• 6 دسمبر, 2022

اختتامی خطاب مجلس انصاراللہ برطانیہ فرمودہ 18؍ستمبر 2022ء

مجلس انصاراللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بصیرت افروز اختتامی خطاب

فرمودہ 18؍ستمبر 2022ء بمقام اولڈ پارک فارم،کنگزلے

امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ الودود بنصرہ العزیز Old Park Farm، واقع Sickles Lane, Kingsley میں منعقد ہونے والے مجلس انصار اللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع (منعقدہ 16 تا18؍ستمبر 2022ء) کے اختتامی اجلاس میں بنفسِ نفیس رونق افروز ہوئے اور اردو زبان میں بصیرت افروز اختتامی خطاب فرمایا۔ یہ خطاب ایم ٹی اے کے مواصلاتی رابطوں کے توسّط سے پوری دنیا میں سنا اور دیکھا گیا۔

نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد چار بج کر 16 منٹ پر حضور انورپُر جوش نعروں کی گونج میں کرسیٔ صدارت پر رونق افروز ہوئے۔ اجلاس کی کارروائی کا آغازتلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم عبد السمیع عابد صاحب نے سورت آل عمران کی آیات104 اور 105 کی تلاوت کی۔ ان آیاتِ کریمہ کا انگریزی زبان میں ترجمہ مکرم ٹومی کالون صاحب نے پیش کیا۔ بعد ازاں حضور انور کی اقتدا میں تمام شاملین نے انصار اللہ کا عہد دہرایا۔ اس کے بعد مکرم عمر شریف نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا منظوم کلام بعنوان ’’اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق‘‘ میں سے منتخب اشعار خوش الحانی سے پیش کیے۔ ان اشعارکا انگریزی زبان میں ترجمہ مکرم توبان افرام صاحب نے پیش کیا۔ بعدازاں ڈاکٹر اعجاز الرحمان صاحب صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ نے اجتماع کی رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ اجتماع از صدر مجلس انصار اللہ

مکرم صدر صاحب مجلس انصار اللہ برطانیہ نے اجتماع کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 2019ء کے بعد امسال اجتماع مکمل انتظامات کے ساتھ منعقد کیا جارہا ہے۔ مجلس انصار اللہ برطانیہ بہت خوش قسمت ہے کہ حضور انور نے ایک مرتبہ پھر ہمارے اجتما ع کو اپنی تشریف آوری کے ساتھ رونق بخشی۔ خاکسار مجلس انصار اللہ کی طرف سے حضورِانور کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہے کہ حضورِانور نے ہماری کمزوریوں کے باوجود ہم پر یہ خاص شفقت فرمائی۔ نیز حضورِانور سے دعا کی عاجزانہ درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور انور کی توقعات پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین امسال ہمارے اجتماع کا مرکزی نقطہ خلافت کی اہمیت و برکات تھا جو سال کے آغاز میں ہی طے پاگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے امسال 143 میں سے 132مجالس اور 18 میں سے 7 ریجنز نے اپنے مقامی اجتماعات منعقد کرنے کی توفیق پائی۔ نیشنل اجتماع کی تیاریوں کا آغاز حضورِانور کی منظوری سے ماہ جون میں ہوگیا تھا۔ ناظمِ اعلیٰ اجتماع مکرم رفیع احمد بھٹی صاحب اور ان کی ٹیم نے بھر پور محنت کے ساتھ اجتماع کی تیاریاں مکمل کیں۔ خاکسار مجلس خدام الاحمدیہ، افسر جلسہ سالانہ، امیر صاحب یوکے اور ایم ٹی اے کا ان کے بھر پور تعاون پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہے۔

اجتماع کے تینوں دن نمازوں کی باجماعت ادائیگی کے ساتھ باجماعت نمازِ تہجد اور درس کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ انصار اللہ کو علمائے سلسلہ کی بہت سی علمی و معلوماتی تقاریر سننے کا موقع ملا جن میں مقررین نے برکاتِ خلافت کے اپنے ذاتی واقعات بھی بیان کیے۔ علمی مقابلہ جات کے علاوہ بہت سی ورک شاپس کا بھی انعقاد کیا گیا تھا جس میں سائیکلنگ کی اہمیت اور اس کی افادیت، صحت مند طرزِ زندگی، رشتہ ناطہ اور احمدیہ مسلم lawyers ایسو سی ایشن کی طرف سے ایک پریزنٹیشن شامل تھی۔

امسال اجتماع پر قیادت تبلیغ اور ہیو مینٹی فرسٹ کی طرف سے نمائشیں بھی لگائی گئی تھیں۔ نیز شعبہ تبلیغ یوکے نے مجلس سوال و جواب کا انعقاد بھی کیا تھا جس سے انصار اللہ مستفید ہوئے۔ فقہی مسائل سے متعلق مجلس سوال و جواب خاص توجہ کا مرکز بنی۔ اسی طرح چیریٹی واک اور مسرور آئی ہسپتال کے متعلق بھی اجتماع پر معلومات دی گئیں۔

