• 18 اکتوبر, 2021

سب کو متوجّہ ہو کر سننا چاہیے

جلسہ کی کارروائی کو غور سے سننے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا:
’’سب کو متوجہ ہو کر سننا چاہئےاور پورے غور اور فکر کے ساتھ سنو کیونکہ یہ معاملہ ایمان کا معاملہ ہے۔ اس میں غفلت ،سستی اور عدم توجہ بہت برے نتیجے پیدا کرتی ہے۔جو لوگ ایمان میں غفلت سے کام لیتے ہیں اور جب ان کو مخاطب کر کے کچھ بیان کیا جاوے تو غور سے اس کو نہیں سنتےہیں ان کو بولنے والے کے بیان سے خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ درجہ کا مفید اور مؤثر کیوں نہ ہو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ کان رکھتے ہیں مگر سنتے نہیں۔ دل رکھتے ہیں پر سمجھتے نہیں۔ پس یاد رکھو کہ جو کچھ بیان کیا جاوے اسے توجہ اور بڑے غور سے سنو کیونکہ جو توجہ سے نہیں سنتا ہے وہ خواہ عرصہ دراز تک فائدہ رساں وجود کی صحبت میں رہے اسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔‘‘

(ملفوظات جلد3 صفحہ142 ایڈیشن 1984ء مطبوعہ انگلستان)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تقاریر سننے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’سب صاحبان متوجہ ہو کر سنیں۔ مَیں اپنی جماعت اور خود اپنی ذات اور اپنے نفس کے لئے یہی چاہتا اور پسند کرتا ہوں کہ ظاہری قِیْل و قَال جو لیکچروں میں ہوتی ہے اس کو ہی پسند نہ کیا جاوے اور ساری غرض و غایت آ کر اُس پر ہی نہ ٹھہر جائے کہ بولنے والا کیسی جادو بھری تقریر کر رہا ہے۔ الفاظ میں کیسا زور ہے۔ مَیں اس بات پر راضی نہیں ہوتا۔ میں تو یہی پسند کرتا ہوں اور نہ بناوٹ اور تکلّف سے بلکہ میری طبیعت اور فطرت کاہی یہی اقتضا ہے کہ جو کام ہو اللہ کے لئے ہو۔ جو بات ہو خدا کے واسطے ہو۔‘‘

(ملفوظات جلد1 صفحہ398-399 ایڈیشن 1984ء مطبوعہ انگلستان)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں:
’’مسلمانوں میں ادبار اور زوال آنے کی یہ بڑی بھاری وجہ ہے ورنہ اس قدر کانفرنسیں اور انجمنیں اور مجلسیں ہوتی ہیں اور وہاں بڑے بڑے لَسّان اور لیکچرار اپنے لیکچر پڑھتے اور تقریریں کرتے، شاعر قوم کی حالت پر نوحہ خوانیاں کرتے ہیں۔ وہ بات کیا ہے کہ اس کاکچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔ قوم دن بدن ترقی کی بجائے تنزّل ہی کی طرف جاتی ہے۔بات یہی ہے کہ ان مجلسوں میں آنے جانے والے اخلاص لے کر نہیں جاتے۔‘‘

(ملفوظات جلد1 صفحہ401 ایڈیشن 1984ء مطبوعہ انگلستان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

چھوٹی مگر سبق آموز بات