• 29 ستمبر, 2020

ظہور امام مہدی ۔ اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان اور ہماری ذمہ داریاں

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ

(آل عمران:165)

ترجمہ: بے شک اللہ نے مومنوں پر احسان کیا یہ جو بھیج دیا اُن میں ایک رسول انہیں میں سے اور وہ پڑھ کر سناتا ہے اُن کو اللہ کی آیتیں اور ان کو پاک وصاف کرتا ہے اور کتاب پڑھاتا ہے اور سمجھ کی باتیں سکھاتا ہے یقیناً وہ اس سے پہلے صریح جہالت میں تھے۔

یہ ترجمہ سیدنا حضرت حکیم مولوی نورالدین خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپؓ کے درس القرآن میں اس آیت کریمہ کے foot note میں تحریر ہے کہ
’’اس آیت سے یہ بات ظاہر ہے کہ کسی قوم میں خدا تعالیٰ کا نبی و رسول بھیجنا یہ اس کا بڑا احسان ہے جس احسان کو خدا تعالیٰ جتا رہا ہے اس میں نبی کا کام بھی بتایا گیا ہے۔ یہی کام ان کے خلفاء کا بھی فرض ہے۔‘‘

(قرآن کریم از درس القرآن حضرت مولوی نور الدین صفحہ 149)

اس فٹ نوٹ میں سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ نے بہت واضح طور پر فرمایا کہ کسی قوم میں نبی کا آنا خداتعالیٰ کا اس قوم پر بہت بڑا احسان ہوتا ہے اور اس احسان کا ذکر خود اللہ تبارک و تعالیٰ کررہا ہے اور جتا رہا ہے۔ نیز نبی اور اس کے جانشینوں کے کام بتا کر قوم کو بتاتا ہے کہ اِن اِن کاموں کے لحاظ سے احسان ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اس ضمن میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ کا ہم احمدیوں پر یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں اس زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی۔ ایک احمدی غور کرے تو اس احسان پر تمام زندگی بھی خدا تعالیٰ کاشکر ادا کرتا رہے تو پھر بھی ادا نہیں کرسکتا۔‘‘

(خطبہ جمعہ 17جون 2011ء، خطبات مسرور جلد9 صفحہ297)

پھر ایک اور خطبہ جمعہ میں فرمایا:
’’یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں زمانے کے امام مسیح موعود اور مہدی موعود کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی۔ جہاں بھی اور جس معاملے میں بھی ہمیں رہنمائی کی ضرورت ہو، کسی بات کو سمجھنے کی ضرورت ہو۔ قرآن کریم میں بیان فرمودہ حکمت کے موتیوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہو یا ان کی تلاش ہو تو ہمیں اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس فرستادے کی کتب اور ارشادات مل جاتے ہیں جو ہمارے مسائل حل کرتے ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ 6جون 2014ء از خطبات مسرور جلد 12 صفحہ348)

آج اس بے راہ روی کے دور میں جب ہم احمدیوں میں سے کوئی ایک اس آیت کریمہ اور سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر غور کرتا ہے تو ہم فوراً اپنے خالق حقیقی کی طرف جھک جاتے، سجدہ ریز ہوتے اور اس ذات باری تعالیٰ کاشکر بجا لاتے ہیں کہ اس ذات نے ہم پر احسان کیا کہ ہمیں یا تو احمدی گھرانے میں پیدا کیا یا ہم میں سے بعض کو زمانے کے امام کو پہچان کر سیدنا خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا مبارک اور مقدس سلام پہنچانے کی توفیق دی۔

ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ آج دنیائے عالم میں بسنے والے 2 ارب سے زائد مسلمانوں میں صرف احمدی ہاں صرف احمدی مسلمان ہی ہیں جو امن میں ہیں اور پُر امن زندگی بسر کر رہے ہیں۔ نہ کسی ہنگامہ آرائی ، نہ کوئی اسٹرائیک ، نہ کوئی جلوس، نہ کوئی احتجاج اور نہ کوئی بائیکاٹ۔ اپنے امام خلیفۃ المسیح کی مکمل رہنمائی اور اطاعت میں اپنے اللہ تعالیٰ پر مکمل توکل کرتے ہوئے۔ اس کی امان اور حفاظت کے طلب گار ہوتے ہوئے اسلامی تعلیمات پر مکمل عمل کرتے ہوئے دنیا بھر میں زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ہماری جائیدادوں کو لوٹا جاتا ہے، ہماری مساجد بزور بازو چھین لی جاتی ہیں یا جلا دی جاتی ہیں ۔ ہمارے مخلص احمدیوں کو یا تو پابند سلاسل کردیا جاتا ہے یا شہید کردیا جاتا ہے مگر صبر اور برداشت کے جذبہ کو اپنے اندر پہلے سے زیادہ مستحکم کرتے ہوئے اللہ کے حضور جھک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو جزائے احسن الخیر ادا کرے جو خطبات، پیغامات یا خطوط کے ذریعہ بر محل اور برموقع ہماری رہنمائی فرمادیتے ہیں۔

ہمارے ایک بزرگ کہا کرتے تھے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں احمدیہ گھرانہ میں پیدا کیا اور ہم محفوظ و مامون اور بابرکت وجود بن گئے ورنہ شاید ہم بھی مخالفین کے ساتھ مل کر احمدیوں کے خلاف وٹے مارنے والوں میں شامل ہوتے۔

آئیں !ہم ال عمران آیت 165 میں بیان فرمودہ ان احسانوں کا ذکر کریں جو خلافت کے مبارک نظام کے ذریعہ ہم پر مسلسل، لگاتار، صبح و شام بغیر کسی وقفہ کے ہورہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر خلافت کا نظام جاری فرمایا ہے اور خلیفۃ المسیح ایم ٹی اے کے توسط سے ہر جمعہ کو قرآن کریم کے علوم و معارف نہایت گہرائی اور خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ یہ پیغام دنیا بھر میں لاکھوں احمدیوں تک پہنچتا ہے۔ جس سے پاک تبدیلیاں احباب جماعت میں رونما ہوتی ہیں۔ گاہے گاہے واقفین یا واقفات نو، اطفال، خدام، انصار، ناصرات اور ممبرات لجنہ کی حضور سے ملاقات کے دوران علم و عرفان کے پھول جھڑتے ہیں اور وہ بھی قرآنی تعلیمات کے عین مطابق ہوتی ہیں۔ پھر دنیا بھر کے 100 سے زائد جماعتوں میں جب جلسہ سالانہ منعقد ہوتے ہیں تو وہاں بنفس نفیس حاضر ہوکر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ خطاب فرماتے ہیں یا اسلامی ،دینی اور قرآنی تعلیمات پر مشتمل پیغامات بھجواتے ہیں۔ جن سے براہ راست تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ یہ خطابات یا پیغامات صرف اس ملک کے احمدیوں کے لئے نہیں ہوتے بلکہ دنیا بھر کے تمام احمدی اپنے آپ کو ان کا مخاطب سمجھتے ہیں۔ ہم نے بالعموم دیکھا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح بھی اپنے پیغامات اور خطبات و خطابات میں قرآن و احادیث کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اور خلفائے کرام کے ارشادات بیان کرتے ہیں۔ اسی طرح جماعت میں ہر خطیب یا مقرر اپنی تقریر و خطبہ میں بھی تمام خلفاء کے ارشادات کو بیان کرتا ہے۔ اسلام آباد پاکستان میں ایک مخلص احمدی ڈاکٹر پیر نقی الدین مرحوم ہوا کرتے تھے۔ (آپ حضرت صوفی احمد جانؓ کے پڑپوتے تھے)۔ میرے ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میں دو نفل ابھی بھی پڑھتا ہوں جو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے پڑھنے کو فرمایا تھا اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے کہے ہوئے نفل اس کے علاوہ ہیں۔ (وہ وقت خلافت رابعہ کا تھا)۔ سورۃ ال عمران آیت 165 میں جن احسانات کا ذکر موجود ہے اس کو ہم کتابی، اخباری اور رسالوں کی صورت میں اپنے اندر موجود پاتے ہیں۔ تین خلفاء کے تراجم قرآن ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف آیات قرآنیہ کی جو تفسیر فرمائی ہے وہ بھی چار جلدوں میں موجود ہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کی تفسیر حقائق الفرقان کے نام سے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی معرکۃآراء تفسیر کبیر بھی 10 جلدوں میں ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے بیان فرمودہ تفسیری نکات تین جلدوں میں انوار القرآن کے نام سے شائع ہوچکےہیں۔ اس کے علاوہ پانچوں خلفاء کے خطبات، خطابات طبع ہوکر احمدی گھرانوں میں مائدہ تقسیم کررہے ہیں۔ یہ تمام وہ حقائق و معارف ہیں جن کو پڑھ کر افراد جماعت اپنے اندر وہ نمایاں روحانی، اخلاقی، دینی تبدیلیاں محسوس کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں پھیلے احمدی حقیقت میں دنیا بھر کے غیر احمدی مسلمانوں سے اخلاق اور اسلامی تعلیم میں نمایاں بہتر ہیں اور دنیا یہ کہنے پر مجبور ہے کہ ہم تو اسلام کو دہشتگردی کا مذہب سمجھتے تھے مگر آپ احمدیوں کو دیکھ کر اسلام امن وآشتی کا مذہب لگتا ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے کینیڈا میں ایک مجلس میں اسلام میں دہشتگردی کے سوال کےجواب میں فرمایا:
’’گھانا میں ہمارے ایک احمدی منسٹر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک میٹنگ میں کرائم کے بارے میں یہ بحث ہورہی تھی کہ مجرموں میں مسلمانوں کی شرح زیادہ ہے، کریمنل (criminal) لوگ زیادہ ہیں۔ اس پر ہمارے احمدی منسٹر نے کہا کہ آپ سارا data اکٹھا کرکے میٹنگ میں پیش کریں، آپ کو ان جرم پیشہ افراد میں ایک بھی احمدی نہیں ملے گا۔ کچھ دنوں کے بعد data لایا گیا تو ان میں ایک بھی احمدی نہ تھا۔ تو یہ وہ سوسائٹی ہے جوہم دنیا میں بنا رہے ہیں۔ اس وقت لاکھوں، کروڑوں احمدی دنیا میں ہیں لیکن آپ دیکھیں گے کہ کوئی بھی ان میں سے ایسے واقعات میں ملوث نہیں ہے۔ اگر کوئی ایک آدھ ایسا ہوتا ہے تو ہم ایکشن لیتے ہیں اور اس کو جماعت کے نظام سے باہر نکال دیتے ہیں۔‘‘