اجتماع پر امسال کل حاضری 4098 تھی جس میں 3606 انصار اور 492 مہمانان شامل تھے۔ اس سے قبل 2019ء کے اجتماع میں انصار اللہ کی حاضری 3117 تھی۔

اس کے بعد اجتماع کی جھلکیوں پر مشتمل ایک مختصر ویڈیو دکھائی گئی۔

عَلم انعامی

بعد ازاں امسال مجلس انصار اللہ برطانیہ میں بہترین قرار پانے والی قیادت Hartlepool نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دست مبارک سے علم انعامی وصول کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

خطاب حضورِ انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز چار بج کر45 منٹ پر خطاب فرمانے کے لیے منبر پر تشریف لائے اور السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ کا تحفہ پیش کیا۔ تشہد، تعوّذ اور تسمیہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور نے فرمایا:
ابھی کچھ دیر پہلے مَیں نے لجنہ اماء اللہ سے خطاب میں بعض باتیں کی ہیں وہ باتیں صرف عورتوں کے لیے ہی نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں ان باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے وہاں مرد اور عورتیں دونوں مخاطب ہیں۔ مردوں کو بھی سچائی اور عبادتوں کے وہی اعلیٰ معیار قائم کرنے چاہئیں جو خواتین کے لیے ضروری ہیں۔ بعض لوگ نصائح کا مخاطب خود کو نہیں سمجھتے حالانکہ چاہیے تو یہ کہ ہر کوئی ان باتوں کا مخاطب خود کوسمجھے اور اپنا جائزہ لے۔ اگر یہ بات سمجھ آجائے کہ خلیفۂ وقت خواہ کسی خاص ملک یا جماعت کے کسی مخصوص طبقے کو توجہ دلارہا ہے تو بھی ہم سب اس کے مخاطب ہیں۔ ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ نیکیاں ہم میں موجود ہیں یا نہیں۔ اب جبکہ رابطوں کی آسانی کی وجہ سے دنیا ایک ہوگئی ہے تواگر ہر احمدی خلیفۂ وقت کی ہر بات کا مخاطب خود کوسمجھے اور اس کے مطابق اپنی حالت میں بہتری کی کوشش کرے توہم اپنی حالتوں میں ایک انقلاب پیدا کرسکتے ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ انصار اللہ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نیکی کی جو بھی بات جماعت کے کسی بھی طبقے سے کہی جائےانصاراللہ نے ان باتوں پر نہ صرف خود عمل پیرا ہونا ہے بلکہ دوسروں کے سامنے نمونہ بن کر حقیقی اسلامی معاشرہ قائم کرنا ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیےحضرت اقدس مسیح موعودؑ نے بڑے درد کے ساتھ اپنی جماعت کو باربار تقویٰ پر کاربند ہونے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں کہ بجز تقویٰ کے اور کسی بات سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یقیناً اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور احسان کرنے والے ہیں۔ پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے تقویٰ اور احسان کرنے کےکیا معیار ہیں۔

جب ہم یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم اللہ کے انصار ہیں تو ہمیں یہ خصوصیت بھی پیدا کرنی ہوگی کہ ہم میں تقویٰ بھی ہو اور ہم محسن بھی ہوں۔ اللہ کو تو ہماری کسی مدد کی ضرورت نہیں وہ تو سب طاقتوں کا مالک ہے یہ تو اُس کا احسان ہے کہ اس نے یہ نظام قائم فرمایا اور ہمیں اس نظام سے منسلک ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔ تقویٰ کیا ہے؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اس کا خوف اس کی خشیت انسان کے دل میں ہو۔ اسی طرح محسن وہ ہیں جو نیک باتوں کا علم رکھنے والے اور نیکیاں کرنے والے ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ نے ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری جماعت کےلیے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے۔ تا وہ لوگ جوخواہ کسی قسم کے بغضوں کینوں یاشرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی رو بہ دنیا تھے ان تمام آفات سے نجات پاویں۔

پس اگر ہمارا دعویٰ نَحْنُ اَنْصَارُاللّٰہِ کا ہے تو ہمیں پہلے اپنے نفس کو پاک صاف کرنا ہوگا۔ مامورِ زمانہ کے ساتھ جُڑ کر انصاراللہ کا اصل کام دنیا کو خدائے واحد کے آگے جھکانا اور محمد مصطفیٰﷺ کے جھنڈے تلے لانا ہے اور اس کے لیے ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔

