھتا ہوں، ظاہری پاکیزگی باطنی طہارت کی ممد اور معاون ہے۔ اگر انسان اس کو چھوڑ دے اور پاخانہ پھر کر پھر طہارت نہ کرے تو اندرونی پاکیزگی پاس بھی نہ پھٹکے۔ پس یاد رکھو کہ ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مستلزم ہے۔ اسی لئے لازم ہے کہ کم از کم جمعہ کو غسل کرو، ہر نماز میں وضو کرو، جماعت کھڑی کرو تو خوشبو لگا لو، عیدین اور جمعہ میں خوشبو لگانے کا جو حکم ہے وہ اسی بنا پر قائم ہے، اصل وجہ یہ ہے کہ اجتماع کے وقت عفونت کا اندیشہ ہے (بدبو کا اندیشہ ہوتا ہے)۔ پس غسل کرنے اور صاف کپڑے پہننے اور خوشبو لگانے سے سمیّت اور عفونت سے روک ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی میں یہ مقرر کیا ہے ویسا ہی قانون مرنے کے بعد بھی رکھا ہے۔

(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد اوّل صفحہ ۷۰۴، ۷۰۵)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام جسمانی طہارت و پاکیزگی کے بارہ میں فرماتے ہیں:
جو شخص جسمانی پاکیزگی کی رعایت کو بالکل چھوڑ دیتا ہے وہ رفتہ رفتہ وحشیانہ حالت میں گر کر روحانی پاکیزگی سے بھی بے نصیب رہ جاتا ہے۔

(ایام صلح، روحانی خزائن جلد14 صفحہ 332)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 ستمبر 2020