(روزنامہ الفضل ربوہ 26 جون 2013ء)

یہی وہ احسان عظیم ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کے نزول کے ساتھ ہم پر کیا ہے اور ہم سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حقیقی تصویر کو اپنے اندر اُتار چکے ہیں۔ ہمارے اعمال اس اسلام کے عین مطابق ہیں جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے متعارف کروایا۔

ابھی کچھ دن ہوئے جلسہ سالانہ برطانیہ کی نشریات ایم ٹی اے پر جاری تھیں۔ جس میں دو عرب ڈاکٹرز احمدیت کی خوبیاں بیان کررہے تھے، جس میں ایک نے کہا کہ جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر 30 ہزار افراد کو بیک وقت کھانا تقسیم ہونا اور ہر احمدی کا دوسرے کی خاطر ایثار وقربانی کا مظاہرہ کرنا بتاتا ہے کہ یہی وہ اسلامی تعلیم ہے جو سیدنا حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے بتائی۔

ابھی میرے سامنے یادرفتگاں کا ایک مضمون ہے جو مکرم ڈاکٹر محمد اشرف میلوآف امریکہ کا اپنی والدہ محترمہ تسلیم بیگم کےمتعلق تحریر کردہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہماری والدہ محترمہ ٹی وی دیکھتے وقت چہرے کا پردہ کرتیں۔ ہم انہیں سمجھاتے کہ آپ ایسا کیوں کرتی ہیں۔ ٹی وی میں آنے والا شخص کوئی ظاہری شکل میں تو آپ کے سامنے موجود نہیں وہ کہتیں کہ آنحضورﷺ نے ایک نابینا صحابی کے آنے پر حضرت عائشہؓ کو پردہ کروایا تھا کہ اگر نابینا صحابی نہیں دیکھ رہا تو آپ تو دیکھ رہی ہیں۔

پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ نےجلسہ سالانہ 2020ء کے آخری سیشن میں ایس او پیز کو مدنظر رکھ کر خطاب فرمایا۔ پیارے حضور نے دوران سال جن افضال الہٰیہ کا ذکر تفصیل سے فرمایا یہ دراصل انعامات ہیں اس احسان کے جو خداتعالیٰ نے جماعت احمدیہ پر فرمایا۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم تمام تشکر الہٰی کریں۔ ہم اپنے خالق کے سامنے جھک جائیں۔ سجدہ ریز ہوں۔ نمازیں پڑھیں اورایسی نمازیں جن کا ذکر اُس احسان والی حدیث میں ملتا ہے۔ جس کے مطابق حضرت جبرائیل آنحضورﷺ کے پاس آئے اور احسان کے بارہ میں پوچھا کہ احسان کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اللہ کو دیکھتا ہے۔ اگر یہ درجہ حاصل نہیں تو یہ احساس ہو کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔

(صحیح مسلم کتاب الایمان)

احادیث میں احسان کی مختلف شکلیں بیان ہوئی ہیں۔ جیسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ قریبی عزیزوں، رشتہ داروں، بیوی بچوں ،بہن بھائیوں یا قریبی دوستوں سے حسن سلوک کرنا۔ مخلوق خدا کے کام آنا۔ جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ اس کے لئے پسند کرنا۔ بلکہ ایک حدیث میں ہے کہ ایسا نہ کہو کہ لوگ حسن سلوک کریں گے تو ہم بھی کریں گے۔ اگر وہ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے بلکہ تم اپنے نفس کی تربیت اسی طرح کرو کہ اگر لوگ تم سے حسن سلوک کریں تو تم اُن سے احسان کا معاملہ کرو۔ اگر وہ تم سے بد سلوکی کریں تو بھی تم ظلم سے کام نہ لو۔ کسی کے احسان پر ‘‘جزاک اللّٰہ خیراً‘‘ کہنا بھی احسان ہے۔

• احسان کی ایک قسم آنحضور ﷺ نے یوں بیان فرمائی ہے کہ
یہ تین باتیں جس میں پائی جائیں اللہ تعالیٰ اس پر اپنا دامن رحمت پھیلائے گا اور جنت میں داخل کردیگا۔ اول کمزوروں پر رحم کرنا، دوسرے والدین سے محبت و شفقت کرنا، تیسرے خادموں اور نوکروں سے احسان کا سلوک کرنا۔

• پھر احسان کی ایک اور قسم یوں بیان فرمائی:
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس سے احسان کا سلوک کیا جائے اور مسلمانوں کے گھروں میں بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم سے بدسلوکی کی جائے۔

(یہ تمام احادیث صحیح مسلم کتاب الایمان سے لی گئی ہیں)

• حضرت اقدس مسیح موعودؑ احسان کی تشریح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’نیکی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے پاک تعلقات قائم کئے جاویں۔ اور اسکی محبت ذاتی رگ و ریشہ میں سرایت کرجاوے۔ جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآءِٔ ذِی الْقُرْبٰى خدا کے ساتھ عدل یہ ہے کہ اسکی نعمتوں کو یاد کرکے اسکی فرمانبرداری کرو اور کسی کو اسکا شریک نہ ٹھہراؤ اور اُسے پہچانو اور اس پر ترقی کرنا چاہو تو درجہ احسان کا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسکی ذات پر ایسا یقین کرلینا کہ گویا اسکو دیکھ رہا ہے۔ اور جن لوگوں نے تم سے سلوک نہیں کیا اُن سے سلوک کرنا۔ اور اگر اس سے بڑھ کر سلوک چاہو تو ایک اور درجہ نیکی کا یہ ہے کہ خدا کی محبت طبعی محبت سے کرو۔ بہشت کی طمع یا لالچ، نہ دوزخ کا خوف ہو بلکہ اگر فرض کیا جاوے نہ بہشت ہے نہ دوزخ ہے تب بھی جوش محبت اور اطاعت میں فرق نہ آوے۔ اور ایسی محبت جب خدا سے ہو تو اس میں ایک کشش پیدا ہوجاتی ہے اور کوئی فتور واقع نہیں ہوتا۔‘‘

(البدر جلد 2 نمبر 43 – 16 نومبر 2003ء صفحہ 335 از خطبات مسرور جلد2 صفحہ 211)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 ستمبر 2020