اپنے اندرونی جائزے لینے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میری جماعت سمجھ لے کہ وہ میرے پاس آئے ہیں اس لیے کہ تخم ریزی کی جائے جس سے وہ پھلدار درخت ہوجائیں۔ پس ہر ایک غور کرے کہ اُس کی اندرونی اور باطنی حالت کیسی ہے۔ اگر ہمارے دل میں کچھ اور ظاہراً کچھ اور ہے تو خاتمہ بالخیرنہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ ایک جماعت عمل سے خالی ہے اور زبانی دعوے کرتی ہے توپھر وہ پرواہ نہیں کرتا۔ پس ہم حقیقی انصار اُس وقت بن سکتے ہیں جب ہم ایک عمدہ بیج بنیں اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے حکموں پر چلنا ہوگا اور زمانے کے امام کی کامل پیروی کرنی ہوگی۔ ہمارے قول و فعل کا ایک ہونا جہاں اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا ہوگا وہاں ہمیں ایک تسلی ہوگی کہ ہم اپنی نسلوں کے لیے ایک بیج لگا کر جارہے ہیں جس پر نیکیوں کے پھل لگتے ہیں اور اس طرح ہم دنیا کو بھی حقیقی اسلامی تعلیم کی طرف لانے والے بنیں گےاور یہ معیار جماعتی ترقی میں بھی مدد گار بن سکتے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ماننے والوں میں کیا معیار دیکھنا چاہتے تھےکہ ہم نے کہاں تک تقویٰ میں ترقی کی ہے اور اس کا معیار قرآن کریم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں سے ایک نشان یہ بھی رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو دنیا کی مکروہات سے آزاد کرکے خود اُس کا متکفل ہوجاتا ہے اور جو اللہ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے نجات کی کوئی نہ کوئی راہ بنا دیتا ہے۔ اُسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرسکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متقی کی ایک نشانی یہ بھی بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو نابکارضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔ پس بہت غور کرنے کی ضرورت ہےاور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

انسان بڑی عمر میں پہنچ کراپنے بچوں کی ضروریات کی فکر کرنے لگ جاتا ہے اور اُسے پورا کرنے کے لیے مختلف جائز و ناجائز حیلے اختیار کرتا ہے۔ بعض احمدی بھی ایسا کرتے ہیں جیسے دھوکا دےکر اپنے ٹیکس کو بچاتے ہیں۔ صحیح آمد پر اپنا چندہ ادا نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے اندر تقویٰ ہے تواللہ تعالیٰ خود انتظام کردےگا۔ یا تھوڑے میں ایسی برکت عطا فرماد یتا ہے کہ ضروریات پوری ہوجاتی ہیں۔ بےشمار احمدی مجھے لکھتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ پر تقویٰ کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہماری مشکلات حل کردیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضاحت کی کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ غلط بیانی کیے بغیرکام نہیں چل سکتا اور پھر اپنی مجبوری کا دوسروں کے سامنے اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہ امر ہرگز سچ نہیں بالکل جھوٹ ہے۔ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ یہ وعدہ کرے کہ میں مدد کروں گا اور دوسری طرف لوگوں کو کہے کہ غلط بیانی کرو اور اپنی مشکل حل کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان نہیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا طاقتور ہے اگر اُس پر بھروسا کرو گے تو وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا اور جو اللہ پر توکل کرے وہ اُس کے لیے کافی ہے اور توکل بغیر تقویٰ کے پیدا نہیں ہوسکتا۔

حضورِانور نے فرمایا کہ اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے، اپنے اخلاق اعلیٰ معیاروں تک لے جانے، دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی حالتوں کو بدل لیں گے تو یہی حقیقی تقویٰ ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا والی ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی کے راستے کی تمام دنیاوی روکیں دُور فرمادیتا ہے۔ اگر دنیاوی کاموں کی پرواہ کیے بغیر اپنی نمازوں کی ادائیگی اور دین کے کاموں کو ترجیح دیں گے تو اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہےکہ میں تمہاری مشکلات دُور کروں گا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی ہماری ضروریات پوری کرتا ہے اور اپنی تمام نوازشات کے بعد دین کے کاموں میں ہماری مدد کرتا ہے۔ پس ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حقیقی شکر گزار بندے بنتے ہوئے، اُس کے حکموں پر چلتے ہوئے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے والے بنیں اور یہی ہمارے حقیقی انصار ہونے کی رُوح ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

حضورِ انور نے اس بصیرت افروز خطاب کے بعد پانچ بج کر 14 منٹ پر دعا کروائی۔ دعا کے بعد حضور انور نے لجنہ کی اجتماع پر حاضری کی تصحیح کا اعلان کرتے ہوئےفرمایا کہ لجنہ کی حاضری6830 تھی۔ اس کے بعد حضورِانور نے پانچ بج کر 16 منٹ پر السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کا تحفہ عنایت فرمایا اور اجتماع گاہ سے تشریف لے گئے۔

(الفضل انٹرنیشنل موٴرخہ 23؍ستمبر 2022)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 اکتوبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